حسد

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

جس مستحق شخص کے پاس نعمت ہو اس سے نعمت کے زوال کو حسد کہتے ہیں۔[1]

صاحب نعمت کے پاس نعمت دیکھ کر یہ تمنا کرنا کہ اس کے پاس یہ نعمت رہے اور ہمیں بھی اس کی مثل مل جائے یہ رشک ہے۔

حسد سے متعلق قرآنی آیات[ترمیم]

اور(میں پناہ مانگتا ہوں رب کی) حسد کرنے والے کے شر سے جب وہ حسد کرے۔( الفلق ۵:۱۱۳)

حسد کے متعلق احادیث و آثار[ترمیم]

صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 1324 حدیث مرفوع مکررات 6 متفق علیہ 5 بدون مکرر

محمد بن مثنی، یحیی، اسماعیل، قیس، ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ حسد صرف دو چیزوں پر جائز ہے ایک وہ شخص جس کو اللہ تعالیٰ نے مال دیا اور اس کو راہ حق پر خرچ کرنے کی قدرت دی اور دوسرا وہ شخص جسے اللہ تعالیٰ نے حکمت (علم) دی اور وہ اس کے ذریعہ فیصلہ کرتا ہے اور اس کی تعلیم دیتا ہے۔

صحیح بخاری:جلد سوم:حدیث نمبر 18 حدیث مرفوع مکررات 3

علی بن ابراہیم، روح، شعبہ، سلیمان، ذکوان، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ، حسد (رشک) صرف دو شخصوں پر (جائز) ہے، ایک اس شخص پر جسے اللہ تعالیٰ نے قرآن دیا ہے اور وہ اسے دن رات پڑھتا ہے اور اس کا پڑوسی اسے سن کر کہتا ہے کہ کاش مجھے بھی اس کی طرح پڑھنا نصیب ہوتا تو میں بھی اسی طرح عمل کرتا، دوسرے اس شخص پر جسے اللہ تعالیٰ نے دولت دی ہو اور وہ اسے راہ حق میں خرچ کرتا ہے، پھر کوئی اس پر رشک کرتے ہوئے کہے ہے کہ کاش مجھے بھی یہ مال میسرآتا تو میں بھی اسے اسی طرح صرف کرتا۔

صحیح بخاری:جلد سوم:حدیث نمبر 1002 حدیث مرفوع مکررات 4

بشر بن محمد، عبداللہ ، معمر، ہمام بن منبہ، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم بد گمانی سے بچو اس لئے کہ بد گمانی سب سے زیادہ جھوٹی بات ہے اور نہ اور کسی کے عیوب کی جستجو نہ کرو اور نہ ایک دوسرے پر حسد کرو اور نہ غیبت کرو اور نہ بغض رکھو اور اللہ کے بندے بھائی بن کر رہو۔

صحیح بخاری:جلد سوم:حدیث نمبر 1003 حدیث مرفوع مکررات 10 متفق علیہ 8

ابوالیمان، شعیب، زہری، حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایک دوسرے سے بغض نہ رکھو اور نہ حسد کرو اور نہ غیبت کرو اور اللہ تعالیٰ بندے بھائی بھائی ہو کر رہو اور کسی مسلمان کے لئے جائز نہیں کہ اپنے بھائی سے تین دن سے زیادہ جدا رہے (قطع تعلق کرے) ۔

صحیح بخاری:جلد سوم:حدیث نمبر 2011 حدیث مرفوع مکررات 6 متفق علیہ 5 بدون مکرر

شہاب بن عباد، ابراہیم بن حمید، اسماعیل، قیس، عبداللہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ حسد دو ہی باتوں میں ہے ایک تو وہ شخص جسے اللہ نے مال دیا اور راہ حق میں خرچ کرنے کی قدرت دی اور دوسرا وہ شخص جسے اللہ نے حکمت دی وہ اس کے ذریعہ فیصلہ کرتا ہے اور اس کی تعلیم دیتا ہے۔

صحیح بخاری:جلد سوم:حدیث نمبر 2094 حدیث مرفوع مکررات 3

عثمان بن ابی شیبہ، جریر، اعمش، ابوصالح، ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ حسد (رشک) دو آدمیوں کے سوا کسی کے لئے جائز نہیں، ایک وہ شخص جس کو اللہ نے قرآن کا علم دیا اور وہ اسے دن رات تلاوت کرتا ہے، (اور سننے والا) کہتا ہے، کاش مجھے بھی اسی طرح ملتا، جس طرح اسے ملا ہے، تو میں بھی ویسا ہی کرتا جیسا وہ کرتا ہے، دوسرا وہ شخص جس کو اللہ نے مال دیا اور وہ اللہ کے راستے میں خرچ کرتا ہے (دیکھنے والا) کہتا ہے کہ کاش مجھے بھی ملتا جیسا کہ اسے ملا میں بھی اسی طرح خرچ کرتا، ہم سے قتیبہ نے بواسطہ جریر یہ حدیث بیان کی ہے۔

