عبادہ بن صامت

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
عبادہ بن صامت
عبادة بن الصامت.png
 

معلومات شخصیت
پیدائشی نام عبادہ بن صامت
پیدائش سنہ 586  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مدینہ منورہ  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات سنہ 655 (68–69 سال)  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
رملہ، اسرائیل  ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
کنیت ابو الولید
زوجہ ام حرام بنت ملحان
جمیلہ بنت ابی صعصعہ
والد صامت بن قیس بن اصرم بن فہر
والدہ قرۃ العین بنت عبادہ بن نضلہ الخزرجیہ
رشتے دار بھائی:
اوس بن صامت
عملی زندگی
طبقہ صحابہ
نسب الخزرجی الانصاری
پیشہ محدث  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عسکری خدمات
لڑائیاں اور جنگیں غزوات نبوی

عبادہ بن صامت (پیدائش: 586ء — وفات: 655ء) آپ نقیب الانصار ہیں، بیعت عقبہ اولی و بیعت عقبہ ثانیہ میں شامل ہوئے۔

نام ونسب[ترمیم]

عبادہ نام، ابو الولید کنیت، قبیلۂ خزرج کے خاندان سالم سے ہیں نسب نامہ یہ ہے ،عبادہ بن صامت بن قیس بن اصرم بن فہر بن قیس بن ثعلبہ بن غنم (قوقل) بن سالم بن عوف بن عمرو بن عوف بن خزرج ،والدہ کا نام قرۃ العین تھا، جو عبادہ بن نضلہ بن مالک بن عجلان کی بیٹی تھیں، قرۃ العین کے جگر گوشہ کا نام اپنے نانا کے نام پر رکھا گیا۔ بنو سالم کے مکانات مدینہ کے غربی سنگستان کے کنارہ قبأ سے متصل واقع تھے یہاں ان کے کئی قلعے بھی تھے، جو اطم قوافل کے نام سے مشہور ہیں،اس بنا پر عبادہ کا مکان مدینہ سے باہر تھا۔

اسلام[ترمیم]

ابھی جوان تھے کہ مکہ سے اسلام کی صدا بلند ہوئی، جن خوش نصیب لوگوں نے اس کی پہلی آواز کو رغبت کے کانوں سے سنا، عبادہ انہی میں سے ہیں، انصار کے وفد 3 سال تک مدینہ سے مکہ آئے تھے، وہ سب میں شامل تھے، پہلا وفد جو دس آدمیوں پر مشتمل تھا وہ اس میں داخل تھے اور چھ شخصوں کے ساتھ آنحضرتﷺ کے ہاتھ پر بیعت کی تھی، ارباب علم کی ایک جماعت کا یہی خیال ہے [1]اگرچہ کثرت رائے ان کے اسلام کو دوسری بیعت تک موقوف سمجھتی ہے، جس میں بارہ آدمیوں [2] نے مذہب اسلام قبول کیا تھا، تیسری بیعت جس میں ۷۲ اشخاص شامل تھے،حضرت عبادہؓ کی اس میں بھی شرکت تھی۔ [3] اخیر بیعت میں ان کو یہ شرف حاصل ہوا کہ آنحضرتﷺ نے ان کو خاندان توافل کا نقیب تجویز فرمایا۔

مؤخات[ترمیم]

آنحضرتﷺ نے مدینہ پہونچ کر انصار و مہاجرین میں برادری قائم کی تو ابو مرثد غنوی کو ان کا بھائی تجویز فرمایا ابو مرثد نہایت قدیم الاسلام صحابی اور حمزہ رسول اللہ ﷺ کے حلیف تھے، اس بنا پر ان کا تعلق خود خاندانِ رسالت سے تھا۔

غزوات[ترمیم]

