سریہ کرز بن جابر فہری

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

-

سریہ کرز بن جابر فہری
سلسلہ سرایا نبوی
مقام
محل وقوع
نتیجہ
متحارب
مسلمان

جمادی الاخری 6 ہجری میں سریہ کرز ابن جابر الفہری عکل اور عرینہ کی طرف 20 سواروں کے ساتھ بھیجا گیا عکل اور عرینہ کے کچھ لوگ مسلمان ہو کر مدینہ آئے، انہیں مدینہ کی آب و ہوا موافق نہ آئی تو انہیں نبیﷺ نے مدینہ سے باہر جہاں صدقے کے اونٹ رہتے تھے بھیج دیا اور فرمایا تم اونٹوں کا دودھ پیواللہ تمہیں شفاء عطا فرمائے گا، چنانچہ چند روز میں وہ لوگ تندرست ہوگئے مگر انہوں نے یہ حرکت کی آنحضرت ﷺ کا آزاد کردہ یسار نامی ایک غلام تھا جو نماز بہت اطمینان سے دل لگا کر پڑھا کرتا تھا اسی وجہ سے آپ ﷺ نے اس کو آزاد کردیا تھا۔
صدقات کے جانور جن میں بیت المال کی اونٹنیاں بھی شامل تھیں اور آپ کی اونٹنی بھی تھی، یسار ان کی نگرانی پر مامور تھے۔ عرینہ کے قبیلہ کے لوگ کچھ روز تو مدینہ میں رہے مگر چند روز میں ان کے پیٹ بڑھ گئے اور رنگ زرد ہوگئے، ان لوگوں نے آپ ﷺ سے شکایت کی تو آپ ﷺنے ان کو یسا رکے ساتھ جنگل جانے کا حکم دیا اور فرمایا کہ اونٹوں کا دودھ پیا کرو چنانچہ جب یہ صحت یاب ہوگئے تو یسار کی اول تو آنکھیں پھوڑ ڈالیں اور بعد میں ان کو قتل بھی کردیا اور اونٹوں کو لیکر اپنے وطن روانہ ہوگئے اور مرتد ہوگئے، مدینہ میں جب یہ خبر پہنچی تو آنحضرت ﷺ نے کرز ابن جابر الفہری کو سرداد بنا کر کچھ لوگوں کو ان کے پکڑنے کیلئے بھیجا آخر کار یہ لوگ پکڑے گئے، ان کی آنکھوں کو العین بالعین کے قاعدہ سے پھوڑ کر قتل کرا دیا گیا اور یہ قصاص کے طور پر کیا۔ [1][2]

انس سے روایت ہے کہ قبیلہ عرینہ کے کچھ لوگ مدینہ آئے انہیں مدینہ منورہ کی آب وہوا موافق نہیں آئی چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے انہیں زکوٰۃ کے اونٹوں میں بھیج دیا اور فرمایا ان کے دودھ پیو لیکن انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے چروا ہے کو قتل کردیا اور اونٹوں کو ہانک کرلے گئے اور خود اسلام سے مرتد ہوگئے جب انہیں پکڑ کر نبی ﷺ کی خدمت میں لایا گیا تو آپ ﷺ نے ان کے ہاتھ اور پاؤں مخالف سمت سے کاٹنے کا حکم دیا اور ان کو ریگستان میں ڈال دیا گیا انس فرماتے ہیں کہ میں نے دیکھا کہ ان میں سے ہر ایک خاک چاٹ رہا تھا یہاں تک کہ سب مر گئے۔ [3]

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. المواہب اللدنیہ جلد اول صفحہ 346 فرید بکسٹال لاہور
  2. طبقات ابن سعد، حصہ اول ،صفحہ 320،،محمد بن سعد، نفیس اکیڈمی کراچی
  3. جامع ترمذی:جلد اول:حدیث نمبر 70