علم اسماء الرجال
سوانحی تشخیص(عربی میں علم الرجال ) اسلامی مذہبی علوم میں حدیث کی اصطلاحات کے اندر ایک ایسے شعبہ ہے جس میں حدیث کے راویوں کی جانچ پڑتال کی جاتی ہے۔ اگرچہ اس کے لغوی معنی مردوں کا علم ہے مگر اسے عام طور پر راویوں کا علم سمجھا جاتا ہے۔ اس کا مقصد تاریخی اور مذہبی علم دونوں کو استعمال کرتے ہوئے راویوں کی ساکھ قائم کرنا ہے تاکہ مستند اور قابل اعتماد احادیث کو ناقابل اعتبار احادیث سے ممتاز کیا جا سکے۔[1] علم الرجال اسی مفہوم میں استعمال ہوتا ہے جسے عام طور پر الجرح والتعدیل یعنی راویوں پر جرح اور ان کی توثیق کہا جاتا ہے جس کا مطلب حدیث کے راویوں پر تنقید اور ان کی قبولیت کا اعلان ہے۔[حاشیہ 1][2]
اہمیت
[ترمیم]حدیث کے معروف ماہر ابن صلاح نے اپنی تصنیف مقدمہ ابن صلاح میں حدیث کے راویوں کے مطالعہ کی اہمیت بیان کی ہے۔ 'ثقہ، قابل اعتماد راویوں اور ضعیف و ناقابل اعتبار راویوں کی پہچان' کے عنوان سے باب کا آغاز کرتے ہوئے ابن صلاح نے لکھتے ہیں کہ یہ حدیث کے مطالعہ کی سب سے ممتاز اور عظیم اقسام میں سے ہے کیونکہ اس کے نتیجے میں کسی حدیث کی صحت یا اس کے ضعف کی پہچان ہوتی ہے۔ انھوں نے مزید وضاحت کی ہے کہ کسی بھی راوی پر کی جانے والی جرح اس لیے جائز ہے تاکہ شریعت کی حفاظت کی جا سکے اور اسے کسی بھی غلطی یا غلط معلومات سے پاک رکھا جا سکے۔[3]
اس موضوع کے ابتدائی ماہر علی بن مدینی نے سوانحی تشخیص کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ راویوں کی معرفت نصف علم ہے۔[4]
تاریخ
[ترمیم]دور صحابہ
[ترمیم]اگرچہ بہت سے صحابہ نے احادیث روایت کی ہیں، لیکن احمد بن حنبل کے مطابق ان میں سے چھ ایسے تھے جنھوں نے کثرت سے احادیث بیان کیں اور ان کی طویل عمری نے انھیں وسیع پیمانے پر روایت کرنے کے قابل بنایا۔ ان میں ابو ہریرہ، عبداللہ بن عمر، عائشہ، جابر بن عبداللہ، ابن عباس اور انس بن مالک شامل تھے، جن میں ابو ہریرہ سب سے زیادہ روایت کرنے والے تھے۔[5] ابن صلاح کے مطابق صحابہ میں سب سے زیادہ روایت کرنے والے ابو ہریرہ تھے جن کے بعد ابن عباس کا نمبر آتا ہے۔[5]
صحابہ کی حدیث روایت کرنے کی کوششوں کے باوجود، ان کے لیے ایک دوسرے کی روایت کرنے کی صلاحیتوں یا ثقاہت کی جانچ کرنے کی ضرورت نہیں تھی۔ اس کی وجہ یہ ہے، جیسا کہ خطیب بغدادی نے کہا ہے کہ اللہ اور اس کے رسول نے صحابہ کو عادل اور قابل اعتماد قرار دیا ہے، لہٰذا ان کی ثقاہت کی چھان بین کرنے کی ضرورت نہیں ہے، البتہ ان کے بعد آنے والوں کے حالات کی تحقیق کرنا ضروری ہے۔[6] تاہم، صحابہ سے ایسی بہت سی مستند روایات ثابت ہیں جن میں بعض تابعین کی تعریف اور چند مخصوص افراد پر تنقید کی گئی ہے۔[7] بغدادی کا یہ موقف تاریخی تنقید جیسے جدید طریقوں کے برعکس ہے۔
