زنا

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
زنا اور نکاح میں فرق

زنا ایک عربی اصطلاح ہے جس سے اسلامی قوانین میں مراد ایک ایسے جماع (sexual intercourse) کی لی جاتی ہے جو اپنے وقوع میں قبل ازدواجی یا بیرون ازدواجی ہو؛ چونکہ زنا اپنے حیاتیاتی معنوں میں جماع ہی ہے اور زنا کی تعریف کے مطابق مرد کے قضیب (penis) کا عورت کے مہبل (vagina) میں ادخال ضروری ہوتا ہے۔ مذکورہ بالا بیان سے انداز ہو جاتا ہے کہ عربی اصطلاح زنا میں دونوں مفاہیم شامل ہیں؛ اول ، قبل ازدواجی (fornication) جماع جو کہ نکاح (شادی) سے قبل یا غیرشادی شدہ افراد کے مابین واقع ہو اور دوم ، بیرون (غیر) ازدواجی (adultery) جماع جو کہ اپنے غیرمنکوحہ (مرد یا عورت) سے کیا جائے[1]۔ گو کہ دونوں صورتوں میں یہ زنا (جماع) ہی ہے لیکن صورت اول الذکر میں اس گناہ کی سزا قرآن کی رو سے سو کوڑوں کی شکل میں اور بعد الذکر کی صورت میں اس گناہ کی سزا احادیث کی رو سے رجم کی شکل میں بتائی جاتی ہے۔

غیرازدواجی زنا کی سزا رجم کا ذکر احادیث میں آتا ہے لیکن قرآن میں زنا کی سزا کے طور پر اس کا کوئی تذکرہ نہیں ملتا یا یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ اس سزا کی موجودگی قرآن سے مثبوت نہیں ہے؛ مزید یہ کہ کم از کم چار صالح اور مقتدر گواہ ایسے ہونا لازم ہیں کہ جو اس واقعہ کا مفصل اور آنکھوں دیکھا حال بیان کر کے اس کی شہادت دے سکتے ہوں؛ یعنی ان گواہوں نے متعلقہ افراد کو زنا کرتے ہوئے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہو (اور زنا کی تعریف کے مطابق مرد کے قضیب کا عورت کے مہبل میں ادخال لازم ہے، گویا گواہوں کا اس ادخال کو دیکھنا رجم کی گواہی کی شرط بنتا ہے)[2] اور اگر ان میں سے کسی کی بھی گواہی غلط ثابت ہوتی ہو تو ان گواہوں پر خود سخت سزا لازم ہوتی ہے۔ رجم پر آج بھی مسلم دنیا میں متنازع افکار پائے جاتے ہیں جبکہ غیرمسلم دنیا میں مسلم علماء کی جانب سے بھی رجم کی سزا کا اطلاق نہیں کیا جاسکتا اور نا ہی کوئی فرد رجم کی سزا دینے کا مستحق قرار دیا جاتا ہے[3]۔ پتھروں سے مارنے کے عمل (رجم) کا ذکر ناصرف اسلامی ، بلکہ قدیم یونانی ، یہودی اور عیسائی دستاویزات میں بھی ملتا ہے۔

زناشرک کے بعد سب سے بڑا گناہ ہے اور اسلام میں اس کے مرتکب کے لئے سخت سزائیں متعین کی گئی ہیں۔ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نہیں جانتا کہ قتل کے بعد زنا سے بڑھ کر کوئ اور گناہ ھو۔

زنا کی تعریف[ترمیم]

