کفر

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

کفر کے معنی چھپانا اور مٹا نا ہے اسی لیے جرم کی شرعی سز اکو کفارہ کہتے ہیں کہ وہ گناہ کو مٹادیتا ہے ایک دوا کانام کافور ہے کہ وہ اپنی تیز خوشبو سے دوسری خوشبوؤ ں کو چھپالیتا ہے۔

رب تعالیٰ فرماتا ہے : اِنۡ تَجْتَنِبُوۡا کَبٰٓئِرَ مَا تُنْہَوْنَ عَنْہُ نُکَفِّرْ عَنۡکُمْ سَیِّاٰتِکُمْ وَنُدْخِلْکُمۡ مُّدْخَلًا کَرِیۡمًا

اگر تم بڑے گناہوں سے بچو گے تو ہم تمہارے چھوٹے گناہ مٹا دیں گے اور تم کو اچھی جگہ میں داخل کر یں گے [1]

قرآن شریف میں یہ لفظ چندمعنوں میں استعمال ہواہے ناشکری،انکار، اسلام سے نکل جانا۔ رب تعالیٰ فرماتا ہے :

  1. لَئِنۡ شَکَرْتُمْ لَاَزِیۡدَنَّکُمْ وَلَئِنۡ کَفَرْتُمْ اِنَّ عَذَابِیۡ لَشَدِیۡدٌ ﴿7﴾

اگر تم شکر کرو گے تو تم کو اور زیادہ دیں گے اور اگر تم ناشکری کرو گے تو ہمارا عذاب سخت ہے[2]

  1. وَاشْکُرُوۡا لِیۡ وَلَا تَکْفُرُوۡنِ ﴿152﴾

میرا شکر کرونا شکری نہ کرو[3]

  1. وَ فَعَلْتَ فَعْلَتَکَ الَّتِیۡ فَعَلْتَ وَ اَنۡتَ مِنَ الْکٰفِرِیۡنَ ﴿19﴾

فرعون نے موسی علیہ السلام سے کہا کہ تم نے اپنا وہ کام کیا جو کیا اور تم ناشکر ے تھے[4]

ان آیات میں کفر بمعنی ناشکری ہے۔ رب تعالیٰ فرماتا ہے:

  1. فَمَنْ یَّکْفُرْ بِالطَّاغُوۡتِ وَیُؤْمِنۡۢ بِاللہِ فَقَدِ اسْتَمْسَکَ بِالْعُرْوَۃِ الْوُثْقٰی

پس جوکوئی شیطان کا انکا ر کرے اور اللہ پر ایمان لائے اس نے مضبوط گرہ پکڑلی۔[5]

  1. یَکْفُرُ بَعْضُکُمْ بِبَعْضٍ وَّیَلْعَنُ بَعْضُکُمْ بَعْضًا

اس دن تمہارے بعض بعض کا انکار کریں گے اور بعض بعض پر لعنت کریں گے ۔[6]

  1. وَّ کَانُوۡا بِعِبَادَتِہِمْ کٰفِرِیۡنَ ﴿6﴾

یہ معبود ان باطلہ ان کی عبادت کے انکاری ہوجاویں گے۔[7]

ان تمام آیات میں کفر بمعنی انکار ہے نہ کہ اسلام سے پھر جانا۔ رب تعالیٰ فرماتا ہے :

  1. قُلْ یٰۤاَیُّہَا الْکٰفِرُوۡنَ ۙ﴿1﴾لَاۤ اَعْبُدُ مَا تَعْبُدُوۡنَ ۙ﴿2﴾

فرمادو کافر و میں تمہارے معبودوں کو نہیں پوجتا۔[8]

  1. فَبُہِتَ الَّذِیۡ کَفَرَ ؕ

پس وہ کافر (نمرود )حیران رہ گیا۔[9]

  1. وَالْکٰفِرُوۡنَ ہُمُ الظّٰلِمُوۡنَ ﴿254﴾

اور کافر لوگ ظالم ہیں ۔[10]

