حسن ابن علی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
(امام حسن سے رجوع مکرر)
Jump to navigation Jump to search
حسن ابن علی
(عربی میں: الحسن بن علي ویکی ڈیٹا پر (P1559) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
الحسن ابن علي.svg
 

پانچویں خلیفہ راشد
Fleche-defaut-droite-gris-32.png علی بن ابی طالب
معاویہ
(بطور بادشاہ اولِ دولت امویہ)
Fleche-defaut-gauche-gris-32.png
اہل تشیع کے دوسرے امام
Fleche-defaut-droite-gris-32.png علی بن ابی طالب
حسین بن علی Fleche-defaut-gauche-gris-32.png
معلومات شخصیت
پیدائش 1 مارچ 624  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مدینہ منورہ[1]  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات سنہ 669 (44–45 سال)[2][3][4][5]  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مدینہ منورہ  ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وجہ وفات زہر  ویکی ڈیٹا پر (P509) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مدفن جنت البقیع  ویکی ڈیٹا پر (P119) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
طرز وفات قتل  ویکی ڈیٹا پر (P1196) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Black flag.svg خلافت راشدہ
Umayyad Flag.svg سلطنت امویہ  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
زوجہ
اولاد قاسم بن حسن،  فاطمہ بنت حسن،  ابو بکر بن حسن بن علی،  طلحہ بن حسن،  حسین بن حسن بن علی،  زید بن حسن،  حسن المثنیٰ  ویکی ڈیٹا پر (P40) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
والد علی بن ابی طالب[6]  ویکی ڈیٹا پر (P22) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
والدہ فاطمۃ الزھراء[6]  ویکی ڈیٹا پر (P25) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
بہن/بھائی
عملی زندگی
پیشہ ریاست کار  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان کلاسیکی عربی  ویکی ڈیٹا پر (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

حسن بن علی بن ابی طالب (624ء–670ء) علی بن ابی طالب اور محمد Mohamed peace be upon him.svg کی دختر فاطمہ زہرا کے سب سے بڑے بیٹے اور حسین بن علی کے بڑے بھائی تھے۔ اہل اسلام ان کا پیغمبر اسلام Mohamed peace be upon him.svg کے پوتے کے طور پر احترام کرتے ہیں۔ سنی مسلمان ان کو پانچواں خلیفہ راشد[11][12][13] جبکہ شیعہ مسلمان حسن کو دوسرا امام مانتے ہیں۔ ان کے والد کی وفات کے بعد انہیں خلافت کے لیے منتخب کیا گیا لیکن چھ یا سات ماہ کے بعد معاویہ کے سپرد کر دی اور معاویہ کے دور میں خلافت ملوکیت میں بدل گئی اور وہ دولت امویہ کے بانی قرار پائے،[14][15] یوں پہلے فتنے کا خاتمہ ہوا۔[16] حسن غریبوں کو عطیہ کرنے، غریبوں اور غلاموں پر اپنی شفقت اور اپنے علم، تاب آوری اور بہادری کے لیے جانے جاتے تھے۔[17] اپنی باقی زندگی حسن نے مدینہ منورہ میں ہی گزاری، یہاں تک کہ 45 سال کی عمر میں ان کا انتقال ہو گیا اور مدینہ منورہ کے جنت البقیع قبرستان میں سپرد خاک ہو گئے۔ عموماً ان کی زوجہ جعدہ بنت اشعث پر انہیں زہر دینے کا الزام لگایا جاتا ہے۔

پیدائش

سنہ ہجری کے تیسرے سال رمضان المبارک کے مہینہ میں معدنِ نبوت کا یہ گوہر شب چراغ استغنا وبے نیازی کی اقلیم کا تاجدار، صلح و مسالمت کی پرسکون مملکت کا شہنشاہ، عرشِ خلافت کا مسند نشین،دوشِ نبوت کا سوار، فتنہ و فساد کا بیخ کن ،سردارِ دو عالم کی بشارت کا پورا کرنے والا، امتِ مسلمہ کا محسنِ اعظم، نور افزائے عالمِ وجود ہوا، آنحضرتﷺ کو ولادت باسعادت کی خبر ہوئی توحضرت فاطمہؓ کے گھر تشریف لائے،اورفرمایا :میرے بچے کو دکھانا،کیا نام رکھا گیا، عرض کیا گیا، حرب، فرمایا نہیں ،اس کا نام حسنؓ ہے،پیدائش کے ساتویں دن عقیقہ کیا اور دو مینڈھوں کی قربانی کرکے سر کے بال اتروائے اوران کے ہم وزن چاندی خیرات کی ۔

عہد نبویﷺ

آنحضرتﷺ کو حضرت حسنؓ کے ساتھ جو غیر معمولی محبت تھی وہ کم خوش قسمتوں کے حصّہ میں آئی ہوگی، آپ نے بڑے نازونعم سے ان کی پرورش فرمائی کبھی آغوشِ شفقت میں لیے ہوئے نکلتے ،کبھی دوشِ مبارک پر سوار کیے ہوئے برآمد ہوتے ان کی ادنی ادنی تکلیف پربے قرار ہوجاتے، بغیر حسنؓ کو دیکھے ہوئے نہ رہا جاتا تھا، ان کو دیکھنے کے لیے روزانہ فاطمہ زہراؓ کے گھر تشریف لے جاتے تھے،حضرت حسنؓ اورحسینؓ بھی آپ سے بیحد مانوس ہو گئے تھے ،کبھی نماز کی حالت میں پشتِ مبارک پر چڑھ کے بیٹھ جاتے کبھی رکوع میں ٹانگوں کے درمیان گھس جاتے کبھی ریش مبارک سے کھیلتے،غرض طر ح طرح کی شوخیاں کرتے،جان نثار نانا نہایت پیار اورمحبت سے ان طفلانہ شوخیوں کو برداشت کرتے اورکبھی تادیباً بھی نہ جھڑکتے؛بلکہ ہنس دیا کرتے تھے،ابھی حضرت حسنؓ آٹھ ہی سال کے تھے کہ یہ بابرکت سایہ سر سے اٹھ گیا۔

عہد صدیقیؓ

اس کے بعد حضرت ابوبکرؓ مسند نشین خلافت ہوئے،آپ بھی ذاتِ نبویﷺ کے تعلق کی وجہ سے حضرت حسنؓ کے ساتھ بڑی محبت فرماتے تھے،ایک مرتبہ حضرت ابوبکرؓ عصر کی نماز پڑھ کر نکلے، حضرت علیؓ بھی ساتھ تھے،راستہ میں حضرت حسنؓ کھیل رہے تھے،حضرت ابوبکرؓ نے اٹھا کر کندھے پر بٹھا لیا، اورفرمانے لگے، قسم ہے یہ نبیﷺ کے مشابہ ہے،علیؓ کےمشابہ نہیں ہے، حضرت علیؓ یہ سن کر ہنسنے لگے۔ [18]

عہد فاروقیؓ

حضرت عمرؓ نے بھی اپنے زمانہ میں دونوں بھائیوں کے ساتھ ایسا ہی محبت آمیز برتاؤ رکھا، چنانچہ جب آپ نے کبارصحابہؓ کے وظائف مقرر کیے،توگو حضرت حسنؓ اس صف میں نہ آتے تھے،لیکن آپ کا بھی پانچ ہزار ماہانہ مقرر فرمایا۔ [19]

عہد عثمانیؓ

حضرت عثمانؓ نے بھی اپنے زمانہ میں ایسا ہی شفقت آمیز طرزِ عمل رکھا صدیقی اورفاروقی دور میں حضرت حسنؓ اپنی کمسنی کے باعث کسی کام میں حصہ نہ لے سکتے تھے،حضرت عثمان کے عہد میں پورے جوان ہوچکے تھے؛چنانچہ اسی زمانہ سے آپ کی عملی زندگی کا آغاز ہوتا ہے،اس سلسلہ میں سب سے اول طبرستان کی فوج کشی میں مجاہدانہ شریک ہوئے، یہ فوج کشی سعید بن العاص کی ماتحتی میں ہوئی تھی۔(ابن اثیر:3/84،طبع یورپ) اس کے بعد جب حضرت عثمانؓ کے خلاف فتنہ اٹھا اورباغیوں نے قصِر خلافت کا محاصرہ کر لیا، تو حسنؓ نے اپنے والد بزرگوار کو یہ مفید مشورہ دیا کہ آپ محاصرہ اٹھنے تک کے لیے مدینہ سے باہر چلے جائیے، کیونکہ اگر آپ کی موجودگی میں عثمانؓ شہید کر دیے گئے تو لوگ آپ کو مطعون کریں گے اوران کی شہادت کا ذمہ دار ٹھہرائیں گے ؛لیکن باغی حضرت علیؓ کی نقل و حرکت کی برابر نگرانی کر رہے تھے،اس لیے حضرت علیؓ اس مفید مشورہ پر عمل پیرا نہ ہو سکے۔ [20] البتہ حضرت حسنؓ کو حضرت عثمان ؓ کی حفاظت کے لیے بھیج دیا؛ چنانچہ انہوں نے اوران کے دوسرے ساتھیوں نے اس خطرہ کی حالت میں نہایت شجاعت و بہادری کے ساتھ حملہ آوروں کی مدافعت کی اور باغیوں کو اندر گھسنے سے روک رکھا، اس مدافعت میں خود بھی بہت زخمی ہوئے،سارا بدن خون سے رنگین ہو گیا؛ لیکن حفاظت کی یہ تمام تدبیریں ناکام ثابت ہوئیں اور باغی چھت پر چڑھ کر اندر گھس گئے اورحضرت عثمانؓ کو شہید کر دیا، حضرت علیؓ کو شہادت کی خبر ہوئی توآپ نے جوش غضب میں حضرت حسنؓ کو طمانچہ مارا کہ تم نے کیسی حفاظت کی کہ باغیوں نے اندر گھس کر عثمانؓ کو شہید کرڈالا۔ [21]

بیعت خلافت کے وقت

حضرت عثمانؓ کی شہادت کے بعد جب مسندِ خلافت خالی ہو گئی اورمسلمانوں کی نگاہِ انتخاب حضرت علیؓ پر پڑی اورانہوں نے آپ کے ہاتھ پر بیعت کرنی چاہی تو حضرت حسنؓ نے غایبِ عاقبت اندیشی سے والد بزرگوار کو یہ مشورہ دیا کہ جب تک تمام ممالک اسلامیہ کے لوگ آپ سے خلافت کی درخواست نہ کریں اس وقت تک آپ اسے قبول نہ فرمائیے،لیکن حضرت علیؓ نے فرمایا کہ خلیفہ کا انتخاب صرف مہاجرین وانصار کا حق ہے،جب وہ کسی کوخلیفہ تسلیم کر لیں،تو پھر تمام ممالک اسلامیہ پر اس کی اطاعت واجب ہوجاتی ہے، بیعت کے لیے تمام دنیا کے مسلمانوں کے مشورہ کی شرط نہیں ہے اورخلافت قبو ل کرلی۔ [22]

جنگ جمل سے حضرت علیؓ کو روکنا

حضرت علیؓ کی بیعت کے بعد جب حضرت عائشہؓ طلحہ اورزبیر رضوان اللہ علیہم حضرت عثمانؓ کے قصاص میں ان کے قاتلوں سے بدلہ لینے کے لیے نکلے تو پھر حضرت حسنؓ نے حضرت علیؓ کی خدمت میں عرض کیا کہ آپ مدینہ لوٹ چلئے اورکچھ دنوں کے لیے خانہ نشین ہوجائیے ؛لیکن حضرت علیؓ کی رائے میں ان حالات میں مدینہ لوٹنا اورخانہ نشین ہوجانا،اُمت کے ساتھ فریب تھا اور اس سے اُمت اسلامیہ میں مزید افتراق وانشقاق کا اندیشہ تھا اس لیے واپس نہ ہوئے۔ [23]

