سید

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

سید کا لفظ ان لوگوں کے لیے مخصوص ہے جو حضرت علی اور حضرت فاطمہ علیہا السلام بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی اولاد سے ہیں۔ عربی میں ان کے لیے شریف کا لفظ استعمال ہوتا ہے۔ سید کا لفظی مطلب سردار کا ہے جو احتراماً ان کو حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی قرابت کی وجہ سے کہا جاتا ہے۔ سادات ساری دنیا میں پائے جاتے ہیں مگر ان کی زیادہ تعداد عرب علاقوں، ایران، پاکستان، ترکی اور وسط ایشیا میں پائی جاتی ہے۔ سادات سنی اور شیعہ دونوں مسلکوں میں پائے جاتے ہیں سادات کی بہت سی اقسام ہیں جن کا تفصیلی ذکر سید قمر عباس اعرجی ہمدانی نے اپنی کتاب مدرک الطالب فی نسب آل ابی طالب میں کیا۔ [حوالہ درکار]https://archive.org/details/MudrikAlTalib2ndEddition

لغوی مآخذ[ترمیم]

سید کی اصطلاح لغوی اعتبار سے سردار کے معنی میں ہے۔ رب تعالٰی حضرت یحییٰ علیہ السلام کے متعلق فرماتا ہے:"سَیِّدًا وَّحَصُوۡرًا وَّنَبِیًا مِّنَ الصّٰلِحِیۡنَ"۔ حضور انور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی اولاد کو آج سید کہتے ہیں وہ یہاں سے لیا گیا ہے۔ سید اصل میں سیود تھا جس میں اعلال کے نتیجے میں واؤ ی ہو کر ی میں مدغم ہو گئی، بعض نے فرمایا کہ سید وہ ہے جس کا غصہ اس کی عقل پر غالب نہ ہو، بعض نے فرمایا کہ سید وہ ہے جو خیروبرکات میں دوسروں سے بڑھ کر ہو۔ حضرت حسن بن علی نسب، حسب، علم و عمل، سیادت میں دوسروں سے اونچے ہیں۔[1] سید کے معنی :بڑی جماعت کا سردار کے ہیں چونکہ قوم کے رئیس کا مہذب ہونا شرط ہے اس اعتبار ہر فاضل النفس آدمی سید کہا جاتا چنانچہ آیت وَسَيِّداً وَحَصُوراً [ آل عمران/ 39] اور سردار ہوں گے اور عورت سے رغبت نہ رکھنے والے۔ میں بھی سید کا لفظ اسی معنی پر محمول ہے۔ اور آیت : وَأَلْفَيا سَيِّدَها [يوسف/ 25] اور دونوں کو عورت کا خاوند مل گیا۔ میں خاوند کو سید کہا گیا ہے کیونکہ وہ بیوی کا نگران اور منتظم ہوتا ہے اور آیت : رَبَّنا إِنَّا أَطَعْنا سادَتَنا[ الأحزاب/ 67] اے ہمارے پروردگار ہم نے اپنے سرداروں اور بڑے لوگوں کا کہا مانا۔ میں سادتنا سے دلاۃ اور حکام مراد ہیں ۔[2]

نسب[ترمیم]

سید دراصل حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بیٹی حضرت فاطمہ زھرا کی اولاد سے ہیں۔ چونکہ حضرت علی کی اور بھی اولادیں تھیں مگر صرف حضرت فاطمہ کی ہی اولاد کو سید کہا جاتا ہے اس سلسلہ میں امام علی رضا علیہ السلام نے فرمایا کہ ان کے جد امام موسی کاظم علیہ السلام انہیں ان کے جد امام جعفر الصادق علیہ السلام انہیں ان کے جد امام محمد باقر علیہ اسلم انہیں ان کے جد امام علی زین العابدین علیہ السلام انہیں ان کے جد امام حسین علیہ السلام انہیں ان کے جد امام علی علیہ السلام انہیں رسول کائنات نے فرمایا [> کل نسب و صهر منقطع یوم القیامه سترا من اللّه علیه الانسبی و سببی <] کہ خدا بزرگ و برتر نے ارادہ کر رکھا ہے روز محشر ہر نسب اور نسل ختم ہو جائے گا سوائے میری نسل اور نسب کے یہ اللہ کا ارادہ ہے اور خدا کا ارادہ کبھی بھی تبدیل نہیں ہوتا رسول اللہ کا یہ فرمان کائنات کے ہر زی روح پرواضع کر رہا ہے رسول اللہ کا نسب اور نسل سورہ کوثر کی تفسیر ہے کیونکہ کوثرسے مراد سیدہ فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا ہیں اس معظمہ بی بی کی نسل روز قیامت کے بعد بھی جاری رہے گی جب دشمن رسول اللہ کے دروازہ پر دستک دے کر کہتے تھے اے محمد تم ابتر ہو تب اللہ نے یہ ارادہ کیا کہ میں روز محشر ہر نسل کوختم کر دوں کا مگر سیدہ فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا جوقرآن مجید کی سورہ الکوثر کے مطابق " کوثر " ہیں کی نسل قطع نہیں ہو گی اسی حدیث کو صحابہ کی ایک جماعت جن میں عمربن خطاب بھی شامل کہ رسول اللہ نے ف كُلُّ سَبَبٍ وَنَسَبٍ مُنْقَطِعٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِلاَّ سَبَبِي وَنَسَبِ۔

