اسلام میں توہین رسالت قانون

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

پیغمبر اسلام کے خلاف تضحیک آمیز جملے استعمال کرنا، خواہ الفاظ میں، خواہ بول کر، خواہ تحریری، خواہ ظاہری شباہت/پیشکش،یا انکے بارے میں غیر ایماندارنہ براہ راست یا بالواسطہ سٹیٹمنٹ دینا جس سے انکے بارے میں بُرا، خود غرض یا سخت تاثر پیدا ہو یا انکو نقصان دینے والا تاثر ہو یا انکے مقدس نام کے بارے میں شکوک و شبہات و تضحیک پیدا کرنا، ان سب کی سزا عمر قید یا موت اور ساتھ میں جرمانہ بھی ہوگا

توہین رسالت قانون اور قرآن

قرآن میں ہے :

ا نَّ الَّذِينَ يُؤْذُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ لَعَنَهُمُ اللَّهُ فِي الدُّنْيَا وَالْآَخِرَةِ وَأَعَدَّ لَهُمْ عَذَابًا مُهِينََ

(سورۃ الاحزاب ۔ایت57[1]) ترجمہ: بے شک جو لوگ اللہ تعالیٰ اور اسکے رسول صل اللہ علیہ وسلم کو ایذاء دیتے ہیں ، اللہ ان پر دنیا اور اخرت میں لعنت کرتا ہے۔اور انکے لئے ذلیل کرنے والا عذاب تیار کر رکھا ہے۔

نیز اللہ فرماتا ہے :

﴿وَالَّذِیْنَ یُؤْذُوْنَ رَسُوْلَ اﷲِ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ﴾ (التوبہ:61[2])

ترجمہ: ترجمہ: رسول اللہ ﷺ کو جو لوگ ایذا دیتے ہیں ان کے لئے دردناک عذاب ہے۔

اللہ مزید فرماتا ہے :

﴿وَاِنْ نَکَثُوْا أَیْمَانَهُمْ مِنْ بَعْدِ عَهْدِهِمْ وَطَعَنُوْا فِیْ دِیْنِکُمْ فَقَاتِلُوْا آئِمَّةَ الْکُفْرِِ اِنَّهُمْ لَا أَیْمَانَ لَهُمْ لَعَلَّهُمْ یَنْتَهُوْنَ﴾ (التوبہ :12)

ترجمہ:اگر یہ لوگ اپنے عہد کے بعد اپنی قسمیں توڑ دیں اور تمہارے دین میں طعن کریں تو کفر کے لیڈروں سے قتال کرو اس لئے کہ ان کی قسمیں (قابل اعتبار) نہیں ہیں تاکہ یہ (اپنی شرارتوں اور توہین آمیز خاکے بنانے سے) باز آجائیں۔

ابن کثیر﴿وَطَعَنُوْا فِیْ دِیْنِکُمْ﴾کی تفسیر بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں :

أی عابوه وانتقصوه ومن هاهنا أخذ قتل من سب الرسول صلوات اﷲ وسلامه علیه أو من طعن فی دین الاسلام او ذکره بتنقص (ابن کثیر:3؍359، بتحقیق عبدالرزاق مهدی)

ترجمہ:یعنی تمہارے دین میں عیب لگائیں اور تنقیص کریں۔ یہاں سے ہی یہ بات اخذ کی گئی ہے کہ جو شخص رسول اللہﷺ کو گالی دے یا دین اسلام میںطعن کرے یا اس کا ذکر تنقیص کے ساتھ کرے تو اسے قتل کردیاجائے۔

توہین رسالت قانون اور حدیث

صحیح بخاری، باب الرھن[3]:

