ام حرام بنت ملحان

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

ام حرام بنت ملحان جن کا لقب شہيدة البحر(سمندری شہیدہ) ہے

نام و نسب[ترمیم]

ام حرام بنت ملحان بن خَالِد بن زيد بن حرام بن جندب بن عامر بن غنم ابن عدي بن النجار الأنصاريۃ الخزرجيۃ، ان کی والدہ کا نام مليكۃ بنت مالك بن عدي بن زيد مناة بن عدی ابن عمرو بن مالك بن النجا رہے اورام حرام خالہ تھیں انس بن مالك کی، عبادہ بن صامت کی زوجہ ہیں، انکا نام الرميصاء۔ یا الغميصاء کہا گیا ہے۔[1]

روم کے جہاد میں شرکت[ترمیم]

آپ ام حرام بنت ملحان ابن خالد نجاریہ ہیں، کنیت میں مشہور ہیں،عبام سلیم کی بہن،حضور صلی اللہ علیہ و سلم آپ کے ہی گھر میں قیلولہ(دوپہر کا آرام)فرماتے تھے،، انس کی خالہ،خلافت عثمانیہ میں اپنے خاوند کے ساتھ روم کے جہاد میں شریک ہوئیں مقام قبرص میں سواری سے گرکر فوت ہوئیں اور شہید ہوئیں،قبرص میں قبر شریف ہے۔[2]

شہادت کی خوشخبری[ترمیم]

انس سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ ام حرام بنت ملحان کے پاس جو عبادہ بن صامت کے نکاح میں تھیں تشریف لے جایا کرتے تھے، ایک دن ان کے پاس تشریف لے گئے تو انہوں نے آپ کو کھانا کھلایا اور آپ کے سر کو سہلانے لگیں تو رسول اللہ ﷺ کو نیند آگئی، پھر آپ بیدار ہوئے تو ہنس رہے تھے؟ آپ نے فرمایا کہ میری امت کے کچھ لوگ میرے سامنے پیش کیے گئے جو اللہ کی راہ میں جہاد کر رہے تھے، سمندر کے بیچوں کے بیچ جہاز پر سوار بادشاہوں کی طرح تختوں پر بیٹھے ہوئے تھے، ام حرام نے کہا کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ اللہ سے دعا کریں کہ مجھ کو ان میں شامل کر دے، نبی ﷺ نے ان کے لیے دعا کی، پھر آپ نے اپنا سر مبارک رکھا اور سو گئے، پھر بیدار ہوئے تو ہنس رہے تھے میں نے پوچھا کہ یا رسول اللہ ﷺ آپ کس بات پر ہنس رہے ہیں، آپ نے فرمایا میری امت میں سے کچھ لوگ میرے سامنے پیش کیے گئے جو اللہ کی راہ میں جہاد کر رہے تھے، جیسے پہلی بار فرمایا تھا، ام حرام نے کہا یا رسول اللہ ﷺ دعا کریں کہ اللہ مجھ کو ان میں شامل کر دے آپ نے فرمایا تو پہلے لوگوں میں سے ہے، چنانچہ ام حرام معاویہ بن ابی سفیان کے زمانہ میں جہاز پر سوار ہوئیں تو سمندر سے نکلتے وقت اپنی سواری سے گر پڑیں اور وفات پاگئیں۔[3]

رسول اللہ سے رشتہ[ترمیم]

ام حرام ملحان ابن خالد کی بیٹی ہیں، قبیلہ بنی نجار سے تعلق رکھتی ہیں، انس کی خالہ ہیں اور ان کی والدہ ام سلیم کی بہن ہیں، یہ دونوں یعنی ام حرام اورام سلیم دودھ کے رشتہ سے یا کسی نسبی قرابت سے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خالہ تھیں، امام نووی نے لکھا ہے کہ تمام علما کا اتفاق ہے کہ ام حرام آنحضرت ﷺ کی محرم تھیں اسی لیے آپ ﷺ بے تکلفی کے ساتھ دوپہر میں ان کے ہاں جا کر قیلولہ فرمایا کرتے تھے، لیکن کیفیت محرمیت میں علما کے اختلافی اقوال ہیں کسی نے کسی تعلق سے محرم کہا ہے اور کسی نے کسی تعلق سے ! حضرت ام حرام مشرف باسلام ہوئیں اور آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دست مبارک پر بیعت کی اورعثمان ذوالنورین کے زمانہ خلافت میں اپنے خاوند عبادہ ابن صامت کے ساتھ جو انصار میں سے ایک جلیل القدر صحابی ہیں اللہ کی راہ میں جہاد کے لیے نکلیں اور سر زمین روم میں پہنچ کر مرتبہ شہادت سے سرفراز ہوئیں۔ "[4]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. اأسد الغابۃ المؤلف: أبو الحسن عز الدين ابن الأثير الناشر: دار الفكر بيروت
  2. مرقات،اشعہ بحوالہ مرآۃ المناجیح
  3. صحیح بخاری:جلد سوم:حدیث نمبر 1929
  4. مشکوۃ شریف:جلد پنجم:حدیث نمبر 441

}