عبادہ بن صامت

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
عبادہ بن صامت
معلومات شخصیت
پیدائشی نام عبادہ بن صامت
پیدائش 38ق۔ھ
یثرب
تاریخ وفات 34ھ
کنیت ابو الولید
زوجہ ام حرام بنت ملحان
جمیلہ بنت ابی صعصعہ
والد صامت بن قیس بن اصرم بن فہر
والدہ قرۃ العین بنت عبادہ بن نضلہ الخزرجیہ
رشتے دار بھائی:
اوس بن صامت
عملی زندگی
طبقہ صحابہ
نسب الخزرجی الانصاری
عسکری خدمات
لڑائیاں اور جنگیں غزوات نبوی

عبادہ بن صامت آپ نقیب الانصار ہیں،پہلی اور دوسری بیعت عقبہ میں شامل ہوئے۔

نام ونسب[ترمیم]

عبادہ نام، ابو الولید کنیت، قبیلۂ خزرج کے خاندان سالم سے ہیں نسب نامہ یہ ہے ،عبادہ بن صامت بن قیس بن اصرم بن فہر بن قیس بن ثعلبہ بن غنم (قوقل) بن سالم بن عوف بن عمرو بن عوف بن خزرج ،والدہ کا نام قرۃ العین تھا، جو عبادہ بن نضلہ بن مالک بن عجلان کی بیٹی تھیں، قرۃ العین کے جگر گوشہ کا نام اپنے نانا کے نام پر رکھا گیا۔ بنو سالم کے مکانات مدینہ کے غربی سنگستان کے کنارہ قبأ سے متصل واقع تھے یہاں ان کے کئی قلعے بھی تھے، جو اطم قوافل کے نام سے مشہور ہیں،اس بناء پر عبادہ کا مکان مدینہ سے باہر تھا۔

اسلام[ترمیم]

ابھی جوان تھے، کہ مکہ سے اسلام کی صدا بلند ہوئی، جن خوش نصیب لوگوں نے اس کی پہلی آواز کو رغبت کے کانوں سے سنا، عبادہ انہی میں سے ہیں، انصار کے وفد 3 سال تک مدینہ سے مکہ آئے تھے، وہ سب میں شامل تھے، پہلا وفد جو دس آدمیوں پر مشتمل تھا وہ اس میں داخل تھے اور چھ شخصوں کے ساتھ آنحضرتﷺ کے ہاتھ پر بیعت کی تھی، ارباب علم کی ایک جماعت کا یہی خیال ہے [1]

مؤخات[ترمیم]

آنحضرتﷺ نے مدینہ پہونچ کر انصار و مہاجرین میں برادری قائم کی تو ابو مرثد غنوی کو ان کا بھائی تجویز فرمایا ابو مرثد نہایت قدیم الاسلام صحابی اور حمزہ رسول اللہ ﷺ کے حلیف تھے، اس بناء پر ان کا تعلق خود خاندانِ رسالت سے تھا۔

غزوات[ترمیم]

2ھ میں غزوۂ بدر واقع ہوا، عبادہ نے اس میں شرکت کی، اسی سنہ میں بنو قینقاع عبداللہ بن ابی کے اشارے سے رسول اللہ ﷺ سے بغاوت پر آمادہ ہوئے ، دربار نبوت سے جلاوطنی کا فرمان صادر ہوا، عبادہ نے حلف کا دیرینہ تعلق ان لوگوں سے قطع کر دیا تھا، اخراج البلد کا کام بھی انہی کے متعلق ہوا، [2] قرآن کی یہ آیت ،"يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَتَّخِذُوا الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى"اسی واقعہ کے متعلق نازل ہوئی تھی۔ غزوات عہد نبوت میں بیعت الرضوان کو غیر معمولی اہمیت حاصل ہے، وہ اس بیعت میں بھی شریک تھے۔

== جمع قرآن ==

جمع قرآن کرنے والوں میں آپ بھی تھے،

وفات[ترمیم]

عہدِ فاروقی میں شام کے قاضی رہے،حمّص مقام تھا،فلسطین کے مقام رملہ میں 72 سال کی عمر پاکر 34ہجری میں وفات پائی۔[3]

مزید دیکھیے[ترمیم]

تکیہ ہالہ سلطان

حوالہ جات[ترمیم]

  1. فتح الباری:7/172
  2. طبقات،صفحہ30،قسم اول،جزء2،حصہ مغازی
  3. مرآۃ المناجیح شرح مشکوۃ المصابیح مفتی احمد یار خان نعیمی جلد1صفحہ33نعیمی کتب خانہ گجرات