قَالَ عَمْرٌو سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَايَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ لِكَعْبِ بْنِ الْأَشْرَفِ فَإِنَّهُ قَدْ آذَى اللَّهَ وَرَسُولَهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ أَنَا فَأَتَاهُ فَقَالَ أَرَدْنَا أَنْ تُسْلِفَنَا وَسْقًا أَوْ وَسْقَيْنِ فَقَالَ ارْهَنُونِي نِسَاءَكُمْ قَالُوا كَيْفَ نَرْهَنُكَ نِسَاءَنَا وَأَنْتَ أَجْمَلُ الْعَرَبِ قَالَ فَارْهَنُونِي أَبْنَاءَكُمْ قَالُوا كَيْفَ نَرْهَنُ أَبْنَاءَنَا فَيُسَبُّ أَحَدُهُمْ فَيُقَالُ رُهِنَ بِوَسْقٍ أَوْ وَسْقَيْنِ هَذَا عَارٌ عَلَيْنَا وَلَكِنَّا نَرْهَنُكَ اللَّأْمَةَ قَالَ سُفْيَانُ يَعْنِي السِّلَاحَ فَوَعَدَهُ أَنْ يَأْتِيَهُ فَقَتَلُوهُ ثُمَّ أَتَوْا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرُوهُ مختصرترجمہ: حضرت عمروبن العاص روایت کرتے ہیں کہ میں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنھما سے سنا کہ حضور صل اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کون کھڑا ہوگا کعب بن اشرف کیلئے کیونکہ اس نے اللہ اور اسکے رسول کو تکلیفیں دی ہیں تو محمد بن مسلمہ اٹھ کھڑے ہوےاورپھر جا کر اس کو قتل کردیا۔اور پھر حضور صل اللہ علیہ وسلم کو اطلاع دی کہ میں نے اس کو قتل کردیا۔

اس حدیث کے ذیل میں فتح الباری نے لکھا ہے کہ یہاں اللہ اور اس کے رسول کو اذیت پہنچانے سے مراد یہ ہے کہ اس نے اپنے اشعار کے ذریعے نبی پاک صل اللہ علیہ وسلم کو تکالیف دی تھیں اور مشرکوں کی مدد کی تھی۔ حضرت عمرو سے روایت ہے کہ یہ کعب بن اشرف نبی کریم صل اللہ علیہ وسلم کی ہجو کرتا تھا اور قریش کومسلمانوں کے خلاف ابھارتا تھا۔ یہ یہودی نبی صل اللہ علیہ وسلم کو اور انکے واسطے سے اللہ کو اذیت دیتا تھا تو نبی صل اللہ علیہ وسلم نے اس کے قتل کا اعلان کیا اور محمد بن مسلمہ نے اس کو قتل کرکے حضور صل اللہ علیہ وسلم کو اس کے قتل کی اطلاع دے دی۔

صحیح بخاری[4]:

بعث رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم الیٰ ابی رافع الیھودی رجالا من الانصاروامر علیھم عبد اللہ بن عتیق وکان ابو رافع یؤذی رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم و یعین علیہ ۔ ترجمہ: رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم نے ابو رافع یہودی کو قتل کرنے کیلئے چند انصار کا انتخاب فرمایا ، جن کا امیر عبد اللہ بن عتیق مقرر کیا ۔یہ ابو رافع نبی پاک صل اللہ علیہ وسلم کو تکالیف دیتا تھا اور آپ صل اللہ علیہ وسلم کے خلاف لوگوں کی مدد کرتا تھا۔

عن انس بن مالک ان النبی صل اللہ علیہ وسلم دخل مکہ یوم الفتح و علی راسہ المغفر فلما نزعہ جاء رجل فقال ابن خطل متعلق باستار الکعبہ فقال اقتلہ۔

(صحیح بخاری) قال ابن تیمیہ فی الصارم المسلول وانہ کان یقول الشعر یھجو بہ رسول اللہ ویامرجاریتہ ان تغنیابہفھذا لہ ثلاث جرائم مبیحۃ الدم، قتل النفس ، والردۃ ، الھجاء۔(الصارم۔صفحہ 135) امر رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم بقتل القینتین(اسمھما قریبہ و قرتنا) (اصح السیر ۔صفحہ 266) ترجمہ: حضرت انس سے روایت ہے کہ نبی صل اللہ علیہ وسلم جب فتح مکہ کے موقع پر مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے تو آپ صل اللہ علیہ وسلم نے سر مبارک پر خود پہنا ہوا تھا۔جب آپ نے خود اتارا تو ایک آدمی اس وقت حاضر ہوا اور عرض کیا کہ ابن خطل کعبہ کے پردو ں کے ساتھ لٹکا ہوا ہے،آپ صل اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کو قتل کردو۔(صحیح بخاری[5]) ابن تیمیہ نے الصارم المسلول میں لکھا ہے کہ ابن خطل اشعار کہہ کر رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم کی ہجو کرتا تھا اور اپنی باندی کو وہ اشعار گانے کیلئے کہا کرتا تھا،تو اسکے کُل تین جرم تھے جس کی وجہ سے وہ مباح الدم قرار پایا ، اول ارتداد دوسرا قتل اور تیسرا حضور صل اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی[6]۔ اور سیرت کی کتابوں میں لکھا ہے ابن خطل کے ان دونوں باندیوں کے قتل کانبی صل اللہ علیہ وسلم نےحکم دیا تھا[حوالہ درکار]۔

