سریہ عبد اللہ بن رواحہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

-

سریہ عبد اللہ بن رواحہ
سلسلہ سرایا نبوی
تاریخ فروری، 628ء
مقام مکہ کے راستے میں
محل وقوع
نتیجہ اسیر بن زارم اور اس کے 29 پیروکاروں کا قتل
متحارب
مسلمان یہودی
قائدین
عبد اللہ بن رواحہ ابو رافع (قتل)
اسیر بن زارم
قوت
30 30
نقصانات
ایک زخمی 29 جاں بحق (1 فرار)

شوال6 ہجری میں سریہ عبد اللہ بن رواحہ اسیر بن زارم یہودی کی طرف خیبر کی طرف بھیجا گیا اس کی وجہ یہ تھی جب ابو رافع قتل ہو گیا تو اس کی جگہ اسیر بن زارم کو امیر بنایا گیا وہ بھی غطفان اور دوسری قبائل کو جنگ کیلئے اکساتا تھا۔جب رسول اللہ کو پتہ چلا تو تین آدمی عبد اللہ بن رواحہ سمیت خفیہ طور پرحالات معلوم کرنے بھیجے۔ جب مکمل حالات سے آگاہی ہوئی تو آپ نے 30 آدمی عبد اللہ بن رواحہ کی قیادت میں بھیجے۔وہاں جا کر اسے کہا کہ رسول اللہﷺ تجھے خیبر پر عامل بنانا چاہتے ہیں وہ اس لالچ میں آگیا اورعامل بننے کیلئے وہ ساتھ چل پڑا مسلمان پیدل گئے تھے تیس یہودی بھی ساتھ چل پڑے ہر مسلمان ایک یہودی کے پیچھے بیٹھ گیا۔ جب قرقرہ ثباۃ کے قریب پہنچے تو اسیر اس بات سے پچھتایا اس نے عبد اللہ بن انیس کی تلوار کی طرف ہاتھ بڑھایا تو عبد اللہ بن انیس نے اسے کہا کہ تو بد عہدی کر رہا ہے اس نے پھر چھننے کی کوشش کی میں اسے الگ کر کے لے گیا باقی قوم چلتی رہی جب بالکل اکیلا رہ گیا تو میں نے تلوا سے اس کی پنڈلی علاحدہ کر دی وہ اونٹ سے گر پڑا اس نے ایک لاٹھی مجھے ماری جس سے میرا سر زخمی ہو گیا ۔ اس کے بعد ہم اس کے ساتھیوں پر حملہ آور ہوئے سوائے ایک شخص کے سب کو قتل کر دیا اس کو بہت تلاش کیا لیکن وہ نہ مل سکا ۔جب رسول اللہ ﷺکے پاس پہنچے توفرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے ظالموں سے تمہیں نجات دی۔ مسلمانوں میں سے کوئی بھی شہید نہ ہوا۔ [1][2]

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. المواہب اللدنیہ جلد اول صفحہ 345 فرید بکسٹال لاہور
  2. طبقات ابن سعد، حصہ اول ،صفحہ 319،محمد بن سعد، نفیس اکیڈمی کراچی