ابو مسعود بدری

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

ابو مسعود بدری عقبہ بن عمر اصل نام تھا لقب سے مشہور ہیں

نام ونسب[ترمیم]

عقبہ نام،ابو مسعود کنیت ،سلسلۂ نسب یہ ہے،عقبہ بن عمر بن ثعلبہ بن اسیرہ بن عمیرہ ابن عطیہ بن ۔۔۔۔ بن عوف بن حارث بن خزرج۔

اسلام[ترمیم]

عقبہ ثانیہ میں اسلام قبول کیا اور دین حنیفی کے پر جوش داعی ثابت ہوئے۔

غزوات اور عام حالات[ترمیم]

تمام غزوات میں شرکت کی، عام خیال یہ ہے کہ غزوہ بدر میں شریک نہ تھے،صرف بدر کی سکونت سے بدری مشہور ہو گئے ،لیکن یہ صحیح نہیں امام شعبہ بخاری، مسلم ان کی شرکت بدر کا اعتراف کرتے ہیں،امام بخاری نے جامع صحیح میں اس کی طرف صاف طورپر اشارہ کیا ہے۔ اس کے سوا بیعتِ عقبہ کی شرکت پر تمام ائمہ فن متفق ہیں، پھر بدر سے غائب ہونے کی کیا وجہ ہوسکتی ہے؟ عہد نبوت اورخلفاء ثلاثہ کے زمانہ تک مدینہ میں اقامت پزیر رہے،کچھ دنوں بدر میں سکونت رکھی، حضرت علی کے دورخلافت میں کوفہ میں منتقل ہو گئے، (بخاری:2/571) اوریہاں مکان بنوالیا تھا۔[1] حضرت علیؓ کے احباب خاص میں تھے جب آپ جنگ صفین کے لیے روانہ ہوئے تو ان کو کوفہ میں اپنا جانشین بناکر گئے اورآپ کی واپسی تک کوفہ انہی کی ذات سے مرکز امارت رہا۔ جنگ صفین کے بعد وطن (مدینہ) کی محبت نے اپنی طرف کھینچا، اورآپ مدینہ لوٹ آئے ۔

وفات[ترمیم]

40ھ میں انتقال کیا، بعض کا خیال ہے کہ امیر معاویہ کے اخیر زمانہ خلافت تک موجود تھے،لیکن یہ غلطی سے خالی نہیں تاہم اس قدر یقینی ہے کہ مغیرہ بن شعبہ کی ولایت کوفہ کے وقت زندہ تھے۔

اولاد[ترمیم]

لڑکے کا نام بشیر تھا ایک صاحبزادی تھیں، جو امام حسین کو منسوب تھیں زید انہی کے بطن سے تولد ہوئے تھے۔ بشیرآنحضرتﷺ کے زمانہ میں یا کچھ بعد میں پیدا ہوئے تھے۔

فضل وکمال[ترمیم]

حضرت ابو مسعودؓ نے حدیث نبوی کی نشر واشاعت کا فرض بھی انجام دیا ،راویان حدیث کے تیسرے طبقہ میں ان کا شمار ہے اورکتب حدیث میں 102 روایتیں ان کی موجود ہیں ،رواۃ میں تابعین کے کئی طبقے داخل ہیں جن میں مشہور لوگوں کے نام یہ ہیں: بشیر، عبد اللہ بن یزید خطمی، ابو وائل ،علقمہ، قیس بن ابی حازم، عبدالرحمن بن یزید نخعی، یزید بن شریک تیمی، محمد بن عبد اللہ بن زید بن عبدربہ انصاری۔

اخلاق[ترمیم]

پابندی احکام رسول اور امر بالمعروف آپ کے خاص اوصاف تھے حکم نبوی کی متابعت کا یہ واقعہ ہے کہ وہ ایک مرتبہ اپنے غلام کو مار رہے تھے پیچھے سے آواز آئی ،ابو مسعود ذرا سوچ کر ایسا کرو! جس خدا نے اس پر تم کو قادر کیا اس کو تم پر بھی قدرت دے سکتا ہے یہ آنحضرتﷺ کی آواز تھی دل پر خاص اثر پڑا قسم کھاکر عرض کیا کہ آیندہ کسی غلام کو نہ ماروں گا اوراس کو آزاد کرتا ہوں۔ امربالمعروف کے فرض سے بھی غافل نہ رہتے تھے ایک مرتبہ مغیرہ بن شعبہؓ نے امارت کوفہ کے زمانہ میں نماز عصر دیر میں پڑھائی، اسی وقت ان کو ٹوکا کہ آپ کو معلوم ہے کہ آنحضرتﷺ نماز پنجگانہ حضرت جبریلؑ کے بتانے کے مطابق پڑہتے تھے اور فرماتے تھے کہ ھکذاا مرت۔ سنت کی پوری اتباع کرتے تھے ایک روز لوگوں سے کہا کہ جانتے ہو؟ رسول اللہ ﷺ کس طرح نماز پڑہتے تھے پھر خود نماز پڑھاکر بتائی۔[2] نماز میں مل کر کھڑے ہونا، رسول اللہ ﷺ کی سنت ہے لوگوں نے اس کو چھوڑا تو فرمایا،اس کا فائدہ یہ تھا کہ باہم اتفاق تھا اب تم لوگ دور دور کھڑے ہوتے ہو اسی وجہ سے تو اختلاف پیدا ہو گیا ہے۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. الإصابة في تمييز الصحابة۔المؤلف: أبو الفضل أحمد بن علي بن محمد بن أحمد بن حجر العسقلاني الناشر: دار الكتب العلمية - بيروت
  2. مسند:5/122