رافع بن مالک

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
رافع بن مالک
معلومات شخصیت
اولاد خلاد بن رافع بن مالک،  رفاعہ بن رافع  ویکی ڈیٹا پر (P40) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

رافع بن مالک انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ (وفات: )بیعت عقبہ میں شامل ایک صحابی رسول تھے۔ کنیت ابو ملک و ابو رفاعہ شہداء احد میں سے ہیں۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہجرت سے پہلے بیعت عقبہ اولیٰ میں مشرف باسلام ہوئے ۔غزوہ بدر اور غزوہ احد میں شرکت کی۔غزوہ احد میں شہید ہوئے ۔

نام ونسب[ترمیم]

رافع نام، ابو مالک و ابو رفاعہ کنیت ، قبیلہ بنو خزرج سے ہیں، نسب نامہ یہ ہے، رافع بن مالک بن العجلان بن عمرو بن عامر بن زریق بن عامر بن عبد حارثہ بن مالک بن غضب بن جشم بن خزرج۔

اسلام[ترمیم]

انصار مدینہ منورہ میں سب سے پہلے جس گروہ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی قیام گاہ پر حاضر ہو کر اسلام قبول کیا ان میں سے سے پہلے شخص حضرت رافع بن مالک تھے۔ آپ بنو زریق کے نقیب مقرر کیے گئے۔اور اشاعت اسلام میں بڑی سرگرمی دکھائی۔ بنی زریق کی مسجد میں سب سے پہلے قرآن پاک آپ نے پڑھایا۔ جو سورۃ نازل ہوتی آپ فوراً لکھ کر لوگوں کو سناتے۔ غزوہ احد میں شہید ہوئے۔ قبیلۂ بنو خزرج کے 6 آدمی جن میں یہ دونوں آدمی بھی تھے،عمرہ کی غرض سے مکہ مکرمہ گئے تھے، آنحضرت ان کے قیام گاہ پر تشریف لائے اور اسلام کی تبلیغ کی تو سب سے پہلے اس دعوت کو انہی دونوں نے لبیک کہا۔ یہ اسد الغابہ کی روایت ہے طبقات میں ہے کہ صرف دو شخص گئے تھے ان کو آنحضرت کی خبر ملی تو خدمت میں حاضر ہوکر مذہب اسلام اختیار کرنے کا شرف حاصل کیا۔ ان دونوں بزرگوں میں بھی جیسا کہ سعد بن عبد الحمید کا قول ہے ،حضرت رافع بن ؓمالک نے پہلے بیعت کی تھی۔ اسلام قبول کرکے پلٹے تو مدینہ میں نہایت سرگرمی سے اشاعتِ اسلام کی خدمت انجام دی،مصنف اسد الغابہ لکھتے ہیں: فلما قدموا المدينة ذكروا لقومهم الإسلام ودعوهم إليه، فشفا فيهم، فلم تبق دار من دور الأنصار إلا وفيها ذكر من رسول الله صلى الله عليه وسلم [1] یعنی جب یہ لوگ مدینہ آئے اور اپنی قوم میں اسلام کا چرچا کیا تو اس کی دعوت دی تو اسلام تمام انصار میں پھیل گیا اب کوئی گھر نہ تھا جہاں رسول اللہ کا ذکر خیر نہ ہوتا ہو۔ دوسرے سال حضرت رافع بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ 12 ، آدمیوں کے ساتھ اور تیسرے سال 70 آدمیوں کے ساتھ مکہ گئے اور اس اخیر بیعت میں بنو زریق کے نقیب منتخب ہوئے۔صحیح بخاری میں رافعؓ بن مالک کے عقبہ میں شریک ہونے کا ذکر آیا ہے،چنانچہ ان کا قول ہے: مَا يَسُرُّنِي أَنِّي شَهِدْتُ بَدْرًا بِالْعَقَبَةِ [2] یعنی مجھے یہ خوش نہیں آتا کہ عقبہؓ کے مقابلہ میں غزوہ بدر میں شریک ہوتا۔ [3][4]

غزوات[ترمیم]

رافع بن مالک رضی اللہ عنہ کی اسلامی زندگی کے دوران میں صرف دو لڑائیاں پیش آئیں، غزوہ بدر اور غزوہ احد، غزوہ بدر میں ان کی شرکت مشکوک ہے،ابن اسحاق نے ان کو اصحاب بدر میں شمار نہیں کیا ہے اور موسیٰ بن عقبہ نے ابن شہاب زہری سے نقل کیا ہے کہ وہ شریک تھے،اس باب میں بہترین حکم خود ان کا قول ہو سکتا ہے، بخاری کی جو عبارت ہے کہ "مجھے یہ خوش نہیں آتا کہ بیعت عقبہ کے مقابلہ میں میں بدر میں شریک ہوتا "اس قول سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ شریک بدر نہ تھے۔

شہادت[ترمیم]

حضرت رافع بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ شوال میں غزوہ احد میں شہادت پائی۔

خدماتِ مذہبی[ترمیم]

اشاعت اسلام کے علاوہ اور بھی متعدد مذہبی خدمتیں انجام دیں، سورۂ یوسف مدینہ منورہ میں سب سے پیشتر انہی نے پہنچائی ،مسجد بنی زریق میں مدینہ کی تمام مسجدوں سے قبل قرآن مجید پڑھا گیا ،اس کے پڑھنے والے یہی بزرگ تھے،بیعت سے واپسی کے وقت آنحضرت پر مکہ میں جس قدر قرآن نازل ہوا تھا لکھ کر ساتھ لیتے آئے تھے اور اپنی قوم کو جمع کر کے سنایا تھا، ایک روایت یہ بھی ہے کہ مکہ میں مقیم ہو گئے تھے، جب سورہ طہ نازل ہوئی تو لکھ کر مدینہ لائے،غرض یہ عظیم الشان کارنامے انصار کے اس جلیل المنزلت بزرگ کے تھے،جس نے دولت ایمان کے لازوال خزانے کو سب سے پہلے اپنے آغوش میں جگہ دی ،فنصر اللہ عبد انصر الاسلام بنفسہ ومالہ ودمہ۔ .[5]

حوالہ جات[ترمیم]