ابو سلمہ عبد اللہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
ابو سلمہ عبد اللہ
معلومات شخصیت
پیدائشی نام عبد اللہ بن عبد الاسد
تاریخ پیدائش 1 ہزاریہ  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
تاریخ وفات سنہ 625 (24–25 سال)  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
کنیت ابو سلمہ
زوجہ ام سلمہ ہند بنت ابی امیہ مخزومیہ
اولاد سلمہ، عمر، درہ، زينب
والدہ برہ بنت عبد المطلب  ویکی ڈیٹا پر (P25) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
بہن/بھائی
عملی زندگی
نسب المخزومی القرشی
پیشہ سائنس دان  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عسکری خدمات
لڑائیاں اور جنگیں غزوہ بدر
غزوہ احد

ابو سلمہ عبد اللہ ابن عبد الاسد مخزومی ان کا نام عبد اللہ بن عبد الاسد تھا ام المؤمنین ام سلمہ پہلے ان کے نکاح میں تھیں۔ ان کی والدہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی پھوپھی تھیں اوریہ رسول اللہ اور حمزہ بن عبد المطلب رضاعی بھائی تھے۔

نام، نسب[ترمیم]

عبداللہ نام،ابوسلمہ کنیت ،والد کا نام عبدالاسد اوروالدہ کا نام برہ بنت عبدالمطلب تھا پورا سلسلۂ نسب یہ ہے: عبداللہ بن عبدالاسد بن ہلال بن عبداللہ بن عمر بن مخزوم القرشی المخزومی ۔ [1]

اسلام[ترمیم]

آنحضرت ﷺ کے ارقم بن ابی ارقمؓ کے مکان میں پناہ گزین ہونے سے پہلے حلقۂ مومنین میں داخل ہوئے ،ا ن کی بیوی حضرت ام سلمہ ؓ نے بھی ان کا ساتھ دیا،حضرت ابوسلمہؓ ،حضرت عبیدہ بن حارثؓ، حضرت ارقم بن ابی ارقمؓ اورحضرت عثمان بن مظعونؓ ایک ساتھ ایمان لائے تھے۔ [2]

ہجرت[ترمیم]

حضرت ابوسلمہؓ سرزمینِ حبش کی دونوں ہجرتوں میں شریک تھے، ان کی بیوی حضرت ام سلمہ ؓ بھی رفیقِ سفر تھیں ، پھر حبش سے واپس آکر عازم مدینہ ہوئے، بخاری کی ایک روایت سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ سب سے پہلے مہاجر تھے جو واردِ یثرب ہوئے، لیکن دوسرے روایت میں اولیت کا سہراحضرت مصعب بن عمیرؓ کے سرباندھا گیا ہے، علامہ ابن حجران دونوں میں تطبیق دیتے ہوئے فرماتے ہیں: "(حضرت) ابوسلمہؓ جب حبش سے مکہ واپس آئے تو مشرکین نے پھر ان کو ہدفِ اذیت بنایا، اس بنا پران کا مدینہ آنا مشرکین کے خوف سے تھا، مستقل ہجرت کا ارادہ نہ تھا، برخلاف اس کے حضرت مصعب بن عمیرؓ اس وقت پہنچے جب کہ مستقل ہجرت کا حکم ہوچکا تھا اس لیے ان دونوں روایتوں میں باہم تخالف نہیں ہے۔" [3] بہرحال حضرت ابوسلمہؓ سب سے پہلے مدینہ پہنچے، یہ محرم کی دسویں تاریخ تھی، خاندان عمروبن عوف نے ان کو کامل دوماہ یعنی آنحضرت ﷺ کی تشریف آوری تک اپنا مہمان رکھا۔ [4]

مواخات[ترمیم]

آنحضرت ﷺ نے حضرت سعد بن خثیمہ اؓنصاریؓ سے مواخات کرادی اورمستقل سکونت کے لیے ایک قطعہ زمین مرحمت فرمایا۔ [5]

غزوات[ترمیم]

غزوۂ بدر واحد میں سرگرمِ پیکار تھے، معرکہ اُحد میں ابو اسامہ جُشمی کے ایک تیرنے ان کا بازو زخمی کردیا جو کامل ایک ماہ تک زیر علاج رہنے کے بعد بظاہر مندمل ہوگیا، لیکن غیر محسوس طریقہ پر اندر ہی اندر زہر پھیلاتا رہا، [6] اسی اثناء میں وہ سریۂ قطن پر مامور ہوئے جس کی تفصیل یہ ہے:

