بلال ابن رباح

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
بلال ابن رباح
(عربی میں: بلال بن رباح ویکی ڈیٹا پر (P1559) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
بلال بن رباح.png

معلومات شخصیت
پیدائشی نام بلال بن رباح
پیدائش سنہ 580  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مکہ  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات سنہ 642 (61–62 سال)  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
دمشق  ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مدفن باب صغیر  ویکی ڈیٹا پر (P119) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Black flag.svg خلافت راشدہ  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
کنیت ابو عبد الکریم
ابو عبد اللہ
ابو عمرو
زوجہ ہند الخولانیہ
والدہ حمامہ
عملی زندگی
نسب حبشی
پیشہ صحابی  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عسکری خدمات
لڑائیاں اور جنگیں غزوات نبوی
بلال ابن رباح کی قبر باب صغیر دمشق میں

بلال ابن رباح (عربی: بلال بن رباح الحبشي) المعروف بلال حبشی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے مشہور صحابی تھے۔

نام،نسب[ترمیم]

بلال نام ،ابوعبداللہ کنیت،والد کا نام رباح اوروالدہ کانام حمامہ تھا،یہ حبشی نژاد غلام تھے ؛لیکن مکہ ہی میں پیدا ہوئے،بنی جمح ان کے آقا تھے۔ [1]

اسلام[ترمیم]

حضرت بلال ؓ صورت ظاہری کے لحاظ سےتو ایک سیاہ فام حبشی تھے،تاہم آئینۂ دل شفاف تھا، اس کو ضیائے ایمان نے اس وقت منور کیا، جب کہ وادیٔ بطحاء کی اکثر گوری مخلوق غرورِ حسن وزعمِ شرافت میں ضلالت و گمراہی کی ٹھوکریں کھا رہی تھی، جن معدودے چند بزرگوں نے داعیِ حق کو لبیک کہا تھا ان میں صرف ساتھ آدمیوں کو اس کے اعلان کی توفیق ہوئی تھی جن میں ایک یہ غلام حبشی بھی تھا، سچ ہے۔ ایں سعادت بزدربازونیست تانہ بخشند خدائے بخشندہ

ابتلاءواستقامت[ترمیم]

کمزورہمیشہ سب سے زیادہ ظلم وستم کا آماجگاہ رہتا ہے،حضرت بلال ؓ کی جوذاتی حالت تھی، اس کے لحاظ سے وہ اوربھی اس ناموس جفاکے شکار ہوئے،گوناگوں مصائب اورطرح طرح کے مظالم سے ان کے استقلال واستقامت کی آزمائش ہوئی،تپتی ہوئی ریت ،جلتے ہوئے سنگریزوں اوردہکتے ہوئے انگاروں پر لٹائے گئے، مشرکین کے لڑکوں نے گلے مبارک میں رسیاں ڈال کر بازیچۂ اطفال بنایا؛ لیکن ان تمام روح فرساآزمائشوں کے باوجود توحید کی مضبوط رسی کو ہاتھ سے نہ چھوڑا، ابوجہل ان کو منہ کے بل سنگریزوں پر لٹا کر اوپر سے پتھر کی چکی رکھدیتا اورجب آفتاب کی تمازت بیقرار کردیتی تو کہتا،بلال ؓ اب بھی محمد کے خدا سے بازآ،لیکن اس وقت بھی دہن مبارک سے یہی احد احد نکلتا۔ [2]

ستم پیشہ مشرکین میں امیہ بن خلف سب سے زیادہ پیش پیش تھا، اس کی جدت طرازیوں نے ظلم وجفاکے نئے طریقے ایجاد کیے تھے،وہ ان کو طرح طرح سے اذیتیں پہنچا تا، کبھی گائے کی کھال میں لپیٹتا ،کبھی لوہے کی زرہ پہنا کر جلتی ہوئی دھوپ میں بٹھا تا اورکہتا تمہارا خدا لات اورعزیٰ ہے، لیکن اس وارفتۂ توحید کی زبان سے احد احد کے سوا اورکوئی کلمہ نہ نکلتا،مشرکین کہتے کہ تم ہمارے ہی الفاظ کا اعادہ کرو تو فرماتے کہ میری زبان ان کو اچھی طرح ادا نہیں کرسکتی۔ [3]

آزادی[ترمیم]