  1. لَقَدْ کَفَرَ الَّذِیۡنَ قَالُوۡۤا اِنَّ اللہَ ہُوَ الْمَسِیۡحُ ابْنُ مَرْیَمَ

وہ لوگ کافر ہو گئے جنہوں نے کہا، اللہ عیسی ابن مریم ہیں۔[11]

  1. لَاتَعْتَذِرُوۡا قَدْکَفَرْتُمۡ بَعْدَ اِیۡمَانِکُمْ ؕ

بہانے نہ بناؤ تم ایمان لانے کے بعد کافر ہوچکے[12]

  1. فَمِنْہُمۡ مَّنْ اٰمَنَ وَمِنْہُمۡ مَّنۡ کَفَرَ ؕ

ان میں سے بعض ایمان لے آئے بعض کافر رہے ۔[13]

ان جیسی اور بہت سی آیات میں کفر ایمان کا مقابل ہے جس کے معنی ہیں بے ایمان ہوجانا، اسلام سے نکل جانا۔ اس کفر میں ایمان کے مقابل تمام چیزیں معتبر ہوں گی یعنی جن چیزوں کا ماننا ایمان تھا ان میں سے کسی کا بھی انکار کرنا کفر ہے۔ لہٰذا کفر کی صدہا قسمیں ہوں گی۔ خدا کا انکار کفر، اس کی تو حید کا انکا ر یعنی شرک یہ بھی کفر، اسی طر ح فرشتے،دوزخ وجنت، حشر نشر، نماز، روزہ،قرآن کی آیتیں،غرض کہ ضروریات دین میں سے کسی ایک کا انکار کفر ہے۔ اسی لیے قرآن شریف میں مختلف قسم کے کافروں کی تردید فرمائی گئی ہے جیسا کہ ان شاء اللہ تعالیٰ شرک کی بحث میں آوے گا۔

حقیقتِ کفر[ترمیم]

جیسے کہ صدہاچیزوں کے ماننے کا نام ایمان تھا لیکن ان سب کا مدار صرف ایک چیز پر تھا یعنی پیغمبر کوماننا کہ جس نے حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو کما حقہ مان لیا۔ اس نے سب کچھ مان لیا۔ اسی طر ح کفر کا مدار صرف ایک چیز پر ہے یعنی حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کاانکار، ان کی عظمت کا انکار، ان کی شان اعلی کا انکار، اصل کفر تو یہ ہے باقی تمام اس کی شاخیں ہیں مثلا جورب کی ذات یا صفات کاانکار کرتا ہے وہ بھی حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کا منکر ہے کہ حضور نے فرمایا : اللہ ایک ہے۔ یہ کہتا ہے کہ دو ہیں۔ اسی طر ح نماز، رو زہ وغیرہ کسی ایک کا انکار درحقیقت حضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کاانکار ہے کہ وہ سر کار فرماتے ہیں کہ یہ چیزیں فرض ہیں۔ وہ کہتا ہے کہ نہیں۔ اسی لیے نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی ادنی توہین ،ان کی کسی شے کی توہین، قرآنی فتوے سے کفر ہے۔ رب تعالیٰ فرماتا ہے :

  1. وَیَقُوۡلُوۡنَ نُؤْمِنُ بِبَعْضٍ وَّنَکْفُرُ بِبَعْضٍ ۙ وَّیُرِیۡدُوۡنَ اَنۡ یَّتَّخِذُوۡا بَیۡنَ ذٰلِکَ سَبِیۡلًا ﴿150﴾ۙ ۙاُولٰٓئِکَ ہُمُ الْکٰفِرُوۡنَ حَقًا

اور وہ کفار کہتے ہیں کہ ہم پیغمبر وں پر ایمان لائینگے اور بعض کا انکار کریں گے اور چاہتے ہیں کہ ایمان وکفر کے بیچ میں کوئی راہ نکالیں یہی لوگ یقینا کا فر ہیں([14]