جنگ جمل

یہ وہ وقت تھا کہ حضرت طلحہؓ اورزبیرؓ وغیرہ حضرت عثمانؓ کے قصاص کے لیے نکل چکے تھے، اس لیے حضرت علیؓ نے بھی مقابلہ کی تیاریاں شروع کر دیں،جب آپ بالکل آمادہ ہو گئے،توحضرت حسنؓ کو بھی چاروناچار آپ کی حمایت میں نکلنا پڑا؛چنانچہ والد بزرگوار کے حکم کے مطابق حضرت عمار بن یاسرؓ کے ہمراہ اہل کوفہ کو ان کی امداد پر آمادہ کرنے کے لیے کوفہ تشریف لے گئے ان ہی ایام میں حضرت ابو موسٰی اشعریؓ مسلمانوں کو خانہ جنگی اورفتنہ و فساد سے روکنے کے لیے کوفہ آئے ہوئے تھے اور جامع مسجد کوفہ میں تقریر کر رہے تھے کہ برادران کوفہ تم لوگ عرب کی بنیاد بن جاؤ،تاکہ مظلوم اورخوفزدہ تمہارے دامن میں پناہ لیں لوگو فتنہ اٹھتے وقت پہچان نہیں پڑتا ؛بلکہ مشتبہ رہتا ہے فرو ہونے کے بعد اس کی حقیقت ظاہر ہوتی ہے ،معلوم نہیں یہ فتنہ کہاں سے اٹھا ہے اور کس نے اٹھایا ہے،اس لیے تم لوگ اپنی تلواریں نیام میں کرلو، نیزہ کے پھل نکال ڈالو،کمانوں کے چلے کاٹ دو اورگھروں کے اندرونی حصہ میں بیٹھ جاؤ، لوگو!فتنہ کے زمانے میں سونے والا کھڑے ہونے والے سے اورکھڑا ہونے والا چلنے والے سے بہتر ہے۔ حضرت حسنؓ نے مسجد پہنچ کر یہ تقریر سنی تو حضرت ابوموسیٰ کو روک دیا اور فرمایا تم یہاں سے نکل جاؤ اورجہاں جی میں آئے چلے جاؤ اورخود منبر پر چڑھ کر اہل کوفہ کو حضرت علیؓ کی امداد پر ابھارا؛ چنانچہ آپ کی دعوت اورحجر بن عدی کندی کی تقریر پر 9650 کوفی حضرت علیؓ کا ساتھ دینے پر آمادہ ہو گئے،حضرت حسنؓ ان سب کو لے کر مقام ذی قار میں حضرت علیؓ سے مل گئے اور جنگ کے فیصلہ تک برابر ساتھ رہے۔[24] جمل کے بعد صفین کا قیامت خیز معرکہ ہوا اس میں بھی آپ اپنے والد بزرگوار کے ساتھ تھے اور التوائے جنگ پر جو عہد نامہ مرتب ہوا تھا اس میں شاہد تھے۔ [25]

حضرت علیؓ کی شہادت

خلافت کے پانچویں سال ابن ملجم نے حضرت علیؓ پر قاتلانہ حملہ کیا زخم کاری تھا اس لیے نقل وحرکت سے معذور ہو گئے؛چنانچہ جمعہ کی امامت حضرت حسنؓ کو تفویض فرمائی، اس جمعہ میں آپ نے ذیل کا خطبہ دیا: "خدا نے جس نبی کو مبعوث کیا اس کو ایک ذات، ایک قبیلہ اور ایک گھر عنایت فرمایا، اس ذات کی قسم جس نے محمدﷺ کو مبعوث کیا جو شخص ہم اہل بیت کا کوئی حق تلف کرے گا خدا اس اتلافِ حق کے بقدر اس شخص کا حق گھٹادے گا"۔ [26] حضرت علیؓ کا زخم نہایت کاری تھا، جب بچنے کی کوئی امید باقی نہ رہی تو بعض ہوا خواہوں نے آپ سے حضرت حسنؓ کی آیندہ جانشینی اورخلافت کے بارہ میں سوال کیا آپ نے فرمایا"نہ میں حکم دیتا ہوں اورنہ روکتا ہوں" [27] زخمی ہونے کے تیسرے دن حضرت علیؓ جنت الفردوس کو سدھارے حضرت حسنینؓ اورجعفرؓ نے غسل دیا، حضرت حسنؓ نے نمازجنازہ پڑھائی اورنمازِ فجر کے قبل آپ کا جسدِ خاکی مقام رؓہ میں جامع مسجد کے متصل سپرد خاک کیا گیا ۔ [28]

بیعت خلافت

حضرت علیؓ کی وفات کے بعد امیر معاویہ کےمقبوضہ علاقہ کے علاوہ باقی سارے ملک کی نظریں حضرت حسنؓ کی طرف تھیں چنانچہ والد بزرگوار کی تدفین سے فراغت کے بعد آپ جامع مسجد تشریف لائے،مسلمانوں نے بیعت کے لیے ہاتھ بڑھائے آپ نے ان سے بیعت لی اوربیعت کے بعد حسب ذیل تقریر ارشاد فرمائی:

امیر معاویہ کا جارحانہ اقدام

جناب امیرؓ اورامیر معاویہؓ میں بہت قدیم اختلاف چلا آرہا تھا،امیر معاویہؓ ان کی حیات ہی میں عالمِ اسلامی پرحکومت کرنے کا خواب دیکھ رہے تھے،لیکن جناب امیرؓ کی زندگی میں یہ خواب منتِ کشِ تعبیر نہ ہوا، آپ کی وفات کے بعد امیر معاویہؓ کا یہ جذبہ دفعۃ نہایت شدت کے ساتھ ابھر آیا، امیر معاویہؓ کو یہ معلوم تھا کہ حسنؓ صلح پسند ہیں اور جنگ و جدال وہ دل سے ناپسند کرتے ہیں اور واقعہ بھی یہی تھا کہ حضرت حسنؓ کو قتل وخونریزی سے شدید نفرت تھی اوراس قیمت پر وہ خلافت لینے پر آمادہ نہ تھے؛چنانچہ آپ نے پہلے ہی یہ طے کر لیا تھا کہ اگر اس کی نوبت آئی تو امیر معاویہؓ سے اپنے لیے کچھ مقرر کراکے خلافت سے دست بردار ہوجائیں گے۔ [29]) امیر معاویہؓ کو ان حالات کا پورا اندازہ تھا اس لیے حضرت علیؓ کی شہادت کے بعد ہی انہوں نے فوجی پیش قدمی شروع کردی اورپہلے عبد اللہ بن عامر کریز کو مقدمہ الجیش کے طور پر آگے روانہ کر دیا،یہ انبار ہوتے ہوئے مدائن کی طرف بڑھے۔

مقابلہ کے لیے آمادگی اور واپسی

حضرت حسنؓ اس وقت کوفہ میں تھے آپ کو عبد اللہ بن عامر کی پیش قدمی کی خبر ہوئی تو آپ بھی مقابلہ کے لیے کوفہ سے مدائن کی طرف بڑھے، ساباط پہنچ کر اپنی فوج میں کمزوری اورجنگ سے پہلو تہی کے آثار دیکھے اس لیے اسی مقام پر رک کر حسبِ ذیل تقریر کی: "میں کسی مسلمان کے لیے اپنے دل میں کینہ نہیں رکھتا اور تمہارے لیے بھی وہی پسند کرتا ہوں جو اپنے لیے پسند کرتا ہوں،تمہارے سامنے ایک رائے پیش کرتا ہوں، امید ہے کہ اسے مسترد نہ کروگے جس اتحاد ویکجہتی کو تم ناپسند کرتے ہو وہ اس تفرقہ اوراختلاف سے کہیں افضل و بہتر ہے،جسے تم چاہتے ہو میں دیکھ رہا ہوں کہ تم میں سے اکثر اشخاص جنگ سے پہلو تہی کر رہے ہیں اور لڑنے سے بزدلی دکھا رہے ہیں میں تم لوگوں کو تمہاری مرضی کے خلاف مجبور کرنا نہیں چاہتا" یہ خیالات سن کر لوگ سناٹے میں آگئے اورایک دوسرے کا منہ تکنے لگے،اگرچہ کچھ لوگ جنگ سے پہلو تہی کر رہے تھے تاہم بہت سے خارجی عقائد کے لوگ جو آپ کے ساتھ تھے وہ معاویہؓ سے لڑنا فرض عین سمجھتے تھے،انہوں نے جب یہ رنگ دیکھا تو حضرت علیؓ کی طرح حضرت حسنؓ کو بھی برا بھلا کہنے لگے اوران کی تحقیرکرنی شروع کردی اورجس مصلیٰ پر آپ تشریف فرماتے تھے حملہ کرکے اسے چھین لیا اورپیراہن مبارک کھسوٹ کر گلے سے چادر کھینچ لی حضرت حسنؓ نے یہ برہمی دیکھی تو گھوڑے پر سوار ہو گئے اور ربیعہ و ہمدان کو آوازدی انہوں نے بڑھ کر خارجیوں کے نرغہ سے چھڑایا اورآپ سیدھے مدائن روانہ ہو گئے راستہ میں جراح بن قبیصہ خارجی حملہ کی تاک میں چھپا ہوا تھا، حضرت حسنؓ جیسے ہی اس کے قریب سے ہوکر گذرے اس نے حملہ کرکے زانوئے مبارک زخمی کر دیا، عبد اللہ بن خطل اورعبداللہ بن ظبیان نے جو امام کے ساتھ تھے جراح کو پکڑکر اس کا کام تمام کر دیا اورحضرت حسنؓ مدائن جاکر قصر ابیض میں قیام پزیر ہو گئے اورزخم بھرنے تک ٹھہرے رہے، شفایاب ہونے کےبعد پھر عبد اللہ بن عامرکے مقابلہ کے لیے تیار ہو گئے اس دوران میں امیر معاویہؓ بھی انبار پہنچ چکے تھے اور قیس بن عامر کو جو حضرت حسنؓ کی طرف سے یہاں متعین تھے گھیرلیا تھا ادھر معاویہؓ نے قیس کا محاصرہ کیا دوسری طرف حضرت حسنؓ اورعبداللہ ابن عامر بالمقابل آگئے،عبد اللہ اس موقع پر یہ چال چلا کہ حضرت حسنؓ کی فوج کو مخاطب کرکے کہا کہ عراقیو! میں خود جنگ نہیں کرنا چاہتا،میری حیثیت صرف معاویہؓ کے مقدمۃ الجیش کی ہے اور وہ شامی فوجیں لے کر خود انبار تک پہنچ چکے ہیں، اس لیے حسنؓ کو میرا سلام کہہ دو اورمیری جانب سے یہ پیام پہنچا دو کہ ان کو اپنی ذات اوراپنی جماعت کی قسم جنگ ملتوی کر دیں عبد اللہ بن عامر کا یہ افسوں کار گر ہو گیا،حضرت حسنؓ کے ہمراہیوں نے اس کا پیام سنا تو انہوں نے جنگ کرنا مناسب نہ سمجھا اور پیچھے ہٹنے لگے، حضرت حسنؓ نے اسے محسوس کیا،تو وہ پھر مدائن لوٹ گئے۔