سریۂ قطن[ترمیم]

قید کے اطراف میں قطن ایک پہاڑ کا نام ہے جس کا دامن بنو اسد بن خزیمہ کا مسکن تھا، آنحضرت ﷺ کو خبر ملی کہ طلیحہ اوراسد بن خویلد یہاں اپنی قوم اور دوسرے زیر اثر قبائل کو جنگ کے لیے اُبھار رہے ہیں، اس بنا پر اوائل محرم ۴ھ میں حضرت ابو سلمہ ؓ کے زیرِ سیادت تقریبا دیڑھ سو مجاہدین کی ایک جماعت جس میں مہاجریں وانصار دونوں شریک تھے، قبل از وقت اس فتنہ انگیز تحریک کو دبانے پر مامور ہوئی،آنحضرت ﷺ نے حضرت ابوسلمہؓ کو علم دے کر فرمایا: "روانہ ہوجاؤ یہاں تک کہ بنو اسد کی سرزمین میں پہنچ کر ان کی جمعیت کے فراہم ہونے سے پہلے ان کا شیرازہ منتشر کردو۔" حضرت ابو سلمہؓ غیر معروف راستہ سے یلغار کرتے ہوئے یکا یک بنو اسد پر جاپڑے،وہ اس ناگہانی حملہ سے بدحواس ہوکر بھاگ کھڑے ہوئے تو انہوں نے اپنی جماعت کو تین دستوں پر منقسم کرکے ان کے تعاقب پر مامور فرمایا، چنانچہ وہ دشمن کو دور تک بھگا کر نہایت کثرت کے ساتھ اونٹ اوربھیڑ بکریاں چھین لائے جن کو حضرت ابو سلمہؓ نے مدینہ پہنچ کر بطورمال غنیمت دربارِ نبوت میں پیش کیا۔ [7]

کاتب وحی[ترمیم]

دربارِ رسالت مآب ﷺ میں کتابت کا شرف بھی حاصل ہوا، اس کی صراحت ابن سید الناس، ابن مِسکویہ، ابو محمد دمیاطی، عراقی یعمری اور انصاری نے کی ہے، [8]

عسکری زندگی[ترمیم]

ابو سلمہ آخری دفعہ غزوہ احد میں شریک ہوئے جس میں آپ شدید زخمی ہوئے۔ جب قبیلہ بنو اسد نے محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور مدینہ کی اسلامی ریاست کے خلاف علم بغاوت بلند کیا تو محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ابو سلمہ کی سربراہی میں بنو اسد پر چڑھائی کے لیے لشکر روانہ کیا۔ مدینہ واپسی پر ابو سلمہ کا ایک زخم جو انہیں احد میں لگا تھا، پھر پھوٹ پڑا جس کی وجہ سے وہ جلد ہی وفات پا گئے۔ ابو سلمہ کی اس آخری مہم کو سریہ ابو سلمہ مخزومی کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔

وفات[ترمیم]

حضرت ابوسلمہؓ اس مہم سے واپس آئے توزخم پھر عود کر آیا اورایک عرصہ تک بیمار رہ کر ۳ جمادی الآخر ۴ھ میں واصلِ بحق ہوئے، اتفاق سے آنحضرت ﷺ عین حالتِ نزع میں عیادت کے لیے تشریف لائے تھے، روح دیدارِ جمال کی منتظر تھی اِدھر آپ ﷺ تشریف لائے اوراُدھر روح نے جسم کا ساتھ چھوڑا، آپﷺ نے دستِ مبارک سے ان کی دونوں آنکھیں بند کرکے فرمایا: "انسان کی روح جس وقت اٹھائی جاتی ہے تو اس کی آنکھیں اس کے دیکھنے کے لیے کھلی رہ جاتی ہیں۔ [9] ایک طرف پردہ کے پیچھے گھر کی عورتیں مصروفِ ماتم تھیں، آنحضرت ﷺ نے ان کو اس سے روک کر فرمایا کہ یہ دعائے خیر کا وقت ہے کیونکہ ملائکہ آسمانی جومیت کے پاس موجود ہوتے ہیں وہ دعا گو یوں کی دعا پر آمین کہتے ہیں، پھر خود اس طرح دست بدعاء ہوئے: "خدایا! اس کی قبر کو کشادہ و روشن کر،اس کو پر نور بنا، اس کے گناہوں کو بخشدے اورہدایت یاب جماعت میں اس کا درجہ بلند فرما"۔ [10]