  1. وَ لِلۡکٰفِرِیۡنَ عَذَابٌ اَلِیۡمٌ ﴿104﴾

کافروں ہی کے لیے درد ناک عذاب ہے۔[15]

  1. وَالَّذِیۡنَ یُؤْذُوۡنَ رَسُوۡلَ اللہِ لَہُمْ عَذَابٌ اَلِیۡمٌ ﴿61﴾

اور جو لوگ رسول اللہ کو ایذا دیتے ہیں ان ہی کے لیے دردناک عذاب ہے ۔[16]

یعنی صرف کافر کو دردناک عذاب ہے اور صرف اسے درد ناک عذاب ہے جو رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو ایذا دے۔ لہٰذا پتا لگا کہ صرف وہ ہی کافر ہے جو رسول کو ایذادے اور جو حضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی عظمت واحترام، خدمت، اطاعت کرے وہ سچا مومن ہے۔ رب تعالیٰ فرماتا ہے :

وَالَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَہَاجَرُوۡا وَجٰہَدُوۡا فِی سَبِیۡلِ اللہِ وَالَّذِیۡنَ اٰوَوۡا وَّنَصَرُوۡۤا اُولٰٓئِکَ ہُمُ الْمُؤْمِنُوۡنَ حَقًا ؕ لَہُمۡ مَّغْفِرَۃٌ وَّرِزْقٌ کَرِیۡمٌ ﴿74﴾

اورجوایمان لائے اورانہوں نے ہجرت کی اوراللہ کی راہ میں جہادکیااوروہ جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو جگہ دی اور ان کی مدد کی وہ سچے مسلمان ہیں ان کے لیے بخشش ہے اور عزت کی روزی ۔[17]

رب تعالیٰ فرماتا ہے :

اَلَمْ یَعْلَمُوۡۤا اَنَّہٗ مَنۡ یُّحَادِدِ اللہَ وَرَسُوۡلَہٗ فَاَنَّ لَہٗ نَارَ جَہَنَّمَ خَالِدًا فِیۡہَا ؕ ذٰلِکَ الْخِزْیُ الْعَظِیۡمُ ﴿63﴾

کیا انہیں خبر نہیں کہ جو مخالفت کرے اللہ اور اس کے رسول کی تو اس کے لیے جہنم کی آگ ہے ہمیشہ اس میں رہے گا۔ یہ بڑی رسوائی ہے ۔

بلکہ جس اچھے کام میں حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی اطا عت کا لحاظ نہ ہو بلکہ ان کی مخالفت ہو وہ کفر بن جاتا ہے اور جس برے کام میں حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی اطاعت ہو وہ ایمان بن جاتا ہے مسجد بنانا اچھا کام ہے لیکن منافقین نے جب مسجد ضرار حضور کی مخالفت کرنے کی نیت سے بنائی توقرآن نے اسے کفر قرار دیا ہے۔ فرماتا ہے :

وَالَّذِیۡنَ اتَّخَذُوۡا مَسْجِدًا ضِرَارًا وَّکُفْرًا وَّتَفْرِیۡقًۢا بَیۡنَ الْمُؤْمِنِیۡنَ وَ اِرْصَادًا لِّمَنْ حَارَبَ اللہَ وَرَسُوۡلَہٗ مِنۡ قَبْلُ ؕ

اور وہ لوگ جنہوں نے مسجد بنائی نقصان پہنچا نے اور کفر کے لیے اور مسلمانوں میں تفرقہ ڈالنے کو اور اس کے انتظار میں جو پہلے سے اللہ اور رسول کا مخالف ہے۔[18]

نماز توڑنا گناہ ہے لیکن حضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے بلانے پر نماز توڑنا گناہ نہیں ہے بلکہ عبادت ہے۔ رب تعالیٰ فرماتا ہے :

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوا اسْتَجِیۡبُوۡا لِلہِ وَلِلرَّسُوۡلِ اِذَا دَعَاکُمۡ لِمَا یُحْیِیۡکُمْ