2ھ میں غزوۂ بدر واقع ہوا، عبادہ نے اس میں شرکت کی، اسی سنہ میں بنو قینقاع عبد اللہ بن ابی کے اشارے سے رسول اللہ ﷺ سے بغاوت پر آمادہ ہوئے، دربار نبوت سے جلاوطنی کا فرمان صادر ہوا، عبادہ نے حلف کا دیرینہ تعلق ان لوگوں سے قطع کر دیا تھا، اخراج البلد کا کام بھی انہی کے متعلق ہوا، [4] قرآن کی یہ آیت ،"يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَتَّخِذُوا الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى"اسی واقعہ کے متعلق نازل ہوئی تھی۔ غزوات عہد نبوت میں بیعت الرضوان کو غیر معمولی اہمیت حاصل ہے، وہ اس بیعت میں بھی شریک تھے۔ حضرت عبادہؓ کی زندگی ابتدا ہی سے ولولہ انگیز ہے مکہ سے مسلمان ہوکر پلٹے تو مکان پہنچتے ہی والدہ کو مشرف باسلام کیا، [5] کعب بن عجرہ ایک دوست تھے اور ہنوز مسلمان نہ ہوئے تھے،ان کے گھر میں ایک بڑا سا بت رکھا تھا، حضرت عبادہؓ کو فکر تھی کہ کسی صورت سے یہ گھر بھی شرک سے پاک ہو، موقع پاکر اندر گئے اور بت کو بسولے سے توڑ ڈالا، کعب کو ہدایت غیبی ہوئی اور وہ جمیعت اسلام میں آملے۔ [6] آنحضرتﷺ نے مدینہ پہونچ کر انصار و مہاجرین میں برادری قائم کی تو حضرت ابو مرثد غنویؓ کو ان کا بھائی تجویز فرمایا حضرت ابو مرثدؓ نہایت قدیم الاسلام صحابی اور حضرت حمزہؓ رسول اللہ ﷺ کے حلیف تھے، اس بناء پر ان کا تعلق خود خاندانِ رسالت سے تھا۔

۲ھ میں غزوۂ بدر واقع ہوا، حضرت عبادہؓ نے اس میں شرکت کی، اسی سنہ میں بنو قینقاع عبداللہ بن ابی کے اشارے سے رسول اللہ ﷺ سے بغاوت پر آمادہ ہوئے ، دربار نبوت سے جلاوطنی کا فرمان صادر ہوا، حضرت عبادہؓ نے حلف کا دیرینہ تعلق ان لوگوں سے قطع کردیا تھا، اخراج البلد کا کام بھی انہی کے متعلق ہوا، [7]قرآن کی یہ آیت ،"يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَتَّخِذُوا الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى"اسی واقعہ کے متعلق نازل ہوئی تھی۔ مشاہد عہد نبوت میں بیعت الرضوان کو غیر معمولی اہمیت حاصل ہے، وہ اس بیعت [8] میں بھی شریک تھے، خلافت صدیقی میں شام کی بعض لڑائیوں میں شریک تھے، خلافت فاروقی میں مصر کے فتح ہونے میں دیر ہوئی تو عمرو بن عاصؓ نے حضرت عمرؓ کو مزید کمک کے لئے خط لکھا، حضرت عمرؓ نے ۴ ہزار فوج روانہ کی جس میں ایک ہزارفوج کے حضرت عبادہؓ افسر تھے اور جواب میں لکھا کہ ان افسروں میں ہر شخص ایک ہزار آدمیوں [9] کے برابر ہے،یہ کمک مصر پہنچی تو عمروبن عاصؓ نے تمام فوج کو یکجا کرکے ایک پراثر تقریر کی اورحضرت عبادہؓ کو بلا کر کہا کہ اپنا نیزہ مجھ کو دیجئے، خود سر سے امامہ اتارا اور نیزہ پر لگاکر ان کے حوالہ کیا کہ یہ سپہ سالار کا علم ہے اور آج آپ سپہ سالار ہیں ،خدا کی شان کہ پہلے ہی حملہ میں شہر فتح ہوگیا۔

جمع قرآن[ترمیم]

جمع قرآن کرنے والوں میں آپ بھی تھے،

ملکی خدمات[ترمیم]

