ابو حذیفہ بن المغیرہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
ابو حذیفہ سے مغالطہ نہ کھائیں۔
ابو حذیفہ بن المغیرہ
معلومات شخصیت
عملی زندگی
پیشہ سائنس دان  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر

ابو حذیفہ بن المغیرہحجر اسود رکھنے کے تنازع پر فیصلہ کرنے والا مکہ کا باشندہ۔
جب قریشی قبائل کعبہ کی بنیادیں اٹھا کر حجر اسود تک پہنچے تو ان میں اختلاف پیدا ہو گیا کہ حجر اسود کون اٹھا کراس کی جگہ پررکھے گا حتی کہ لڑائی تک جا پہنچے تو وہ کہنے لگے کہ چلو ہم اپنا منصف اسے بنائیں۔ انہوں نے کہا کہ صبح جو سب سے پہلے یہاں داخل ہوگا وہ حجر اسود نصب کرے گا۔ اس پر سب کا اتفاق ہو گیا۔ یہ مشورہ دینے والے ابو حذیفہ بن المغیرہ تھے یہ اپنے دین پر ہی فوت ہوئے۔ سب سے پہلے مسجد میں داخل ہونے والے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہی تھے جو اس وقت نوجوان تھے اور انہوں نے اپنے کندھوں پر دھاری دارچادر ڈال رکھی تھی تو قریش نے انہیں اپنا فیصل مان لیا، تونبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کپڑا منگوا کرحجر اسود اس میں رکھا اور ہر قبیلے کے سردار کو چادر کے کونے پکڑ کر اٹھانے کا حکم دیا اورنبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حجراسود کواپنے ہاتھوں سے اٹھاکر اس کی جگہ پر نصب کر دیا ۔[1]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. اسد الغابہ علامہ ابن اثیر،جلد اول،صفحہ70