صحابہ کے بعد
[ترمیم]جہاں تک تابعین کا تعلق ہے، جو صحابہ کے بعد کی نسل ہے، ان کی جانب سے راویوں کی تعریف کثرت سے ملتی ہے جبکہ جرح یا تنقید کم ہی سامنے آئی۔ تابعین کے دور میں جن راویوں پر تنقید کی گئی، وہ حدیث گھڑنے کی وجہ سے نہیں تھی، بلکہ بدعت میں ملوث ہونے (جیسے کہ خوارج) یا یادداشت کی کمزوری یا راوی کے طور پر ان کے حالاتِ زندگی نامعلوم ہونے کی وجہ سے تھی۔[7]
حدیث کے راویوں کی جانچ پڑتال اور تشخیص کا آغاز صحابہ کے بعد کی نسل میں محمد بن سیرین کے اس قول کی بنیاد پر ہوا کہ پہلے لوگ اسناد کے بارے میں سوال نہیں کرتے تھے، لیکن جب فتنہ رونما ہوا تو وہ کہنے لگے کہ اپنے راویوں کے نام بتاؤ، چنانچہ اہل سنت کی احادیث قبول کر لی جاتیں اور اہل بدعت کی روایات قبول نہیں کی جاتی تھیں۔[8] یہاں فتنے سے مراد نبی کریم کے وصال کے بعد شیعیانِ علی کے نظریاتی اختلافات اور بعد ازاں خوارج کا ظہور ہے جو تیسرے خلیفہ راشد عثمان بن عفان کی شہادت کے وقت ابھرے اور پھر علی و معاویہ کے ادوار میں ان کی سماجی بے چینی جاری رہی۔[9] عثمان بن عفان کی شہادت ہجرت کے 35ویں سال میں ہوئی۔[10]
اگلی نسل یعنی تبع تابعین اور اس کے بعد کے دور میں ضعیف اور ناقابل قبول راویوں کی تعداد میں اضافہ ہو گیا، جس کی وجہ سے یہ ضروری ہو گیا کہ علما کی ایک جماعت راویوں کے حالات واضح کرے اور ایسی روایات کی نشان دہی کرے جو مستند نہیں تھیں۔[7]
ابتدائی ماہرین
[ترمیم]ابن الصلاح نے ایک قدیم مذہبی پیشوا کے حوالے سے ذکر کیا ہے کہ حدیث کے راویوں کے مطالعہ میں سب سے پہلے مہارت حاصل کرنے والے شعبہ بن الحجاج تھے، جن کے بعد یحییٰ بن سعید القطان اور پھر احمد بن حنبل اور یحییٰ بن معین کے نام آتے ہیں۔ بلقینی نے مذکورہ بالا ناموں میں کچھ مزید ناموں کا اضافہ کیا جن میں علی بن مدینی اور عمرو بن علی الفلاس شامل ہیں اور پھر یہ ذکر کیا کہ ان سے پہلے مالک بن انس اور ہشام بن عروہ بھی راویوں کی جانچ پڑتال کر چکے تھے۔[3]
معروف کتب
[ترمیم]سنی نقطہ نظر سے راویوں کی سوانحی تشخیص کبھی عمومی نوعیت کے ہوتی ہے اور کبھی راویوں کے مخصوص طبقوں کے لیے خاص ہوتی ہے۔ ان کے عام زمرے درج ذیل ہیں:
عمومی تشخیص
[ترمیم]- محمد بن اسماعیل بخاری کی تاریخ الکبیر
- ابن ابی حاتم کی الجرح والتعدیل
زمانی ترتیب
[ترمیم]زمانی ترتیب کے لحاظ سے کسی مخصوص دور کے لیے خاص کتب، جن میں صحابہ کرام کے لیے مخصوص کتابیں یہ ہیں:
- علی بن مدینی کی کتاب معرفة الصحابة
- یوسف بن عبد البر کی الاستیعاب فی معرفة الاصحاب
- ابن حجر عسقلانی کی الاصابہ فی تمییز الصحابہ
- علی بن الاثیر کی اسد الغابۃ فی معرفۃ الصحابۃ
عمومی زمانی ترتیب