حضرت بلال ؓ ایک روز حسبِ معمول وادیٔ بطحاء میں مشقِ ستم بنائے جا رہے تھے،حضرت ابوبکر صدیق ؓ اس طرف سے گذرے تو یہ عبرت ناک منظر دیکھ کر دل بھر آیا اورایک گرانقدر رقم معاوضہ دے کر آزاد کر دیا، آنحضرت ﷺ نے سنا تو فرمایا،ابوبکر تم مجھے اس میں شریک کرلو، عرض کیا یا رسول اللہ میں آزاد کراچکا ہوں۔ [4]

ہجرت[ترمیم]

وہ مکہ سے ہجرت کر کے مدینہ پہنچے تو حضرت سعد بن خثیمہ ؓ کے مہمان ہوئے حضرت ابوردیحہ ؓ عبد اللہ بن عبدالرحمن خثعمی ؓ سے مواخات ہوئی،ان دونوں میں نہایت شدید محبت پیدا ہو گئی تھی، عہدِ فاروق میں حضرت بلال ؓ نے شامی مہم میں شرکت کا ارادہ کیا توحضرت عمرؓ نے پوچھا، بلال ؓ تمہارا وظیفہ کون وصول کرے گا؟ عرض کیا"ابوردیحہ ؓ کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے ہم دونوں میں جو برادرانہ تعلق پیدا کر دیا ہے وہ کبھی منقطع نہیں ہوسکتا۔ [5]

موذن[ترمیم]

مدینہ کا اسلام مکہ کی طرح بے بس اورمجبورنہ تھا،یہاں پہنچنے کے ساتھ شعارِ اسلام ودین متین کی اصولی تدوین وتکمیل کا سلسلہ شروع ہوا، مسجد تعمیر ہوئی ،خدائے لایزال کی عبادت وپرستش کے لیے نماز پنجگانہ قائم ہوئی اوراعلان عام کے لیے اذان کا طریقہ وضع کیا گیا، حضرت بلال ؓ سب سے پہلے وہ بزرگ ہیں جو اذان دینے پر مامور ہوئے۔ [6] حضرت بلال ؓ کی آواز نہایت بلند وبالا ودلکش تھی،ان کی ایک صدا توحید کے متوالوں کو بے چین کردیتی تھی،مرد اپنا کاروبار،عورتیں شبستان حرم اوربچے کھیل کود چھوڑ کروالہانہ وارفتگی کے ساتھ ان کے ارد گرد جمع ہوجاتے ،جب خدائے واحد کے پرستاروں کا مجمع کافی ہوجاتا تو نہایت ادب کے ساتھ آستانہ نبوت پر کھڑے ہوکر کہتے حی علی الصلوۃ، حی علی الفلاح، الصلوۃ یا رسول اللہ! یعنی یارسول اللہ نماز تیار ہے،غرض آپ تشریف لاتے اورحضرت بلال ؓ کی صدائے سامعہ نواز تکبیر اقامت کے نعروں سے بندگانِ توحید کو بارگاہِ ذوالجلال والاکرام میں سربسجود ہونے کے لیے صف بصف کھڑا کردیتی۔ [7] حضرت بلال ؓ اگر کسی روز مدینہ میں موجود نہ ہوتے تو حضرت ابو محذورہ ؓ اورحضرت عمروبن ام مکتوم ؓ ان کی قائم مقامی کرتے تھے، صبح کی اذان عموماً کچھ رات رہتے ہوئے دیتے تھے،یہی وجہ ہے کہ صبح کے وقت دواذانیں مقرر کی گئی تھیں، آخری اذان حضرت عمروبن ام مکتوم ؓ دیتے تھے، چونکہ وہ نابینا تھے،اس لیے ان کو وقت کا پتہ نہ تھا ،جب لوگ ان سے کہتے کہ"صبح ہو گئی"تو اُٹھ کر ندائے تکبیر بلند فرماتے تھے، اسی بنا پر رمضان میں حضرت بلال ؓ کی اذان کے بعدکھانا پیناجائز تھا،کیونکہ آپ ﷺ نے فرمایا تھا کہ بلال ؓ کی اذان صرف اس لیے ہے کہ جو لوگ رات بھر عبادتِ الہی میں مصروف رہے ہیں وہ کچھ آرام کریں اورجو تمام رات خواب راحت میں سرشار رہے ہیں وہ بیدار ہوکر نمازصبح کی تیاری کریں،لیکن وہ صبح کا وقت نہیں ہوتا ؛بلکہ کچھ رات باقی رہتی ہے۔ [8] حضرت بلال ؓ سفروحضر ہر موقع پر رسول اللہ ﷺ کے مؤذن خاص تھے،ایک دفعہ سفردرپیش تھا،ایک جگہ رات ہو گئی، بعض صحابہ ؓ نے عرض کیا،یا رسول اللہ اگر اسی جگہ پڑاؤ کا حکم ہوتا تو بہتر تھا، ارشاد ہوا،مجھے خوف ہے کہ نیند تم کو نماز سے غافل کر دے گی،حضرت بلال ؓ کو اپنی شب بیداری پر اعتماد تھا، انہوں نے بڑھ کر ذمہ لیا کہ وہ سب کو بیدار کر دیں گے،غرض پڑاؤ کا حکم ہوا اورسب لوگ مشغولِ راحت ہوئے، حضرت بلال ؓ نے مزید احتیاط کے خیال سے شب زندہ داری کا ارادہ کر لیا اوررات بھر اپنے کجاوہ پر ٹیک لگائے بیٹھے رہے،لیکن اتفاقِ وقت اس حالت میں بھی آنکھ لگ گئی اور ایسی غفلت طاری ہوئی کہ طلوعِ آفتاب تک ہوشیار نہ ہوئے،آنحضرت ﷺ نے خواب راحت سے بیدار ہوکر سب سے پہلے ان کو پکارا اورفرمایا"بلال ؓ تمہاری ذمہ داری کیا ہوئی؟" عرض کیا یارسول اللہ آج کچھ ایسی غفلت طاری ہوئی کہ مجھے کبھی ایسا اتفاق نہیں ہواتھا، ارشاد ہوا، بے شک خدا جب چاہتا ہے تمہاری روحوں پر قبضہ کرلیتا ہے اورجب چاہتا ہے تم میں واپس کردیتا ہے اچھا اُٹھو ،اذان دواورلوگوں کو نماز کے لیے جمع کرو۔ [9]