دراصل اشعار ابن خطل کے ہوتے تھے اور اس کو عوام کے سامنے گانے والی اس کی دو باندیاں تھیں۔

امر رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم بقتل الحویرث ابن نقیذ فی فتح مکہ وکان ممن یؤذی رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم(البدایہ والنھایہ) وقتلہ علی رضی اللہ عنہ (اصح السیر)

ترجمہ: فتح مکہ کے دن نبی پاک صل اللہ علیہ وسلم نے حویرث بن نقیذ کو قتل کرنے کا حکم دیا اور یہ ان لوگوں میں سے تھا جو نبی صل اللہ علیہ وسلم کو ایذاء پہنچایا کرتے تھے۔حضرت علی نے اس کو قتل کیا۔[حوالہ درکار]

عن علی بن ابی طالب قال قال رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم من سب نبیا قتل و من سب اصحابہ جلد

ترجمہ: حضرت علی سے روایت ہے کہ نبی صل اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو کسی نبی کو برا کہے اسے قتل کیا جاے اور جو صحابہ کو برا کہے اس کو کوڑے لگادئے جائیں۔[حوالہ درکار]

قانون ہاتھ میں لینا

تمام مکاتب فکر کے علما کے نزدیک گستاخ رسول کو سزا دینے کا اختیار ریاست کو ہے، کوئی شخص انفرادی طور پر گستاخ رسول کو قتل نہیں کر سکتا۔ ذیل میں کچھ مکاتب فکر کے علما کی رائے درج ہے۔

بریلوی مکتب فکر

طاہر القادری

بریلوی مکتب فکر کے عالم دین مولانا ڈاکٹر محمد طاہر القادری صاحب کے مطابق ”اگر بالفرض میں کہہ رہا ہوں، اگر ایسا بولا(یعنی گستاخی کی)یہ ثابت ہوجائے اس کے باوجود بھی کسی ایک سویلین اور انفرادی شخص کو قتل کرنے کی اجازت نہیں۔ اسلام اجازت نہیں دیتا۔ اگر وہ قانون اپنے ہاتھ میں لے کر قتل کرے گا، وہ قاتل تصور کیا جائے گا، اس کی سزا موت ہے۔ “ انہوں نے مزید کہا کہ ”یہ عدالت کی ذمہ داری ہے کہ وہ ٹرائل کرے اور شہادتوں سے جو سزا بنتی ہے وہ دے، یہ انفرادی شخص کو حق نہیں ہے، مگر یہ ایسی صورت بن گئی ہے کہ گویاایک انتہا پسندی ایک پورا نفسیاتی مرض بن گیاہے، جو بدقسمتی سے ہماری پوری قوم پر چھاتا چلا جا رہا ہے۔ “ انہوں نے بے شمار لوگوں اور مذہبی عناصر کو لوگوں کو اشتعال دلانے کا ذمہ دار قرار دیا[7]۔

محمد الیاس قادری

بریلوی مکتب فکر کے عالم دین اور دعوت اسلامی کے امیر مولانا محمد الیاس عطار قادری صاحب کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ کوئی کیسا ہی جرم کرے، مثلاً کوئی سرکار کی گستاخی ہی کیوں نہ کر لے، معاذ اللہ، تو شریعت اس کو بھی خود قتل کردینے کی اجازت نہیں دیتی۔ انہوں نے بہار شریعت اور فتاویٰ رضویہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ قاضی اسلام گستاخ کو قید کرے گا، اس پر اسلام پیش کرے گا، اس کو توبہ کے لیے سمجھایا جائے گا۔ علما اس کو سمجھائیں گے۔ جس کے بعد آخری سزا پر عمل درآمد ہوگا[7]۔