خدمات ملکی کے سلسلہ میں تین چیزیں قابل ذکر ہیں صدقات کی افسری فلسطین کی قضاءت اورحمص کی امارت۔ آنحضرت ﷺ نے اپنے اخیر عہد میں صدقہ کے عمال تمام اضلاع عراق روانہ کیے تھے، حضرت عبادہؓ کو بھی کسی مقام کا عامل بنایا تھا، وصیت کے طورپر فرمایا کہ خدا سے ڈرنا ایسا نہ ہو کہ قیامت کے دن چو پائے تک فریاد ہوکر آئیں انہوں نے کہا کہ خدا کی قسم میں دو آدمیوں پر بھی عامل بننے کا خواہش مند نہیں۔ حضرت عمرؓ نے اپنے زمانہ خلافت میں فلسطین کا قاضی بنایا تھا اس زمانہ میں یہ صوبہ حضرت امیر معاویہؓ کی ماتحتی میں تھا، کسی بات پر دونوں میں اختلاف ہو گیا جس میں حضرت امیر معاویہؓ نے سخت کلامی کی تو انہوں نے کہا کہ آئندہ تم جہاں ہوگے میں نہ رہوں گا، ناراض ہوکر فلسطین سے مدینہ آئے،حضرت عمرؓ نے دیکھا تو پوچھا کیوں؟ انہوں نے سارا قصہ دہرایا فرمایا کہ آپ اپنی جگہ پر جایے دنیا آپ ہی جیسے لوگوں سے قائم ہے، جہاں آپ لوگ نہ ہوں گے خدا اس زمین کو خراب کر دے گا ، اس کے بعد امیر معاویہؓ کو ایک خط لکھا کہ عبادہؓ کو تمہاری ماتحتی سے الگ کرتا ہوں، قضاءت فلسطین کا یہ پہلا عہدہ تھا جو حضرت عبادہؓ کو تفویض ہوا اسی زمانہ میں حضرت ابو عبیدہؓ نے کہ شام کے امیر تھے ان کو حمص کا نائب بنایا حمص کے زمانہ قیام میں انہوں نے لاذقیہ فتح کیا اور اس میں ایک خاص فوجی ایجاد کی یعنی بڑے بڑے گڈھے کھدوائے جن میں ایک شخص مع اپنے گھوڑے کے چھپ سکتا تھا یہ طریقہ آج یورپ میں بھی رائج ہے۔ [10]

وفات[ترمیم]

عہدِ فاروقی میں شام کے قاضی رہے،حمّص مقام تھا،فلسطین کے مقام رملہ میں 72 سال کی عمر پاکر 34ہجری میں وفات پائی۔[11]حضرت عبادہ ؓ تادم مرگ شام میں سکونت پذیر رہے، ۳۴ھ میں پیغام اجل آیا اس وقت ان کا سن ۷۲ سال کا تھا وفات سے پہلے بیمار رہے ،لوگ عیادت کو آتے تھے شداد بنؓ اوس کچھ آدمیوں کے ساتھ ان کے مکان پر آئے پوچھا کیسا مزاج ہے، فرمایا خدا کے فضل سے اچھا ہوں۔ وفات کے قریب بیٹا آیا اور درخواست کی کہ وصیت کیجئے، فرمایا مجھے اٹھا کے بٹھلاؤ اس کے بعد کہا بیٹا! تقدیر پر یقین رکھنا ورنہ ایمان کی خیریت نہیں۔ [12] اسی حالت میں صنا بحی پہنچے، دیکھا تو استاد جاں بلب تھا آنکھوں میں آنسو بھر آئے اور بیتاب ہوکر زار وقطار رونے لگے ،استاد شفیق نے رونے سے منع کیا اورکہا کہ ہر طرح سے راضی ہوں، شفاعت کی ضرورت ہوگی تو شفاعت کروں گا، شہادت کیلئے چاہو گے تو شہادت دونگا، غرض حتی الوسع تم کو نفع پہنچاؤں گا اس کے بعد فرمایا کہ جتنی حدیثیں ضروری تھیں تم لوگوں تک پہنچا چکا ، البتہ ایک حدیث باقی تھی، اس کو اب بیان کئے دیتا ہوں، [13] حدیث بیان کرچکے تو روح ،جسم کو وداع کہہ کر جو اررحمت میں پرواز کر گئی یہ حضرت عثمانؓ کے عہدِ خلافت کا واقعہ ہے۔ مدفن کے متعلق اختلاف ہے ،ابن سعد نے رملہ لکھا ہے ،دوسری روایتوں میں بیت المقدس کا نام آیا ہے اور لکھا کہ ان کی قبر وہاں اب تک مشہور ہے، امام بخاری نے فلسطین کو مدفن قرار دیا ہے، لیکن اصل یہ ہے کہ فلسطین ایک صوبہ تھا جس کے رملہ اور بیت المقدس اضلاع تھے۔

حلیہ[ترمیم]

حلیہ یہ تھا، قد دراز (10 بالش طول تھا) بدن دوہرا، رنگ ملیح، نہایت جمیل تھے ۔

اولاد[ترمیم]

اولاد کے نام یہ ہیں ،ولید، عبد اللہ، داؤد ،ان میں سے ولید کے دوبیٹے ،عبادہ اور یحییٰ اور موخرالذکر کے لڑکے اسحاق حدیث کے مشہور راویوں میں ہیں۔

