محمد بن مسلمہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
محمد بن مسلمہ
معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 589  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
یثرب  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات سنہ 666 (76–77 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
مدینہ منورہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
پیشہ محدث  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
عسکری خدمات
لڑائیاں اور جنگیں اسلامی فتح مصر  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں لڑائی (P607) ویکی ڈیٹا پر

محمد بن مسلمہ عرب مسلمان اور صحابی تھے۔ آپ نے کئی اسلامی جنگوں میں بطور سپاہ سالار حصہ لیا۔

نام ونسب[ترمیم]

محمد نام ابو عبد الرحمن کنیت قبیلہ اوس سے ہیں، سلسلۂ نسب یہ ہے،محمد بن مسلمہ بن خالد بن عدی بن مجدعہ بن حارثہ بن حارث بن خزرج بن عمرو بن مالک بن اوس بعثت نبوی سے 22 سال قبل پیدا ہوئے، محمد نام رکھا گیا، سنِ شعور کو پہنچ کر عبد الاشہل کے حلیف بنے۔

اسلام[ترمیم]

سعد بن معاذسے قبل مصعب بن جبیرکے ہاتھ پر اسلام قبول کیا۔ امین الامت ابو عبیدہ بن جراح سے جو عشرہ مبشرہ میں تھے رشتہ اخوت قائم ہوا،

غزوات میں شرکت[ترمیم]

غزوہ بدر میں شریک تھے اور غزوۂ قینقاع میں یہود کا مال انہی نے وصول کیا تھاکعب بن اشرف یہودی مدینہ میں ایک شاعر تھا، آنحضرتﷺ کی ہجو کرنا اور مسلمانوں کے خلاف آتش غیظ و غضب مشتعل کرنا رسول اکرم نے فرمایا کعب کے لیے کون ہے؟ اس نے خدا اور رسول کو بہت اذیت پہنچائی، محمد بن مسلمہ نے اٹھ کرکہا یا رسول اللہ ﷺ کیا آپ کی مرضی ہے کہ وہ قتل کر دیا جائے ،فرمایا ہاں عرض کیا تو اس کام کے لیے میں حاضر ہوں اس کا سرکاٹ کر لائے۔

  • غزوہ ٔاحد میں لشکر اسلام کی حفاظت پر متعین تھے، پچاس آدمیوں کے ساتھ تمام رات گشت لگایا تھا۔
  • واقعۂ نضیر میں کہ 4ھ میں پیش آیا تھا، آنحضرتﷺ نے ان کو بنو نضیر کے پاس بھیجا کہ یہ اعلان کردو کہ ہمارے شہر سے نکل کر کسی اورجگہ چلے جاؤ
  • غزوۂ خندق کے بعد 5ھ میں غزوۂ قریظہ ہوا، 15 روز کے محاصرہ کے بعد یہود بنی قریظہ نے ہتھیار ڈالے آنحضرتﷺ کے حکم پر راضی ہو گئے ،محمد بن مسلمہ نے عورتوں اوربچوں کو جدا کرکے باغیوں کے ہاتھ باندھ دئے اورایک طرف لاکر کھڑا کر دیا۔
  • اس واقعہ کے بعد 30 سواروں کے ساتھ آنحضرتﷺ نے بکرات روانہ کیا جو مدینہ سے 7 دن کی مسافت پر واقع تھا، مقصود قرطاء پر غارت گری تھی، محمد بن مسلمہ رات کو چلتے اور دن کو کہیں چھپ رہتے، گاؤں پہونچ کر اچانک ان کو جالیا کچھ قتل ہوئے، باقی فرار ہو گئے،بہت سے اونٹ اوربکریاں غنیمت میں ہاتھ آئیں
  • ربیع الثانی 6ھ میں 10 آدمیوں کے ساتھ ذی القصہ بھیجے گئے
  • غزوۂ تبوک میں 9ھ میں واقع ہوا تھا،آنحضرتﷺ نے مدینہ میں ان کو کاروبار خلافت سپرد کیا تھا۔
  • عمر فاروق کے عہدخلافت میں قبیلہ جہینہ کے صدقات وہی وصول کرتے تھے،عمال کے نگران تھے،
  • 21ھ میں سعدبن ابی وقاص جو کوفہ کے گورنر اور عشرہ مبشرہ میں تھے ان کے خلاف لوگوں نے جاکر عمرسے شکایت کی،محمد بن مسلمہ تحقیقات کے لیے کوفہ بھیجے گئے،انہوں نے کوفہ کی ایک مسجد میں جاکر لوگوں کا اظہار لیا اورسعد بن ابی وقاص کو ساتھ لے کر مدینہ آئے یہاں عمر نے خود ان سے حقیقت حال معلوم کی۔[1]

وفات[ترمیم]

امیر معاویہ کے عہد میں صفر 46ھ میں وفات پائی، ایک شامی جو صوبۂ اردن کا رہنے والا تھا اس وجہ سے قتل کیا کہ انہوں نے امیر معاویہ کی طرف سے تلوار کیوں نہ اٹھائی۔[2][3]

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. طبقات ابن سعد:20،حصہ مغازی
  2. تہذیب التہذیب
  3. استیعاب:1/239