خلافت سے دست برداری

آپ کے مدائن چلے آنے کے بعد عبد اللہ بن عامر کو موقع مل گیا اس نے بڑھ کر مدائن میں گھیر لیا حضرت حسنؓ پہلے ہی سے امیر معاویہؓ سے صلح کرنے پر آمادہ تھے اپنے ساتھیوں کی بزدلی اورکمزوری کا تجربہ کرنے کے بعد جنگ کا خیال بالکل ترک کر دیا اورچند شرائط پر امیر معاویہؓ کے حق میں خلافت سے دستبرداری کا فیصلہ کر لیا اوریہ شرائط عبد اللہ بن عامر کے ذریعہ سے امیر معاویہؓ کے پاس بھجوادیئے جو حسب ذیل ہیں: (1)کوئی عراقی محض بغض وکینہ کی وجہ سے نہ پکڑا جائے گا(2) بلااستثنا سب کو امان دی جائے گی(3) عراقیوں کے ہفوات کو انگیز کیا جائے گا(4)یہ ہواز کا کل خراج حسنؓ کے لیے مخصوص کر دیا جائے گا۔ (5) حسینؓ کو دو لاکھ سالانہ علاحدہ دیا جائے گا ۔(6)بنی ہاشم کو صلات وعطایا میں بنی عبدشمس (بنی امیہ) پر ترجیح دی جائے گی۔ عبد اللہ بن عامر نے یہ شرائط امیر معاویہ کے پاس بھیجوادیئے،انہوں نے بلا کسی ترمیم کے یہ تمام شرطیں منظور کر لیں اوراپنے قلم سے ان کی منظوری لکھ کر اپنی مہر ثبت کرکے معززین وعمائد کی شہادتیں لکھوا کر حضرت حسنؓ کے پاس بھیجوادیا۔ (یہ تمام حالات اخبار الطوال وینوری ،230 تا 232 سے ماخوذ ہیں، ابن اثیر کا بیان اس سے کسی قدر مختلف ہے اس کی روایت کے مطابق صورت واقعہ ہے جس وقت امام حسنؓ نے اپنے شرائط امیر معاویہؓ کے سامنے پیش کرنے کے لیے بھیجے تھے،اسی دوران میں امیر معاویہؓ نے بھی ایک سادہ کاغذ پر مہر لگا کر حسنؓ کے پاس بھیجا تھا کہ اس پر وہ جو شرائط چاہیں تحریر کر دیں سب منظور کرلی جائیں گی اس کاغذ کے بھیجنے کے بعد امیر معاویہؓ کے پاس حسنؓ کے شرائط والا کاغذ پہنچا امیر معاویہ نے اس کو روکے رکھا حسنؓ کو جب امیر معاویہؓ کا مہر کردہ سادہ کاغذ ملا تو انہوں نے اس میں بہت سی ایسی شرطیں جو پہلے مطالبہ میں نہ تھیں بڑھا دیں لیکن امیر معاویہؓ نے انہیں تسلیم نہیں کیا اورصرف انہی شرائط کو مانا جسے حسنؓ پہلے بھیج چکے تھے [30] دست برداری کے بعد حضرت حسنؓ نے قیس بن سعد انصاری کو جو مقدمۃ الجیش کے ساتھ شامیوں کے مقابلہ پر مامور تھے اس کی اطلاع دی اورجملہ امور امیر معاویہ ؓ کے حوالہ کرکے مدائن چلے آنے کا حکم دیا قیس کو یہ فرمان ملا تو انہوں نے فوج کوپڑھ کر سنایا اورکہا کہ اس کے بعد ہمارے لیے صرف دو صورتیں ہیں یا تو بلا امام کے جنگ جاری رکھیں یا معاویہ کی اطاعت قبول کر لیں، ان کے دستہ میں بھی کچھ کمزور لوگ موجود تھے جنھوں نے امیر معاویہؓ کی اطاعت قبول کرلی اورقیس حضرت حسنؓ کے حکم کے مطابق آپ کے پاس مدائن چلے آئے اوران کے مدائن آنے کے بعد حضرت حسنؓ کوفہ تشریف لے گئے امیر معاویہؓ یہاں آکر آپ سے ملے اور دونوں میں صلح نامہ کے شرائط کی زبانی بھی تصدیق و توثیق ہو گئی۔ [31] اوپر جو شرطیں اخبار الطوال سے نقل کی گئی ہیں، ان کے علاوہ عام طور پر ایک یہ شرط بہت مشہور ہے کہ امیر معاویہؓ کے بعد حسن خلیفہ ہوں گے ؛لیکن یہ شرط مروج الذہب مسعودی اخبار الطوال دینوری، یعقوبی ،طبری اورابن اثیر وغیرہ کسی میں بھی نہیں ہے، البتہ علامہ ابن عبدالبر نے استیعاب میں لکھا ہے کہ علما کا یہ بیان ہے کہ حسنؓ صرف معاویہؓ کی زندگی ہی تک کے لیے ان کے حق میں دست بردار ہوئے تھے [32] لیکن ابن عبدالبر کا یہ بیان خود محل نظر ہے اس لیے کہ جو واقعہ کسی مستند تاریخ میں نہیں ملتا اس کو علما کا بیان کیسے کہا جاسکتا ہے ممکن ہے ان کے عہد کے علما کی یہ رائے رہی ہو لیکن تاریخوں سے اس کی تصدیق نہیں ہوتی،خود طبری نے بھی جو اپنی تاریخ میں ہر قسم کی رطب دیا بس روایتیں نقل کردیتا ہے،اس شرط کا کوئی ذکر نہیں کیا ہے اورآئندہ واقعات سے بھی اس کی تائید نہیں ہوتی اس شرط کے نہ ہونے کا سب سے بڑاثبوت یہ ہے کہ حضرت حسنؓ کی وفات کے بعد جب امیر معاویہؓ یزید کی بیعت لینے کے لیے مدینہ گئے اورابن زبیرؓ، حسینؓ اورعبدالرحمن بن ابی بکرؓ وغیرہ کے سامنے یہ مسئلہ پیش کیا، تو ان بزرگوں نے اس کے خلاف ہر طرح کے دلائل دیے ،ابن زبیرؓ نے کہا کہ یہ طریقہ خلفائے راشدینؓ کے انتخابی طریقہ کے خلاف ہے، اس لیے ہم اسے منظور نہیں کرسکتے،عبدالرحمن بن ابی بکرؓ نے کہا یہ قیصر وکسریٰ کی سنت ہے، لیکن کسی نے بھی یہ دلیل نہیں دی کہ حسنؓ صرف تمہارے حق میں دست بردار ہوئے تھے،اس لیے یزید کو ولیعہد نہیں بنایا جاسکتا ظاہر ہے کہ اگر ان بزرگوں کو اس قسم کی شرط کا علم ہوتا تو وہ دوسرے دلائل کے ساتھ اسے بھی یزید کی ولیعہدی کی مخالفت میں ضرور پیش کرتے پھر امیر معاویہؓ کی وفات کے بعد جب حضرت حسینؓ یزید کے مقابلہ میں کھڑے ہوئے تو آپ نے اپنے دعویٰ کی تائید اوریزید کی مخالفت میں بہت سی تقریریں کیں اوران تقریروں میں یزید کی مخالفت کے اسباب بیان کیے لیکن کسی تقریر میں بھی آپ نے یہ دعویٰ نہیں فرمایا کہ چونکہ میرے بھائی حسنؓ صرف امیر معاویہؓ کے حق میں دستبردار ہوئے تھے اور وہ امیر معاویہؓ کی زندگی میں وفات پاچکے تھے اس لیے اصول توارث کی رو سے ان کی جانشینی کا حق مجھے یا حسنؓ کی اولاد کو پہنچتا ہے؛حالانکہ یزید کی حکومت کے خلاف دلائل میں یہ بڑی قوی دلیل تھی لیکن حضرت حسینؓ نے اس کی طرف اشارہ بھی نہیں فرمایا اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ واقعہ ہی سرے سے غلط ہے، باقی رہا یہ سوال کہ پھر بعض ارباب سیر نے اسے کیوں نقل کیا ہے، اس کا جواب ان لوگوں کے لیے بہت آسان ہے جو بن امیہ اوربنی ہاشم کی اختلافی تاریخ پر نظر رکھتے ہیں کہ ان میں سے ہر ایک حامی دوسرے کے متعلق ایسی روایتیں گھڑدیتے ہیں جس سے دوسرے کے دامن پر کوئی دھبہ آتا ہو۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ امیر معاویہؓ نے حضرت علیؓ کے خلاف صف آرا ہوکر اور پھر اپنے بعد یزید کو ولیعہد بنا کر اسلامی خلافت ختم کرکے تاریخ اسلام میں نہایت بری مثال قائم کی،لیکن اس غلطی کو محض اس کی حد تک محدود رکھنا چاہیے تھا مگر ان کے مخالفوں نے اس پر بس نہیں کیا ؛بلکہ ان کے خلاف ہر طرح کے بہتان تراش کر تاریخوں میں شامل کر دیے اوپر کی شرط بھی اسی بہتان کی ایک کڑی ہے، ہمارے نزدیک اس شرط کی ایزاد سے امیر معاویہؓ کے اشارہ سے حضرت حسنؓ کو زہر دینے والی روایت کی توثیق مقصود ہے جس کا ذکر آئندہ آئے گا اس لیے کہ جب بطور مقدمہ کے اسے تسلیم کر لیا جائے کہ حسنؓ صرف معاویہؓ کی زندگی تک کے لیے خلافت سے دستبردار ہوئے تھے اورامیر معاویہؓ اپنے خاندان میں حکومت چاہتے تھے تو پھر ان دونوں مقدمات سے یہ کھلا ہوا نتیجہ نکل آتا ہے کہ حسنؓ کو امیر معاویہؓ ہی نے زہر دلوایا تھا اور یہ ایسا مکروہ الزام ہے جس سے امیر معاویہؓ کی اخلاقی تصویر نہایت بد نما ہوجاتی ہے اوروہ ہمیشہ کے لیے مورد طعن بن جاتے ہیں۔

دست برداری کا اعلان اور مدینہ کی واپسی

حضرت حسنؓ اورامیر معاویہؓ کی مصالحت کے بعد عمرو بن العاصؓ نے جو امیر معاویہ ؓ کے ہمراہ تھے ان سے کہا کہ مناسب یہ ہے کہ مجمع عام میں حسنؓ سے دستبرداری کا اعلان کرادو، تاکہ لوگ خود ان کی زبان سے اس کو سن لیں،مگر امیر معاویہؓ مزید حجت مناسب نہ سمجھتے تھے،اس لیے پہلے اس پر آمادہ نہ ہوئے مگر جب عمرو بن العاصؓ نے بہت زیادہ اصرار کیا تو انہوں نے حضرت حسنؓ سے درخواست کی کہ وہ برسر عام دستبرداری کا اعلان کر دیں،امیر معاویہؓ کی اس فرمایش پر حضرت حسنؓ نے مجمع عام میں حسب ذیل تقریر فرمائی: اما بعد لوگو خدا نے ہمارے اگلوں سے تمہاری ہدایت اورپچھلوں سے تمہاری خونریزی کرائی دانائیوں میں بہتر دانائی تقویٰ اورکمزوریوں میں سب سے بڑی کمزوری بداعمالیاں ہیں ،یہ امر (خلافت) جو ہمارے اور معاویہؓ کے درمیان متنازع فیہ ہے یا وہ اس کے حقدار ہیں یا میں دونوں صورتوں میں محمد ﷺ کی امت کی اصلاح اور تم لوگوں کی خونریزی سے بچنے کے لیے میں اس سے دستبردار ہوتا ہوں پھر معاویہؓ کی طرف مخاطب ہوکر فرمایا یہ خلافت تمہارے لیے فتنہ اورچند روزہ سرمایہ ہے یہ سن کر امیر معاویہؓ نے کہا بس کیجئے،اس قدر کافی ہے اورعمروبن العاصؓ سے کہا تم مجھے یہی سنوانا چاہتے تھے۔ [33] اس خاتم الفتن دست برداری کے بعد حضرت حسنؓ اپنے اہل و عیال کو لے کر مدینۃ الرسول چلے گئے،اس طرح آنحضرتﷺ کی یہ پیشین گوئی پوری ہو گئی کہ میرا یہ بیٹا سید ہے خدا اس کے ذریعہ مسلمانوں کے دو بڑے فرقوں میں صلح کرائے گا۔ بااختلاف روایت آپ کی مدت خلافت ساڑھے پانچ مہینے یا چھ مہینے سے کچھ زیادہ یا سات مہینے سے کچھ زیادہ تھی،آپ کی بیعت خلافت کی تاریخ تو متعین ہے مگر دستبرداری کی تاریخ میں بڑا اختلاف ہے،بعض ربیع الاول 41ھ بعض ربیع الثانی اوربعض جمادی الاول بتاتے ہیں،اسی اعتبار سے مدت خلافت میں بھی اختلاف ہو گیا ہے۔