سب حسب نسب روز قیامت قطع ہو جائیں گے سوائے میرے حسب اور نسب کے

منابع (حوالہ جات)

ولهذا الحديث روايات كثيرة عن جماعة من الصحابة رضوان الله عليهم ، فقد رواه الطبراني في " المعجم الكبير " ( 3 / 129 ) عن ابن عباس رضي الله عنهما ، ورواه الطبراني في " المعجم الكبير " ( 1 / 124 ) والحاكم في " المستدرك " ( 3 / 142 ) والبيهقي في " سننه " ( 7 / 114 ) من حديث عمر بن الخطاب رضي الله عنه ، ورواه أحمد في " مسنده " ( 31 / 207 ) من حديث المسور بن مخرمة رضي الله عنه ، ورواه أحمد – أيضاً – في " مسنده " ( 17 / 220 ) من حديث أبي سعيد الخدري رضي الله عنه .

دوسری اولاد میں سے جو نسل چلی ہے اس کو علوی سادات کہا جاتا ہے کیونکہ علوی سادات کا لفظ عام طور پر حضرت علی کی دوسری بیووں کی اولاد کو کہا جاتا ہے۔

سید کون ہیں اور ان کی اولاد کیسے چلی[ترمیم]

حضرت امام علی علیہ السلام کے حضرت سیدہ فاطمہ الزہرا سلام اللہ علیہا کی طرف سے پانچ اولادیں ہوئیں۔ حضرت امام حسن علیہ السلام ،حضرت امام حسین علیہ السلام ،حضرت سیدہ زینب سلام اللہ علیہا حضرت سیدہ ام کلثوم سلام اللہ علیہا اور حضرت محسن۔

حضرت امام حسن علیہ السلام کی اولاد[ترمیم]

حضرت امام حسن علیہ السلام کے سترہ بیٹے تھے جن میں زیادہ تر کی شہادت میدان کربلا میں ہوئی اپ کی کی نسل اپ کے فرزند حضرت حسن مثنی ہی سے چلی جو حسنی سادات کہلاتے ہیں اور ان کی اکثریت لبنان میں آباد ہے حسن مثنی کربلا سے غازی ہوکر آئے تھے۔ ان کی اولاد سے کوئی امام نہیں کہا جاتا ہے کہ سیدنا شیخ عبد القادر جیلانی آپ کی اولاد سے ہیں ۔

حضرت امام حسین علیہ السلام سے اولاد[ترمیم]

حضرت امام حسین علیہ السلام کی اولاد میں سے صرف امام علی زین العابدین ہی جنگ سے غازی ہوئے۔ آپ کی بڑی شان ہوئی اور آپ اہل تشیع کے چوتھے امام ہوئے اپنے باپ تایا اور دادا کے بعد ۔ حضرت امام علی زین العابدین ہی کی اولاد سے تما م اہل یشیع کے باقی نو ائمہ کی ولادت ہوئی

حضرت علی کی سید بیٹیاں[ترمیم]

حضرت علی کی کسی بیٹی کی اولاد زندہ نہیں ہے اور ان کی طرف سے کوئی نسل نہیں چلی۔ "چنانچہ سید صرف حضرت امام حسن اور امام حسین کی اولاد سے پیدا ہوئے ے۔"

اقسام[ترمیم]