[ترمیم]- احمد بن حنبل کی کتاب العلل ومعرفة الرجال
- ابن سعد البغدادی کی طبقات الکبری
- شمس الدین ذہبی کی تذکرۃ الحفاظ، جو حفاظِ حدیث کی سوانح عمری پر مبنی زمانی تاریخ ہے
- ذہبی کی میزان الاعتدال
- ابن حجر عسقلانی کی لسان المیزان، جو امام ذہبی کی میزان الاعتدال کی نوک پلک درست کر کے لکھی گئی ہے
- ابن حجر عسقلانی کی تہذیب التہذیب
- ابن حجر عسقلانی کی تقریب التہذیب
- تاریخ الاسلام الکبیر، جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ابن حجر نے اسے ابو ہریرہ بن الذہبی سے حاصل کیا، یہ تیس ہزار سے زائد سوانحی ریکارڈز پر مشتمل ہے
- ذہبی کی سیر اعلام النبلاء، جو اٹھائیس جلدوں پر مشتمل سوانحی تاریخ کا ایک منفرد دائرتہ المعارف ہے
جغرافیائی طور پر مخصوص کتب
[ترمیم]صنف کے لحاظ سے مخصوص
[ترمیم]- محمد اکرم ندوی کی الوفاء باسماء النساء
مخصوص کتب کے راویوں کی تشخیص
[ترمیم]- عبد الغنی مقدسی کیالکمال فی اسماء الرجال، جو کتبِ ستہ (حدیث کی چھ بڑی کتابوں) میں موجود راویوں کی سوانحی تشخیص کا مجموعہ ہے
- ذہبی کی تذہیب تہذیب الکمال، جو جمال الدین مزی کی اس تلخیص کا مزید اختصار ہے جو انھوں نے عبد الغنی مقدسی کی الکمال فی اسماء الرجال پر کی تھی
شیعہ نقطہ نظر
[ترمیم]شیعہ نقطہ نظر سے علم الرجال کے ابتدائی مجموعوں میں درج ذیل کتب شامل ہیں:
- احمد البرقی کی رجال البرقی (وفات تقریباً 893ء)
- اختیار معرفۃ الرجال: یہ محمد بن عمر کشی کی کتاب رجال الکشی کی تلخیص ہے جسے شیخ طوسی (995-1067ء) نے تیار کیا
- احمد بن علی نجاشی کی رجال النجاشی (تقریباً 982-1058ء)
- شیخ طوسی کی فہرست کتب الشیعہ (995-1067ء)
- شیخ طوسی کی رجال الطوسی (995-1067ء)
حاشیہ
[ترمیم]حوالہ جات
[ترمیم]- ↑ مقدمہ ابن صلاح از ابن صلاح, edited by 'عائشہ بنت عبد الرحمن، p. 101, دار المعارف'، قاہرہ.
- 1 2 تدریب الراوی، جلد. 2, p. 495, دار العاصمہ، پہلا ایڈیشن, 2003.
- 1 2
- ↑ Siyar 'Alam al-Nubala’, by al-Dhahabi, vol. 11, p. 48, Mu'assasah al-Risalah, Beirut, 11th edition, 2001.
- 1 2 Muqadimah Ibn al-Salah, by Ibn al-Salah, edited by 'Aishah bint 'Abd al-Rahman, p. 492, Dar al-Ma'arif, Cairo.
- ↑ Al-Kifayah, by al-Khatib al-Baghdadi, p. 46, Dar al-Kutub al-'Ilmiyyah, Beirut, Lebanon, 1988; this edition is apparently based upon the original Indian printing.
- 1 2 3
- ↑ مسلم نے صحیح مسلمکے مقدمے میں روایت کیا۔ vol. 1, p. 8.
- ↑ This is the explanation provided by al-Qurtubi in al-Mufhim, vol. 1, pgs. 122-3 as quoted in Qurrah Ayn Al-Muhtaj, vol. 2, pg 58.
- ↑ Al-Bidayah wa Al-Nihayah, by ابن کثیر, vol. 10, p. 323, Dar Alam al-Kutub.