معاویہؓ اورقیس کی صلح

حضرت حسنؓ کی دستبرداری سے آپ کے خاص حامیوں اورحضرت علیؓ کے فدائیوں کو بڑا صدمہ پہنچا، اس میں شک نہیں کہ حضرت حسنؓ کے کچھ آدمیوں نے جن پر شامیوں کا مخفی جادو چل گیا تھا کمزوری دکھائی تھی، لیکن ان کے علاوہ ہزاروں فدایان علیؓ اس وقت بھی سربکف جان دینے کے لیے آمادہ تھے خود قیس بن سعد جو حضرت حسنؓ کے مقدمۃ الجیش کے کماندار تھے،حضرت حسنؓ کے حکم پر حضرت معاویہؓ کا مقابلہ چھوڑ کر مدائن تو چلے آئے تھے؛ لیکن دستبردای کے بعد کسی طرح امیر معاویہ کی خلافت تسلیم کرنے پر تیار نہ ہوتے تھے اوران سے مقابلہ کرنے کے لیے ہمہ تن آمادہ تھے اوراپنی ہم خیال جماعت سے جنگ کے لیے بیعت بھی لے لی تھی،لیکن آخر میں امیر معاویہؓ نے ان کےتمام مطالبات مان کر صلح کرلی۔ [34]

وفات

دستبرداری کے بعد حضرت حسنؓ آخری لمحہ حیات تک اپنے جد بزرگوار کے جوار میں خاموشی وسکون کی زندگی بسر کرتے رہے 50ھ میں کسی نے آپ کو زہر دے دیا (زہر کے متعلق عام طور پر غلط فہمی پھیلی ہوئی ہے کہ امیر معاویہؓ کے اشارہ سے دیا گیا تھا، جو سراسر غلط ہے ) سم قاتل تھا ،قلب وجگر کے ٹکڑے کٹ کٹ کر گرنے لگے،جب حالت زیادہ نازک ہوئی اورزندگی سے مایوس ہو گئے،توحضرت حسینؓ کو بلا کر ان سے واقعہ بیان کیا،انہوں نے زہر دینے والے کا نام پوچھا،فرمایا:نام پوچھ کر کیا کروگے؟ عرض کیا قتل کروں گا، فرمایا: اگر میرا خیال صحیح ہے تو خدا بہتر بدلہ لینے والا ہے اوراگر غلط ہے تو میں نہیں چاہتا کہ میری وجہ سے کوئی ناکردہ گناہ پکڑا جائے اور زہر دینے والے کا نام بتانے سے انکار کر دیا،حضرت حسن کو اپنے نانا کے پہلو میں دفن ہونے کی بڑی تمنا تھی، اس لیے اپنی محترم نانی حضرت عائشہؓ صدیقہ سے حجرہ نبوی میں دفن ہونے کی اجازت چاہی، انہوں نے خوشی کے ساتھ اجازت دے دی ،اجازت ملنے کے بعد بھی احتیاطا ًفرمایا کہ میرے مرنے کے بعد دوبارہ اجازت لینا ممکن ہے میری زندگی میں مروت سے اجازت دے دی ہو، اگر دوبارہ اجازت مل جائے تو روضۂ نبویﷺ میں دفن کرنا، مجھے خطرہ ہے کہ اس میں بنی اُمیہ مزاحم ہوں گے اگر مزاحمت کی صورت پیش آئے تو اصرار نہ کرنا، اوربقیع الغرقد کے گور غریبان میں دفن کردینا۔ [35] زہر کھانے کے تیسرے دن ضروری وصیتوں کے بعد باختلاف روایت ربیع الاول 49 یا 50 ھ میں اس بوریہ نشین مسندِ بے نیازی نے اس دنیائے دنی کو خیرباد کہا انا للہ وانا الیہ راجعون، وفات کے وقت 47 یا 48 سال کی عمر تھی۔

جنازہ پر جھگڑا

وفات کے بعد حضرت حسینؓ نے وصیت کے مطابق دوبارہ حضرت عائشہؓ سے اجازت مانگی ،آپ نے پھر فراخدلی کے ساتھ مرحمت فرمائی(اس موقع پر بھی حرم نبویﷺ کے دشمنوں نے ایک روایت مشہور کردی ہے کہ حضرت عائشہؓ نے اجازت نہیں دی اورحضرت حسنؓ کے روضہ نبویﷺ میں دفن ہونے میں مزاحم ہوئیں مگر یہ روایت بھی امیر معاویہؓ کے شرائط کی طرح حضرت عائشہؓ کو بدنام کرنے کے لیے گھڑی گئی ہے جس کی کوئی اصلیت نہیں) لیکن حضرت حسنؓ کا خطرہ بالکل صحیح نکلا، مروان کو اس کی خبر ہوئی تو اس نے کہا کہ حسنؓ کسی طرح روضۂ نبوی میں دفن نہیں کیے جاسکتے، ان لوگوں نے عثمانؓ کو تو یہاں دفن نہ ہونے دیا اورحسنؓ کو دفن کرنا چاہتے ہیں، یہ کسی طرح نہیں ہوسکتا حضرت حسینؓ نے مقابلہ کرنا چاہا، مروان بھی لڑنے پر آمادہ ہو گیا اورقریب تھا کہ پھر ایک مرتبہ مدینہ کی زمین مسلمانوں کے خون سے لالہ زار بن جائے کہ اتنے میں مشہور صحابی حضرت ابوہریرہؓ پہنچ گئے اورچلائے کہ یہ کیا ظلم ہے کہ ابن رسول اللہ ﷺ کو اس کے نانا کے پہلو میں دفن کرنے سے روکا جاتا ہے،پھر حسینؓ سے کہا کہ اس کے لیے کشت وخون سےکیا فائدہ،حسنؓ کی وصیت بھول گئے کہ اگر خونریزی کا خطرہ ہو تو عام مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کردینا اس پر حضرت حسینؓ کا غصہ ٹھنڈا ہو گیا اوربنی امیہ اوربنی ہاشم میں جنگ ہوتے ہوتے رہ گئی اس کے بعد سعید بن العاصؓ عامل مدینہ نے نماز جنازہ پڑھائی اور لاش مبارک جنت البیقیع میں حضرت فاطمہ زہراؓ کے پہلو میں سپرد خاک کی گئی۔ [36] حضرت حسنؓ کا روضہ نبویﷺ کی بجائے بقیع کے گور غریباں میں دفن کیا جانا بھی آپ کے روحانی تصرف کا نتیجہ تھا جس پیکر صلح واشتی نے زندگی میں مسلمانوں کے خون کی قیمت پر دنیاوی جاہ و حشم حاصل کرنا پسند نہ کیا اورخونریزی سے بچنے کے لیے سلطنت وحکومت جیسی چیز کو ٹھکراکر عزلت نشینی کی زندگی اختیار کی اس کے جسدِ خاکی نے مرنے کے بعد بھی یہ کرشمہ دکھایا کہ روضۂ نبویﷺ کے مقابلہ میں بقیع کے گور غریباں میں دفن ہوا ،لیکن حرم نبویﷺ میں مسلمانوں کا خون نہ گرنے دیا ،ورنہ اس قیمت پر جدامجد کے پہلو میں جگہ ملنی بہت آسان تھی۔

مدینہ میں ماتم

حضرت حسنؓ کی رحلت معمولی واقعہ نہ تھا ؛بلکہ صلح ومسالمت کا ماتم تھا حلم وعفو کا ماتم تھا،صبر وتحمل کا ماتم تھا، استغناء وبے نیازی کا ماتم تھا، خاندانِ نبوت کے چشم وچراغ کا ماتم تھا، اس لیے آپ کی وفات پر مدینہ میں گھر گھر صفِ ماتم بچھ گئی،بازار بند ہو گئے گلیوں میں سناٹا چھاگیا، بنی ہاشم کی عورتوں نے ایک مہینہ تک سوگ منایا ،حضرت ابوہریرہؓ مسجد میں فریادوفغاں کرتے تھے اورپکار پکار کر کہتے تھے کہ لوگو! آج خوب رولو کہ رسول اللہ ﷺ کا محبوب دنیا سے اٹھ گیا۔ [37] جنازہ میں انسانوں کا اتنا ہجوم تھا کہ اس سے پہلے مدینہ میں کم دیکھنے میں آیا تھا،ثعلبہ بن ابی مالک جو مٹی میں شریک تھے راوی ہیں کہ حضرت حسنؓ کے جنازہ میں اتنا ازدحام تھا کہ اگر سوئی جیسی مہین چیز بھی پھینکی جاتی تو کثرت ازدحام سے زمین پر نہ گرتی۔ [38]

حلیہ

حضرت حسنؓ صورت وسیرت دونوں میں آنحضرتﷺ سے مشابہ تھے خصوصا ًصورت میں بالکل ہم شبیہ تھے۔

ازواج کی کثرت

روایتوں میں ہے کہ حضرت حسنؓ نے نہایت کثرت کے ساتھ شادیاں کیں اوراسی کثرت کے ساتھ طلاقیں دیں طلاقوں کی کثرت کی وجہ سے لوگ آپ کو ‘‘مطلاق’’ کہنے لگے تھے،بعض روایتوں سے آپ کی ازواج کی تعداد نو ے (90) تک پہنچ جاتی ہے،لیکن یہ روایتیں مبالغہ آمیز ہیں اس کی تردید اس سے بھی ہوتی ہے کہ آپ کے کل دس اولادیں تھیں اوریہ تعداد شادیوں کے مقابلہ میں بہت کم ہے ،اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ شادیوں کی کثرت کی روایت مبالغہ سے خالی نہیں ہیں تاہم اس قدر مسلم ہے کہ عام رواج سے زیادہ شادیاں کیں اس کثرت ازدواج وطلاق کو دیکھ کر حضرت علیؓ نے کوفہ میں اعلان کر دیا تھا کہ انہیں کوئی اپنی لڑکی نہ دے ؛لیکن عام مسلمانوں میں خانوادہ نبویﷺ سے رشتہ پیدا کرنے کا شوق اتنا غالب تھا کہ حضرت علیؓ کی اس مخالفت کا کوئی اثر نہ ہوا اورایک ہمدانی نے برملا کہا کہ ہم ضرور لڑکی دیں گے زیادہ سے زیادہ یہی نہ ہوگا کہ جو عورت انہیں پسند ہوگی اسے رکھیں گے ورنہ طلاق دیدیں گے۔ [39]

بی بیوں سے برتاؤ

لیکن جب تک کوئی عورت آپ کے حبالۂ عقد میں رہتی تھی اس سے بڑی محبت اور اس کی بڑی قدر افزائی فرماتے تھے؛چنانچہ جب ناگزیر اسباب کی بنا پر کسی عورت سے قطع تعلق کرتے تھے،تو آپ کے حسن سلوک اورمحبت کی یاد برابر اس کے دل میں رہتی تھی ایک مرتبہ ایک فزاری اورایک اسدی عورت کو رجعی طلاق دی اوران کی ولد ہی کے لیے دس دس ہزار نقد اورایک مشکیزہ شہد بھیجا اورغلام کو ہدایت کردی کہ اس کے جواب میں وہ جو کچھ کہیں اس کو یاد رکھنا فزاری عورت کو جب یہ خطیر رقم ملی تو اس نے شکریہ کے ساتھ قبول کرلی اوربارک اللہ فیہ وجزاہ خیرا کہا لیکن جب اسدی عورت کو ملی تویہ تحفہ دیکھ کر اس کے دل پر چوٹ لگی اور بے اختیار یہ حسرت بھرا فراقیہ مصرع زبان سے نکل گیا: متاع قلیل من حبیب مفارق جدا ہونے والے دوست کے مقابلہ میں یہ متاع حقیر ہے غلام نے آکر یہ واقعہ بیان کیا تو آپ نے اسدی عورت سےرجعت کرلی۔ [40]

اولاد

ان بیویوں سے آٹھ لڑکے تھے،حسن خولہ بنت منظور کے بطن سے،زیدام بشیر بنت ابو مسعود انصاریؓ کے بطن سے اور عمر، قاسم،ابوبکر،عبدالرحمن،طلحہ اور عبید اللہ مختلف بیویوں سے تھے [41] ابن قتیبہ نے کل تعداد چھ لکھی ہے جن میں دو لڑکیاں بھی ہیں، ام حسن اورام اسحق۔ [42]