سیدوں کی دراصل کوئی قسم نہیں ہوتی سید سید ہوتا ہے۔ ہاں البتہ جب تعداد بڑھنے لگی تو سادات نے اپنی پہچان کی خاطر اپنے اس امام کے نام کو اپنی پہچان بنایا جس کی نسل سے ان کا تعلق ہے تا کہ ان کے نسب کی آسانی سے پہچان ہو سکے سادات کی مختلف شاخیں ہیں کہ جن میں اہم اور اصلی درج ذیل ہیں : حسنی، حسینی، عابدی ، موسوی ،رضوی ، تقوی اور نقوی جبکہ ہر موسوی سید، حسینی بھی ہے، لیکن اسے موسوی کہتے ہیں نہ کہ حسینی. اس بات کی دلیل وہ قاعدہ جو علم نسب میں ہے کہ جس کے مطابق، سادات کو جو ان کے شجرے نامے میں آخری امام ہو، اس کے ساتھ منسوب کرتے ہیں، مثال کے طور پر جو شخص امام موسیٰ کاظم(ع) کے خاندان سے ہے اسے موسوی کہتے ہیں حسینی نہیں کہتے یعنی اسے امام حسین(ع) یا امام علی(ع) سے منسوب نہیں کرتے. اسی لیے۔

ہر تقوی سید رضوی ہے لیکن ہر رضوی تقوی نہیں 
ہر رضوی سید موسوی ہے لیکن ہر موسوی رضوی نہیں 
ہر موسوی سید حسینی ہے لیکن ہر حسینی موسوی نہیں 
ہرحسینی سید فاطمی ہے لیکن ہر فاطمی حسینی نہیں
ہر فاطمی سید علوی ہے لیکن ہر علوی فاطمی نہیں 
ہر علوی سید  طالبی ہے لیکن ہر طالبی علوی نہیں

= حسنی سید[ترمیم]

حسنی سادات امام حسن علیہ السلام کے فرزند حسن مثنیٰ کی اولاد سے ہیں اور زیادہ تر لبنان میں آباد ہیں بہت سارے سادات خاندانوں نے اپنے امام کے نام کے ساتھ ان علاقوں کے نام کا اضافہ کر لیا جہاں سے وہ ہجرت کر کے آئے ہیں  جیسے [[بخاری بخارہ سے ہجرت کرنے والے ماژندرانی ماژندران سے شیرازی شیراز سے )]جیسے عبد القادر  جیلانی گیلان کی وجہ سے گیلانی کہلاتے جاتے ہیں۔ بعض لوگوں کو یہ غلط فہمی ہوتی ہے کہ گیلانی حضرت عبد القادر کی ہی اولاد سے ہیں مگر ضروری نہیں ہے ہاں آج کل زیادہ تر لوگ جو عبد القادر کی اولاد سے ہیں وہ خؤد کو گیلانی /جیلانی کہتے ہیں۔ یا ہر رضوی کہلوانے والا  امام رضا علیہ السلام کی اولاد نہیں بلکہ اس کی یہ نسبت جناب احمد رضا خان بریلوی سے ہے 


حسینی سید[ترمیم]

جیسے : جعفری سیدامام جعفر صادق کی اولاد زیدی حضرت زید جو امام محمد باقر علیہ السلام اور امام جعفر صادق علیہ السلام کے بھائی تھے کاظمی سید امام موسیٰ الکاظم علیہ السلام کی اولاد ہیں رضوی اور تقوی سید امام محمد تقی علیہ السلام کی اولاد ہیں کیونکہ امام علی رضا علیہ السلام کے واحد فرزند امام محمد تقی علیہ السلام ہیں نقوی سید امام علی نقی علیہ السلام کی اولاد ہیں جبکہ اپ کے فرزند امام حسن عسکری علیہ السلام کی واحد اولاد امام مہدی علیہ السلام ہیں یوں تو ہر نسبی سید امام علی علیہ الس نسل سے ہے مگر انھوں نے صرف پیچان کے لیے اپنے اپ کو اس امام کے ساتھ لکھتے ہیں جس کی وہ نسبی اولاد ہیں تاکہ ان کی آسانی سے پہچان ہو جائے ۔ مثلاً اگر کوئی سید یہ کہے کہ میں فلاں کا بیٹا ہوں اور سید ہوں تو آپ آسانی سے اس کی پہچان نہیں کر پائیں گے اگر وہ یہ کہے کہ میں جناب شیخ عبد القادر جیلانی کی اولاد میں سے ہوں تو آپ جلدی پہچان لیں گے۔" یا میں عابدی سید ہوں اور امام علی زین العابدین علیہ السلام کی اولاد ہوں

سادات کے احکام[ترمیم]

شریعت میں سادات کے لیے بہت سے انفرادی احکام ہیں۔ مثال کے طور پر سادات کے لیے غیر سادات سے صدقہ اور زکوۃ لے کر استعمال کرنا حرام ہے۔البتہ غریب سادات خمس قبول کر سکتے ہیں

اسلامی القاب[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. مرقات بحوالہ مرآۃ المناجیح شرح مشکوۃ المصابیح
  2. مفردات القرآن امام راغب اصفہانی

https://archive.org/details/MudrikAlTalib2ndEddition