معاذ بن جبل

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
معاذ بن جبل
معاذ بن جبل خزرجی الانصاری
معاذ بن جبل

معلومات شخصیت
پیدائش 602ء سے 607ء مابین
يثرب
وفات 18ھ / 639ء
شمالی شونہ، Flag of Jordan.svg اردن
مدفن شمالی شونہ، Flag of Jordan.svg اردن
شہریت Black flag.svg خلافت راشدہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
لقب امام العلماء
زوجہ اُم عمرو بنت خالد بن عمرو خزرجی
اولاد عبد الرحمن، اُم عبداللہ
رشتے دار والد: جبل بن عمرو بن اوس
عملی زندگی
فرمان نبوی أعلم أمتي بالحلال والحرام معاذ بن جبل[1]
نمایاں شاگرد انس بن مالک  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شاگرد (P802) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ محدث،  حافظ قرآن،  فقیہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
شعبۂ عمل فقہ،  تفسیر قرآن  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شعبۂ عمل (P101) ویکی ڈیٹا پر

معاذ بن جبل انصاری خرزجی، کنیت ابو عبد اﷲ ہے، بیعت عقبہ کرنے والے ستّر انصار میں آپ بھی تھے، بدر اور تمام غزوات میں حضور کے ساتھ رہے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو یمن کا گورنر بنایا، عمر فاروق نے شام کا حاکم مقرر کیا، طاعون عمواس میں بعمر 36 سال آپ کی وفات ہوئی، شام میں قبر شریف ہے، آپ کے فضائل بے حدو بے شمار ہیں۔[2]

اہل یمن نے امیر اور معلّم مانگا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے معاذ بن جبل کو بلایا اور کہا تم یمن چلے جاؤ تمہاری وہاں ضرورت ہے، گورنر مقرر فرمایا اور کہاشاید تم مجھ سے نہ مل سکوگے، پھر جب روانہ ہونے لگے، تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم پیدل چل رہے تھے اور معاذ بن جبل سواری پر تھے، جب معاذ نے عرض کیا کہ اگر مجھے فیصلہ کرنے کے لیے قرآن وسنت میں کوئی چیز نہ ملے تو اپنی رائے سے اجتہاد کروں گا، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو اس جواب سے اتنی خوشی ہوئی تھی، کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ اس نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے فرستادہ کو اس چیز کی توفیق دی جس سے اللہ کا رسول راضی ہے۔ جب معاذ یمن سے واپس آئے تو سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم دنیا سے پردہ فرماچکے تھے۔ معاذ بن جبل بن عمرو بن اوس بن عائذ الانصاری ہیں، جو اٹھارہ سال کی عمر میں مسلمان ہوئے بیعت عقبہ میں شریک ہونے والے ستر جلیل القدر صحابہ میں سے ایک یہ بھی تھے۔ عمروبن حموح بن جموح کو بت پرستی اور بتوں سے متنفر کرنے والوں میں ان کا بھی کردار تھا۔ آپ کو یہ امتیاز حاصل ہے کہ زبانِ نبوت سے آپ کو یہ سند عطا ہو ”اعلم امتی بالحلال والحرام معاذ بن جبل“ کہ میرای امت میں سب سے زیادہ حلال وحرام سے واقف معاذ بن جبل ہیں۔

مسروق بیان کرتے ہیں کہ عبد اللہ بن مسعود کی موجودگی میں آیت پاک ”اِنَّ اِبْرَاہِیْمَ کانَ اُمَّةً قَانِتًا للّٰہِ“ پڑھی گئی تو انھوں نے فرمایا کہ معاذ بھی ایک امت تھے، اللہ کے فرماں بردار تھے، ان کے متعلق آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا گیا تو آپ نے فرمایا، جانتے ہو ”امت“ وہ شخص ہے جو لوگوں کو خیر کی باتیں سکھاتا ہے۔[3] ابومسلم خولانی کا بیان ہے کہ ایک روز میں دمشق کی جامع مسجد میں آیا تو وہاں عمر رسیدہ صحابہ کرام تشریف فرماتھے اور ان میں ایک نوجوان سُرمیلی آنکھوں والا اور چمکیلے دانتوں والا تھا، جب یہ حضرات کسی بات میں اختلاف کرتے تو یہ لوگ اس نوجوان کی طرف رجوع کرتے۔

میں نے پوچھا یہ جوان کون ہے؟ بتایا گیا کہ یہ معاذ بن جبل (ان کی کنیت ابوعبدالرحمن، لقب امام الفقہاء ہے) ہیں، پھر ان سے بڑھ کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو خوش نصیب افراد میں شامل فرمایا اور وہ کتابت قرآن کے شرف سے مشرف ہوئے، یہ ان پر اعتماد کامل اور علم کی پختگی کی ایک دلیل تھی، اسی طرح فتح مکہ کے بعد جب لوگ گروہ در گروہ دائرہ اسلام میں داخل ہو رہے تھے، تو ان میں مسلمانوں کی تعلیم و تربیت کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نظر انتخاب انہی پر پڑی اور انہیں کو اس کام کے لیے متعین فرمایا۔

معاذ بن جبل کے متعلق نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد بھی منقول ہے ”معاذ امام العلماء یوم القیامة برتبة“ معاذ کو قیامت کے دن علما کی پیشوائی حاصل ہوگی اور ایک بڑا درجہ ان کو ملے گا۔[4]

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. رواه احمد بن حنبل
  2. مرآۃ المناجیح شرح مشکوۃ المصابیح مفتی احمد یار خان نعیمی جلد1صفحہ39نعیمی کتب خانہ گجرات
  3. فتح الباری جلد8، صفحہ 494
  4. ماہنامہ دار العلوم، شماره 5، جلد: 94، جمادی الاول – جمادی الثانی 1431ہجری مطابق مئی 2010 ء