دیوبندی مکتب فکر

محمد تقی عثمانی

دیو بندی مکتب فکر کے عالم دین مفتی جسٹس محمد تقی عثمانی صاحب کا موقف اس حوالے سے کچھ اس طرح ہے کہ ”کسی انسان کو یہ حق نہیں ہے کہ کوئی شخص خود اس پر سزا جاری کرے ،قتل کی۔ قانوکو ن ہاتھ میں لینے کی اجازت کسی کو نہیں ہوتی ہے۔ جائز نہیں ہے کسی کے لیے کہ وہ اُس کو قتل کرے۔ “[7]۔

اہل حدیث

توصیف الرحمن راشدی

اہل حدیث مکتب فکر کے عالم دین شیخ توصیف الرحمنٰ سلفی صاحب اس حوالے سے فرماتے ہیں کہ ”قاضی کی ذمہ داری ہے کہ اس کے سامنے اس مجرم کو پیش کیا جائے۔ اس گستاخ رسول کو پیش کیا جائے۔ اس کی گستاخی ثابت ہو، علما بیٹھ کر اُس کے جملوں کو سنیں۔ اگر وہ واقعی گستاخ ہے تو قاضی اس کا خون، اس کا قتل جائز قرار دے گا اور وقت کا مسلمان حاکم اس کو قتل کرے گا۔ “ انہوں نے مزید کہا کہ”اگر کوئی کہتا ہے کہ وہ (مسلمان حاکم) قتل نہ کرے تب بھی وہ اس کی ذمہ داری ہے۔ آپ سے سوال نہیں ہوگا۔ “ انہوں نے آج کے دور کے حوالے سے کہا کہ اگر آج افراد کے لیے گستاخ کو سزا دینے کا دروازہ کھول دیا جائے تو یہاں تو گستاخ رسول کا جملہ اپنے ذاتی مفادات کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ یہاں لوگوں نے کسی سے پیسے لینے ہوں تو وہ خود ہی قرآن کے اوراق جلا کر دوسرے کے گھر پر رکھ دیتے ہیں اور شور مچا دیتے ہیں کہ یہ توہین رسالت کر رہا ہے، یہ گستاخ رسول ہے، اس نے قرآن پاک کو جلایا ہے، اس پر پورا گاؤں نکلتا ہے اور انہیں مار مار کر ہلاک کر دیتا ہے۔ انہوں نے سیالکوٹ کے حفاظ بھائیوں کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ کیا اُن کی بات بھول گئی، جن کی لڑائی کسی بات پر ہوئی اور اُن کو رنگ کوئی اور پہنا کر گھسیٹ گھسیٹ کر مار دیا گیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر افراد کو گستاخ کو سزا دینے کا حق دے دیا جائے تو اس بات کا فیصلہ کون کرے گا کہ بولا جانے والا جملہ گستاخی ہے یا نہیں؟ یہ کس عالم سے فتویٰ لیا گیا؟ یہ کس عالم کے سامنے پیش ہوا؟ اس پر کس قاضی نے یہ فیصلہ دیا کہ اس کا یہ جملہ توہین رسالت کے زمرے میں آتا ہے؟ نہوں نے مزید کہا کہ یہاں تو لوگ بات بات پر گستاخ رسول بول دیتے ہیں، جس کی جو سمجھ میں آتا ہے گستاخ رسول ہے[7]۔