صحیح بخاری:جلد سوم:حدیث نمبر 2375 حدیث مرفوع مکررات 6 متفق علیہ 4

علی بن عبداللہ ، سفیان ، زہری ، سالم اپنے والد سے وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا کہ حسد صرف دو شخصوں پر کیا جاسکتا ہے ایک وہ شخص جسے اللہ نے قرآن دیا اور وہ اس کو رات دن پڑھتا ہے اور دوسرا وہ شخص جس کو اللہ نے مال دیا اور وہ اسے دن رات خرچ کرتا ہو ۔علی بن عبداللہ نے کہا کہ میں نے سفیان سے متعدد بار سنا لیکن ان کو اخبرنا کے لفظ کے ساتھ بیان کرتے ہوئے نہیں سنا حالانکہ ان کی صحیح حدیثوں میں سے ہے۔

صحیح مسلم:جلد سوم:حدیث نمبر 1202 حدیث مرفوع مکررات 5 متفق علیہ 2

محمد بن ابی عمر مکی، عبدالعزیز در اور دی یزید بن عبداللہ بن اسامہ بن ہاد محمد بن ابراہیم، ابوسلمہ عبدالرحمن زوجہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ کو تکلیف ہوتی تو جبریئل آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دم کرتے تھے اور انہوں نے یہ کلمات کہے (باسْمِ اللَّهِ يُبْرِيکَ) اللہ کے نام سے وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تندرست کرے گا اور ہر بیماری سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو شفا دے گا اور حسد کرنے والے کے حسد کے شر سے جب وہ حسد کرے اور ہر نظر لگانے والی آنکھ کے شر سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پناہ میں رکھے گا۔

صحیح مسلم:جلد سوم:حدیث نمبر 2029 حدیث مرفوع مکررات 10 متفق علیہ 8

یحیی بن یحیی، مالک ابن شہاب، حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم آپس میں ایک دوسرے سے بغض نہ رکھو اور ایک دوسرے سے حسد نہ کرو اور ایک دوسرے سے رو گردانی نہ کرو اور اللہ کے بندے بھائی بھائی بن جاؤ اور کسی مسلمان کے لئے جائز نہیں ہے کہ تین دن سے زیادہ چھوڑ دے۔

صحیح مسلم:جلد سوم:حدیث نمبر 2039 حدیث مرفوع مکررات 13 متفق علیہ 8

یحیی بن یحیی، مالک ابی زناد اعرج حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم بد گمانی سے بچو کیونکہ بد گمانی سب سے زیادہ جھوٹ بات ہے اور نہ ہی تم ایک دوسرے کے ظاہری اور باطنی عیب تلاش کرو اور حرص نہ کرو اور حسد نہ کرو اور بغض نہ کرو اور نہ ہی ایک دوسرے سے رو گردانی کرو اور اللہ کے بندے اور بھائی بھائی ہو جاؤ۔

سنن ابوداؤد:جلد سوم:حدیث نمبر 1471 حدیث مرفوع مکررات 2

عثمان بن صالح بغدادی، ابوعامر، ابن عبدالملک بن عمرو، سلیمان بن بل، ابراہیم بن ابواصیب، جدہ، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ حسد سے بچتے رہو کیونکہ حسد نیکیوں کو اس طرح کھا جاتا ہے جیسے آگ سوکھی لکڑیوں کو کھا جاتی ہے یا فرمایا کہ سوکھی گھاس کو کھا لیتی ہے۔

سنن ابوداؤد:جلد سوم:حدیث نمبر 1478 حدیث مرفوع مکررات 10

عبداللہ بن مسلمہ، مالک، ابن شہاب، حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بن مالک سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ آپس میں بغض مت رکھو آپس میں حسد نہ کیا کرو اور نہ ہی ایک دوسرے سے پشت پھیرا کرو آپس کی میل ملاقات ترک مت کرو۔ اور سب اللہ کے بندے بھائی بھائی بن جاؤ اور کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں کہ اپنے مسلمان بھائی کو تین رات سے زیادہ چھوڑے رکھے۔

سنن نسائی:جلد دوم:حدیث نمبر 1021 حدیث مرفوع مکررات 13

عیسی بن حماد، لیث، ابن عجلان، سہیل بن ابوصالح، ابیہ، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جس مسلمان نے کسی کافر کو قتل کر ڈالا اور پھر درمیانہ راستہ اختیار کیا تو وہ شخص جہنم میں نہیں داخل ہوگا اس طریقہ سے دوزخ کی گرمی اور اس کا دھواں اور جہاد کا گرد و غبار اکٹھا نہیں ہو سکتا نیز کسی مسلمان کے قلب میں ایمان اور حسد دونوں چیزیں اکٹھا نہیں ہو سکتیں۔