ذریعہ معاش

حضرت حسنؓ نے ساری عمر نہایت فراغت ؛بلکہ عیش کے ساتھ زندگی بسر کی حضرت عمرؓ نے جب صحابہؓ کرام کے وظائف مقرر کیے اورحضرت علیؓ کا پانچ ہزار ماہوار مقرر کیا،توآپ کے ساتھ حضرت حسنؓ کا بھی جو اگرچہ اس زمرہ میں نہ آتے تھے رسول اللہ ﷺ کی قرابت کے لحاظ سے پانچ ہزار ماہوار مقرر فرمایا جو انہیں برابر ملتا رہا ،[43] حضرت عثمانؓ کے زمانہ میں بھی یہ وظائف برابر جاری رہے،حضرت عثمانؓ کے بعد حضرت علیؓ خود ہی خلیفہ مقرر ہوئے آپ کی شہادت کے بعد امیر معاویہؓ کے حق میں دست برداری کے وقت ہواز کا پورا خراج اپنے لیے مخصوص کرالیا تھا، اس لیے شروع سے آخرتک آپ نے بڑی راحت وآرام کی زندگی بسر فرمائی۔

فضل وکمال

آنحضرتﷺ کی وفات کے وقت حضرت حسنؓ کی عمر آٹھ سال سے زیادہ نہ تھی ظاہر ہے کہ اتنی سی عمر میں براہِ راست فیضانِ نبوی سے زیادہ بہرہ یاب ہونے کا کیا موقع مل سکتا ہے تاہم آپ جس خانوادہ کے چشم وچراغ تھے اورجس باپ کے آغوش میں تربیت پائی تھی وہ علوم مذہبی کا سرچشمہ اورعلم وحمل کا مجمع البحرین تھا اس لیے قدرۃ اس آفتابِ علم کے پرتو سے حسنؓ بھی مستفید ہوئے؛چنانچہ آنحضرتﷺ کی وفات کے بعد مدینہ میں جو جماعت علم وافتا کے منصب پر فائز تھی اس میں ایک آپ کی ذاتِ گرامی بھی تھی البتہ آپ کے فتاویٰ کی تعداد بہت کم ہے۔ [44]

حدیث

آپ کی مرویات کی تعداد کل تیرہ ہے اور ان میں سے بھی زیادہ تر حضرت علیؓ اورہند سے مروی ہیں، [45] آپ کے زمرۂ رواۃ میں حضرت عائشہؓ صدیقہ، حسن بن حسنؓ،عبد اللہ ،ابو جعفرؓ،جبیر بن نضیر، عکرمہ،محمد بن سیرین اورسفیان بن لیل وغیرہ قابل ذکر ہیں۔ [46]

خطابت

مذہبی علوم کے علاوہ آپ کو اس زمانہ کے مروجہ فنون میں بھی درک تھا خطابت اورشاعری اس زمانہ کے بڑے کمالات تھے،حضرت حسنؓ عرب کے اخطب الخطباء کے فرزند تھے،اس لیے خطابت آپ کو ورثے میں ملی تھی اور آپ میں بچپن ہی سے خطابت کا مادہ تھا، اس زمانہ میں ایک مرتبہ حضرت علیؓ نے آپ سے کہا کہ تم خطبہ دو، میں اس کو سنوں، حضرت حسنؓ نے کہا ،آپ کے سامنے خطبہ دیتے ہوئے حجاب معلوم ہوتا ہے،یہ سن کر حضرت علیؓ آڑ میں چلے گئے اورحضرت حسنؓ نے کھڑے ہوکر نہایت فصیح وبلیغ خطبہ دیا، حضرت علیؓ نے سن کر فرمایا کیوں نہ ہوبیٹے میں باپ کا اثر ہوتا ہی ہے [47] خطابت کا یہ کمال عمر کے ساتھ ساتھ اور ترقی کرتا گیا اورآپ کے خطبات فصاحت وبلاغت کے ساتھ اخلاق وحکمت اورپند وموعظت کا دفترہیں، حضرت علیؓ کی وفات کے بعد آپ نے متعدد خطبات دیے ہیں ان میں سے ایک نمونۃً نقل کیا جاتا ہے،اس سے آپ کی خطابت کا پورا اندازہ ہوگا۔ [48] فقال بعد حمد الله عز وجل: إنا والله ما ثنانا عن أهل الشام شك ولا ندم، وإنما كنا نقاتل أهل الشام بالسلامة والصبر، فسلبت السلامة بالعداوة، والصبر بالجزع، وكنتم في منتدبكم إلى صفين ودينكم أمام دنياكم، فأصبحتم اليوم ودنياكم أمام دينكم، ألا وإنا لكم كما كنا، ولستم لنا كما كنتم، ألا وقد أصبحتم بين قتيلين: قتيل بصفين تبكون له، وقتيل بالنهروان تطلبون بثأره، فأما الباقي فخاذل، وأما الباكي فثائر، ألا وإن معاوية دعانا إلى أمر ليس فيه عز ولا نصفة، فإن أردتم الموت رددناه عليه، وحاكمناه إلى الله عز وجل بظبا السيوف، وإن أردتم الحياة قبلناه وأخذنا لكم الرضا [49] حمد الہی کے بعد آپ نے یہ تقریر کی کہ ہم کسی شک و شبہ یا شرم و ندامت کی وجہ سے شامیوں کے مقابل سے نہیں لوٹ آئے ؛بلکہ اس کا سبب یہ تھا کہ پہلے ہم شامیوں سے صاف دلی اورصبر کے ساتھ جنگ کرتے تھے؛ لیکن اب وہ حالت باقی نہیں رہی صاف دلی کی جگہ عداوت نے اورصبر وثبات کی جگہ بےچینی نے لے لی ،صفین میں جب تم لوگ بلائے گئے تھے تو تمہارا دین تمہاری دنیا پر مقدم تھا اور اب حالت اس کے برعکس ہے ہم اب بھی تمہارے لیے ویسے ہی ہیں جیسے پہلے تھے؛ لیکن تم ہمارے لیے ویسے نہیں رہے جیسے پہلے تھے، ہاں اب تمہارے سامنے دو قسم کے مقتول ہیں ایک صفین کے مقتول جن کے لیے تم رو رہے ہو دوسرے نہروان کے مقتول جن کا تم بدلہ لینا چاہتے ہو؛ لیکن رونے والا بدلہ پاگیا اورباقی ناکام رہے گا ،معاویہؓ ہمیں ایسے امر کی طرف بلاتے ہیں جو عزت اورانصاف دونوں کے خلاف ہے پس اب اس کا فیصلہ تمہاری رائے پر ہے اگر تم موت چاہتے ہو تو ہم اس کو معاویہؓ ہی کی طرف لوٹا دیں اور تلواروں کی دھار کے ذریعہ سے خدا سے اس کا فیصلہ چاہیں اور اگر تم زندگی چاہتے ہو تو ہم اسے بھی منظور کریں اورتمہارے لیے رضا حاصل کریں۔

شاعری

شعر وشاعری کا بھی آپ ستھر امذاق رکھتے تھے اورخود بھی کبھی کبھی شعر کہتے تھے؛ لیکن جس میں مبالغہ اورخرافات کی بجائے اخلاقی اورحکیمانہ خیالات ہوتے، ابن رشیق نے کتاب العمدہ میں آپ کا ایک شعر اس واقعہ کے ساتھ نقل کیا ہے کہ ایک مرتبہ آپ خضاب لگا کر باہر نکلے اورارشاد فرمایا: [50] نسو داعلاھا ونابی اصولھا فلیت الذی یسورمنھا ھوالاصل شعر وشاعری کا بھی آپ ستھر امذاق رکھتے تھے اورخود بھی کبھی کبھی شعر کہتے تھے؛ لیکن جس میں مبالغہ اورخرافات کی بجائے اخلاقی اورحکیمانہ خیالات ہوتے، ابن رشیق نے کتاب العمدہ میں آپ کا ایک شعر اس واقعہ کے ساتھ نقل کیا ہے کہ ایک مرتبہ آپ خضاب لگا کر باہر نکلے اورارشاد فرمایا: [51] نسو داعلاھا ونابی اصولھا فلیت الذی یسورمنھا ھوالاصل

حکیمانہ اقوال

ان کے علاوہ تاریخوں میں بکثرت آپ کے حکیمانہ مقولے ملتے ہیں جن میں ہر مقولہ بجائے خود دفتر نکات ہے ان میں سے بعض مقولے یہاں پر نقل کیے جاتے ہیں ایک شخص نے آپ سے سوال کیا کہ زندگی بسر کرنے کے اعتبار سے سب سے اچھی زندگی کون بسر کرتا ہے؟ فرمایا جو اپنی زندگی میں دوسروں کو بھی شریک کرے، پھر پوچھا سب سے بری زندگی کس کی ہے؟ فرمایا جس کے ساتھ کوئی دوسرا زندگی نہ بسر کرسکے، فرماتے تھے کہ ضرورت کا پورا نہ ہونا اس سے کہیں بہتر ہے کہ اس کے لیے کسی نااہل کی طرف رجوع کیا جائے، ایک شخص نے آپ سے کہا مجھ کو موت سے بہت ڈر معلوم ہوتا ہے فرمایا اس لیے کہ تم نے اپنا مال پیچھے چھوڑ دیا اگر اس کو آگے بھیج دیا ہوتا تو اس تک پہنچنے کے لیے خوفزدہ ہونے کی بجائے مسرور ہوتے ،فرماتے تھے کہ ‘‘مکارم اخلاق دس ہیں، زبان کی سچائی،جنگ کے وقت حملہ کی شدت ،سائل کو دینا، حسن خلق، احسان کا بدلہ دینا،صلۂ رحم، پڑوسی کی حفاظت وحمایت، حق دار کی حق شناسی، مہمان نوازی اوران سب سے بڑھ کر شرم وحیا، امیر معاویہؓ اکثر آپ سے اخلاقی اصطلاحوں کی تشریح کراتے تھے اورحکومت کے بارہ میں مشورہ لیا کرتے تھے،ایک مرتبہ ان سے کہا ابو محمد! آج تک مجھ سے تین باتوں کے معنی کسی نے نہیں بتائے، آپ نے فرمایا کونسی باتیں، معاویہؓ نے کہا مروۃ ،کرم اور بہادری، آپ نے جواب دیا مروۃ کہتے ہیں انسان کو اپنے مذہب کی اصلاح کرنا اپنے مال کی دیکھ بھال اور نگرانی کرنا اوراسے برمحل صرف کرنا، سلام زیادہ کرنا،لوگوں میں محبوبیت حاصل کرنا اورکرم کہتے ہیں مانگنے سے پہلے دینا،احسان وسلوک کرنا، برمحل کھلانا پلانا، بہادری کہتےہیں پڑوسی کی طرف سے مدافعت کرنا، آڑے وقتوں میں اس کی حمایت وامداد کرنا اورمصیبت کے وقت صبر کرنا، اسی طریقہ سے ایک مرتبہ امیر معاویہؓ نے ان سے پوچھا کہ حکومت میں ہم پر کیا فرائض ہیں، فرمایا جو سلیمان بن داؤد نے بتائے ہیں،معاویہؓ نے کہا کیا بتائے ہیں ،فرمایا انہوں نے اپنے ایک ساتھی سے کہا کہ تم کو معلوم ہے بادشاہ پر ملک داری کے کیا فرائض ہیں جس سے اس کو نقصان نہ پہنچے، ظاہر و باطن میں خدا کا خوف کرے ،غصہ اورخوشی دونوں میں عدل وانصاف کرے،فقر اور دولتمندی دونوں حالتوں میں میانہ روی قائم رکھے،زبردستی نہ کسی کا مال غصب کرے اورنہ اس کو بے جا صرف کرے، جب تک وہ ان چیزوں پر عمل کرتا رہے گا اس وقت تک اس کو دنیا میں کوئی نقصان نہیں پہنچ سکتا۔

