عشق

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

عشق عربی زبان میں گہری چاہت کو کہتے ہیں۔ جبکہ، اس کی عقلی توجیہ کچھ اس طرح کہ عشق نام ہے بے لگام جذباتی تڑپ کا جو کسی قاعدہ اور قانون کی پابند نہیں۔ اس تڑپ کا تعلق محض وجدان سے ہوتا ہے جبکہ انسانی شعور عشق کا متحمل نہیں کیونکہ انسانی شعور اپنی عملی صورت میں کسی نہ کسی قاعدہ یا قانون کا پابند ہوتا ہے جبکہ عشق قواعد کا پابند نہیں، عرفِ عام میں عشق کی دو صورتیں ہیں عشقِ مجازی اور عشقِ حقیقی، عشقِ مجازی دراصل ایک انسان کے مکمل وجود یا کسی ایک حصے سے شدید پیار کرنا اور اپنی طلب کو وجودِ محبوب کے دائرے تک محدود رکھنا۔دوسرے لفظوں میں کسی ایک بنی نوع انسان کے لیے اپنی آپ کو اس کی خواہشات کے مطابق ڈھال لینا یا وقف کر دینا عشق مجازی ہے جبکہ عشقِ حقیقی میں محبوب کے وجود سے ماوراء ہو کر اُس کی ذات کا طالب بن جانا اس صورت میں محبوب کا وجود موجود ہونا لازم نہیں کیونکہ یہاں وجود کی حیثیت ہی باقی نہیں رہتی۔ اللہ کی ذات ہی وہ مقدس ذات ہے جو عشق حقیقی کی مترادف ہے جبکہ عشق مجازی میں کوئی بھی شمار میں آ سکتا ہے۔ عشقِ مجازی و حقیقی دونوں صورتوں میں محبوب کو بنیادی مقام کی حیثیت حاصل ہے اور دونوں صورتوں میں محبوب انسان ہی ہوتا ہے پہلی صورت کو سمجھنا آسان ہے جبکہ دوسری صورت میں انسان کو محبوبِ حقیقی سمجھنا بغیر عرفان کے ممکن نہیں۔ جبکہ صوفیت میں عشق حقیقی اللہ اور اس کے رسول حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و سلم سے منسوب ہے۔