عبادہ بن صامت

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
عبادہ بن صامت
معلومات شخصیت
پیدائشی نام عبادہ بن صامت
پیدائش 586ء
یثرب
تاریخ وفات 655ء (69 سال)
کنیت ابو الولید
زوجہ ام حرام بنت ملحان
جمیلہ بنت ابی صعصعہ
والد صامت بن قیس بن اصرم بن فہر
والدہ قرۃ العین بنت عبادہ بن نضلہ الخزرجیہ
رشتے دار بھائی:
اوس بن صامت
عملی زندگی
طبقہ صحابہ
نسب الخزرجی الانصاری
پیشہ محدث  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
عسکری خدمات
لڑائیاں اور جنگیں غزوات نبوی

عبادہ بن صامت (پیدائش: 586ء — وفات: 655ء) آپ نقیب الانصار ہیں،پہلی اور دوسری بیعت عقبہ میں شامل ہوئے۔

نام ونسب[ترمیم]

عبادہ نام، ابو الولید کنیت، قبیلۂ خزرج کے خاندان سالم سے ہیں نسب نامہ یہ ہے ،عبادہ بن صامت بن قیس بن اصرم بن فہر بن قیس بن ثعلبہ بن غنم (قوقل) بن سالم بن عوف بن عمرو بن عوف بن خزرج ،والدہ کا نام قرۃ العین تھا، جو عبادہ بن نضلہ بن مالک بن عجلان کی بیٹی تھیں، قرۃ العین کے جگر گوشہ کا نام اپنے نانا کے نام پر رکھا گیا۔ بنو سالم کے مکانات مدینہ کے غربی سنگستان کے کنارہ قبأ سے متصل واقع تھے یہاں ان کے کئی قلعے بھی تھے، جو اطم قوافل کے نام سے مشہور ہیں،اس بنا پر عبادہ کا مکان مدینہ سے باہر تھا۔

اسلام[ترمیم]

ابھی جوان تھے، کہ مکہ سے اسلام کی صدا بلند ہوئی، جن خوش نصیب لوگوں نے اس کی پہلی آواز کو رغبت کے کانوں سے سنا، عبادہ انہی میں سے ہیں، انصار کے وفد 3 سال تک مدینہ سے مکہ آئے تھے، وہ سب میں شامل تھے، پہلا وفد جو دس آدمیوں پر مشتمل تھا وہ اس میں داخل تھے اور چھ شخصوں کے ساتھ آنحضرتﷺ کے ہاتھ پر بیعت کی تھی، ارباب علم کی ایک جماعت کا یہی خیال ہے [1]

مؤخات[ترمیم]

آنحضرتﷺ نے مدینہ پہونچ کر انصار و مہاجرین میں برادری قائم کی تو ابو مرثد غنوی کو ان کا بھائی تجویز فرمایا ابو مرثد نہایت قدیم الاسلام صحابی اور حمزہ رسول اللہ ﷺ کے حلیف تھے، اس بنا پر ان کا تعلق خود خاندانِ رسالت سے تھا۔

غزوات[ترمیم]

2ھ میں غزوۂ بدر واقع ہوا، عبادہ نے اس میں شرکت کی، اسی سنہ میں بنو قینقاع عبد اللہ بن ابی کے اشارے سے رسول اللہ ﷺ سے بغاوت پر آمادہ ہوئے، دربار نبوت سے جلاوطنی کا فرمان صادر ہوا، عبادہ نے حلف کا دیرینہ تعلق ان لوگوں سے قطع کر دیا تھا، اخراج البلد کا کام بھی انہی کے متعلق ہوا، [2] قرآن کی یہ آیت ،"يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَتَّخِذُوا الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى"اسی واقعہ کے متعلق نازل ہوئی تھی۔ غزوات عہد نبوت میں بیعت الرضوان کو غیر معمولی اہمیت حاصل ہے، وہ اس بیعت میں بھی شریک تھے۔

== جمع قرآن ==

جمع قرآن کرنے والوں میں آپ بھی تھے،

وفات[ترمیم]

عہدِ فاروقی میں شام کے قاضی رہے،حمّص مقام تھا،فلسطین کے مقام رملہ میں 72 سال کی عمر پاکر 34ہجری میں وفات پائی۔[3]

مزید دیکھیے[ترمیم]

تکیہ ہالہ سلطان

حوالہ جات[ترمیم]

  1. فتح الباری:7/172
  2. طبقات،صفحہ30،قسم اول،جزء2،حصہ مغازی
  3. مرآۃ المناجیح شرح مشکوۃ المصابیح مفتی احمد یار خان نعیمی جلد1صفحہ33نعیمی کتب خانہ گجرات