غزوات[ترمیم]

حضرت بلال ؓ تمام مشہور غزوات میں شریک تھے،غزوۂ بدر میں انہوں نے امیہ بن خلف کو تہِ تیغ کیا جو اسلام کا بہت بڑا دشمن تھا اورخود ان کی ایذارسانی میں بھی اس کا ہاتھ سب سے پیش پیش تھا۔ [10] فتح مکہ میں آنحضرت ﷺ کے ہمرکاب تھے،آپ ﷺ خانہ کعبہ میں داخل ہوئے تو اس مؤذن خاص کو معیت کا فخر حاصل تھا۔(کتاب المغازی باب دخول النبی ﷺ من اعلی مکہ)انہیں حکم ہوا کعبہ کی چھت پر کھڑے ہوکر توحید کی پرعظمت صدائے تکبیر بلند کریں، خدا کی قدرت وہ حریم قدس جو کو ابوالانبیاء ابراہیم علیہ السلام نے خدائے واحد کی پرستش کے لیے تعمیر کیا تھا، مدتوں صنم خانہ رہنے کے بعد پھر ایک حبشی نژاد کے نغمہ توحید سے گونجا۔ [11] آنحضرت صلی اللہ علیہ سلم کی وفات کے بعد حضرت بلال ؓ نے اپنے محسن وولی نعمت حضرت صدیق اکبر ؓ سے عرض کیا ‘یا خلیفۂ رسول اللہ ﷺ آپ نے خداکیلئے آزاد کیا ہے یا اپنی مصاحبت کے لیے، فرمایا خدا کے لیے، بولے میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے کہ راہِ خدا میں جہاد کرنا مومن کا سب سے بہتر کام ہے،اس لیے میں چاہتا ہوں کہ پیامِ صوت تک اسی عمل خیر کو لازمہ حیات بنالوں،حضرت ابوبکرؓ نے فرمایا بلال ؓ! میں تمہیں خدا اوراپنے حق کا واسطہ دیتا ہوں کہ مجھے اس عالم پیری میں داغِ مفارقت نہ دو، اس مؤثر فرمان نے حضرت بلال ؓ کو عہد صدیقی کے غزوات میں شریک ہونے سے باز رکھا۔ [12]

