جنگ قادسیہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
جنگِ قادسیہ
Depiction of the Battle of al-Qādisiyyah from a manuscript of the Persian epic Shāh-nāmeh. Source- British Library (MS. I.O.Islamic 3265 (1614) f. 602r).jpg
تاریخ 636
جگہ قادسیہ، عراق
نتیجہ مسلمانوں کی جیت
متحارب
عرب
ایرانی
قائدین
سعد بن ابی وقاص
ہرمزان
تعداد
30٫000
60٫000
نقصان
6٫000
30٫000 – 40٫000

جنگ قادسیہ یا قادسیہ کی لڑائی مسلمانوں کے دوسرے خلیفہ عمر فاروق کے دور میں عرب مسلمانوں جن کے سپہ سالار سعد بن ابی وقاص اور ایران جن کا سراد رستم تھا کے درمیان میں ہوئی۔ اس میں مسلمانوں کی فتح اور ایران مسلمانوں کے قبضے میں آ گیا۔

ابتدا[ترمیم]

مغیرہ بن شعبہ مذاکرات کے بعد واپس آئے رستم نے اپنی فوج کوتیاری کا حکم دے دیا،دونوں لشکروں کے درمیان میں ایک نہر حائل تھی،رستم کے پاس پیغام بھیجا کہ تم نہر کے اس طرف آکر لڑو گے یا ہم کو نہر کے اس طرف آنا چاہیے، سعد بن ابی وقاص نے کہلا بھجوایا کہ تم ہی نہر کے اس طرف آجاؤ؛چنانچہ تمام ایرانی لشکر نہر کو عبور کرکے میدان میں آکرجم گیا،میمنہ و میسرہ اور ہر اول وساقہ وغیرہ لشکر کے ہر ایک حصہ کو رستم نے جنگی ہاتھیوں اور زرہ پوش سواروں سے ہر طرح مضبوط ومکمل بنایا،خود قلب لشکر میں قیام کیا،یہ ایرانی لشکر جو زیادہ سے زیادہ تیس ہزار کے اسلامی لشکر کے مقابلہ میں آمادہ جنگ ہوا پونے دولاکھ سے زیادہ اور ہرطرح اسلامی لشکر کی نسبت سامان حرب سے مسلح تھے،

سپہ سالار اسلام[ترمیم]

سپہ سالار لشکر اسلام سعد بن ابی وقاص کے دنبل نکل رہے تھے اور عرق النساء کے درد کی بھی آپ کو شکایت تھی،لہذا نہ گھوڑے پر سوار ہوسکتے تھے نہ چل پھر سکتے تھے،میدان جنگ میں اسلامی لشکرگاہ کے سرے پر ایک پرانے زمانہ کی بنی ہوئی پختہ عمارت کھڑی تھی،سعد خود اس عمارت کی چھت پر گاؤ تکیہ کے سہارے بیٹھ گئے اور اپنی جگہ میدان جنگ کا سردار خالد بن عرفطہ کو تجویز کیا ؛لیکن لڑائی کے نقشے اورمیدان جنگ کے اہم تغیر و تبدل کو سعدنے اپنے ہی ہاتھ میں رکھا، یعنی برابر خالد بن عرفطہ کے پاس ہدایات روانہ کرتے رہے،ایرانی لشکر کی تیاریوں کی خبر سن کر اسلامی لشکر بھی جنگ کی تیاری میں مصروف ہو گیا تھا، عمرو بن معد یکرب عاصم بن عمرو، ربعی، عامر وغیرہ حضرات نے سعدکے حکم کے موافق تمام لشکر اسلام میں گشت لگا کر لوگوں کو جہاد اورجنگ پر آمادہ کیا،شعرا نے رجز خوانی شروع کی،قاریوں نے سورہِ انفال کی تلاوت سے تمام لشکر میں ایک جوش او رہی جانی کیفیت پیدا کردی۔

پہلا دن[ترمیم]

