حلیمہ سعدیہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
وہ کھنڈر جس کے متعلق کہا جاتا ہے کہ یہ حلیمہ سعدیہ کا گھر ہوتا تھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا بچپن یہاں گذرا تھا۔

حليمہ بنت ابی ذويب، ابی ذئیب کا نام: عبد الله بن الحارث بن شجنہ بن جابر بن رزام بن ناصرہ بن سعد بن بكر بن ہوازن ہے[1] انہیں ہی حلیمہ بنت عبد اللہ بھی کہا جاتا ہے۔
آپ محمد ﷺ کی رضائی والدہ ہیں، بی بی ثویبہ کے بعد محمد ﷺ کو آپ نے ہی آخر تک دودھ پلایا، اس وقت آپ کے ساتھ عبد الله ابن حارث کو بھی دودھ پلایا، آپ کی بڑی بیٹی شیما حضور ﷺ کو گود میں کھلاتی لوریاں دیتی تھیں۔ دو سال، دو ماہ بعد یا پانچ سال بعد آپ کی والدہ آمنہ کے پاس پہنچا گئیں، حلیمہ سعدیہ سے عبدالله ابن جعفر نے احادیث سنیں،حلیمہ سعدیہ کے لقب سے مشہور ہیں، قبیلہ ہوازن سے تھیں، اس قبیلہ سے غزوہ حنین میں جنگ ہوئی، مسلمانوں کو فتح ہوئی مگر بعد ہوازن مسلمان ہوگئے، محمد ﷺ نے ان کے قیدی جو غلام بنائے گئے تھے واپس کر دیئے کہ وہ حلیمہ کے اہل قرابت تھے [2] غزوہ حنین کے موقع پر آپ کی خدمت میں حاضر ہوئیں، آپ ان کے لیے کھڑے ہوگئے اور اپنی چادر مبارک بچھادی۔حق یہ ہے کہ ثویبہ اور حلیمہ اسی طرح حلیمہ کے خاوند مسلمان ہوگئے۔بی بی خدیجہ سے جب محمد ﷺ نے نکاح کرلیا تو ثویبہ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آیا کرتی تھیں محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ان کا بہت احترام فرماتے تھے اور مدینہ منورہ سے ثویبہ کے لیے کپڑے وغیرہ ہدایا بھیجا کرتے تھے۔[3]

محمد ﷺ کی پیدائش کے بعد حلیمہ سعدیہ آپ کو ساتھ لے گئیں۔ وہ برس بعد واپس لائیں تو مکہ میں وبا تھی۔ محمد ﷺ کی والدہ نے انہیں، ان کے ساتھ واپس بھیج دیا ابن اسحاق کی روایت کے مطابق محمد ﷺ چھ برس تک ان کے پاس رہے۔ ایک روایت کے مطابق حلیمہ سعدیہ مسلمان ہوگئیں اور ان کے شوہر حارث بھی ایمان لے آئے تھے۔ محمد ﷺ کے چار رضاعی بھائی بہن تھے۔ عبداللہ بن الحارث، انیسہ بنت الحارث، حذافہ بنت الحارث اور شیماء بنت الحارث [4] جو شیما کے لقب سے مشہور تھیں۔ ان میں سے عبداللہ اور شیما کا اسلام لانا ثابت ہے۔
حضرت بی بی حلیمہ کی قبر انور مدینہ منورہ میں جنت البقیع کے اندر ہے۔[5]

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ اسد الغابہ ،مؤلف: أبو الحسن علي عز الدين ابن الأثير ،ناشر: دار الفكر بيروت
  2. ^ مرآۃ المناجیح شرح مشکوۃ المصابیح، جلد8، صفحہ552
  3. ^ مرقات اشعہ، بحوالہ مرآۃ شرح مشکوۃ، جلد6، صفحہ767
  4. ^ الكتاب : السيرة النبويہ المؤلف : محمد بن إسحاق
  5. ^ جنتی زیور، عبدالمصطفٰی اعظمی، صفحہ512، ناشرمکتبۃ المدینہ باب المدینہ کراچی