فضل وکمال[ترمیم]

حضرت عبادہؓ فضلائے صحابہ میں تھے،قرأت ان کا خاص فن تھا، انہوں نے آنحضرتﷺ کے زمانہ میں پورا قرآن حفظ کر لیا تھا، اسلام کا پہلا مدرسۂ قرأت جو عہد نبوی میں اصحابِ صفہ کے لیے قائم ہوا تھا انہی کے زیر ریاست تھا اہل صفہ وہ صحابہ کبار تھے،ان سے تعلیم پاتے تھے یہاں قرآن کے ساتھ لکھنا بھی سکھایا جاتا تھا؛ چنانچہ بہت سے لوگ قرأت اورکتابت سیکھ کر یہاں سے نکلے تھے۔ [14] بعض تلامذہ کے رہنے سہنے اور کھانے پینے کا انتظام بھی استاد کے متعلق ہوتا تھا اس قسم کے بہت سے لوگ آتے تھے،ایک شخص کی نسبت مذکور ہے کہ ان کے گھر میں رہتا تھا اور شام کا کھانا بھی ان کے ساتھ کھاتا تھا، مکان جانے کا قصد کیا تھا تو ایک عمدہ کمان استاد کے نذر کی،انہوں نے آنحضرتﷺ سے ذکر کیا، آپ نے اس کے قبول کرنے سے منع فرمایا۔ [15] عہد نبوی کے بعد جب شام کے مسلمانوں کو تعلیم قرآن کی ضرورت ہوئی تو حضرت عمرؓ نے ان کو شام روانہ کیا وہ پہلے حمص گئے لیکن کچھ زمانہ کے بعد فلسطین کو اپنا مستقر بنایا۔ حدیث میں حضرت عبادہؓ بعض اولیات کے موجد ہوئے،صحابہؓ کے زمانہ میں رسول اللہ ﷺ تک سلسلۂ حدیث پہنچانے کا یہ طرز تھا کہ صحابی کہتا تھا کہ میں نے اس کو رسول اللہ ﷺ سے سنا،لیکن بعض بزرگ ایسے بھی تھے ،جنھوں نے الفاظ روایت میں وہ مدارج قائم کیے جو بعد میں روایت حدیث کا جزء قرار پا گئے،حضرت عبادہؓ نے بھی ان الفاظ میں ایک اضافہ کیا، ایک شخص سے حدیث بیان کی تو فرمایا: قال رسول اللہ ﷺ من فی الی فی لااقول حدثنی فلاں ولا فلاں یعنی رسول اللہ ﷺ نے میرے سامنے فرمایا، میں یہ نہیں کہتا کہ مجھ سے فلاں فلاں لوگوں نے حدیث بیان کی۔ [16] اسی طرح ایک مجمع میں خطبہ دیا اور حضرت امیر معاویہؓ نے ایک حدیث سے انکار ظاہر کیا تو فرمایا : اشھدانی سمت رسول اللہ ﷺ میں گواہ ہوں کہ میں نے آنحضرتﷺ سے سنا۔ اشاعتِ حدیث کا خاص اہتمام تھا مجامع وعظ مجالسِ علم، نجی مجالس ہر جگہ اس کا چرچا رہتا تھا، کبھی گرجے میں جاتے تو وہاں بھی رسول اللہ ﷺ کا کلام مسلمانوں اور عیسائیوں کے گوش گزار کرتے تھے۔ [17]مرویات کی تعداد 181 تک پہنچتی ہے جس کے روایت کرنے والے اکابر صحابہ اور نبلاء تابعین ہیں ،چنانچہ وابستگانِ نبوت میں حضرت انسؓ بن مالک حضرت جابرؓ بن عبد اللہ حضرت ابو امامہؓ حضرت سلمہؓ بن محیق محمود بن ؓ ربیع ،حضرت مقدام بن ؓ معد یکرب، حضرت رفاعہؓ بن رافع ،حضرت اوسؓ بن عبد اللہ ثقفی، شرجیل بنؓ حسنہ اور تابعین باحسان میں عبدالرحمن بن عسیلہ صنابجی جطان بن عبد اللہ رقاشی، ابوالاشعث صفانی، جبیر بن نضیر جنادہ بن ابی امیہ اسود بن ثعلبہ، عبد اللہ بن محیریز ربیعہ بن ناجد، عطا بن یسار، قبیصہ بن ذویب، نافع بن محمود بن ربیعہ، یعلی بن شداد بن اوس، ابو مسلم خولانی، ابو ادریس خولانی، اس مخزن علم سے فیض یاب ہوئے ہیں۔ فقہ میں کمال علمی مسلم تھا اور تمام صحابہؓ اس کا اعتراف کرتے تھے،شام کے مسلمانوں کو قرآن اور فقہ کی تعلیم کی ضرورت ہوئی تو حضرت عمرؓ نے اس کام کے لیے انہی کا انتخاب کیا۔ حضرت امیر معاویہؓ نے طاعون عمواس کا خطبہ میں ذخر کیا تو کہا کہ مجھ سے اور عبادہؓ سے اس مسئلہ میں گفتگو ہوچکی ہے، لیکن بات وہی ٹھیک تھی جو انہوں نے کہی تھی تم لوگ ان سے فائدہ اٹھاؤ کیونکہ وہ مجھ سے زیادہ فقیہ ہیں۔ جنادہ حضرت عبادہؓ سے ملاقات کو گئے تو بیان کرتے ہیں کہ: وکان قد تفقہ فی دین اللہ وہ دین الہی میں فقیہ تھے۔

