معاذ بن جبل

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
معاذ بن جبل
معاذ بن جبل خزرجی الانصاری
معاذ بن جبل

معلومات شخصیت
پیدائش دہائی 600  ویکی ڈیٹا پر تاریخ پیدائش (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
يثرب
وفات سنہ 640 (39–40 سال)  ویکی ڈیٹا پر تاریخ وفات (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شمالی شونہ، Flag of Jordan.svg اردن
مدفن شمالی شونہ، Flag of Jordan.svg اردن
شہریت Black flag.svg خلافت راشدہ  ویکی ڈیٹا پر شہریت (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
لقب امام العلماء
زوجہ اُم عمرو بنت خالد بن عمرو خزرجی
اولاد عبد الرحمن، اُم عبداللہ
رشتے دار والد: جبل بن عمرو بن اوس
عملی زندگی
نمایاں شاگرد انس بن مالک  ویکی ڈیٹا پر شاگرد (P802) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ محدث، حافظ قرآن، فقیہ  ویکی ڈیٹا پر پیشہ (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شعبۂ عمل فقہ، تفسیر قرآن  ویکی ڈیٹا پر شعبۂ عمل (P101) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

معاذ بن جبل انصاری خرزجی، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو یمن کا گورنر بنایا، عمر فاروق نے شام کا حاکم مقرر کیا، ۔[2]

نام ونسب اور ابتدائی حالات[ترمیم]

معاذ نام، ابو عبدالرحمن کنیت،امام الفقہا ءکنز العلماء اور عالم ربانی القاب، قبیلہ خزرج کے خاندان ادی بن سعد سے تھے، نسب نامہ یہ ہے:معاذ بن جبل بن عمروبن اوس بن عائذ بن عدی بن کعب بن عمرو بن ادی بن سعد بن علی بن اسد بن ساردۃ بن یزید بن جشم بن خزرج اکبر۔ سعد بن علی کے دو بیٹے تھے سلمہ اور ادی، سلمہ کی نسل سے بنو سلمہ ہیں، جن میں ابو قتادہ، جابر بن عبداللہ ،کعب بن مالک، عبداللہ بن عمرو بن حرام مشہور صحابہ گذرے ہیں ان لوگوں کے ما سوا اور بھی بہت سے بزرگوں کو اس خاندان سے انتساب تھا،لیکن سلمہ کے دوسرے بھائی ادی کے گھر میں رسول اللہ ﷺ کی ہجرت کے وقت صرف ایک فرزند تھا جس کی وفات پر خاندان ادی کا چراغ ہمیشہ کے لئے گل ہوگیا۔ امام سمعانی نے کتاب الانساب میں حسین بن محمد بن [3] طاہر کو اسی ادی کی طرف منسوب کیا ہے؛ اسلام کے زمانہ میں اس خاندان میں صرف دو شخص باقی تھے، ایک معاذ اور دوسرے ان کے صاحبزادے عبدالرحمن۔ بنوادی کے مکانات ان کے بنو اعمام (بنو سلمہ) کے پڑوس میں واقع تھے،مسجد قبلتین جہاں تحویل قبلہ ہوا تھا، یہیں واقع تھی معاذ کا گھر بھی یہیں تھا۔

اسلام[ترمیم]

طبیعت فطرۃ اثر پذیر واقع ہوئی تھی؛چنانچہ نبوت کے بارہویں سال جب مدینہ میں اسلام کی دعوت شروع ہوئی تو معاذ نے اس کے قبول کرنے میں ذرہ بھی پس و پیش نہ کیا، مصعب بن عمیر داعی اسلام کی خدمت میں حاضر ہوئے اور صدق دل سے توحید کا اقرار کیا اس وقت ان کا سن 18سال کا تھا۔ حج کا موسم قریب آیا تو مصعب مکہ روانہ ہوئے،اہل مدینہ کی ایک جماعت جس میں مسلم اور مشرک دونوں شامل تھے رسول اللہ اس جماعت سے بیعت لی۔ یہ جماعت مکہ سے مدینہ واپس ہوئی، تو اسلام تیزی سے پھیلا

تعلیم و تربیت[ترمیم]