جنگ کے پہلے دن دونوں فوجیں مسلح ہوکر ایک دوسرے کے مقابل صف آرا ہوگئیں، سب سے پہلے لشکر ایران کی طرف سے ہرمزنامی ایک شہزادہ میدان میں نکلا جو زرین تاج پہنے ہوئے تھا اورایران کے مشہور پہلوانوں میں شمار ہوتا تھا،اس کے مقابلے کے لیے غالب بن عبد اللہ اسعد اسلامی لشکر سے نکلے غالب نے میدان میں جاتے ہی ہرمز کو گرفتار کرکے سپہ سالار سعد کے پاس لاکر ان کے سپرد کر گئے ،اس کے بعد ایک اور زبردست شہسوار اہل فارس کی جانب سے نکلا،ادھر عاصم اُس کے مقابلے کو پہنچے،طرفین سے ایک ایک دو دو وا رہی ہونے پائے تھے کہ ایرانی شہسوار بھاگا، عاصم نے اس کا تعاقب کیا لشکر فارس کی صف اول کے قریب پہنچ کر اُس کے گھوڑے کی دُم پکڑ کر روک لیا اورسوار کو اُس کے گھوڑے سے اٹھا کر اور اپنے آگے زبردستی بٹھا کر گرفتار کر لائے ،یہ بہادری دیکھ کر لشکر ایران سے ایک اوربہادر چاندی کا گرز لیے ہوئے نکلا اس کے مقابلے پر عمرو بن معدیکرب نکلے اور گرفتار کرکے لشکر اسلام میں لے آئے،رستم نے اپنے کئی سرداروں کو اس طرح گرفتار ہوتے ہوئے دیکھ کر فوراً جنگ مغلوبہ شروع کردی اورسب سے پہلے ہاتھیوں کی صف کو مسلمانوں کی طرف ریلا،ہاتھیوں کے اس حملہ کو قبیلہ بحیلہ نے روکا،لیکن ان کا بہت نقصان ہوا، سعدنے جو بڑے غور سے میدان کا رنگ دیکھ رہے تھے،فورا بنی اسد کے لوگوں کو بحیلہ کی کمک کے لیے حکم دیا،بنو اسد نے آگے بڑھ کر خوب خوب داد مردانگی دی،لیکن جب ان کی بھی حالت نازک ہوئی،تو سعدنے فوراً قبیلہ کندہ کے بہادروں کو آگے بڑھنے کا حکم دیا،بنو کندہ نے آگے بڑھ کر اس شان سے حملہ کیا کہ اہل فارس کے پاؤں اکھڑ گئے اور وہ پیچھے ہٹنے لگے،رستم نے یہ رنگ دیکھ کر تمام لشکر ایران کو مجموعی طاقت سے یکبارگی حملہ کرنے کا حکم دیا،اس متفقہ سخت حملہ کو دیکھ کر سعدنے تکبیر کہی اورتمام اسلامی لشکر نے سعدکی تقلید میں تکبیر کہہ کر ایرانیوں پر حملہ کیا گویادوسمندر ایک دوسرے پر امنڈ آئے،یا دو پہاڑ ایک دوسرے سے ٹکرائے فریقین کی فوجیں ایک دوسرے میں خلط ملط ہوگئیں ،اس حالت میں ایرانیوں کے جنگی ہاتھیوں نے اسلامی لشکر کو سخت نقصان پہنچانا شروع کیا، سعد نے فوراً تیر اندازوں کو حکم دیا کہ ہاتھیوں پر اور ہاتھیوں کے سواروں پر تیر اندازی کرو، عاصم نے نیزہ لے کر ہاتھیوں پر حملہ کیا،اُن کی تقلید میں دوسرے بہادروں نے بھی ہاتھیوں کی سونڈھوں پر تلواروں اورنیزوں سے زخم پہنچانے شروع کر دیے،تیر اندازوں نے ایسے تیر برسائے کہ فیل نشینوں کو جوابی تیر اندازی کی مہلت ہی نہ ملی،نتیجہ یہ ہوا کہ ہاتھ پیچھے ہٹے اوربہادروں کے لیے میدان میں شمشیر زنی کے جوہر دکھانے کے مواقع ملے صبح سے شام تک میدان کارزار گرم رہا رات کی تاریکی نے لڑائی کو کل کے لیے ملتوی کر دیا یہ دوشنبہ کا روز تھا محرم 14ھ کا واقعہ ہے۔

