مقداد بن اسود

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
مقداد بن اسود
(عربی میں: المقداد بن الأسود خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقامی زبان میں نام (P1559) ویکی ڈیٹا پر
Bagicemetry.JPG 

معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 589  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
یمن  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات سنہ 653 (63–64 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
مدینہ منورہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
مدفن جنت البقیع  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام دفن (P119) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Black flag.svg خلافت راشدہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
زوجہ ضباعہ بنت زبیر  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شریک حیات (P26) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
پیشہ سائنس دان  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
عسکری خدمات
لڑائیاں اور جنگیں غزوات نبوی،  اسلامی فتح شام،  اسلامی فتح مصر  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں لڑائی (P607) ویکی ڈیٹا پر

مقداد بن اسود الکندی (عربی: المقداد بن الأسود الكندي) محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے اصحاب میں سے تھے۔ ان کا شجرہ یوں ہے: مقداد بن عمرو بن ثعلبہ بن مالک بن ربیعہ بن عامر۔ ان کا تعلق قبیلہ کندہ سے تھا جو نواحِ یمن میں حضرموت میں رہتے تھے۔ مقداد اپنے قبیلہ سے نکل کر مکہ میں رہائش پزیر ہو گئے تھے جہاں اسود نامی شخص کے ساتھ منسلک رہے یا انہیں اسود نامی شخص نے پالا چنانچہ انہیں ابن الاسود کہا جانے لگا۔ مقداد نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ مکہ و مدینہ میں گزارا۔

قبولِ اسلام[ترمیم]

انہوں نے چوبیس سال کی عمر میں اسلام قبول کیا اور اولین مسلمانوں میں سے تھے۔ آپ ہجرتِ حبشہ کے دوسرے گروہ میں شامل تھے اور بعد میں مکہ سے مدینہ بھی ہجرت فرمائی، اسی لیے انہیں وھاجر الھجرتین بھی کہا جاتا ہے۔ مدینہ میں عقدِ مواخات کے دوران انہیں بعض روایات کے مطابق عبد اللہ بن رواحہ اور بعض کے مطابق جبار بن صخر کا بھائی بنایا گیا۔

مقداد  کی شادی زبیر بن عبد المطلب کی بیٹی اور  عبد اللہ بن زبیر  کی بہن ضباعہ سے ہوئی جو خود بھی اولین مسلمات سے تھیں۔

غزوات و جنگوں میں شرکت[ترمیم]

آپ غزوہ بدر سمیت تمام اہم غزوات میں شریک تھے۔ غزوہ بدر میں آپ نے محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے فرمایا کہ خدا کی قسم اگر آپ ہمیں آگ میں کودنے یا کانٹوں پر پا برہنہ چلنے کا حکم دیں تو ہم آپ کا حکم دل و جان سے قبول کریں گے اور یہود کی طرح ہرگز آپ سے نہ کہیں گے کہ آپ اپنے خدا کے ساتھ جنگ کریں اور ہم یہاں بیٹھتے ہیں بلکہ آپ کے ہم رکاب جنگ کریں گے۔ یہ سن کر رسولِ خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بہت خوش ہوئے اور مقداد کو دعا دی کہ خدا تمہیں جزائے خیر عطا کرے۔ غزوہ احد میں آپ ان لوگوں میں شامل تھے جو میدانِ احد سے فرار نہیں ہوئے۔ 25ھ میں آپ فتحِ مصر میں بھی شریک تھے۔

وفات[ترمیم]

بعض روایات کے مطابق آپ ان لوگوں میں شامل تھے جو علی علیہ السلام کو محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا جانشین سمجھتے تھے لہٰذا آپ مدینہ چھوڑ گئے تھے اور حرف نامی جگہ پر آپ کی وفات 33ھ میں ہوئی۔

حوالہ جات[ترمیم]