معاذ ابتداہی سے ہونہار تھے،آنحضرتﷺ مدینہ تشریف لائے تو وہ آپ کے دامن سے وابستہ ہوگئے اورچند ہی دنوں میں فیض نبوت کے اثر سے اسلام کی تعلیم کا اعلیٰ نمونہ بن گئے اوران کا شمار صحابہ کے برگزیدہ افراد میں ہونے لگا۔ رسول اللہ ﷺ کو ان سے اس قدر محبت تھی کہ بسا اوقات ان کو اپنے ساتھ اونٹ پر بٹھا تے تھے اور اسرار وحکم کی تلقین کرتے تھے ،ایک مرتبہ وہ آنحضرتﷺ کے ردیف تھے کہ آنحضرتﷺ نے فرمایا، یا معاذ بن جبل! انہوں نے کہا ابیک یا رسول اللہ وسعد یک آپ نے پھر ان کا نام پکارا، انہوں نے پھر اسی ادب اور محبت بھرے الفاظ سے جواب دیا،اسی طرح تین مرتبہ آپ نے انکا نام لیا، اور وہ اسی طرح برابر لبیک کہتے رہے،پھر ارشاد فرمایا کہ جو شخص صدق دل سے کلمہ توحید پڑھ لے اس پر دوزخ حرام ہوجاتی ہے، معاذ نے کہا یا رسول اللہ کیا میں لوگوں کو یہ بشارت سنادوں؟ آنحضرتﷺ نے فرمایا نہیں ورنہ لوگ عمل کرنا چھوڑدیں گے۔[4] حضرت معاذؓ پر شفقت نبوی کا یہ حال تھا کہ وہ خود کوئی سوال نہ کرتے تو آنحضرت ﷺ نے کوڑے یا عصا سے ان کی پشت پر آہستہ سے ٹھوکر دی، اور فرمایا جانتے ہو بندوں پر خدا کا کیا حق ہے؟ "عرض کیا" اللہ اور رسول کو زیادہ معلوم ہے ، فرمایا "یہ کہ بندے اس کی عبادت کریں اور شرک سے اجتناب کریں" تھوڑی دور چل کر پھر پوچھا کہ "خدا پر بندوں کا کیا حق ہے؟" پھر عرض کی کہ "خدا اور رسول کو معلوم ہے" آپﷺ نے فرمایا یہ کہ وہ ان کو جنت میں داخل کرے۔[5]