مسلم علماء زنا کی تعریف کے بارے میں مختلف سطحوں کا نظریہ پیش کرتے ہیں اور اس لحاظ سے کوئی بھی ایسا فعل کہ جس میں جنسی تسکین حاصل ہوتی ہو وہ زنا میں شمار ہو جاتا ہے؛ ان افعال میں بوسہ، مخالف جنس کو چھونا، جنس دہن حتٰی کے مخالف جنس کی جانب دیکھنا یا جنسی خیالات رکھتے ہوئے اس کے قریب ہونا بھی زنا میں شمار کیا جاتا ہے[4]۔ علماء کے مطابق کچھ زنا ایسے ہیں جن پر کوئی سزا (عام حالات میں) نہیں دی جاتی جبکہ وہ زنا جس پر سزا نافذ ہوتی ہے اس کی قانونی تعریف وہی ہے جو اس مضمون کے ابتدایئے میں درج کی گئی ہے یعنی عورت اور مرت کے جنسی اعضاء کا ایک دوسرے میں داخل ہونا، اس قسم کے زنا کے علاوہ دیگر اقسام کے زنا پر اگر فحاشی یا حرام کاری کی سزا ہو بھی تو وہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے مختلف ہوتی ہے نا کہ سو کوڑوں یا رجم کی سزا۔

گواہوں کا بیان[ترمیم]

جیسا کہ ابتدایئے میں ذکر ہوا کہ زنا کی سزا کے نفاذ کے لیئے چار ایسے گواہوں کی ضرورت ہوتی ہے کہ جنہوں نے زنا (جماع یا قضیب کے مہبل میں دخول) کے عمل کو اپنی آنکھوں سے دیکھا ہو یا دوسری صورت اس سزا کے نفاذ کی یہ بن سکتی ہے کہ اس عمل کے مرتکب ہونے والے افراد خود اس کا اقرار کر لیں۔ چار گواہوں کا بیک وقت دو افراد کو جماع کرتے ہوئے ان کے جنسی اعضاء کی ایک دوسرے میں رسائی یا دخول کو دیکھ لینا عام حالات میں منطقی طور پر ناممکن ہی ہے اور شاید بہت ہی کم ایسے اشخاص ہونگے جو اس عمل کے مرتکب ہونے کے بعد خود اس کا اقرار کریں[1] اور اپنے آپ کو سنگسار کروانے کے لیۓ پیش کریں۔ اب رہ جاتی ہے ایک اور صورت اور وہ ہے عورت کا حاملہ ہو جانا۔ پھر یہ کہ ان گواہوں میں سے کسی کی اگر گواہی ناقص ثابت ہو تو ان پر خود سخت سزا لازم آتی ہے؛ اور کسی پر اس قسم کا الزام لگانے والوں کے بارے میں قرآن واضح طور پر کہتا ہے کہ: اور وہ لوگ جو تہمت لگائیں پاکدامن عورتوں پر پھر نا لاسکیں وہ چار گواہ تو کوڑے مارو انہیں اسی (80) کوڑے اور نہ قبول کرو ان کی گواہی کبھی بھی۔ اور یہی لوگ فاسق ہیں[5]

حرمت زنا کے بارے میں فرامین الِہی[ترمیم]

فرمان باری تعالٰیٰ ہے:

وَلاَ تَقْرَبُواْ الزِّنَى إِنَّهُ كَانَ فَاحِشَةً وَسَاء سَبِيلاً
زنا کے قریب بھی نہ جاؤ یہ بے حیائی اور برا راستہ ہے [6]

الزَّانِيَةُ وَالزَّانِي فَاجْلِدُوا كُلَّ وَاحِدٍ مِّنْهُمَا مِئَةَ جَلْدَةٍ
زانیہ اور زانی، کوڑے مارو ہر ایک کو ان دونوں میں، سوسو کوڑے [7]

زنا حرمت میں احادیث مبارکہ[ترمیم]

نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا۔

  • شادی شدہ مرد اور عورت زناکریں تو دونوں کو سنگسار کردو یہ اللہ کی طرف سے سزا ہے۔ [8]
  • زانی ایمان کی حالت میں زنا نہیں کرتا ( یعنی جب وہ زنا کرتا ہے تو ایمان سے خالی ہوجاتا ہے)۔‘‘[9]
  • رسول اکرم صلی اللہ علیہ و سلم سے بڑے گناہوں کے بارے میں پوچھا گیا توآپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا:۔ ’’ ہمسایہ کی بیوی سے زنا کرنا۔ ‘‘[10]

