رقیہ بنت محمد

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
رقيّة بنت محمد
رقیہ بنت محمدؓ.png
رقیہ بنت محمد "اسلامی خطاطی" نام
اہم معلومات
پورا نام بنت محمد بن عبد الله بن عبد المطلب
لقب ذات الهجرتين
تاريخ ولات 20 ق.هـ الموافق 603
مقام ولادت مكہ
تاريخ وفات رمضان الموافق مارچ 624ء
مقام وفات المدينة المنورة
مقام دفن جنت البقیع، مدینہ منورہ
شریک حیات عثمان بن عفان
اولاد عبد الله بن عثمان بن عفان (مات صغيرًا)
نسبی رشتے والد: محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم
والدہ: خدیجہ بنت خویلد
بھائی اور بہنیں: القاسم، عبد الله، ابراہيم، ام كلثوم، زينب، فاطمہ الزهراء
اسلام میں
تاريخ قبول اسلام من السابقين
مقالہ بہ سلسلۂ مضامین

اولادِ محمد

حضرت محمد کے بیٹے

قاسم _ عبداللہ _ ابراھیم

حضرت محمد کی بیٹیاں

فاطمہ _ زینب _ ام کلثوم
رقیہ

حضرت فاطمہ کی اولاد
بیٹے

حسن _ حسین

حضرت فاطمہ کی اولاد
بیٹیاں

زینب _ ام کلثوم


حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی اولاد میں دوسری صاحبزادی رقیہ تھیں۔ خدیجہ کے بطن سے نبوت سے سات سال قبل پیدا ہوئیں۔

رسول اللہ کی نبوت سے قبل ابو لہب کے بیٹے عتبہ سے رقیہ کا نکاح ہوا لیکن رخصتی سے قبل ہی طلاق ہوئی۔ جس کے لیے ایک روایت یہ ہے کہ اسلام مخالفت کی بنا پر ہوئی اور ایک روایت کے مطابق عتبہ نے اپنے والدین کے اظہار ناراضی پر طلاق دی۔

آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نبوت کے منصب پر فائز ہوئے تو رقیہ نے بھی اسلام قبول کر لیا۔ عثمان غنی نے بھی ابتدائی سالوں میں اسلام قبول کیا تھا۔ ان کے اسلام لانے کے بعد رقیہ کا نکاح عثمان غنی سے ہو گیا۔

نبوت کے پانچویں سال پہلی ہجرت حبشہ میں یہ رقیہ اور عثمان بھی شامل تھے۔ حبشہ میں ایک عرصے تک رہنے کے بعد دونوں مکہ گئے لیکن تھوڑے دن بعد مدینہ منورہ چلے گئے۔

رقیہ سے ایک صاحبزادے عبد اللہ پیدا ہوئے لیکن کم عمری میں انتقال کیا۔ اس کے بعد کوئی اولاد نہ ہوئی۔ 2 ہجری میں غزوۂ بدر کے موقع پر رقیہ بیمار تھیں۔ ان کی تیمار داری کی خاطر عثمان غزوہ میں شریک نہ ہو سکے اور اسی سال آپ کا انتقال ہو گیا۔ اظہار نبوت سے سات برس قبل جب کہ حضورﷺ کی عمر شریف کا تینتیسواں سال تھا یہ مکہ مکرمہ میں پیدا ہوئیں پہلے ان کا نکاح ابولہب کے بیٹے عتبہ سے ہوا تھا مگر ابھی رخصتی بھی نہیں ہوئی تھی کہ سورۂ تبت یدا نازل ہوئی اس غصہ میں ابو لہب کے بیٹے عتبہ نے رقیہ کو طلاق دے دی اس کے بعد حضورﷺنے عثمان غنی رضی سے ان کا نکاح کر دیا اور ان دونوں میاں بیوی نے حبشہ کی طرف پھر مدینہ کی طرف ہجرت کی اور دونوں صاحب الہجرتین (دو ہجرتوں والے) کے معزز لقب سے سرفراز ہوئے۔ جنگ بدر کے دنوں میں رقیہ زیادہ بیمار تھیں چنانچہ حضور ﷺنے عثمان کو ان کی تیمارداری کے لیے مدینہ میں رہنے کا حکم دے دیا اور جنگ بدر میں جانے سے روک دیا زید بن حارثہ جس دن جنگ بدر میں فتح مبین کی خوشخبری لے کر مدینہ پہنچے اسی دن بی بی رقیہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا نے بیس برس کی عمر پاکر مدینہ میں انتقال کیا حضور ﷺ جنگ بدر کی وجہ سے ان کے جنازہ میں شریک نہ ہو سکے عثمان غنی اگرچہ جنگ بدر میں شریک نہیں ہوئے مگر حضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ان کو جنگ بدر کے مجاہدین میں شمار فرمایا اور مجاہدین کے برابر مال غنیمت میں سے حصہ بھی عطا فرمایا بی بی رقیہ کے شکم مبارک سے ایک فرزند پیدا ہوئے تھے جن کا نام عبد اﷲ تھا مگر وہ اپنی والدہ کی وفات کے بعد 4ھ میں وفات پا گئے بی بی رقیہ کی قبر بھی جنت البقیع میں ہے ۔[1][2]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. شرح العلامۃ الزرقانی،الفصل الثانی فی ذکر اولادہ الکرام علیہ وعلیہم الصلوۃ والسلام،ج4،ص322۔323
  2. جنتی زیور،عبد المصطفٰی اعظمی،صفحہ501،ناشرمکتبۃ المدینہ باب المدینہ کراچی