عمرو بن معد یکرب الزبیدی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
عمرو بن معد یکرب الزبیدی
معلومات شخصیت
مقام پیدائش زبید  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات 9 نومبر 642  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
نہاوند،  صوبہ ہمدان  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
رہائش مدینہ منورہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں رہائش (P551) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Flag of Yemen.svg یمن  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
پیشہ شاعر  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر

عمرو بن معد یکرب الزبیدی، عہد جاہلیت کے ممتاز عربی شاعر و خطیب تھے۔

حالات زندگی[ترمیم]

عمرو بن معد یکرب الزبیدی (535 تا 643) یمن کا شہسوار، عرب کا خطیب اور قادسیہ کا ہیرو۔ اس کا سلسلہ نسب قحطان سے جاملتا ہے، اس کی کنیت ابو ثور ہے۔ جب بنی اکر 9 ہجری میں غزوہ تبوک سے واپس آ رہے تھے تو آپ کو راستے میں ملا اور یہ قوم سمیت مسلمان ہو گیا۔ لیکن وہ دل جس نے خالص جاہلت میں پرورش پائی اور جوان ہوا ہو، انسانوں کے گوشت پوست سے کھیلا ہو، شراب نوشی اور کھیل کود کا رسیا ہو ہو دین کو اخلاص اور صدق کے ساتھ قبول نہیں کر سکتا، لہذا مسلمان ہونے کے بعد مرتد ہو گیا۔ پھر اس نے دوبار اسلام قبول کر لیا اور خدا کی راہ میں جہاد کا حق ادا کر دیا اور جب اس نے جنگ قادسیہ میں حصہ لیا اور وقت اس کی عمر ایک قول کے مطابق ایک سو دس برس تھی۔ اس نے نمایاں کارنامے انجام دیے 643ء خلافت عمر کے اواخر میں اس کا انتقال ہو گیا۔

اخلاق و عادات اور مرتبہ[ترمیم]

عمرو بن معد یکرب نہایت طاقتور، موٹااور کھانے رسیا ہونے کے ساتھ یہ بہادر جنگجو، خطیب اور شاعر تھا اور قوم کا سرکردہ فرد تھا جس کی لوگ اطاعت کرتے تھے۔ اس خطابت میں پہلا درجہ ہے اور شعرا کے دوسرے طبقہ میں شمار ہوتا ہے۔ اس کی شاعری کا بڑا حصہ اپنی بہادری یا کارناموں سے سے بھرا ہوا ہے۔ نعمان بن منذر نے اسے سرکردہ شامل کرکے نوشیرواں کے پاس بھیجا تھا کہ یہ وفد عرب نعمان بن منذر کے دعویٰ کا سچا ثابت کرے او اس کی عزت و شہرت کا باعث بنے۔ وہاں پہنچ کر عمرو بن معد یکرب نے تقریر کی۔

’’انسان کا دارو مدار اس کی دو چھوٹی سی چیزوں پر ہے وہ اس کا دل اور زبان ہیں، سچائی بات کو دلنشیں بنادیتی ہے مقصد کا حصول جستجو سے ممکن ہے، اپنی معلومات کی حدود میں رہنا سرگردانی کی زحمت سے بہتر ہے اے بادشاہ ہمارے دلوں کو اپنے حسن کلام سے موہ لیجیئے، ہم سے ہماری خطاؤں کی درگزر کے لیے جلدی کیجئے، اگر آپ ہمارے ساتھ نرمی کا برتاؤ کریں کریں گے تو ہم آپ کے وفادور بن جائیں گے اور آپ کو معلوم ہونا چاہیے ہم وہ لوگ ہیں کہ ٹھوکر مار کر ہمارے سخت پتھر کو کچلنے کا ارادہ کرنے والے ہمیں نقصان نہیں پہنچا سکتے بلکہ ہمیں جو تباہ کرنا چاہتا ہے ہم اس کے مقابلے میں پوری طرح اپنی حفاظت کرنا جانتے ہیں‘‘۔[1]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. احمد حسن زیات۔ تاریخ ادب عربی۔ ترجمہ، محمد نعیم صدیقی۔ شیخ محمد بشیر اینڈ سنز سرکلر روڈ چوک اردو بازار لاہور