اخلاق وعادات[ترمیم]

امرا کے مقابلہ میں حق گوئی:حضرت عبادہؓ کے تاج فضیلت کا طرہ رہی ہے وہ نہایت جوش سے اس فرض کو ادا کرتے تھے، شام گئے اور وہاں بیع شراء میں شرعی خرابیاں دیکھیں تو ایک خطبہ دیا جس سے تمام مجمع میں ہلچل پڑ گئی، حضرت امیر معاویہؓ بھی موجود تھے بولے کہ عبادہؓ سے آنحضرتﷺ نے یہ نہیں فرمایا تھا، اب ان کے طیش کو کون روک سکتا تھا فرمایا کہ مجھے معاویہؓ کے ساتھ رہنے کی بالکل پروا نہیں میں گواہی دیتا ہوں کہ آنحضرت ﷺ نے یہ ارشاد فرمایا تھا۔ [18] یہ حضرت عمرؓ کے عہد خلافت کا واقعہ تھا؛ لیکن عہد عثمانی میں حضرت امیر معاویہؓ نے دربار خلافت میں شکایت لکھی کہ عبادہ نے تمام شام بگاڑ رکھا ہے یا تو ان کو مدینہ بلائیے یا میں شام چھوڑدوں گا، امیر المومنین نے جواب میں لکھا کہ ان کو یہاں روانہ کردو ،مدینہ پہنچ کر سیدھے حضرت عثمانؓ کے کاشانہ میں پہنچے،جہاں صرف ایک شخص تھا جو مہاجر اور تابعی تھا،لیکن باہر بہت سے لوگ جمع تھے اندر جاکر ایک گوشہ یں بیٹھ گئے حضرت عثمانؓ کی نظر اٹھی تو حضرت عبادہؓ سامنے تھے،پوچھا کیا معاملہ ہے،پیکر حق اب بھی راست گوئی کا وہی جذبہ رکھتا تھا، کھڑے ہوکر مجمع سے مخاطب ہوا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ میرے بعد امرا منکر کو معروف اور معروف کو منکر سے بدل دیں گے،لیکن معصیت میں طاعت جائز نہیں، تم لوگ بدی میں ہر گز آلودہ نہ ہونا۔ [19] حضرت ابو ہریرہؓ نے کسی بات میں داخل دیا تو فرمایا کہ جب ہم نے آنحضرتﷺ سے بیعت کی تھی تم اس وقت موجود نہ تھے (پھر تم ناحق بیچ میں پڑتے ہو) ہم نے آنحضرتﷺ سے ان شرائط پر بیعت کی تھی کہ چستی اور کاہلی میں آپ کا کہنا مانیں گے فراخی اور تنگی میں مالی امداد دیں گے، اچھی باتیں پہنچائیں گے، بری باتوں سے روکیں گے سچ کہنے میں کسی سے نہ ڈریں گے،آنحضرتﷺ یثرب تشریف لائیں گے تو مدد کریں گے اور جان ومال اور اولاد کی طرح آپ کی نگہبانی کریں گے، ان سب باتوں کا صلہ جنت کی صورت میں دیا جائے گا، پس ہم کو ان باتوں پر پورے طور سے عمل کرنا چاہیے اور جو نہ کرے وہ اپنا آپ ذمہ دار ہے۔ [20] اس فرض امر معروف کو وہ راستہ چلتے بھی ادا کرتے تھے،ایک دفعہ کسی سمت جا رہے تھے عبد اللہ بن عباد زرقی کو دیکھا کہ چڑیاں پکڑ رہے ہیں ،چڑیا ہاتھ سے چھین کر اڑادی اور کہا بیٹا یہ حر م میں داخل ہے یہاں شکار جائزنہیں۔ حب رسول کا یہ عالم تھا کہ بیعت کرنے کے بعد 2 مرتبہ مکہ جاکر رسول اللہ ﷺ کی زیارت کی آنحضرتﷺ مدنیہ تشریف لائے تو کوئی غزوہ اور واقعہ ایسا نہ تھا جس کی شرکت کا شرف انہیں حاصل نہ ہوا ہو، انہی وجوہ سے آنحضرتﷺ کو ان سے خاص محبت تھی۔ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَى عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ يَعُودُهُ فِي مَرَضِهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَعْلَمُونَ مَنْ الشَّهِيدُ مِنْ أُمَّتِي فَأَرَمَّ الْقَوْمُ فَقَالَ عُبَادَةُ سَانِدُونِي فَأَسْنَدُوهُ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ الصَّابِرُ الْمُحْتَسِبُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ شُهَدَاءَ أُمَّتِي إِذًا لَقَلِيلٌ الْقَتْلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ شَهَادَةٌ وَالطَّاعُونُ شَهَادَةٌ وَالْغَرَقُ شَهَادَةٌ وَالْبَطْنُ شَهَادَةٌ وَالنُّفَسَاءُ يَجُرُّهَا وَلَدُهَا بِسُرَرِهِ إِلَى الْجَنَّةِ۔ [21] ایک مرتبہ وہ بیمار پڑے تو خود سردار دو عالمﷺ عیادت کو آئے، انصار کے کچھ لوگ ہمرکاب تھے، فرمایا جانتے ہو شہید کون ہے؟ لوگ خاموش رہے،حضرت عبادہؓ نے اپنی بیوی سے کہا کہ ذرا مجھے تکیہ سے لگا کر بیٹھاؤ، بیٹھ کر رسول اللہ ﷺ کے سوال کا جواب دیا کہ جو مسلمان ہو ہجرت کرے اور معرکہ میں قتل ہو ، آپ نے فرمایا نہیں ،اس صورت میں تو شہیدوں کی تعداد بہت کم ہوگی قتل ہونا، ہیضہ میں مرنا، غرق آب ہونا اور عورت کا زچگی میں مرجانا یہ سب شہادت میں داخل ہے۔ [22] رسول اللہ ﷺ علیل ہوئے تو صبح و شام دیکھنے جاتے تھے ،آپ نے اسی حالت میں ان کو ایک دعا بتائی اور فرمایا کہ مجھ کو جبرئیل علیہ السلام نے تلقین کی تھی۔ [23]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. فتح الباری:7/172
  2. (مسند احمد:۵/۳۲۳)
  3. (مسند:۵/۳۱۶)
  4. طبقات،صفحہ30،قسم اول،جزء2،حصہ مغازی
  5. (زرقانی:۱/۳۶۱)
  6. (نزہتہ الابرار فی الاسلامی ومناقب الاخیار قلمی ورق:۱۶۳)
  7. (طبقات،صفحہ۳۰،قسم اول،جزء۲،حصہ مغازی)
  8. (مسند :۵/۳۱۹)
  9. (کنز العمال:۲/۱۵۱،بحوالہ ابن عبدالحکم)
  10. (بلاذری فتوح البلدان:139)
  11. مرآۃ المناجیح شرح مشکوۃ المصابیح مفتی احمد یار خان نعیمی جلد1صفحہ33نعیمی کتب خانہ گجرات
  12. (مسند:۵/۳۱۷)
  13. (مسند:۵/۳۱۸)
  14. (مسند:5/215)
  15. (مسند:5/224)
  16. (مسند:5/224)
  17. (مسند:5/319،320)
  18. (مسند:5/319)
  19. (مسند:5/319)
  20. (مسند:5/325)
  21. (مسند احمد،حدیث راشد بن حبیش،حدیث نمبر:15426)
  22. (مسند:317)
  23. (مسند:323)