شمائل ترمذی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

عظیم محدث امام ترمذی کی مشہور کتاب۔ "شمائل ترمذی" جس میں امام ترمذی رحمہ اللہ نے نہایت محنت وکاوش وعرق ریزی سے سیّد کائنات ،سيد ولد آدم، جناب محمد رسول صلى الله عليه وسلم كے عسرویسر، شب وروز اور سفر وحضرسے متعلقہ معلومات کو احادیث کی روشنى میں جمع کر دیا ہے- کتاب پڑھنے والا کبھی مسکراتا اورہنستا ہے تو کبھی روتا اورسسکیاں بھرتا ہے- سیّد کائنات صلى اللہ علیہ وسلم کے رخ زیبا کا بیان پڑھتا ہے تو دل کی کلى کھل جاتی ہے اور جب گزر اوقات پر نظر جاتى ہے تو بے اختیار آنسوؤں کی لڑیاں گرنا شروع ہوجاتی ہیں- (http://islamhouse.com/ur/books/398574/#!)

شمائل ترمذی جائزہ[ترمیم]

شمائل ترمذی کا درجہ صحیحین کے بعد ہے؛ مگربعض خصوصیات صحاح کی تمام کتابوں سے بڑھ کر ہیں، چنانچہ اسماعیل ہروی لکھتے ہیں کہ: ”ترمذی“، بخاری اور مسلم سے زیادہ فائدہ بخش ہے، ان دونوں کتابوں سے صرف صاحب کمال اور صاحب نظر فائدہ اٹھاسکتے ہیں اور ترمذی میں احادیث کی ضروری شرح بھی کردی ہے۔ اس لیے محدثین اور فقہا وغیرہ ہر طبقہ کے لوگ مستفید ہوسکتے ہیں۔[1] صاحب ”مواہب لدنیہ“ جو شمائل ترمذی کے محشی ہیں لکھتے ہیں کہ امام ترمذی کی ”جامع“ تمام حدیثی اور فقہی فوائد اور سلف وخلف کے مذاہب کی جامع ہے، مجتہد کے لیے کافی ہے اور مقلد کو دوسری کتابوں سے بے نیاز کرنے والی ہے اورجس گھر میں یہ جامع ہوتو گویا اس گھر میں نبی بات کر رہا ہے، ”قَالَ المصنِّفُ مَنْ کانَ فِي بَیتہ ہَذا الکتابُ یَعنِي جامِعَہ فَکأَنَّما فِي بیتہ نبیٌ یَتَکَلُّمُ“[2]

عربی شروحات[ترمیم]

شمائل ترمذی کے بعداس موضوع پر اور بھی کتابیں لکھی گئی ہیں؛ لیکن ان میں اولیت کا سہرا امام ترمذی کے سر جاتا ہے، کہ انھوں نے سب سے پہلے اس موضوع پر کتاب لکھی بہت سے علما و محدثین نے اس کی شرحیں لکھی ہیں، چند مشہور شرحیں یہ ہیں:

  1. اَخلاق النبی صلی اللہ علیہ وسلم و آدابہ: امام ابی محمد عبد اللہ بن محمد بن جعفر بن حیان الاصبہانی المعروف ابی الشیخ (متوفی 369ھ)
  2. شمائل النبی صلی اللہ علیہ وسلم: امام ابی العباس جعفر بن محمد المستغفری (متوفی 432ھ)
  3. الانوار فی شمائل النبی المختار: امام ابی محمد الحسین بن مسعود البغوی (432ھ- 516ھ)
  4. الشمائل بالنور الساطع الکامل: امام علی بن محمد بن ابراھیم الغرناطی ابن المقری (متوفی 552ھ)
  5. مطالع الانوار فی شمائل المختار: امام الحافظ محمد بن عتیق الازدی الغرناطی (متوفی 646ھ)
  6. زواھر الانوار و بواھر الابصار والاستبصار فی شمائل النبی المختار: امام یحییٰ ابن یوسف بن یحییٰ الصرصری (متوفی 656ھ)
  7. زھر الخمائل علی الشمائل: امام الحافظ جلال الدین سیوطی (متوفی 911ھ)، مختصر شمائل ترمذی۔
  8. شرح شمائل: مولانا عصام الدین اسفرائنی (م943ھ)
  9. شرح الشمائل للترمذی: امام ابراھیم بن محمد بن عربشاہ (متوفی 943ھ)
  10. اشرف الوسائل فی شرح الشمائل: امام احمد بن محمد بن علی الہیتمی ابن حجر مکی (متوفی 973ھ)
  11. شمائل النبی صلی اللہ علیہ وسلم: امام مصلح الدین اللادی محمد بن صلاح الدین بن جلال (متوفی 979ھ)
  12. جمع الوسائل فی شرح الشمائل: امام علی بن سلطان القاری المعروف بہ ملا علی القاری (متوفی 1014ھ)
  13. شرح الشمائل للترمذی: امام زین الدین محمد بن عبد الرؤف بن علی المناوی (متوفی 1031ھ)
  14. الروض الباسم فی شمائل المصطفیٰ ابی القاسم: امام زین الدین محمد عبد الرؤف المناوی (متوفی 1031ھ)
  15. شرح الشمائل للترمذی: امام سلطان بن احمد المصری المزاجی (متوفی 1075ھ)
  16. کشف اللِّثام عما جاء من الاحادیث النبویۃ فی شمائل المصطفیٰ علیہ الصلاۃ والسلام: امام محمد بن محمد الروضی المالکی (متوفی 1103ھ)
  17. الوفاء لشرح شمائل المصطفیٰ: امام علی بن ابراھیم الحلبی صاحب السیرۃ الحلبیہ (متوفی 1044ھ)
  18. اقوم الوسائل فی ترحمۃ الشمائل: امام اسحاق خواجہ سی احمد بن خیر الایدینی (متوفی 1120ھ)، امام مذکور نے شمائل ترمذی کا ترکی زبان میں ترجمہ بھی کیا تھا۔
  19. شرح الشمائل للترمذی: امام عبد اللہ الحموی الحمدونی الازھری (بقیدِ حیات: 1133ھ تک)
  20. روضۃ النبی فی الشمائل: امام حبیب اللہ قنوجی (متوفی 1140ھ)
  21. تحفۃ الاخیار علی شمائل المختار: امام ابی الحسن علی بن محمد الحریشی الفاسی (متوفی 1142ھ)
  22. الوسیلۃ العظمیٰ فی شمائل المصطفیٰ خیر الوریٰ: امام بیر محمد دَدَہ بن مصطفیٰ (متوفی 1146ھ)
  23. ارجوزۃ فی الشمائل: امام مصطفیٰ بن کمال الدین الصدیقی البکری (متوفی 1162ھ)
  24. اسنی الوسائل بشرح الشمائل: امام اسماعیل بن محمد العجلونی الدمشقی (متوفی 1162ھ)
  25. شرح الشمائل للترمذی: امام حسن بن عبد اللہ البخشی الحلبی (متوفی 1190ھ)
  26. عنوان الفضائل فی تلخیص الشمائل: امام محمد بن مصطفیٰ البکری (متوفی 1196ھ)
  27. الفوائد البھیۃ علی الشمائل المحمدیۃ: امام محمد بن القاسم المغربی ابن الجسّوس (متوفی 1200ھ)
  28. المواھب المحمدیۃ بشرح الشمائل الترمذیۃ: امام سلیمان بن عمر المعروف بِالجمل (متوفی 1204ھ)
  29. شرح الشمائل: امام عبد اللہ نجیب العینتابی شارح الشفاء للقاضی العیاض المالکی (متوفی 1219ھ)
  30. شیم الحبیب فی ذکر خصال الحبیب: امام الٰہی بخشی (متوفی 1245ھ)
  31. محصول المواھب الاحدیۃ فی الخصائص و الشمائل المحمدیۃ: امام خلیل بن حسن الاسعردی (متوفی 1259ھ)
  32. المواھب اللدنیۃ علی الشمائل المحمدیۃ: امام ابراھیم بن محمد الباجوری (متوفی 1277ھ)
  33. ینابیع المؤدۃ فی شمائل النبی صلی اللہ علیہ وسلم: امام سلیمان بن ابراھیم القندوزی (متوفی 1294ھ)
  34. عین الرحمۃ و النور فی شمائل النبی المبرور: امام محمد ثابت بن عبد اللہ القیصری (متوفی 1311ھ)
  35. شرح الشمائل: امام محمود بن عبد المحسن ابن الموقع الدمشقی (متوفی 1321ھ)
  36. فتیا السائل فی اختصار الشمائل: امام محمد بن جعفر الکتانی (متوفی 1345ھ)
  37. وسائل الوصول الی شمائل الرسول: امام یوسف بن اسماعیل النبہانی (متوفی 1350ھ)
  38. منیۃ السائل خلاصۃ الشمائل: امام محمد بن عبد الحئی بن عبد الکبیر الفاسی (متوفی 1382ھ)
  39. حال  (او حلل) الاصطفا بشیم المصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم:  امام اسماعیل بن غُنَیم الجوہری (سنہ تحریر و تالیف معلوم نہیں ہو سکا)۔
  40. سیدنا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، شمائلہ الحمیدۃ و خصالہ المجیدۃ:  امام شیخ عبد اللہ سراج الدین الحلبی (سنہ تحریر و تالیف معلوم نہیں ہو سکا)۔
  41. من خصائص النبی صلی اللہ علیہ وسلم و شمائلہ:  امام شعبان محمد اسماعیل (سنہ تحریر و تالیف معلوم نہیں ہو سکا)۔
  42. الشمائل  (مختصر):  امام سید الصفوی (سنہ تحریر و تالیف معلوم نہیں ہو سکا)۔
  43. تہذیب الشمائل:  ملاء العرب امام محمد بن عمر الواعظ (سنہ تحریر و تالیف معلوم نہیں ہو سکا)۔
  44. الشمائل:  امام عبد الاول بن علی بن العلاء الحسینی الدھلوی (سنہ تحریر و تالیف معلوم نہیں ہو سکا)۔
  45. نظم الشمائل المحمدیۃ و السیرۃ المصطفویۃ:  امام عبد الحفیظ مولوی۔  سنہ تحریر و تالیف معلوم نہیں ہو سکا (سنہ تحریر و تالیف معلوم نہیں ہو سکا)۔
  46. الاتحافات الربانیۃ بِشرح الشمائل المحمدیۃ: امام محمد عبد الجواد الدومی (سنہ تحریر و تالیف معلوم نہیں ہو سکا)۔
  47. شرح الشمائل للترمذی:   امام ملاء محمد الحنفی (سنہ تحریر و تالیف معلوم نہیں ہو سکا)۔
  48. مختصر الشمائل: الشیخ ناصرالدین البانی۔[3]