خلاصۂ کلام: سزا اور معافی

اسلام سوال و جواب یا اسلام کیو اے ویب سائٹ ایک دعوتی، علمی اور تعلیمی ویب سائٹ ہے، اسلام سے متعلق -ممکنہ حد تک -آسان وسائل کے ذریعے، مشورے اور مدلل جوابات فراہم کرنا اس کا ہدف ہے، چاہے سائل مسلم ہو یا غیر مسلم، ان جوابات کی نگرانی اسلامی لیکچرار اور قلمکار الشیخ محمد صالح المنجد کرتے ہیں۔ انہوں نے ایک استفسار کے جواب میں یہ واضح کر دیا تھا کہ کوئی دنیوی گستاخ رسول کسی بھی طرح کی معافی نہیں پا سکتا ہے۔ تاہم وہ آخرت میں اس دنیوی توبہ کے سبب معافی پا سکتا ہے۔[8] مذکورہ سوال اور جواب اسلام کیو اے سے ہٹا دیا گیا ہے، حالاں کہ ویب سائٹ کا اردو ورژن حسب سابق جاری ہے۔ سزا سے متعلق جدید مسلم علماء کے ایک بڑے طبقے نے حمایت ضرور کی ہے، تاہم متصلًا یہ بھی واضح کر دیا ہے کہ نفاذ کا ذمہ ہر عام و خاص مسلمان پر نہیں ہے۔ مثلًا، جیسا کہ مضمون میں شروع میں دیوبندی مسلک کے محمد تقی عثمانی کا ذکر موجود ہے، جنہوں نے صاف کہا ہے کہ: ”کسی انسان کو یہ حق نہیں ہے کہ کوئی شخص خود اس پر سزا جاری کرے ،قتل کی۔ قانوکو ن ہاتھ میں لینے کی اجازت کسی کو نہیں ہوتی ہے۔ جائز نہیں ہے کسی کے لیے کہ وہ اُس کو قتل کرے۔ “ اسی طرح سے بریلوی علماء میں سے طاہر القادری نے کہا ہے کہ: ”یہ عدالت کی ذمہ داری ہے کہ وہ ٹرائل کرے اور شہادتوں سے جو سزا بنتی ہے وہ دے، یہ انفرادی شخص کو حق نہیں ہے، مگر یہ ایسی صورت بن گئی ہے کہ گویاایک انتہا پسندی ایک پورا نفسیاتی مرض بن گیاہے، جو بدقسمتی سے ہماری پوری قوم پر چھاتا چلا جا رہا ہے۔ “ اسی طرح سے اہل حدیث کے عالم توصیف الرحمن راشدی نے بھی اہم نکتہ اٹھایا ہے کہ "... یہاں تو لوگ بات بات پر گستاخ رسول بول دیتے ہیں، جس کی جو سمجھ میں آتا ہے گستاخ رسول ہے۔" اس سے پتہ چلتا ہے کہ سنی علماء کا ایک طبقہ جو توہین رسالت قانون کے تحت سخت سزا، یہاں تک کہ سزائے موت کا حامی ہے، عوام الناس کو از خود با اختیار بناتے ہوئے حسب مرضی قتل کی اجازت کے بجائے عدالتی فیصلوں کو زیادہ اہم سمجھتا ہے۔

عالمی سطح پر اہم مسائل پر شیعہ نقطہ نظر بیان کرنے والی ویب سائٹ شیعہ چیاٹ ڈاٹ کام کے مطابق پاکستان میں جہاں آزادخیال لوگ، سیاست دان اور اہل صحافت ممتاز قادری کی سزائے موت کے حامی تھے، وہیں زیادہ تر مذہبی مزاج سنی لوگ اس کے مخالف تھے اور قادری کو غازی اور شہید قرار دے رہے تھے۔ اس کے برعکس شیعہ حضرات سلمان تاثیر کو گستاخ نہیں سمجھتے تھے اور قادری ان کی نظروں میں ایک دہشت گرد ہے۔ مباحثے کی فورم میں آیت اللہ خمینی کے سلمان رشدی پر موت کے فتوے پر بحث ہوئی، جس پر ایک شراکت دار نے وضاحت کی کہ اولاً سلمان تاثیر نے راست طور پر کوئی گستاخی نہیں کی۔ اگر فی الواقع ایسا معاملہ ہوا بھی ہے، تو ملک کی عدلیہ کو کوئی آزادانہ فیصلہ لینا چاہیے تھا۔[9] اس طرح سے گستاخی سے جڑے معاملوں کے لئے بھی شیعہ افراد نے بھی ایک محتاط رد عمل اور قانونی بالا دستی پر زور دیا تھا۔

حوالہ جات