سریہ غالب بن عبد اللہ کلبی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

-

سریہ غالب بن عبد اللہ کلبی
سلسلہ سرایا نبوی
مقام
محل وقوع
نتیجہ
متحارب
مسلمان

سریہ غالب بن عبد اللہ اللیثی رمضان7 ہجری میں بھیجا گیا رسول اللہ نے غالب بن عبد اللہ کو بنی عوال اور بنی عبد بن ثعلبہ کی طرف بھیجا جو المیفعہ میں تھے یہ مقام مدینہ منورہ سے نجد کی طرف آٹھ برید (ایک برید 12میل کا ہوتا ہے) اس مین دوسو تیس230 افراد شامل تھےانہوں نے اہل میفعہ پر اچانک حملہ کر دیا جو سامنے آئے قتل ہو گئے مال غنیمت بھی ہاتھ آیا اس میں رسول اللہ ﷺکے غلام یسار بھی تھے اس غزوہ میں اسامہ بن زید نے نہیک بن مرواس کو قتل کر دیا تھا حالانکہ انہوں نے کلمہ پڑھا تھا۔ [1][2] اسامہ بن زید کہتے ہیں کہ ہمیں رسول اللہ ﷺنے حرقہ کی جانب بھیجا ہم نے صبح کو اس قوم پر حملہ کرکے انہیں شکست دے دی، میں اور ایک انصاری اس قوم کے ایک آدمی کے پیچھے لگ گئے جب ہم نے اسے گھیر لیا تو اس نے کہا لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، اس انصاری نے تو ہاتھ روک لیا، مگر میں نے اس کے نیزہ مار کر اسے قتل کردیا، جب ہم واپس آئے تو نبی ﷺ کو یہ بات معلوم ہوئی تو آپ نے فرمایا : اسامہ! تم نے لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ کہنے کے بعد بھی اسے قتل کردیا، میں نے عرض کیا اس نے جان بچانے کیلئے کہا تھا، مگر آپ برابریہی فرماتے رہے، یہاں تک کہ میں نے تمنا کی کہ کاش آج سے پہلے میں اسلام نہ لایا ہوتا۔ [3]

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. المواہب اللدنیہ جلد اول صفحہ 390فرید بکسٹال لاہور
  2. طبقات ابن سعد، حصہ اول ،صفحہ 341،،محمد بن سعد، نفیس اکیڈمی کراچی
  3. صحیح بخاری:جلد دوم:حدیث نمبر 1471