حضرت ابوبکرؓ کے بعد حضرت عمرؓ نے مسند خلافت پر قدم رکھا تو انہوں نے پھر شرکتِ جہاد کی اجازت طلب کی، خلیفہ اول کی طرح خلیفہ دوم نے بھی ان کو روکنا چاہا ؛لیکن جوشِ جہاد کا پیمانہ لبریز ہوچکا تھا،بے حد اصرار کے بعد اجازت حاصل کی،اورشامی مہم میں شریک ہو گئے،[13] حضرت عمرؓ نے 16 ھ میں شام کا سفر کیا تو دوسرے افسرانِ فوج کے ساتھ حضرت بلال ؓ نے بھی مقام جابیہ میں ان کو خوش آمدید کہا اوربیت المقدس کی سیاحت میں ہمرکاب رہے، ایک روز حضرت عمرؓ نے ان سے اذان دینے کی فرمائش کی تو بولے گو میں عہد کرچکا ہوں کہ حضرت خیرالانام ﷺ کے بعد کسی کے لیے اذان نہ دوں گا،تاہم آج آپ کی خواہش پوری کروں گا یہ کہہ کر اس عندلیب توحید نے کچھ ایسے لحن میں خدائے ذوالجلال کی عظمت وشوکت کا نغمہ سنایا کہ تمام مجمع بیتاب ہو گیا، حضرت عمرؓ اس قدرروئے کہ ہچکی بندھ گئی، حضرت ابوعبیدہ ؓ اور حضرت معاذ بن جبل ؓ بھی بے اختیار رو رہے تھے،غرض سب کے سامنے عہد نبوت کا نقشہ کھینچ گیا اورتمام سامعین نے ایک خاص کیفیت محسوس کی۔ [14]

شام میں توطن[ترمیم]

حضرت بلال ؓ کو ملک شام کی سرسبزوشاداب زمین پسند آگئی تھی،انہوں نے خلیفہ دوم سے درخواست کی کہ ان کو اوران کے اسلامی بھائی حضرت ابورویحہ ؓ کو یہاں مستقل سکونت کی اجازت دی جائے، یہ درخواست منظور ہوئی تو ان دونوں نے قصبہ خولان میں مستقل اقامت اختیار کرلی اورحضرت ابوالدرداء انصاری ؓ کے خاندان سے جو پہلے ہی یہاں آکر آباد ہو گیا تھا،رشتہ ومناکحت کی سلسلہ جنبانی فرماتے ہوئے کہا،ہم دونوں کافر تھے، خدانے ہماری ہدایت کی،ہم غلام تھے،اس نے آزاد کرایا، ہم محتاج تھے،اس نے مالدار بنایا،اب ہم تمہارے خاندان سے پیوستہ ہونے کی آرزورکھتے ہیں، اگرتم رشتہ ازوداج سے یہ آرزورپوری کرو گے توخدا کا شکر ہے،ورنہ کوئی شکایت نہیں، اسلام نے کالے،گورے حبشی اورعربی کی تفریق مٹادی تھی،انصار ؓ نے نہایت خوشی کے ساتھ ان کے اس پیام کو لبیک کہا اوراپنی لڑکیوں سے شادی کردی۔ [15]

حضرت بلال ؓ نے ایک عرصہ تک شام میں متوطن رہنے کے بعد ایک روز رسول اللہ ﷺ کو خواب میں دیکھا کہ آپ فرما رہے ہیں"بلال ؓ!خشک زندگی کب تک؟ کیا تمہارے لیے وہ وقت نہیں آیا کہ ہماری زیارت کرو؟ اس خواب نے گذشتہ زندگی کے پر لطف افسانے یادلائے،عشق ومحبت کے مرجھائے ہوئے زخم پھر ہرے ہو گئے،اسی وقت مدینہ کی راہ لی اورروضہ اقدس پر حاضر ہوکر مرغ بسمل کی طرح تڑپنے لگے،آنکھوں سے سیل اشک رواں تھا،اورمضطربانہ جوش ومحبت کے ساتھ جگر گوشگانِ رسول عینی حضرت امام حسن ؓ اورحضرت امام حسین ؓ کو چمٹا چمٹا کر پیارکر رہے تھے،ان دونوں نے خواہش ظاہر کی کہ آج صبح کے وقت اذان دیجئے،گوارادہ کرچکے تھے کہ رسول اللہ ﷺ کے بعد وہ اذان نہ دیں گے؛ تاہم ان کی فرمائش ٹال نہ سکے، صبح کے وقت مسجد کی چھت پر کھڑے ہوکر نعرہ ٔتکبیر بلند کیا تو تمام مدینہ گونج اٹھا، اس کے بعد نعرہ ٔتوحید نے اس کو اوربھی پر عظمت بنادیا؛ لیکن جب "اشہد ان محمد رسول اللہ" کا نعرہ بلند کیا تو عورتیں تک بیقرار ہوکر پردوں سے نکل پڑیں اورتمام عاشقانِ رسول ﷺ کے رخسارے آنسوؤں سے تر ہو گئے،بیان کیا جاتا ہے کہ مدینہ میں ایسا پر اثر منظر کبھی دیکھنے میں نہیں آیا تھا۔ [16]