  • معاذ ہمیشہ شفقت نبوی سے سرفراز رہتے تھے،ان کو اٹھتے بیٹھتے ،حامل نبوت سے تعلیم ملتی تھی، ایک مرتبہ آنحضرتﷺ نے ان کو دروازہ پر کھڑا دیکھا تو ایک چیز کی تعلیم دی، ایک اور مرتبہ لطف و کرم سے فرمایا کہ میں تمہیں جنت کا ایک دروازہ بتاؤں؟ گذارش کی ارشاد ہو، فرمایا لا حول ولا قوۃ الا باللہ [6] پڑھ لیا کرو۔
  • تعلیم زندگی کے ہر شعبہ پر حاوی تھی،مذہبی،اخلاقی، علمی عملی ہر قسم کی تعلیم سے وہ بہرہ ور ہوئے جس کی تفصیل درج ذیل ہے۔
  • معاذ رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ ایک سفر میں تھے، ایک روز صبح کے وقت جب لشکر اسلام منزل مقصود کی طرف روانہ ہورہا تھا، معاذ رسول اللہ ﷺ کے قریب تھے،پوچھا ایسا عمل بتائیے جو مجھ کو جنت میں داخل کرے اور دوزخ سے بچائے،فرمایا تم نے بہت بڑی بات پوچھی؛ لیکن جس کو خدا توفیق دے اس پر آسان بھی ہے ،شرک نہ کرو عبادت کرو، نماز پڑھو، زکوٰۃ دو، رمضان میں روزے رکھو، حج کرو،پھر فرمایا خیر کے کچھ دروازے ہیں میں تم کو بتاتا ہوں، روزہ جو سپر کا حکم رکھتا ہے،صدقہ جو آتش معصیت کو پانی کی طرح بجھا دیتا ہے اور نماز جو رات کے حصوں میں پڑھی جاتی ہے،پھر یہ آیت تلاوت فرمائی،تَتَجَافَى جُنُوبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ (یعلمون تک)پھر فرمایا کہ اسلام کے سر اور عمود اور چوٹی کی خبر دیتا ہوں سر اور پاؤں تو نماز ہے اور کوہان کی چوٹی جہاد۔
  • پھر ارشاد ہوا کہ ان تمام باتوں کی بیخ وبن صرف ایک چیز ہے،زبان اس کو روکو آنحضرتﷺ نے اپنی زبان کو پکڑ کر فرمایا حضرت معاذؓ نے سوال کیا کہ کیا جو کچھ ہم بولتے ہیں اس پر مواخذہ ہوگا، آنحضرتﷺ نے فرمایا ثکلتک امک یا معاذ! بہت سے لوگ صرف اسی کی وجہ سے جہنم میں جائیں گے۔
  • معاذکو آنحضرتﷺ نے دس باتوں کی وصیت کی تھی شرک نہ کرنا، خواہ تم کو کوئی اس کے عوض قتل کردے یا جلادے،فرض نماز قصداً کبھی نہ ترک کرنا، کیونکہ جو شخص قصداً نماز چھوڑتا ہے،خدا اس کی ذمہ داری سے بری ہوجاتا ہے،شراب نہ پینا کیونکہ یہ تمام فواحش کی بنیاد ہے، معصیت میں مبتلا نہ ہونا، کیونکہ مبتلائے معصیت پر خدا کا غصہ حلال ہوجاتا ہے،لڑائی سے نہ بھاگنا اگرچہ تمام لشکر خاک و خون میں لوٹ چکا ہو، موت عام ہو (بیماری آئے ) تو ثابت قدم رہنا، اپنی اولاد کے ساتھ سلوک کرنا ان کو ہمیشہ ادب دینا اور خدا سے خوف دلانا۔
  • رسول اللہ ﷺ نے پانچ چیزوں کی حضرت معاذؓ کو تاکید کی تھی اور فرمایا تھا کہ جوان کو عمل میں لائے، خدا اس کا ضامن ہوتا ہے،مریض کی عیادت، جنازہ کے ساتھ جانا، غزوہ کے لئے نکلنا، حاکم کی تعزیر یا توقیر کے لئے جانا، گھر میں بیٹھ رہنا جس میں وہ تمام لوگوں سے محفوظ ہوجائے اور دنیا سے سلامت رہے۔
  • اخلاقی تعلیم ان الفاظ میں دی، معاذ! ہر برائی کے پیچھے نیکی کرلیا کرو نیکی اس کو مٹادے گی اور لوگوں کے سامنے اچھے اخلاق ظاہر کرو۔
  • یہ بھی ارشاد فرمایا کہ اتق دعوۃ المظلوم فان لیس بینھا و بین اللہ حجاب ! یعنی مظلوم کی بددعا سے ڈرتے رہو، کیونکہ اس کے اور خدا کے درمیان میں کوئی پردہ نہیں۔
  • یمن کا حاکم مقرر کرکے بھیجا تو فرمایا، معاذ! خبردار عیش و تنعم سے علیحدہ رہنا،کیونکہ خدا کے بندے عیش پرست اور تنعم پسند نہیں ہوتے۔
  • اجتماعی زندگی کی تلقین اس طرح کی: انسان کا بھیڑیا شیطان ہے ،جس طرح بھیڑیا اس بکری کو پکڑتا ہے جو گلہ سے دور ہوتی ہے،اسی طرح شیطان اس انسان پر قابو پالیتا ہےجو جماعت سے الگ ہوتا ہے،خبردار!خبردار!متفرق نہ ہونا؛بلکہ جماعت کے ساتھ رہنا۔
  • اشاعتِ اسلام کے متعلق فرمایا، معاذ! اگر تم ایک مشرک کو بھی مسلمان کرلو، تو تمہارے لئے دنیا کی تمام نعمتوں سے بڑھ کر ہے۔
  • غرض یہ پاکیزہ خیالات اور اعلیٰ تعلیمات جس بزرگ کے رگ وپے میں سرایت کر گئی تھیں وہ جماعت انصار کا وہ "نوجوان" تھا جس کو حضرت ابن مسعودؓ فرد نہیں ؛بلکہ ایک امت کہا کرتے تھے۔[7]

