مصنف عبد الرزاق
| مصنف عبد الرزاق | |
|---|---|
| (عربی میں: المصنف في الحديث) | |
| مصنف | عبد الرزاق بن ہمام |
| اصل زبان | عربی |
| ادبی صنف | علم حدیث |
| درستی - ترمیم | |
مصنف عبد الرزاق جو جامع الکبیر اور جامع عبد الرزاق کے نام سے بھی معروف ہے۔ اہلسنت والجماعت کی مشہور کتب حدیث میں شامل ہے۔ اس کے بارے میں کہا گیا کہ روایت حدیث میں اسلام کی تاریخ میں سب سے پہلے تصانیف میں سے ایک ہے۔ احادیث کے اس مجموعہ کو امام عبد الرزاق بن ہمام الصنعانی (متوفی 211ھ) نے فقہی ترتیب سے تصنیف کیا اس میں انھوں نے 31 کتاب مرکزی عنوان بنائے جس میں پھر کئی ابواب شامل کیے، پوری کتاب 19202 احادیث پر مشتمل ہے کتاب الطہارۃ سے آغاز کیا ہے اور کتاب اہل الکتابین پر اختتام کیا انتہائی اہمیت کی وجہ سے حافظ الذہبی اس کتاب کو "خزانۃ العلم سے تعبیر کیا۔ اس میں احادیث مرفوعہ مقطوعہ اور موقوفہ شامل ہیں، جو صحیح حسن اور ضعیف احادیث پر مشتمل ہے۔
اس کتاب کو انھوں نے اسحاق بن ابراہيم الدبری، ابراہيم بن منصور الرمادی،محمد بن يوسف الجذافی،محمد بن على النجار۔ ابن مفرج الاندلسی سے روایت کیااسے جدید دور حبيب الرحمن الاعظمی نے تحقیق کے بعد شائع کیا[1]
تعارف
[ترمیم]مصنف نے صرف مرفوع احادیث پر اکتفا نہیں کیا، بلکہ موقوف اور مقطوع روایات بھی ذکر کیں اور ان کے مابین کسی خاص ترتیب کی پابندی نہیں کی۔ انھوں نے اپنے شیخ امام معمر کے اقوال کو مختلف فقہی و علمی مسائل میں بہت زیادہ نقل کیا ہے۔ مصنف نے صرف صحیح احادیث کی روایت پر اکتفا نہیں کیا بلکہ صحیح، حسن اور ضعیف سب اقسام کی احادیث و آثار کو نقل کیا ہے۔ یہ کتاب علوِ اسناد (یعنی مختصر اور بلند درجے کی اسناد) کے لحاظ سے ممتاز ہے، چنانچہ اس کی اکثر اسناد ثلاثیات (یعنی تین واسطوں والی روایات) پر مشتمل ہیں۔
اس کتاب کی روایت اسحاق بن ابراہیم الدَّبَري، ابراہیم بن منصور الرَّمَادِي، محمد بن یوسف الجُذَافي اور محمد بن علی النجار نے کی ہے۔ ابن مفرج الأندلسی نے اس کتاب میں اسحاق بن ابراہیم الدَّبَري کی جانب سے رواۃ کے اسماء میں جو تحریف (تصحیف) واقع ہوئی تھی، اسے درست کیا۔ جدید دور میں علامہ حبیب الرحمن الأعظمی نے اس کتاب کی تحقیق کی اور المکتب الإسلامی بیروت نے اسی تحقیق کے ساتھ کتاب کو شائع کیا۔ اسی کتاب پر ایک علمی مقالہ بھی تیار کیا گیا ہے جس کا عنوان ہے: "زوائد عبد الرزاق على الكتب الستة"۔
عبد الرزاق کے شیوخ درالمصنف
[ترمیم]دار التأصيل کی طباعت میں مجموعی روایات کی تعداد (22126) اور شیوخ کی تعداد (176) ہے۔[2]
| نمبر | شیخ | مرویات کی تعداد |
|---|---|---|
| 1 | معمر | 8415 |
| 2 | ابن جریج | 5106 |
| 3 | الثوری | 4671 |
| 4 | ابن عیینہ | 1082 |
| 5 | ابراہیم بن ابی یحییٰ | 292 |
| 6 | اسرائیل | 257 |
| 7 | معتمر | 245 |
| 8 | عبد اللہ بن عمر بن حفص | 242 |
| 9 | مالک | 237 |
| 10 | ہشام القردوسی | 230 |
| 11 | ہشیم | 107 |
حوالہ جات
[ترمیم]- ↑ سير علام النبلا مؤلف : شمس الدين ابو عبد الله ذهبی ناشر : مؤسسہ الرسالہ
- ↑ عبد الرزاق بن همام عبد الرزاق الصنعاني؛ تحقيق مركز البحوث بالدار (1437هـ)۔ "مقدمة التحقيق"۔ المصنف (2 ایڈیشن)۔ دار التأصيل۔ ج مج1
{{حوالہ کتاب}}: نامعلوم پیرامیٹر|مقام اشاعت=رد کیا گیا (معاونت)