علم اسماء الرجال

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

علم حدیث میں اس سے مراد حدیث کا وہ خاص شعبۂ علم ہے کہ جس میں رجالِ حدیث یعنی راویوں کے حالات، پیدائش، وفات، اساتذہ و تلامذہ کی تفصیل، طلب علم کے لیے سفر، ثقہ و غیر ثقہ ہونے کے بارے میں ماہرینِ علمِ حدیث کے فیصلے درج ہوں۔
یہ علم بہت وسیع، مفید اور دلچسپ ہے۔ اس علم پر سینکڑوں مختصر اور مطول کتابیں لکھی جا چکی ہیں جن میں کئی لاکھ اشخاص کے حالاتِ زندگی محفوظ ہیں۔


اس فن پر مشتمل کتابوں کا مجموعہ نہایت وسیع ہے اور اس کی کئی اقسام ہیں:

ٓ== کتب سوالات == راویوں کے بارے میں بہت ساری بنیادی معلومات سوال و جواب کے ذریعے جمع کی گئی ہیں، اس فن سے دلچسپی رکھنے والے طالبان علم بڑے بڑے آئمہ و نقادِ فن سے راویوں کے بارے مٰ ںسوال کرتے تھے وہ حضرات ان کو جواب دیتے تھے۔سوال کرنے والے حضرات ان جوابات کو یاد کرلیتے تھے یا پھر لکھ لیتے تھے اور ان کو کتابی شکل میں تحریر کر لیتے تھے۔ان میں سے کئی کتابیں ترتیب اور کئی کتابیں بغیر ترتیب کے تحریر کی گئی ہیں جن کو موجودہ دور میں ترتیب دے کر دوبار مدون کیا گیا یا باقاعدہ فہرست بنائی گئی۔

٭سوالات محمد بن عثمان بن ابو شیبہ لعلی بن المدینی فی الجرح والتعدیل۔ مولفہ محمد بن عثمان بن ابو شیبہ یہ کتاب موفق بن عبداللہ کی تحقیق سے مطبوع ہے، اس میں 260 راویوں کے احوال ہیں جو بغیر ترتیب سے ہیں لیکن آخر میں حروفِ تہجی کے اعتبار سے فہرست مرتب کر دی گئی ہے۔

٭سوالات حمزہ بن یوسف السہمی للدارقطنی وغیرہ من المشایخ فی الجرح والتعدیل۔ مولفہ حمزہ بن یوسف السہمی یہ کتاب موفق بن عبداللہ کی تحقیق سے مطبوع ہے، اس میں 413 راویوں کے احوال ہیں جو بغیر ترتیب سے ہیں لیکن آخر میں حروفِ تہجی کے اعتبار سے فہرست مرتب کر دی گئی ہے۔

٭سوالات البرقانی للدارقطنی۔ مولفہ البرقانی یہ کتابعبدالرحیم قشقری کی تحقیق سے مطبوع ہے، اس میں 621 راویوں کے احوال ہیں جو بغیر ترتیب سے ہیں۔یہ کتاب حروف معجم پر صرف پہلے حرف کے اعتبار سے مرتب ہے

ٓ== کتب طبقات == کچھ کتابیں ایسی ہیں جو ترتیب و تنظم کے اعتبار سے طبقات پر مرتب ہیں۔ ان میں راویوں کا تذکرہ ان کے احوال و واقعات اور روایتوں کا ذکر طبقہ در طبقہ مصنف کے زمانہ تک کیا جاتا ہے۔ان کا ابتدائی مقصد حدیث پر تحقیق تھا، پھر یہ راویوں اور غیر راویوں کے حالات کے لیے بھی اسمتعمال ہونے لگیں۔ابتدائی کتابیں زیادہ مشہور ہیں البتہ بعد کے آنے والے علماء نے اپنے اور پہلے دور کے علماء کے حالات پر نہایت تفصیلی کتابیں لکھیں۔

کتب تاریخ[ترمیم]

کتب تاریخ میں راویوں کے حالات و واقعات کی ذکر ہوتا ہے اور ان کے اردگرد کے ماحول کا تذکرہ بھی کیا جاتا ہے۔ عام طور پر ایسی کتابوں میں تاریخ پر توجہ قم دی جاتی ہے۔