دوسرا دن[ترمیم]

اگلے دن علی الصبح بعد نماز فجر سعد بن وقاص نے سب سے پہلے کل کے شہداء کو قادسیہ کے مشرق کی جانب دفن کرایا،کل کے شہداء کی تعداد پانچ سو تھی،زخمیوں کی مرہم پٹی کا سامان رات ہی میں کر دیا گیا تھا،شہداء کے دفن سے فارغ ہوکر اسلامی لشکر نے اپنی صفیں مرتب کیں،ایرانی بھی میدان میں آڈٹے ابھی لڑائی شروع نہیں ہوئی تھی کہ ملک شام سے روانہ کیے ہوئے لشکر کے قریب پہنچنے کی خبر پہنچی،ملک شام سے ابو عبید ہ بن الجراح نے ہاشم بن عتبہ کی سرداری میں لشکر عراق کو واپس بھیجا تھا،اس لشکر کے مقدمۃ الجیش پر قعقاع بن عمرو افسر تھے اور وہ ایک ہزار کا مقدمۃ الجیش لیے ہوئے سب سے پہلے قادسیہ پہنچے اور سعدکو بڑے لشکر کے پہنچنے کی خوشخبری سُنا کر خود اجازت لے کر میدان میں نکلے اور مبارز طلب کیا ان کے مقابلہ پر بہمن جادویہ آیا طرفین سے داد سپہ گری دی گئی اور جوہردکھائے گئے،لیکن نتیجہ یہ ہوا کہ قعقاع کے ہاتھ سے بہمن جادویہ ہلاک ہوا اس کے بعد کئی مشہور ونامور ایرانی بہادر میدان میں نکلے اور مقتول ہوئے،بالآخر رستم نے عام حملہ کا حکم دیا اوربڑے زورو شور سے لڑائی ہونے لگی،ہاشم بن عتبہ نے میدان جنگ کے گرم ہونے کا حال سُن کر اپنی چھ ہزار فوج کے بہت سے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے کر دیے اورحکم دیا کہ تھوڑے وقفہ سے ایک ایک حصہ تکبیر کہتا ہوا داخل ہو،اس طرح شام تک یکے بعد دیگرے یہ دستے لشکر اسلام میں داخل ہوتے اورایرانی اس طرح پیہم کمک دستوں کی آمد دیکھ دیکھ کر خوف زدہ ہوتے رہے،آج بھی ہاتھیوں کا لشکر اسلام کے لیے بہت سخت تھا،لیکن مسلمانوں نے ایک نئی تدبیر یہ کی کہ اونٹوں پر بڑی بڑی جھولیں ڈالیں وہ بھی ہاتھیوں کی طرح مہیب نظر آتے اور ایرانیوں کے گھوڑے ان کو دیکھ دیکھ کر بدکنے لگے،جس قدر ہاتھیوں سے اسلامی لشکر کو نقصان پہنچتا تھا،اسی قدر ایرانی لشکر کو ان مصنوعی ہاتھیوں سے نقصان پہنچنے لگا،آج قعقاع نے بہت سے ایرانی سرداروں اورمشہور شہسواروں کو قتل کیا،شام تک بازار جنگ گرم رہا آج ایک ہزار مسلمان اوردس ہزار ایرانی میدان جنگ میں کام آئے۔

تیسرا دن[ترمیم]