جامع ترمذی:جلد اول:حدیث نمبر 1998 حدیث مرفوع مکررات 10

عبدالجبار بن علاء، سعید بن عبدالرحمن، سفیان بن عیینہ، زہری، حضرت انس سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا نہ قطع تعلق کرو اور کسی کی غیر موجودگی میں اس کی برائی نہ کرو کسی سے بغض نہ رکھو اور کسی سے حسد نہ کرو اور خالص اللہ کے بندے اور آپس میں بھائی بن جاؤ۔ مسلمان کے لیے دوسرے مسلمان بھائی کے ساتھ تین دن سے زیادہ قطع کلامی کا جائزہ نہیں۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ اس باب میں حضرت ابوبکر، زبیر بن عوام، ابن عمر، ابن مسعود، اور ابوہریرہ سے بھی احادیث منقول ہیں۔

سنن ابن ماجہ:جلد سوم:حدیث نمبر 1091 حدیث مرفوع مکررات 2

ہارون بن عبداللہ حمال، احمد بن زہیر، ابن ابی فدیک، عیسیٰ بن ابی عیسیٰ حناط، ابوزناد، حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا حسد نیکیوں کو کھا لیتا ہے جیسے آگ لکڑیوں کو کھا جاتی ہے اور صدقہ گناہوں کو بجھا دیتا ہے اور نماز نور ہے مومن کا اور روزہ ڈھال ہے دوزخ سے۔

مشکوۃ شریف:جلد چہارم:حدیث نمبر 968

" اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا حسد سے اپنے آپ کو محفوظ رکھو کیونکہ حسد نیکیوں کو اس طرح کھا جاتا ہے جس طرح لکڑیوں کو آگ جاتی ہے۔ (ابوداؤد)

مشکوۃ شریف:جلد چہارم:حدیث نمبر 1167

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا " تم میں جو شخص کسی ایسے آدمی کو دیکھے جو اس سے زیادہ مالدار اور اس سے زیادہ اچھی شکل و صورت کا ہو (اور اس کو دیکھ کر اپنی حالت پر رنج و حسرت ہو، خدا کا شکر ادا کرنے میں سستی و کوتاہی واقع ہوتی ہو اور اس آدمی کے تئیں رشک و حسد کے جذبات پیدا ہوتے ہوں) تو اس کو چاہئے کہ وہ اس آدمی پر نظر ڈال لے جو اس سے کمتر درجہ کا ہے (تاکہ اس کو دیکھ کر اپنی حالت پر خدا کا شکر ادا کرے اور نعمت عطا کر نے والے پروردگار سے خوش ہو" ۔ (بخاری

سنن دارمی:جلد اول:حدیث نمبر 296

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کوئی شخص اس وقت تک عالم نہیں ہوسکتا جب تک وہ اپنے سے اوپر والے سے حسد کرنے سے باز نہآجائے اور اپنے سے کم تر شخص کو حقیر سمجھنے سے باز نہ آجائے اور اپنے علم کے عوض میں معاوضے کا طلب گار نہ ہوں۔

مسند احمد:جلد چہارم:حدیث نمبر 716

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک دوسرے سے بغض نہ کیا کرودھوکہ اور حسد نہ کیا کرو اور بندگان خدا آپس میں بھائی بھائی بن کررہا کرو ۔

احادیث ۱ ۔حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : مجھے اس کا ڈر بالکل نہیں ہے کہ تم میرے بعد مشرک ہو جاؤ گے البتہ میں اس بات کا اندیشہ کرتا ہوں کہ تم آپس میں ایک دوسرے سے دنیا کے مزوں میں پڑ کر حسد نہ کرنے لگو ۔ ( صحیح بخاری:جلد دوم:حدیث نمبر 1218) ۲۔ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ایک دوسرے سے بغض نہ رکھو اور نہ حسد کرو اور نہ غیبت کرو اور اللہ تعالی بندے بھائی بھائی ہو کر رہو اور کسی مسلمان کے لئے جائز نہیں کہ اپنے بھائی سے تین دن سے زیادہ جدا رہے (قطع تعلق کرے) ۔(صحیح بخاری:جلد سوم:حدیث نمبر 1003) ۴۔ضمرہ بن ثعلبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ لوگ ہمیشہ بھلائی سے رہیں گے جب تک وہ حسد سے بچتے رہیں گے۔(طبرانی فی الکبیر ۷۱۵۷)

حسد کے مراتب[ترمیم]

حسد کے اسباب[ترمیم]

حسد کو زائل کرنے کا علاج[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ المفردات فی غریب القرآن جلد 10 ، علامہ راغب اصفہانی ص118، مطبوعہ المکتبۃ المرتضویہ، ایران، 1342ھ
‘‘https://ur.wikipedia.org/w/index.php?title=حسد&oldid=1676993’’ مستعادہ منجانب