اخلاق وعادات

شبیہ رسول حضرت حسنؓ کا لقب تھا یہ مشابہت محض ظاہری اعضا و جوارح تک محدود نہ تھی؛بلکہ آپ کی ذات باطنی اور معنوی لحاظ سے بھی اسوۂ نبویﷺ کا نمونہ تھی،یوں تو آپ تمام مکارم اخلاق کا پیکر مجسم تھے؛ لیکن زہد ورع دنیاوی جاہ وچشم سے بے نیازی اوربے تعلقی آپ کا ایسا خاص اورامتیازی وصف تھا جس میں آپ کا کوئی حریف نہیں۔

استغناء وبے نیازی

درحقیقت جس استغنا اور بے نیازی کا ظہور آپ کی ذات گرامی سے ہوا وہ نوعِ انسانی کے لیے ایک معجزہ ہے عموماً قصر سلطنت کی تعمیر انسانی خون سےہوتی ہے،لیکن حضرت حسنؓ نے ایک ملتی ہوئی عظیم الشان سلطنت کو محض چند انسانوں کے خون کی خاطر چھوڑدیا غالباً تاریخ ایسی مثالیں کم پیش کرسکتی ہے،اگر شیخین کے بعد کی اسلامی تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو اس کا صفحہ صفحہ مسلمانوں کے خون سے رنگین نظر آئے گا اورابھی تک عرب کی زمین مسلمانوں کا خون چاہتی تھی؛ لیکن یہ فخر صرف حضرت حسنؓ کی ذات کے لیے مقدر ہوچکا تھا کہ وہ سلطنت وحکومت کو ٹھکرا کر امت مسلمہ کو تباہی سے بچائیں اورآنحضرتﷺ کی اس پیشین گوئی کو پورا فرمائیں گے، "ان ابنی ھذا سید یصلح اللہ بہ بین فئتین عظیمتین من المسلمین"میرا یہ لڑکا سید ہے اورخدا اس کے ذریعہ سے مسلمانوں کے دو بڑے گروہوں میں صلح کرائے گا یا الخلافۃ بعدی ثٰلثون میرے بعد خلافت تیس برس تک رہے گی، حساب سے یہ مدت ٹھیک حضرت حسنؓ کی دست برداری کے وقت پوری ہوتی ہے۔

خلافت کیوں چھوڑی؟

بعض ظاہر بینوں کو یہ غلط فہمی پیدا ہوتی ہے کہ حضرت حسنؓ نے اپنی فوج کی کمزوری سے مجبور ہوکر امیر معاویہ ؓ سے صلح کرلی اورکچھ واقعات بھی اس خیال کی تائید میں مل جاتے ہیں، لیکن واقعہ یہ ہے کہ آپ نے یہ جلیل القدر منصب محض مسلمانوں کی خونریزی سے بچنے کے لیے ترک نہیں کیا ،گویہ صحیح ہے جس فوج کو لے کر آپ مقابلہ کے لیے نکلے تھے،اس میں کچھ منافق بھی تھے، جنھوں نے عین موقع پر کمزوری دکھائی مگر اس فوج میں بہت سے خارجی العقیدہ بھی تھے، جو آپ کی حمایت میں امیر معاویہؓ سے لڑنا فرض عین سمجھتے تھے؛چنانچہ جب انہوں نے مصالحت کا رنگ دیکھا تو آپ کی تکفیر کرنے لگے۔ [52] خود عراق میں چالیس بیالیس ہزار کوفی جنھوں نے آپ کے ہاتھ پر بیعت کی تھی آپ کے ایک اشارہ پر سرکٹانے کے لیے تیار تھے [53] عراق تو عراق سارا عرب آپ کے قبضہ میں تھا،مصالحت وغیرہ کے بعد ایک مرتبہ بعض لوگوں نے آپ کو خلافت کی خواہش سے متہم کیا، آپ نے فرمایا کہ عرب کے سر میرے قبضہ میں تھے جس سے میں صلح کرتا اس سے وہ بھی کرتے اور جس سے میں جنگ کرتا اس سے وہ لڑتے ؛لیکن اس کے باوجود میں نے خلافت کو خالصۃً للہ اورامت محمدی کی خونریزی سے بچنے کے لیے چھوڑا۔ [54] خود آپ کی فوج میں ان چند منافقوں کے علاوہ جنھوں نے بعض مخفی اثرات سے عین وقت پر دھوکا دیا تھا،باقی پوری فوج کٹنے مرنے پر آمادہ تھی،ابو عریق راوی ہیں کہ ہم بارہ ہزار آدمی حضرت حسنؓ کے مقدمۃ الجیش میں کٹنے اورمرنے کے لیے تیار تھے اور شامیوں کی خون آشامی کے لیے ہماری تلواروں کی دھار وں سے خون ٹپک رہا تھا، جب ہم لوگوں کو صلح کی خبر معلوم ہوئی تو شدت غضب ورنج سے معلوم ہوتا تھا کہ ہماری کمر ٹوٹ گئی ،صلح کے بعد جب حسنؓ کوفہ آئے تو ہماری جماعت کے ایک شخص ابو عامر سفیان نے غصہ میں کہا "السلام علیک یا مذلل المومنین" مسلمانوں کے رسواکرنے والے السلام علیک،اس طنزیہ اورگستاخانہ سلام پر اس صبر وتحمل کے پیکر نے جواب دیا، ابو عامر ایسا نہ کہو میں نے مسلمانوں کو رسوا نہیں کیا البتہ ملک گیری کی ہوس میں مسلمانوں کی خونریزی پسند نہیں کی۔ [55] امام نووی لکھتے ہیں کہ چالیس ہزار سے زیادہ آدمیوں نے حسنؓ کے ہاتھ پر بیعت کی تھی اور وہ سات مہینہ حجاز، یمن،عراق اورخراسان وغیرہ پر حکمران رہے اس کے بعد معاویہؓ شام سے ان کے مقابلہ کو نکلے جب دونوں قریب ہوئے تو حضرت حسنؓ کو اندازہ ہوا کہ جب تک مسلمانوں کی بہت بڑی تعداد کام نہ آجائے گی اس وقت تک کسی فریق کا غلبہ پانا مشکل ہے، اس لیے چند شرائط پر آپ امیر معاویہؓ کے حق میں دست بردار ہو گئے اوراس طرح رسول اللہ ﷺ کا یہ معجزہ ظاہر ہو گیا کہ میرا یہ لڑکا سید ہے اور خدا اس کے ذریعہ سے مسلمانوں کے دوسرے فرقوں میں صلح کرائے گا۔ شیعان علیؓ اس صلح کو جس نظر سے دیکھتے تھے اوراس کے بارہ میں ان کے جو جذبات تھے ان کا اندازہ ان خطابات سے ہوسکتا ہے جس سے وہ اس سردار خلد برین کو مخاطب کرتے تھے "مذل المومنین" مسلمانوں کو رسوا کرنے والے "مسود وجوہ المسلمین" مسلمانوں کو روسیاہ کرنے والے،"عارالمومنین" ننگ مسلمین یہ وہ خطابات تھےجن سے حضرت حسنؓ کو خطاب کیا جاتا تھا، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ عام لوگ صلح اور دستبرداری کو کس درجہ ناپسند کرتے تھے۔ واقعہ یہ ہے کہ حضرت حسنؓ ایسے امن پسند،صلح جو نرم خو تھے کہ انہوں نے اول یوم ہی سے ارادہ کر لیا تھا کہ اگر بلا کسی خونریزی کے انہیں ان کی جگہ مل گئی تو لے لیں گے ورنہ اس کے لیے مسلمانوں کا خون نہ بہائیں گے، طبری کا بیان ہے کہ حسنؓ کے ساتھ چالیس ہزار آدمی تھے،لیکن آپ جنگ کرنا نہیں چاہتے تھے ؛بلکہ آپ کا خیال تھا کہ امیر معاویہؓ سے کچھ مقرر کراکے دستبردار ہوجائیں۔ چنانچہ جس وقت آپ نے عراقیوں سے بیعت لی تھی،اسی وقت اس عزم کو اشارۃ ظاہر فرمادیا تھا، زہری لکھتے ہیں کہ امام حسنؓ نے اہلِ عراق سے بیعت لیتے وقت یہ شرط کرلی تھی کہ تم کو پورے طور سے میری اطاعت کرنی ہوگی ،یعنی جس سے میں لڑوں گا اس سے لڑنا ہوگااور جس سے صلح کروں گا اس سے صلح کرنی پڑیگی اس شرط سے عراقی اسی وقت کھٹک گئے تھے کہ آپ آئندہ جنگ و جدال ختم کر دیں گے ؛چنانچہ اسی وقت ان لوگوں نے آپس میں کہا تھا کہ ہمارے خیال کے آدمی نہیں اور لڑنا نہیں چاہتے،اس کے چند روز بعد آپ کو زخمی کر دیا گیا۔ حضرت حسنؓ نے اپنے گھر والوں پر بھی یہ خیال ظاہر فرمادیا تھا ،ابن جعفر کا بیان ہے کہ صلح کے قبل میں ایک دن حسنؓ کے پاس بیٹھا تھا جب چلنے کا ارادہ سے اٹھا تو انہوں نے میرا دامن کھینچ کر بٹھا لیا، اورکہا میں نے ایک رائے قائم کی ہے امید ہے کہ تم بھی اس سے اتفاق کروگے،ابن جعفر نے پوچھا کونسی رائے ہے؟ فرمایا میں خلافت سے دستبردار ہوکر مدینہ جانا چاہتا ہوں کیونکہ فتنہ برابر بڑھتا جاتا ہے ،خون کی ندیاں بہہ چکی ہیں ،عزیز کو عزیز کا پاس نہیں ہے،قطع رحم کی گرم بازاری ہے، راستے خطرناک ہو رہے ہیں، سرحدیں بے کار ہو گئی ہیں،ابن جعفرؓ نے جواب دیا، خدا آپ کو امت محمدی کی خیر خواہی کے صلہ میں جزائے خیر دے،اس کے بعد آپ نے حسینؓ کے سامنے یہ رائے ظاہر کی،انہوں نے کہا، خدا را علیؓ کو قبر میں جھٹلا کر معاویہؓ کی سچائی کا اعتراف نہ کیجئے، آپ نے یہ سن کر حسینؓ کو ڈانٹا کہ تم شروع سے آخرتک برابر میری ہر رائے کی مخالفت کرتے چلے آ رہے ہو،خدا کی قسم میں طے کرچکا ہوں کہ تم کو فاطمہؓ کے گھر میں بند کرکے اپنا ارادہ پورا کروں گا، حسینؓ نے بھائی کا لہجہ درشت دیکھا تو عرض کیا آپ علیؓ کی اولاد اکبر اورمیرے خلیفہ ہیں،جو رائے آپ کی ہوگی وہی میری ہوگی،جیسا مناسب فرمائے کیجئے اس کے بعد آپ نے دستبرداری کا اعلان کیا۔ [56] ان واقعات سے معلوم ہو گیا ہوگا کہ خلافت سے دستبرداری میں فوج کی کمزوری وغیرہ کا چنداں سوال نہ تھا؛بلکہ آپ کو اس کا یقین ہو گیا تھا کہ بغیر ہزاروں مسلمانوں کے خاک وخون میں تڑپے ہوئے کوئی فیصلہ نہیں ہوسکتا اورجنگ جمل سے لے کر برابر مسلمانوں کے خون کی ندیاں بہتی چلی آرہی ہیں، اس لیے آپ نے اسے روکنے کے لیے خلافت کو خیر باد کہہ کر مدینہ کی عزلت نشینی اختیار فرمائی:فجزاہ اللہ عن المسلمین خیر الجزاء