تیسرے روز سعد بن وقاص نے نماز فجر سے فارغ ہوتے ہی اول شہداء کی لاشوں کے دفن کرنے کا انتظام کیا مجروحوں کو عورتوں کے سپرد کیا گیا کہ وہ مرہم پٹی کریں،اس کے بعد دونوں فوجیں میدان جنگ میں ایک دوسرے کے مقابل ہوئیں،آج بھی ایرانیوں نے ہاتھیوں کو آگے رکھا؛ لیکن قعقاع وعاصم نے مل کر فیل سفید پر جو تمام ہاتھیوں کا سردار تھا حملہ کیا اور اُس کو مارڈالا ،فیل سفید کے مارے جانے کے بعد ایک دوسرے ہاتھی پر حملہ ہوا،تو وہ میدان سے اپنی جان بچا کر بھاگا،اس کو بھاگتے ہوئے دیکھ کر دوسرے ہاتھیوں نے بھی تقلید کی اوراس طرح آج ہاتھیوں کا وجود بجائے اس کے کہ اسلامی لشکر کو نقصان پہنچاتا خود ایرانیوں کے لیے نقصان رساں ثابت ہوا،آج بھی بڑے زور کی لڑائی ہوئی اورصبح سے شام تک جاری رہی،غروب آفتاب کے بعد تھوڑی دیر کے لیے دونوں فوجیں ایک دوسرے سے جدا ہوئیں اورپھر فوراً مستعد ہوکر ایک دوسرے کے مقابل صف آرا ہوگئیں مغرب کے وقت سے شروع ہوکر صبح تک لڑائی جاری رہی،تمام رات لڑائی کا شور وغل اورہنگامہ برپا رہا نہ پوری کیفیت سعدؓ کو معلوم ہوسکتی تھی نہ رستم کو غرض یہ رات بھی ایک عجیب قسم کی رات تھی،سپہ سالار اسلام سعدرات بھر دُعا میں مصروف رہے،آدھی رات کے بعد انہوں نے میدان جنگ کے شور وغل میں قعقاع کو آواز سنی کہ وہ اپنے لوگوں کو کہہ رہے ہیں کہ سب سمٹ کر قلب پر حملہ کرو اور رستم کو گرفتار کرلو،اس آواز نے نہ صرف سعد کو تسکین دی ؛بلکہ تمام مسلمانوں میں ازسر نو طاقت پیدا کردی،تمام دن اورتمام رات لڑتے ہوئے غازیان اسلام تھک کر چور چور ہو گئے تھے،مگر اب پھر ہر قبیلہ کے سردار نے اپنی اپنی قوم کو مقابلہ کے لیے برانگیختہ کیا،بڑے زور شور سے تلوار چلنے لگی قعقاع کی رکابی فوج لڑتی ہوئی اس مقام تک پہنچ گئی،جہاں رستم ایک تخت زریں پر بیٹھا ہوا اپنی فوج کو لڑا رہا تھا اورحصہ فوج کو احکام بھیج رہا تھا،اسلامی حملہ آوروں کے قریب پہنچنے پر رستم خود تخت سے اتر کر لڑنے لگا جب زخمی ہوا تو پیٹھ پھیر کر بھاگا ہلال بن علقمہ نے بڑھ کر بھاگتے ہوئے برچھے کا وار کیا جس سے اس کی کمر ٹوٹ گئی اورنہر میں گرپڑا ،ہلال نے فورا گھوڑے سے کود کر ااورجھک کر رستم کی ٹانگیں پکڑ کر باہر کھینچ لیا اوراس کا کام تمام کرکے فورا رستم کے تخت پر کھڑے ہوکر بلند آواز سے پکارا کہ خدا کی قسم میں نے رستم کو قتل کر دیا ہے،اس آواز کے سنتے ہی اسلامی فوج نے نعرۂ تکبیر بلند کیا اور ایرانیوں کے ہوش وحواس باختہ ہو گئے،ایرانی میدان سے بھاگے،لشکر ایران میں سواروں کی تعداد تیس ہزار تھی،جن میں بمشکل تیس سوار بھاگ کر اپنی جان بچاسکے،باقی سب میدان جنگ میں مارے گئے، ضرار بن الخطاب نے درفش کا ویاں ایرانیوں کے مشہور جھنڈے پر قبضہ کیا،جس کے عوض انہوں نے تیس ہزار دینار لیے حالانکہ وہ دو لاکھ دس ہزار دینار کی مالیت کا تھا اس لڑائی میں مسلمانوں کے کل چھ ہزار آدمی شہید ہوئے، سعدنے رستم کا تمام سامان اسلحہ ہلال بن علقمہ کو دیا اورقعقاع وشرجیل کو تعاقب کے لیے روانہ کیا؛ لیکن ان سے بھی پہلے زہرہ بن حیوٰۃ ایک دستہ فوج لے کر مفرور ایرانیوں کے پیچھے روانہ ہوچکے تھے،راستے میں ایک مقام پر جالینوس مفروروں کو روک روک کر مجتمع کر رہا تھا زہرہ نے اس کو قتل کر دیا اوراس کے تمام مال وسامان پر قبضہ کرکے سعدکی خدمت میں حاضر ہوئے، سعدکوجالینوس کا سامان اُن کے حوالے کرنے میں تامل ہوا اوراس معاملہ میں دربار خلافت سے اجازت طلب کی ،فاروق اعظم نے زہرہ کی ستائش کی اورجالینوس کا اسباب انہیں کودے دینے کا حکم دیا۔

