فاطمہ بنت قیس

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

فاطمہ بنت قیس بڑی عاقلہ اور صاحب علم صحابیہ تھیں۔

نام و نسب[ترمیم]

فاطمہ نام، سلسلۂ نسب یہ ہے: فاطمہ بنت قیس بن خالد اکبر بن وہب بن ثعلبہ بن وائلہ بن عمرو بن شیبان بن محارب بن فہر۔ والدہ کا نام امیمہ بنت ربیعہ تھا اور بنی کنانہ سے تھیں۔ ابو عمرو بن حفص بن مغیرہ سے انکا نکاح ہوا۔

اسلام[ترمیم]

اسلام کے ابتدائی دور میں ایمان لائیں اور ہجرت کی۔

حالات زندگی[ترمیم]

10ھ میں امیر المومنین علی ایک لشکر لے کر یمن گئے تھے، ابو عمرو بھی ان کے ساتھ تھے، چلتے وقت عیاش بن ابی ربیعہ کی معرفت اپنی بیوی کو آخری طلاق (دو طلاق پہلے دے چکے تھے) اور 5، 5 صاع جو اور خرمے بھیجے، فاطمہ نے کھانے اور مکان کا مطالبہ کیا تو عیاش نے کہا کہ جو کچھ دیا گیا محض احسان ہے ورنہ ہمارے ذمہ یہ بھی ضروری نہیں، اس جواب پر فاطمہ کو غصہ آیا اور اپنے کپڑے لے کر آنحضرتﷺ کی خدمت میں گئیں خالد بن ولید وغیرہ بھی پہنچے، آپ نے دریافت کیا کہ انہوں نے تم کو کتنے مرتبہ طلاق دی؟ بولیں: تین مرتبہ۔ فرمایا: ’’اب تم کو نفقہ نہیں مل سکتا۔‘‘ تم اُمّ شریک کے ہاں عدت کے دن پورے کرو لیکن چونکہ اُمّ شریک کے اعزّہ و اقارب ان کے مکان میں آتے جاتے ہیں، آنحضرتﷺ نے فرمایا کہ ’’ابن امّ مکتوم نابینا اور تمہارے ابنِ عم ہیں، اس لیے بہتر ہے کہ تم ان کے ہاں رہو۔‘‘ عدت کا زمانہ پورا ہوا توہر طرف سے پیغام آئے۔ امیر معاویہ، ابو جہم اور اسامہ بن زید نے بھی پیغام دیا۔ لیکن آنحضرتﷺ نے پہلے دو شخصوں کا پیغام اس لیے مسترد کر دیا کہ اوّلُ الذکر مفلس اور دوسرے تند مزاج تھے پھر فاطمہ سے فرمایا کہ تم اسامہ سے نکاح کرلو۔ چونکہ فاطمہ کو خیال تھا کہ خود آنحضرتﷺ ان کو اپنی زوجیت کا شرف عطا فرمائیں گے اس لیے انکار کیا، ارشاد ہوا: ’’خدا اور رسول اللہﷺ کی اطاعت کرو، اس میں تمہارے لیے بھلائی ہے۔‘‘یہ سن کر فاطمہ مجبور ہوئیں اور اسامہ ے نکاح کر لیا، کہتی ہیں کہ پھر میں قابلِ رشک بن گئی۔[1]

وفات[ترمیم]

وفات کا سال معلوم نہیں، ابن زبیر کے زمانۂ خلافت تک زندہ رہیں۔23ھ میں جب عمر فاروق نے انتقال کیا تو مجلسِ شوریٰ کا اجلاس فاطمہ ہی کے مکان میں ہوتا تھا۔ 54ھ میں اسامہ نے انتقال فرمایا تو فاطمہ کو سخت صدمہ ہوا، دوسری شادی نہیں کی اور اپنے بھائی ضحاک کے ساتھ رہیں۔ جب یزید نے اپنے عہد حکومت میں ان کو عراق کا گورنر مقر۔ ّر کیا تو فاطمہ بھی ان کے ساتھ کوفہ چلی آئیں اور یہیں سکونت اختیار کی۔[2]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. صحیح مسلم کتاب الطلاق
  2. طبقات ابن سعد محمد بن سعدناشر: مكتبہ الخانجي - القاہرہ