اصلاح عقائد

ذہب کی بنیاد صحت عقائد پر ہے،اس میں فتور پیدا ہونے سے مذہب کی پوری عمارت متزلزل ہوجاتی ہے،حضرت حسنؓ کو عقیدہ کی درستی اوراس کی اصلاح کا ہمیشہ خیال رہا اس بارہ میں آپ نہایت سختی سے کام لیتے تھے شیعیان علی میں ایک جماعت کا عقیدہ تھا کہ حضرت علیؓ نے عام انسانوں کی طرح وفات نہیں پائی، اوروہ قیامت سے پہلے ہی زندہ ہوجائنگے، حضرت حسنؓ کو اس کی اطلاع ہوئی تو فرمایا، یہ لوگ جھوٹے ہیں،خدا کی قسم ایسے لوگ کبھی شیعہ نہیں ہوسکتے اگر ہم کو یقین ہوتا کہ آپ عنقریب ظاہر ہوں گے تو نہ ان کی میراث تقسیم کرتے نہ ان کی عورتوں کا عقد ثانی کرتے۔ [57]

عبادت

عبادت الہی آپ کا محبوب ترین مشغلہ تھا اوروقت کا بڑا حصہ آپ اس میں صرف فرماتے تھے۔ امیر معاویہؓ نے ایک شخص سے آپ کے حالات دریافت کیے اس نے بتایا کہ فجر کی نماز کے بعد سے طلوع آفتاب تک مصلیٰ پر بیٹھے رہتے ہیں،پھر ٹیک لگا کر بیٹھ جاتے ہیں اورآنے جانے والوں سے ملتے ہیں دن چڑھے چاشت پڑھ کر امہات المومنین کے پاس سلام کرنے کو جاتے ہیں ،پھر گھر ہوکر مسجد چلے آتے ہیں۔ [58] مکہ کے زمانہ قیام میں معمول تھا کہ عصر کی نماز خانہ کعبہ میں باجماعت ادا کرتے تھے نماز کے بعد طواف میں مشغول ہوجاتے ،ابو سعید راوی ہیں کہ حسنؓ وحسینؓ نے امام کے ساتھ نماز پڑھی،پھر حجر اسود کو بوسہ دے کر طواف کے سات پھیرے کیے اوردورکعت نماز پڑھی لوگوں کو جب معلوم ہوا کہ دونوں خانوادہ نبوی کے چشم وچراغ ہیں تو شاقانِ جمال چاروں طرف سے پروانہ وار ٹوٹ پڑے اور بھیڑ کی وجہ سے راستہ رک گیا حضرت حسینؓ اس ہجوم میں گھر گئے،حضرت حسنؓ نے ایک ،رکانی کی مدد سے انہیں ہجوم سے چھڑایا ،ایک تختی پر سورہ کہف لکھوائی تھی روزانہ سوتے وقت اسے تلاوت فرماتے اوربیویوں کے پاس ساتھ لے جاتے ۔ [59] ہر طرح کی سواریاں رکھتے ہوئے پا پیادہ حج کرتے تھے امام نوویؓ لکھتے ہیں کہ امام حسنؓ نے متعدد حج پا پیادہ کیے ،فرماتے تھے کہ مجھے خدا سے حجاب معلوم ہوتا ہے کہ اس سے ملوں اوراس کے گھر پا پیادہ نہ گیا ہوں۔ [60]

صدقات وخیرات

صدقہ وخیرات اورفیاضی وسیرچشمی آپ کا خاندانی وصف تھا لیکن جس فیاضی سے آپ خدا کی راہ میں اپنی دولت اورمال و متاع لٹاتے تھے اس کی مثالیں کم ملیں گی،تین مرتبہ اپنے کل مال کا آدھا حصہ خدا کی راہ میں دے دیا اور تنصیف میں اتنی شدت کی کہ دو جوتوں میں سے ایک جوتا بھی خیرات کر دیا۔ [61] ایک مرتبہ ایک شخص بیٹھا ہوا دس ہزار درہم کے لیے دعا کررہا تھا،آپ نے سن لیا گھر جاکر اس کے پاس دس ہزار نقد بھیجوادیے [62] آپ کی اس فیاضی سے دوست ودشمن یکساں فائدہ اٹھاتے تھے ،ایک مرتبہ ایک شخص مدینہ آیا، یہ حضرت علیؓ کا دشمن تھا اس کے پاس زاد راہ اورسواری نہ تھی، اس نے مدینہ والوں سے سوال کیا کسی نے کہا یہاں حسنؓ سے بڑھ کر کوئی فیاض نہیں ان کے پاس جاؤ ؛چنانچہ وہ آپ کی خدمت میں حاضر ہوا آپ نے سواری اورزادراہ دونوں کا انتظام کرادیا لوگوں نے اعتراض کیا کہ آپ نے ایسے شخص کے ساتھ کیوں سلوک کیا جو آپ اورآپ کے والد بزرگوار دونوں سے بغض رکھتا ہے فرمایا کیا اپنی آبرو نہ بچاؤں۔ [63] لیکن آپ کی دولت سے وہی لوگ متمتع ہوتے تھے جو درحقیقت اس کے مستحق ہوتے ایک مرتبہ آپ نے ایک بڑی رقم فقرا اورمساکین کے لیے جمع کی ،حضرت علی نے اس کی تقسیم کا اعلان کر دیا لوگ سمجھے کہ اعلان صلائے عام ہے، اس لیے جوق درجوق جمع ہونے لگے،آدمیوں کی یہ بھیڑ دیکھ کر حضرت حسنؓ نے اعلان کیا کہ یہ رقم صرف فقراء ومساکین کے لیے ہے اس اعلان پر تقریبا آدھے آدمی چھٹ گئے اورسب سے پہلی اشعث بن قیس نے حصہ پایا۔

خوش خلقی

اس فیاضی کے ساتھ آپ حد درجہ خوش خلق بھی تھے،اپنا کام چھوڑ کر دوسروں کی حاجت پوری فرماتے تھے،ایک مرتبہ ایک شخص حضرت حسینؓ کے پاس اپنی کوئی ضرورت لے کر گیا،آپ معتکف تھے،اس لیے معذرت کردی، یہاں سے جواب پاکر وہ حضرت حسنؓ کے پاس آیا، آپ بھی متعکف تھے مگر اعتکاف سے نکل کر اس کی حاجت پوری کردی ،لوگوں نے کہا حسینؓ نے تو اس شخص سے اعتکاف کا عذر کیا تھا فرمایا خدا کی راہ میں کسی بھائی کی حاجت پوری کردینا میرے نزدیک ایک مہینہ کے اعتکاف سے بہتر ہے۔ [64] ایک دن آپ طواف کر رہے تھے ،اسی حالت میں ایک شخص نے آپ کو اپنی کسی ضرورت کے لیے ساتھ لیجانا چاہا ،آپ طواف چھوڑ کر اس کے ساتھ ہو گئے اورجب اس کی ضرورت پوری کرکے واپس ہوئے تو کسی حاسد نے اعتراض کیا کہ آپ طواف چھوڑکر اس کے ساتھ چلے گئے؟ فرمایا آنحضرتﷺ کا فرمان ہے کہ جو شخص اپنے مسلمان بھائی کی ضرورت پوری کرنے کے لیے جاتا ہے اوراس کی ضرورت پوری ہوجاتی ہے تو جانے والے کو ایک حج اور ایک عمرہ کا ثواب ملتا ہے اوراگر نہیں پوری ہوتی تو بھی ایک عمرہ کا ایسی صورت میں کسی طرح نہ جاتا،میں نے طواف کی بجائے پورے ایک حج اورایک عمرہ کا ثواب حاصل کیا اورپھر واپس ہوکر طواف بھی پورا کیا۔

ضبط و تحمل

آنحضرتﷺ نے ایک موقع پر ارشاد فرمایا تھا کہ "حسنؓ کو میرا علم اورمیری صورت ملی ہے،حضرت حسنؓ کی ذات اس ارشاد گرامی کی مجسم تصدیق تھی جو دستبرداری کے حالات میں اوپر گزرچکا ہے کہ ناآشنائے حقیقت آپ کو کن کن نازیبا کلمات سے خطاب کرتے تھے کوئی مذلل المومنین" کوئی "مسود وجوہ المومنین "کوئی "عارالمومنین" کہتا لیکن اس پیکر علم کی جبین پر شکن نہ پڑتی اورنہایت نرمی سے جواب دیتا کہ میں ایسا نہیں ہوں، البتہ ملک کی طمع میں مسلمانوں کی خونریزی نہیں پسند کی۔ مروان جمعہ کے دن منبر پر چڑھ کر برسر عام حضرت علیؓ پر شب وشتم کرتا تھا، حضرت حسنؓ اس کی گستاخیوں کو اپنے کانوں سےسنتے اورخاموشی کے سوا کوئی جواب نہ دیتے، ایک مرتبہ اس نے ایک شخص کو زبانی نہایت فحش باتیں کہلا بھیجیں،آپ نے سن کر صرف اس قدر جواب دیا کہ اس سے کہہ دینا کہ خدا کی قسم میں تم کو گالی دے کر تم پر سے دشنام دہی کا داغ نہ مٹاؤں گا،ایک دن ہم تم دونوں خدا کے حضور میں حاضر ہوں گے،اگر تم سچے ہو تو خدا تمہیں تمہاری سچائی کا بدلہ دیگا، اوراگر جھوٹے ہو تو وہ بڑا منتقم ہے، ایک مرتبہ حضرت حسنؓ اورمروان میں کچھ گفتگو ہورہی تھی،مروان نے رُودر رُو نہایت درشت کلمات استعمال کیے ؛لیکن آپ سُن کر خاموشی سے پی گئے۔ اس غیر معمولی ضبط وتحمل سے مروان جیسے شقی اورسنگدل پر بھی اثر تھا؛چنانچہ آپ کی وفات کے بعد آپ کے جنازہ پر روتا تھا،حضرت حسینؓ نے کہا اب کیوں روتے ہو، تم نے ان کے ساتھ کیا کیا نہ کیا اس نے پہاڑ کی طرف اشارہ کرکے کہا میں نے جو کچھ کیا وہ اس سے زیادہ حلیم وبرد بار کے ساتھ کیا۔ [65] آپ کی زبان کبھی کسی تلخ اورفحش کلمہ سے آلودہ نہیں ہوئی ،انتہائی غصہ کی حالت میں بھی وہ "رغف انفہ" یعنی تیری ناک خاک آلود ہو ،اس سے زیادہ نہ کہتے تھے جو عربی زبان میں بہت معمولی بات ہے،امیر معاویہؓ کا بیان ہے کہ حسنؓ کی سب سے زیادہ سخت کلامی کا نمونہ یہ ہے کہ ایک مرتبہ ان میں اورعمرو بن عثمانؓ میں ایک زمین کے بارہ میں جھگڑا ہو گیا،انہوں نے ایک مفاہمت کی صورت پیش کی،مگر عمرو اس پر رضا مند نہ ہوئے، ان کے انکار پر حسنؓ کو غصہ آگیا اورانہوں نے جھلا کر کہا"لیس لہ عندنا الامار غف انفہ"۔