فتح کی خوشخبری[ترمیم]

سعد بن ابی وقاص نے میدان جنگ کا ہنگامہ فرو ہونے کے بعد مال غنیمت فراہم کیا فوراً فاروق اعظم کی خدمت میں فتح کی خوشخبری کا خط لکھا اورایک تیز رفتار شتر سوار کو دے کر مدینہ کی طرف روانہ کیا یہاں فاروق اعظم کا یہ حال تھا کہ روزانہ صبح اُٹھ کر مدینے میں واپس آجاتے تھے،ایک روز حسب دستور باہر تشریف لے گئے دُور سے ایک شتر سوار نظر پڑا اُس کی طرف لپکے ،قریب پہنچ کر دریافت کیا کہ کہاں سے آتے ہو اُس نے کہا کہ میں قادسیہ سے آ رہا ہوں اور خوشخبری لایا ہوں کہ خدائے تعالیٰ نے مسلمانوں کو فتح عظیم عطا کی، فاروق اعظم نے اُس سے لڑائی کی کیفیت اورفتح کے تفصیلی حالات دریافت کرنے شروع کیے اور شہسوار کی رکاب پکڑے ہوئے اس کے ساتھ ساتھ دوڑتے ہوئے مدینے میں داخل ہوئے ،شتر سوار حالات سناتا جاتا تھا اوراپنے اونٹ پر سوار مدینے میں دربار خلافت کی جانب چلا جاتا تھا،شہر میں داخل ہوکر شتر سوار نے دیکھا کہ ہر شخص جو سامنے آتا ہے فاروق اعظم کو امیر المومنین کہہ کر سلام علیک کرتا ہے،تب اُس کو معلوم ہوا کہ جو شخص میرے ساتھ پیدل چل رہا ہے وہ خلیفہ وقت ہے یہ معلوم کرکے وہ ڈرا اور اونٹ سے اترنا چاہا،لیکن فاروق اعظم نے کہا کہ تم حالات سناتے جاؤ،اوربدستور اپنے اونٹ پر سوار چلے چلو،اسی طرح گھر تک آئے ،مسجد نبوی میں پہنچ کر لوگوں کو جمع کیا اور فتح کی خوشخبری سب کو سُنائی، ایک نہایت پُر اثر تقریر فرمائی جس کا خاتمہ اس طرح تھا: "بھائیو! میں بادشاہ نہیں ہوں کہ تم کو اپنا غلام بنانا چاہوں، میں تو خود اللہ تعالیٰ کا غلام ہوں،البتہ خلافت کا کام میرے سپرد ہے، اگر میں یہ کام اس طرح انجام دوں کہ تم آرام سے اپنے گھروں میں اطمینان سے زندگی بسر کرو تو یہ میری خوش نصیبی ہے اوراگر خدانخواستہ میری یہ خواہش ہو کہ تم لوگ میرے دروازے پر حاضری دیا کرو تو یہ میری بد بختی ہوگی میں تم کو تعلیم دیتا ہوں اورنصیحت کرتا ہوں لیکن صرف قول سے نہیں عمل سے بھی۔"[1]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. تاریخ اسلام جلد 1 -صفحہ 317 مؤلف : مولانا اکبر شاہ نجیب آبادی صاحب - ناشر : مکتبہ خلیل اردو بازار لاہور پاکستان