اہل یمن نے امیر اور معلّم مانگا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے معاذ بن جبل کو بلایا اور کہا تم یمن چلے جاؤ تمہاری وہاں ضرورت ہے، گورنر مقرر فرمایا اور کہاشاید تم مجھ سے نہ مل سکوگے، پھر جب روانہ ہونے لگے، تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم پیدل چل رہے تھے اور معاذ بن جبل سواری پر تھے، جب معاذ نے عرض کیا کہ اگر مجھے فیصلہ کرنے کے لیے قرآن وسنت میں کوئی چیز نہ ملے تو اپنی رائے سے اجتہاد کروں گا، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو اس جواب سے اتنی خوشی ہوئی تھی، کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ اس نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے فرستادہ کو اس چیز کی توفیق دی جس سے اللہ کا رسول راضی ہے۔ جب معاذ یمن سے واپس آئے تو سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم دنیا سے پردہ فرماچکے تھے۔ معاذ بن جبل بن عمرو بن اوس بن عائذ الانصاری ہیں، جو اٹھارہ سال کی عمر میں مسلمان ہوئے بیعت عقبہ میں شریک ہونے والے ستر جلیل القدر صحابہ میں سے ایک یہ بھی تھے۔ عمروبن حموح بن جموح کو بت پرستی اور بتوں سے متنفر کرنے والوں میں ان کا بھی کردار تھا۔ آپ کو یہ امتیاز حاصل ہے کہ زبانِ نبوت سے آپ کو یہ سند عطا ہو ”اعلم امتی بالحلال والحرام معاذ بن جبل“ کہ میرای امت میں سب سے زیادہ حلال وحرام سے واقف معاذ بن جبل ہیں۔

مسروق بیان کرتے ہیں کہ عبد اللہ بن مسعود کی موجودگی میں آیت پاک ”اِنَّ اِبْرَاہِیْمَ کانَ اُمَّةً قَانِتًا للّٰہِ“ پڑھی گئی تو انھوں نے فرمایا کہ معاذ بھی ایک امت تھے، اللہ کے فرماں بردار تھے، ان کے متعلق آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا گیا تو آپ نے فرمایا، جانتے ہو ”امت“ وہ شخص ہے جو لوگوں کو خیر کی باتیں سکھاتا ہے۔[8] ابومسلم خولانی کا بیان ہے کہ ایک روز میں دمشق کی جامع مسجد میں آیا تو وہاں عمر رسیدہ صحابہ کرام تشریف فرماتھے اور ان میں ایک نوجوان سُرمیلی آنکھوں والا اور چمکیلے دانتوں والا تھا، جب یہ حضرات کسی بات میں اختلاف کرتے تو یہ لوگ اس نوجوان کی طرف رجوع کرتے۔

میں نے پوچھا یہ جوان کون ہے؟ بتایا گیا کہ یہ معاذ بن جبل (ان کی کنیت ابوعبدالرحمن، لقب امام الفقہاء ہے) ہیں، پھر ان سے بڑھ کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو خوش نصیب افراد میں شامل فرمایا اور وہ کتابت قرآن کے شرف سے مشرف ہوئے، یہ ان پر اعتماد کامل اور علم کی پختگی کی ایک دلیل تھی، اسی طرح فتح مکہ کے بعد جب لوگ گروہ در گروہ دائرہ اسلام میں داخل ہو رہے تھے، تو ان میں مسلمانوں کی تعلیم و تربیت کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نظر انتخاب انہی پر پڑی اور انہیں کو اس کام کے لیے متعین فرمایا۔

معاذ بن جبل کے متعلق نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد بھی منقول ہے ”معاذ امام العلماء یوم القیامة برتبة“ معاذ کو قیامت کے دن علما کی پیشوائی حاصل ہوگی اور ایک بڑا درجہ ان کو ملے گا۔[9]

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. رواہ احمد بن حنبل
  2. مرآۃ المناجیح شرح مشکوۃ المصابیح مفتی احمد یار خان نعیمی جلد1صفحہ39نعیمی کتب خانہ گجرات
  3. کتاب الانساب ص 23
  4. بخاری:1/24،باب من ترک بعض الاختیار مخافۃ ان یقصرفہم بعض الناس
  5. مسند احمد:5/238
  6. مسند احمد:5/228
  7. مسند احمد:5/231
  8. فتح الباری جلد8، صفحہ 494
  9. ماہنامہ دار العلوم، شمارہ 5، جلد: 94، جمادی الاول – جمادی الثانی 1431ہجری مطابق مئی 2010 ء