تجہیز و تکفین[ترمیم]

حضرت ابو سلمہ ؓ نے مدینہ کے قریب مقام عالیہ میں وفات پائی ؛کیونکہ وہ قباء سے منتقل ہوئے تو یہیں آکر سکونت پذیر ہوئے تھے، بنی امیہ بن زید کے کنوئیں یسیرہ (ایام جاہلیت میں یہ کنواں بیر عبیر کے نام سے مشہور تھا، آنحضرت ﷺ نے اس کو بدل کر بیر یسیرہ نام رکھا، [11]کے پانی سے غسل دیا اور مدینہ کی خاک پاک نے اپنے دامن میں چھپایا۔ [12]

فضائل ومحاسن[ترمیم]

حضرت ابو سلمہ ؓ کا پایہ فضل وکمال نہایت بلند ہے، وہ بیمار ہوئے تو آنحضرت ﷺ اکثر ان کی عیادت فرمایا کرتے تھے۔ [13] حضرت ام سلمہ ؓ فرماتی ہیں کہ ایک روز ابو سلمہؓ دربارِ نبوت سے خوش خوش گھر واپس آئے اور کہنے لگے کہ آج مجھے رسولِ خدا ﷺ کے ایک ارشاد نے بے حد محظوظ کیا، آپ ﷺ نے فرمایا ہے کہ جو مصیبت زدہ مسلمان اپنی مصیبت میں خدا کی طرف رجوع کرکے کہتا ہے: "اے خدا! اس مصیبت میں میری مدد کر اوربہتر نعم البدل عطا فرما" تو خدا اس کی دعا قبول فرماتا ہے، چنانچہ ابو سلمہؓ کی وفات نے جب مجھے صدمہ پہنچایا تو میں نے خدا کی طرف رجوع کرکے کہا اے خدا! میری مدد کر اورتلافی بالخیر فرما ؛لیکن پھر یہ خیال گذرا کہ میرے لیے ابو سلمہؓ کا نعم البدل کون ہوسکتا ہے؟ عدت گذرنے کےبعد جب خود رسول اللہ ﷺ نے نکاح کا پیام بھیجا تو مجھے معلوم ہوگیا کہ خدا نے تلافی بالخیر کی صورت پیدا کردی ۔ [14]

اولاد[ترمیم]

حضرت ابو سلمہؓ نے دو لڑکے سلمہ وعمر اوردولڑکیاں زینب اوردرہ یادگار چھوڑیں ان کی تمام اولاد حضرت ام سلمہؓ ہند بنت ابی امیہ سے ہوئی تھی جو ان کے بعد امہات المومنینؓ میں داخل کی گئیں۔ [15]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. (اسد الغابہ :۵/۲۸۱)
  2. (اسد الغابہ:۵/۲۸۱)
  3. (فتح الباری: ۷/۲۰۳)
  4. (طبقات ابن سعد قسم اول جز ثالث: ۱۷۱)
  5. (طبقات ابن سعد قسم اول جز ثالث :۱۷۱)
  6. (ابن سعد ایضاً)
  7. (طبقات ابن سعد حصہ مغازی سریہ ابو سلمہ)
  8. عیون الاثر 2/316 تجارب الامم 1/291، المصباح المضئی 34/ب، العجالة السنیہ شرح الفیہ عراقی ص 346
  9. (طبقات ابن سعد قسم اول جزء ثالث :۱۷۲)
  10. (طبقات ابن سعد قسم اول جزء ثالث :۱۷۲)
  11. (ابن سعد یضاً: ۱۷۲)
  12. (ابن سعد ایضا:۱۷۱)
  13. (اصابہ تذکرہ ابو سلمہ ؓ)
  14. ( مسند احمد بن حنبل:۴/۱۲۷)
  15. (طبقات ابن سعد قسم اول جز ثالث:۱۷۰)