کتاب الفضائل

یوں تو حضرت حسنین ؓ کی ذات گرامی مجمع الفضائل تھی،لیکن آنحضرتﷺ کی غیر معمولی محبت وشفقت آپ کی فضیلت کا نمایاں باب ہے،کتب احادیث وسیر کے ابواب الفضائل ان دونوں کے فضائل سے بھرے ہوئے ہیں، ان میں سے کچھ فضائل نقل کیے جاتے ہیں،؛چنانچہ آنحضرتﷺ کو دونوں بھائیوں کے ساتھ یکساں محبت تھی،اس لیے بعض امتیازی اورانفرادی فضائل کے علاوہ عموماً اوربیشتر دونوں کے فضائل اس طرح مشترک ہیں کہ ان دونوں کا جدا کرکے لکھنا مشکل ہے،اس لیے دونوں کے فضائل لکھ دیے جاتے ہیں۔ آنحضرتﷺ کو اپنے تمام اہل بیت میں حضرت حسنینؓ سے بہت زیادہ محبت تھی،حضرت انسؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ فرماتے تھے کہ اہل بیت میں مجھ کو حسنؓ و حسینؓ سب سے زیادہ محبوب ہیں۔ [66] آپ خدا سے بھی اپنے ان محبوبوں کے ساتھ محبت کرنے کی دعا فرماتے تھے، حضرت ابوہریرہؓ روایت کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ قینقاع کے بازار سے لوٹا تو آپ فاطمہ کے گھر تشریف لے گئے اورپوچھا، بچے کہاں ہیں؟تھوڑی دیر میں دونوں دوڑتے ہوئے آئے اوررسول اللہ ﷺ سے چمٹ گئے آپ نے فرمایا، خدایا میں ان کو محبوب رکھتا ہوں اس لیے تو بھی انہیں محبوب رکھ اور ان کے محبوب رکھنے والے کو بھی محبوب رکھ۔ [67] دوسری روایت میں ان کا بیان ہے کہ اس شخص (حسنؓ) کو اس وقت سے میں محبوب رکھتا ہوں، جب سے میں نے ان کو رسول اللہ ﷺ کی گود میں دیکھا، یہ ریش مبارک میں انگلیاں ڈال رہے تھے اوررسول اللہ ﷺ اپنی زبان ان کے منہ میں دے کر فرماتے تھے کہ خدایا میں ان کو محبوب رکھتا ہوں،اس لیے تو بھی محبوب رکھ۔ [68] عبادت کے موقع پر بھی حسنؓ وحسین کو دیکھ کر ضبط نہ کرسکتے تھے،ابو بریدہؓ روایت کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ رسول اللہﷺ ہم لوگوں کے سامنے خطبہ دے رہے تھے کہ اتنے میں حسنؓ و حسینؓ سرخ قمیض پہنے ہوئے خراماں خراماں آتے ہوئے دکھائی دیے انہیں دیکھ کر رسول اللہﷺ منبر سے اتر آئے اوردونوں کو اٹھا کر اپنے سامنے بٹھا لیا اورفرمایا خدا نے سچ کہا ہے کہ تمہارا مال اورتمہاری اولاد فتنہ ہیں،ان دونوں بچوں کو خراماں خراماں آتے ہوئے دیکھ کر میں ضبط نہ کرسکا اورخطبہ توڑ کر ان کو اٹھا لیا۔ [69] حسنؓ وحسینؓ نماز پڑہنے کی حالت میں آپ کے ساتھ طفلانہ شوخیاں کرتے تھے؛ لیکن آپ نہ انہیں روکتے تھے اورنہ ان کی شوخیوں پر خفا ہوتے تھے؛بلکہ ان کی طفلانہ اداؤں کو پورا کرنے میں امداد دیتے تھے،آنحضرتﷺ نماز پڑہتے وقت رکوع میں جاتے تو حسنؓ و حسینؓ دونوں ٹانگوں کے اندر گھس جاتے آپ ان دونوں کے نکلنے کے لیے ٹانگیں پھیلا کر راستہ بنادیتے [70] آپ سجدہ میں ہوتے تو دونوں جست کرکے پشت مبارک پر بیٹھ جاتے،آپ اس وقت تک سجدہ سے سر نہ اٹھاتے جب تک دونوں خود سے نہ اتر جائے۔ [71] دوش مبارک پر سوار کرکے کھلانے کے لیے نکلتے،ایک مرتبہ آپ حسنؓ کو کندھے پر لے کر نکلے ،ایک شخص نے دیکھ کر کہا،میاں صاحبزادے کیا اچھی سواری ہے،آنحضرتﷺ نے فرمایا، سوار بھی تو کتنا اچھا ہے۔ [72] کبھی کبھی دونوں کو چادر میں چھپائے ہوئے باہر تشریف لاتے ،اسامہ بن زید بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ شب کو میں رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک ضرورت سے گیا آپ کوئی چیز چادر میں چھپائے ہوئے تشریف لائے،میں اپنی ضرورت پوری کرچکا تو پوچھا آپ چادر میں کیا چھپائے ہیں؟ آپ نے چادر ہٹادی تو اس میں سے حسؓن وحسینؓ برآمد ہوئےآپ نے فرمایا یہ دونوں میرے بچے اورمیری لڑکی کے لڑکے ہیں خدایا میں ان دونوں کو محبوب رکھتا ہوں۔ نبوت کی حیثیت کو چھوڑ کر جہاں تک رسول اللہ ﷺ کی بشری حیثیت کا تعلق ہے،حسنؓ وحسینؓ کی ذات گویا ذات محمدﷺ کا جز وتھی ،یعلیؓ بن مرہ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ حسینؓ مجھ سے ہیں اور میں حسینؓ سے ہوں، جو شخص حسینؓ کو دوست رکھتا ہے خدا اس کو دوست رکھتا ہے، حسینؓ اسباط کے ایک سبط ہیں۔ حسن ؓ وحسینؓ کو آپ اپنے جنت کے گل خندان فرماتے تھے،ابن عمر روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ فرماتے تھے کہ حسنؓ و حسینؓ میرے جنت کے دو پھول ہیں۔ حسنؓ وحسینؓ نوجوانانِ جنت کے سردار ہیں، حذیفہ راوی ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ مغرب او ر عشا کی نماز پڑھی،عشا کی نماز کے بعد آنحضرتﷺ تشریف لے چلے میں بھی پیچھے ہولیا، میری آواز سن کر آپ نے فرمایا، کون؟حذیفہ! میں نے عرض کیا،جی،فرمایا خدا تمہاری اور تمہاری ماں کی مغفرت کرے، تمہاری کوئی ضرورت ہے،دیکھو ابھی یہ فرشتہ نازل ہوا ہے جو اس سے پہلے کبھی نہ آیا تھا،اس کو خدا نے اجازت دی ہے کہ وہ مجھے سلام کہے اور مجھے بشارت دے کہ فاطمہ جنت کی عورتوں کی اور حسن وحسین جنت کے نوجوانوں کے سردار ہیں۔

انفرادی فضائل

ان مشترک فضائل کے علاوہ حضرت حسنؓ کے کچھ امتیازی فضائل الگ ہیں، جو انہیں حضرت حسینؓ سے ممتاز کرتےہیں، ان فضائل میں سب سے بڑی فضیلت یہ ہے کہ آنحضرتﷺ نے ان کے متعلق پیشن گوئی فرمائی تھی کہ میرا یہ بیٹا سید ہے،خدا اس کے ذریعہ سے مسلمانوں کے دو بڑے گروہوں میں صلح کرائے گا، امیر معاویہؓ سےصلح کے وقت حضرت حسنؓ نے اس پیشین گوئی کی عملی تصدیق فرمائی ایک موقع پر فرمایا کہ حسنؓ کو میرا علم عطا ہوا ہے۔

حوالہ جات

  1. عنوان : Encyclopædia Britannica — اشاعت گیارہ
  2. عنوان : Хасан ибн Али
  3. جی این ڈی- آئی ڈی: https://d-nb.info/gnd/118901494 — اخذ شدہ بتاریخ: 15 اکتوبر 2015 — اجازت نامہ: CC0
  4. British Museum person or institution ID: https://collection.britishmuseum.org/resource/?uri=http%3A%2F%2Fcollection.britishmuseum.org%2Fid%2Fperson-institution%2F10501 — بنام: Hassan — خالق: برٹش میوزیم
  5. بنام: al-Ḥasan ibn ʽAlī — De Agostini ID: http://www.sapere.it/enciclopedia/al-Ḥasan+ibn+ʽAlī.html
  6. ^ ا ب عنوان : Хасан ибн Али
  7. Shabbar، S.M.R. (1997). Story of the Holy Ka'aba. Muhammadi Trust of Great Britain. 30 اکتوبر 2013 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 30 اکتوبر 2013. 
  8. Shaykh Mufid. Kitab Al Irshad. p.279-289 آرکائیو شدہ 27 دسمبر 2008 بذریعہ وے بیک مشین.
  9. Hasan b. 'Ali b. Abi Taleb آرکائیو شدہ 1 جنوری 2014 بذریعہ وے بیک مشین, دائرۃ المعارف ایرانیکا.
  10. سیوطی، جلال الدین (1881). تاریخ الخلفاء. 31 جولا‎ئی 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 31 جولا‎ئی 2018. 
  11. الصلابي، علي محمد (8 اپریل 2004). "سيرة أمير المؤمنين خامس الخلفاء الراشدين الحسن بن علي بن أبي طالب رضي الله عنهما، شخصيته وعصره". دار المعرفة للطباعة والنشر – Google Books سے. 
  12. فريد، أحمد. "من أعلام السلف - ج 1". IslamKotob – Google Books سے. 
  13. كهوس، أبو اليسر رشيد (1 January 2013). محاضرات في سيرة الخلفاء الراشدين رضي الله تعالى عنهم. Al Manhal. ISBN 9796500177762 – Google Books سے. 
  14. Ayati، Dr. Ibrahim (2013-11-14). "A Probe into the History of Ashura'". Al-Islam.org. Ahlul Bayt Digital Islamic Library Project. 
  15. Baghdad history 34/6, tahzib-al-tahzib 298/2, al-bidaya-va-al-nihaya 42/8".
  16. (بخاری کتاب المناقب الحسنؓ والحسینؓ)
  17. (فتوح البلدان ،بلاذری ذکر عطا عمرؓ بن الخطاب)
  18. (فتوح البلدانایضا:181)
  19. (تاریخ الخلفاء سیوطی:159)
  20. (اخبار الطوال:155)
  21. (ایضا:155)
  22. (خمار الطوال :154)
  23. (مسعودی:4/263)
  24. (مسعودی:4/363)
  25. (مسعودی:3/363)
  26. (ایضاً:363)
  27. (طبری:7/1
  28. (ابن اثیر:3/342)
  29. (اخبار الطوال :232)
  30. (استیعاب تذکرہ امام حسنؓ)
  31. (اسدالغابہ:2/14،واستیعاب:1/144)
  32. (ابن اثیر:3/343)
  33. (استیعاب:1/145 ومروج الذہب مسعودی :3/380)
  34. (استیعاب:1/145 واسد الغابہ:2/15)
  35. (تہذیب التہذیب :2/301)
  36. (تہذیب الکمال:89)
  37. (تاریخ الخلفاء سیوطی بحوالہ ابن سعد)
  38. (ابن عساکر:4/216)
  39. (یعقوبی:2/270)
  40. (معارف ابن قتیبہ:92)
  41. (فتوح البلدان بلاذری ذکر عطا عمرؓ بن الخطاب)
  42. (اعلام الموقعین :1/12)
  43. (تہذیب الکمال:78)
  44. (تہذیب التہذیب:2/295)
  45. (البدایہ والنہایہ:8/37)
  46. (اسد الغابہ:2/13)
  47. (اسد الغابۃ،باب الحسن بن علی:1/261)
  48. (کتاب العمدہ:14)
  49. (کتاب العمدہ:14)
  50. (اخبار الطوال:230)
  51. (ابن عسا کر :2/219)
  52. (مستدرک حاکم:3/17)
  53. (استیعاب :1/43 اور مستدرک حاکم،جلد3،تذکرہ حضرت حسنؓ )
  54. (ابن عساکر :4/221/222)
  55. (طبقات ابن سعد تذکرہ علیؓ بن حسینؓ)
  56. (ابن عساکر:4/309)
  57. (یہ واقعات ابن عساکر:4/212تا214 سے ماخوذ ہیں)
  58. (تہذیب الاسماء :1/158)
  59. (اسد الغابہ:2/13)
  60. (ابن عساکر:4/214)
  61. (ابن عساکر:4/214)
  62. (ابن عساکر،جلد4،تذکرۂ حسین)
  63. (ابن عساکر:4/216)
  64. (ترمذی فضائل حسنؓ وحسینؓ)
  65. (مسلم کتاب الفضائل الحسن والحسین)
  66. (مستدرک حاکم،جلد3،فضائل حسینؓ)
  67. (ترمذی فضائل حسن ؓ وحسینؓ)
  68. (تہذیب التہذیب:2/296)
  69. (اصابہ،جلد2،تذکرہ حسنؓ)
  70. (ترمذی مناقب الحسن)

سانچے