جبار بن ضحر

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
(جبار بن صخر سے رجوع مکرر)
Jump to navigation Jump to search
جبار بن ضحر
معلومات شخصیت
پیدائشی نام جبار بن صخر
کنیت ابو عبد اللہ
والد صخر بن امیہ بن خنساء بن سنان
والدہ عتیکہ بنت خرشہ بن عمرو البیاضیہ
عملی زندگی
طبقہ صحابہ
نسب الخزرجی الانصاری
عسکری خدمات
لڑائیاں اور جنگیں غزوات نبوی

جبار بن صخر غزوہ بدر میں شامل ہونے والے انصار صحابہ میں شامل ہیں۔

نام وونسب[ترمیم]

جبار نام،ابو عبداللہ کنیت، قبیلۂ خزرج کے خاندان سلمہ سے ہیں، نسب نامہ یہ ہے، جبار بن ضحر بن امیہ بن خنیس بن سنان بن عبید بن عدی بن غنم بن کعب بن سلمہ، والدہ کا نام سعاد بنت سلمہ تھا اور جثم بن خزرج کے قبیلہ سے تھیں۔ اسلام:بیعتِ عقبہ ثانیہ میں شریک تھے۔

اسلام[ترمیم]

بیعت عقبہ میں شامل تھے مقداد بن عمرو کے ساتھ مؤخات ہوئی۔

غز وات[ترمیم]

مقداد اسودکندی سے جو کہ بڑے رتبہ کے صحابی تھے مواخاۃ ہوئی ،تمام غزوات میں شرف شرکت حاصل کیا، غزوہ بدر میں ۳۲ سال کے تھے۔ خیبر فتح ہونے کے بعد آنحضرتﷺ نے عبداللہ بنؓ رواحہ کو ایک سال خارص بنا کر بھیجا تھا، غزوہ موتہ میں ان کی شہادت ہوگئی تو جبار بن ضحرؓ کا اس منصب کے لئے انتخاب کیا، جبار ہر سال خیبر کے پھلوں کا تخمینہ کرنے کے لئے بھیجے جاتے تھے۔ حضرت ابوبکرؓ اورحضرت عمرؓ کے عہد خلافت میں بھی اسی منصب پر مامور رہے اورحضرت عمرؓ نے جب یہود کو خیبر سے جلاوطن کیا تو مہاجرین وانصار کو لیکر خیبر گئے تھے اس سفر میں جبار بن ضحرؓ بھی ان کے ہمراہ تھے۔

فضیلت[ترمیم]

رسول اللہ ﷺانہیں خارص(کھجوروں کا اندازہ کرنے والا) بنا کرہر سال خیبر بھیجا کرتے تھے۔ حساب میں کمال حاصل تھا،اس لیے دارالخلافت میں حساب اور خارص کا عہدہ ان کو تفویض تھا۔ خلافت ابوبکر اور عمر میں بھی اسی منصب پر مامور رہے اور عمرنے جب یہود کو خیبر سے جلاوطن کیا تو مہاجرین وانصار کو لیکر خیبر گئے تھے اس سفر میں جبار بن ضحربھی ان کے ہمراہ تھے۔

وفات[ترمیم]

ان کی وفات 30ھ میں خلافت عثمان میں ہوئی اس وقت ان کی عمر 62 سال تھی ۔[1][2]

فضل وکمال[ترمیم]

مسند میں چند حدیثیں ان کے سلسلہ میں مروی ہیں ،حساب میں کمال حاصل تھا،اس لیے دارالخلافت میں حساب اور خارص کا عہدہ ان کو تفویض تھا۔ حب رسول ﷺ پر ذیل کا واقعہ شاہد ہے:

اخلاق[ترمیم]

مکہ معظمہ کے سفر میں آنحضرتﷺ نے فرمایا کہ اثابہ میں کوئی جاکر پانی کا انتظام کرتا، حضرت جبارؓ نے اٹھ کر کہا میں جاتا ہوں، وہاں پہنچ کر حوض کے ارد گرد ڈھیلے رکھے اوراس میں پانی بھردیا، محنت کرنے کی وجہ سے تھک گئے تھے، آنکھ لگ گئی ، آنحضرتﷺ پہونچے اورفرمایا :مالک حوض! میں اپنے اونٹ کو پانی پلاسکتا ہوں، انہوں نے رسول اللہ ﷺ کی آواز پہچان کر اجازت دی،آپ اونٹ بٹھا کر اترے اوروضو کے لیے پانی مانگا انہوں نے آپ ﷺ کو وضو کراکے خود بھی وضو کیا اورپھر آنحضرتﷺ کے ساتھ نماز میں کھڑے ہو گئے چونکہ بائیں جانب کھڑے تھے،آنحضرتﷺ نے ان کا ہاتھ پکڑ کر داہنے جانب کر دیا، تھوڑی دیر میں تمام لوگ آپہنچے اور تنہائی کا لطف صحبت مفقود ہو گیا۔ [3]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. تاریخ ابن کثیر جلد 4صفحہ 159، ناشر : دار الاشاعت اردو بازار کراچی پاکستان
  2. طبقات ابن سعد جلد 2صفحہ432- ناشر : دار الاشاعت اردو بازار کراچی پاکستان
  3. (مسند ابن حنبل:3/421)