اردو شروحات[ترمیم]

اسی طرح اردو میں بھی اس کی کئی مشہور شرحیں متداول ہیں، جیسے

  • (1) انوارمحمدی ترجمہ شمائل ترمذی مترجم مولانا کرامت علی جون پوری، پہلی بار یہ شرح 1252ھ میں اردو جواس زمانے میں رائج تھی محمدی چھاپہ خانہ کلکتہ سے شائع ہوئی تھی۔
  • (2) خصائص نبوی ترجمہ شمائل ترمذی شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا مہاجر مدنی نے اس کا ترجمہ وتشریح بڑے دل نشیں انداز میں پیش کیا ہے اور ساتھ ہی اکابر کے افادات کو جمع کر دیا ہے ۔
  • (3) شرح شمائل ترمذی یہ مولانا عبد القیوم حقانی کی سلیس اردو زبان میں ہے اور نیز لغوی اور تحقیقی افادات پر مشتمل جامع شرح ہے۔
  • (4) تلخیص شمائل الترمذی ڈاکٹر ابرار اعظمی نے عام لوگوں کے لیے اسناد کو حذف کر دیا ہے اور مولانا کرامت علی کے لفظی ترجمہ کو بنیاد بناکر سلیس اردو زبان میں پیش کیاہے

امام ترمذی شمائل میں 97 صحابہ اور صحابیات کی روایت نقل کی ہیں، ان روایتوں میں سب سے زیادہ تفصیل حضرت حسن اور حسین کی اس روایت میں، جو انھوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ربیب ہند ابی ہالہ سے کی ہے، اس کے بعدحضرت علی، حضرت انس اور حضرت عائشہ کی روایات مذکور ہیں، امام حسنین جب ہند ابی ہالہ سے روایت نقل کرتے تھے تو ہند بن ابی ہالہ کا تذکرہ ان الفاظ سے کرتے تھے ”کانَ وَصّافاً للنبی صلی اللہ علیہ وسلم“ یعنی لوگوں میں سب سے زیادہ آپ کے اوصافِ حمیدہ کا تذکرہ کرنے والے۔ حضرت ہند بن ابی ہالہ تھے۔[4]

تراجم[ترمیم]

سندھی تراجم[ترمیم]

  • شمائل ترمذی کا منظوم سندھی ترجمہ مخدوم عبد السلام ٹھٹھوی نے 1197ھ میں کیا جو بمبئی سے شائع بھی ہوا۔
  • شمائل ترمذی کا ایک ترجمہ عبد الکریم قریشی گوٹھ بیر (تعلقہ قنبر علی خان) نے کیا۔
  • شمائل ترمذی کا ایک ترجمہ قاضی محمد عثمان (پنو عاقل) نے بھی کیا۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. تذکرة المحدثین، ج1،ص326، دارالمصنّفین شبلی اکیڈمی اعظم گڑھ۔
  2. مواہب لدنیہ، ص7، شیخ ابراہیم البیجوپوری،
  3. تذکرة المحدثین، ج1،ص 342۔
  4. شمائل للترمذی، ص1، باب ما جاء فی خلق رسول اللہ۔