زنا کے حرام ہونے کی حکمت[ترمیم]

اسلامی معاشرہ کی پاکیزگی کی حفاظت کرنا،ہرمسلمان کی عزت، نفس اور روح کی طہارت باقی رکھنا اوراچھے نسب کے لوگوں کو ملاوٹ کی غلاظت سے محفوظ کرنا۔

زانی پر حد قـا ئم کرنے کی شرائط[ترمیم]

زنا کرنے والا مسلمان، عاقل اور بالغ ہو جس نے یہ جرم اپنے اختیار سے کیا ہو اور جرم کے لئے اس پر کوئی زبردستی نہ کی گئی ہو۔

رسول کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا:۔ 3 قسم کے لوگوں کا کوئی عمل نہیں لکھا جاتا

  1. نابالغ جب تک بالغ نہ ہوجائے۔
  2. سویا ہوا جب تک بیدار نہ ہو جائے
  3. مجنون جب تک ٹھیک نہ ہوجائے‘‘[11]

وضاحت:۔ یعنی نابالغ سے ان گناہوں کے متعلق نہیں پوچھا جائے گا جن کا تعلق اللہ کے ساتھ ہے ۔ جن گناہوں کا تعلق بندوں کے ساتھ ہے مثلاً قتل ، چوری وغیرہ تو ان گناہوں کے متعلق نابالغ سے بھی باز پرس کی جائے گی

آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا:۔ ’’میری امت کی بھول چوک اور جس چیز پر وہ مجبور کئے جائیں معاف کردیا گیا ہے ۔‘‘[12]

رجم یعنی زنا کارپر حد قائم کر نے کاطریقہ[ترمیم]

مزید تفصیل کے لئے دیکھیں: رجم

زمین میں گڑھا کھودا جائے۔ زانی کو اس میں کھڑاکرکے،سینہ تک اس کو مٹی سے دبادیاجائے اور پھر پتھر مارے جائیں۔ یہاں تک کہ وہ مر جائے۔ یہ کاروائی امام اورمسلمانوں کی ایک جماعت کے سامنے کی جائے۔ فرمان الٰہی ہے :۔ (ترجمہ) اور ان کی سزا کے وقت ایمان والوں کی ایک جماعت حا ضر ہونی چاہئے۔ [13] رجم کے بارے میں عورت اور مرد کا حکم برابر ہے۔ البتہ عورت کے کپڑے باندھ دیئے جائیں تاکہ وہ بے پردہ نہ ہو ۔


حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ 1.0 1.1 Asghar Ali Engineer، Islam in Contemporary World، New Dawn Press Group  روئے خط کتاب
  2. ^ David Pearl، A textbook on Muslim personal law، Croom Helm Australia  روئے خط کتاب
  3. ^ دارالافتاء کی جانب سے رجم پر ایک فتویٰ
  4. ^ دارالافتاء پر زنا کی متعدد سطحوں کا بیان
  5. ^ قرآن سوت 24 آیت 4
  6. ^ قرآن؛ سورت 17 آیت 32
  7. ^ قرآن؛ سورت 24 آیات 1 تا 2
  8. ^ احمد ۔ عن ابی بن کعب رضی اللہ عنہما
  9. ^ صحیح بخاری۔عن عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما
  10. ^ صحیحین۔ عن عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ
  11. ^ ابن ما جہ ۔ عن عائشہ رضی اللہ عنہا
  12. ^ بیہقی۔عن ابی ذر رضی اللہ عنہ
  13. ^ سورۃ النور 24:آیت 2
‘‘http://ur.wikipedia.org/w/index.php?title=زنا&oldid=726376’’ مستعادہ منجانب