رقیہ بنت محمد

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
مقالہ بہ سلسلۂ مضامین

اولادِمحمد

حضرت محمد کے بیٹے

قاسم _ عبداللہ _ ابراھیم

حضرت محمد کی بیٹیاں

فاطمہ _ زینب _ ام کلثوم
رقیہ

حضرت فاطمہ کی اولاد
بیٹے

حسن _ حسین

بیٹیاں

زینب _ ام کلثوم


حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی اولاد میں دوسری صاحبزادی حضرت رقیہ رضی اللہ عنہا تھیں۔ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کے بطن سے نبوت سے سات سال قبل پیدا ہوئیں۔

رسول اللہ رضی اللہ عنہا کی نبوت سے قبل ابو لہب کے بیٹے عتبہ سے حضرت رقیہ رضی اللہ عنہا کا نکاح ہوا لیکن رخصتی سے قبل ہی طلاق ہوئی۔ جس کے لیے ایک روایت یہ ہے کہ اسلام مخالفت کی بنا پر ہوئی اور ایک روایت کے مطابق عتبہ نے اپنے والدین کے اظہار ناراضگی پر طلاق دی۔

آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نبوت کے منصب پر فائز ہوئے تو حضرت رقیہ رضی اللہ عنہا نے بھی اسلام قبول کر لیا۔ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے بھی ابتدائی سالوں میں اسلام قبول کیا تھا۔ ان کے اسلام لانے کے بعد حضرت رقیہ رضی اللہ عنہا کا نکاح حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ سے ہو گیا۔

نبوت کے پانچویں سال پہلی ہجرت حبشہ میں یہ حضرت رقیہ اور حضرت عثمان بھی شامل تھے۔ حبشہ میں ایک عرصے تک رہنے کے بعد دونوں مکہ گئے لیکن تھوڑے دن بعد مدینہ منورہ چلے گئے۔

حضرت رقیہ سے ایک صاحبزادے عبد اللہ پیدا ہوئے لیکن کم عمری میں انتقال کیا۔ اس کے بعد کوئی اولاد نہ ہوئی۔ 2 ہجری میں غزوۂ بدر کے موقع پر حضرت رقیہ رضی اللہ عنہا بیمار تھیں۔ ان کی تیمار داری کی خاطر حضرت عثمان رضی اللہ عنہا غزوہ میں شریک نہ ہو سکے اور اسی سال آپ کا انتقال ہو گیا۔ اعلان نبوت سے سات برس قبل جب کہ حضورﷺ کی عمر شریف کا تینتیسواں سال تھا یہ مکہ مکرمہ میں پیدا ہوئیں پہلے ان کا نکاح ابولہب کے بیٹے عتبہ سے ہوا تھا مگر ابھی رخصتی بھی نہیں ہوئی تھی کہ سورۂ تبت یدا نازل ہوئی اس غصہ میں ابو لہب کے بیٹے عتبہ نے حضرت رقیہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کو طلاق دے دی اس کے بعد حضورﷺنے حضرت عثمان غنی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے ان کا نکاح کر دیا اور ان دونوں میاں بیوی نے حبشہ کی طرف پھر مدینہ کی طرف ہجرت کی اور دونوں صاحب الہجرتین (دو ہجرتوں والے) کے معزز لقب سے سرفراز ہوئے۔ جنگ بدر کے دنوں میں حضرت رقیہ زیادہ بیمار تھیں چنانچہ حضور ﷺنے حضرت عثمان رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کو ان کی تیمارداری کے لئے مدینہ میں رہنے کا حکم دے دیا اور جنگ بدر میں جانے سے روک دیا حضرت زید بن حارثہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ جس دن جنگ بدر میں فتح مبین کی خوشخبری لے کر مدینہ پہنچے اسی دن بی بی رقیہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا نے بیس برس کی عمر پاکر مدینہ میں انتقال کیا حضور ﷺ جنگ بدر کی وجہ سے ان کے جنازہ میں شریک نہ ہوسکے حضرت عثمان غنی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ اگرچہ جنگ بدر میں شریک نہیں ہوئے مگر حضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ان کو جنگ بدر کے مجاہدین میں شمار فرمایا اور مجاہدین کے برابر مال غنیمت میں سے حصہ بھی عطا فرمایا حضرت بی بی رقیہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کے شکم مبارک سے ایک فرزند پیدا ہوئے تھے جن کا نام عبداﷲ تھا مگر وہ اپنی والدہ کی وفات کے بعد 4ھ میں وفات پا گئے بی بی رقیہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کی قبر بھی جنت البقیع میں ہے ۔[1][2]


  1. ^ شرح العلامۃ الزرقانی،الفصل الثانی فی ذکر اولادہ الکرام علیہ وعلیہم الصلوۃ والسلام،ج۴،ص322۔323
  2. ^ جنتی زیور،عبدالمصطفٰی اعظمی،صفحہ501،ناشرمکتبۃ المدینہ باب المدینہ کراچی