اے ایمان والو اللہ رسول کا بلاوا قبول کروجب وہ تمہیں بلائیں اس لیے کہ وہ تمہیں زندگی بخشتے ہیں۔[19]

اسی لیے حضو رصلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی آواز پر اونچی آواز کرنے اور حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی ادنیٰ گستاخی کرنے کو قرآن نے کفر قرار دیا جس کی آیات ایمان کی بحث میں گز ر چکیں۔ شیطان کے پاس عبادات کافی تھیں مگر جب اس نے آدم علیہ السلام کے متعلق کہا کہ

قَالَ اَنَا خَیۡرٌ مِّنْہُ ؕ خَلَقْتَنِیۡ مِنۡ نَّارٍ وَّ خَلَقْتَہٗ مِنۡ طِیۡنٍ ﴿76﴾قَالَ فَاخْرُجْ مِنْہَا فَاِنَّکَ رَجِیۡمٌ ﴿77﴾

میں ان سے اچھا ہوں کہ تو نے مجھے آگ سے اور انہیں مٹی سے پیدا کیا رب نے فرمایا یہاں سے نکل جا تو مردود ہو گیا۔ [20] تو فورا کافر ہو گیا اور موسیٰ علیہ السلام کے جادو گر وں نے موسیٰ علیہ السلام کا ادب کیا کہ جادو کرنے سے پہلے عرض کیا

قَالُوۡا یٰمُوۡسٰۤی اِمَّاۤ اَنۡ تُلْقِیَ وَ اِمَّاۤ اَنۡ نَّکُوۡنَ نَحْنُ الْمُلْقِیۡنَ ﴿115﴾

عرض کیا کہ اے موسی یا پہلے آپ ڈالیں یا ہم ڈالنے والے ہوں ۔[21]

اس اجازت لینے کے ادب کا نتیجہ یہ ہوا کہ انہیں ایک دن میں ایمان ،کلیم اللہ کی صحابیت، تقویٰ، صبر، شہادت نصیب ہوئی۔ رب نے فرمایا :

فَاُلْقِیَ السَّحَرَۃُ سٰجِدِیۡنَ ﴿ۙ46﴾

جادو گر سجدے میں گرادیئے گئے ۔[22]

یعنی خود سجدے میں نہیں گرے بلکہ رب کی طر ف سے ڈال دیے گئے۔ کافر کے دل میں حضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا ادب آجائے توان شاء اللہ مومن ہو جائے گا۔ اگر مومن کو بے ادبی کی بیماری ہو جائے تو اس کے ایمان چھوٹ جانے کاخطرہ ہے۔

یوسف علیہ السلام کے بھائی قصور مند تھے مگر بے ادب نہ تھے آخر بخش دیے گئے۔ قابیل یعنی آدم علیہ السلام کا بیٹا جرم کے ساتھ نبی کا گستاخ بھی تھالہٰذا خاتمہ خراب ہو ا۔

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. (پ5،النسآء:31)
  2. (پ13،ابرٰہیم:7)
  3. (پ2،البقرۃ:152)
  4. (پ19،الشعرآء:19)
  5. (پ3،البقرۃ:256)
  6. (پ20،عنکبوت:25)
  7. (پ26،الاحقاف:6)
  8. (پ30الکٰفرون:1۔2)
  9. (پ3،البقرۃ:258)
  10. (پ3،البقرۃ:254)
  11. (پ6،المآئدۃ:17)
  12. (پ10،التوبۃ:66)
  13. (پ3،البقرۃ:253)
  14. پ6،النسآء:150۔151)
  15. (پ1،البقرۃ:104)
  16. (پ10،التوبۃ:61)
  17. (پ10،الانفال:74)
  18. (پ11،التوبۃ:107)
  19. (پ9،الانفال:24)
  20. (پ23،ص:76۔77)
  21. (پ9،الاعراف:115)
  22. (پ19،الشعرآء:46)