وفات[ترمیم]

20ھ میں دنیائے فانی کو خیرباد کہا، کم وبیش ساٹھ برس کی عمر پائی، دمشق میں باب الصغیر کے قریب مدفون ہوئے[17]

اخلاق[ترمیم]

محاسنِ اخلاق نے حضرت بلال ؓ کے پایہ فضل و کمال کو نہایت بلند کر دیا تھا، حضرت عمرؓ فرمایا کرتے تھے: ابوبکرﷺ سیدنا واعتقﷺ سیدنا"یعنی ابوبکر ؓ ہمارے سردار ہیں، اورانہوں نے سردار بلال ؓ کو آزاد کیا ہے۔ [18] حبیب خدا ﷺ کی خدمت گزاری ان کا مخصوص مقصدِ حیات تھا، ہر وقت بارگاہ نبوی ﷺ میں حاضر رہتے ، آپﷺ کہیں باہر تشریف لے جاتے تو خادم جان نثار کی طرح ہمراہ ہوتے ،عیدین واستسقاء کے مواقع پر بلّم لے کر آگے آگے چلتے۔[19]وعظ وپند کی مجلسوں میں ساتھ جاتے، افلاس وناداری کے باوجود ان کو جو کچھ میسر آجاتا اس کا ایک حصہ رسول اللہ ﷺ کی ضیافت کے لیے پس انداز کرتے ، ایک دفعہ برنی کھجوریں (جو نہایت خوش ذائقہ ہوتی ہیں) آنحضرت ﷺ کی خدمت میں لائے، آپ نے تعجب سے پوچھا، بلال ؓ یہ کہاں سے؟ عرض کیا میرے پاس جو کھجوریں تھیں وہ نہایت خراب قسم کی تھیں، چونکہ مجھے حضور کی خدمت میں پیش کرنا تھا اس لیے میں نے دوصاع دے کر یہ ایک صاع اچھی کھجوریں حاصل کیں ،ارشاد ہوا،اُف !اُف ایسا نہ کرو،یہ تو عین ربا ہے،اگر تمہیں خریدنا تھا تو پہلے اپنی کھجوروں کو فروخت کرتے پھر اس کی قیمت سے اس کو خرید لیتے۔ [20] حضرت بلالؓ مکہ کی زندگی میں جن عبرتناک مظالم ومصائب کے متحمل ہوئے، اس سے ان کی غیر معمولی استقامت واستقلال کا اندازہ ہواہوگا، تواضع وخاکساری ان کی فطرت میں داخل تھی، لوگ ان کے فضائل ومحاسن کا تذکرہ کرتے تو فرماتے، میں صرف ایک حبشی ہوں جو کل تک معمولی غلام تھا،[21]صداقت ،بے لوثی اوردیانت داری نے ان کو نہایت معتمد علیہ بنادیا تھا ،ان کے ایک بھائی نے جو بزعم خود اپنے آپ کو عرب سمجھتے تھے،ایک عربی خاتون کے پاس نکاح کا پیام بھیجا،اس کے خاندان والوں نے جواب دیا کہ اگر بلال ؓ ہمارے پاس آکر تصدیق کریں گے تو ہم کو بخوشی منظور ہے،حضرت بلال ؓ نے کہا،صاحبو! میں بلال بن رباح ؓ ہوں اوریہ میرا بھائی ہے،میں جانتا ہوں کہ اخلاق ومذہب کے لحاظ سے یہ بُرا آدمی ہے،اگر تم چاہو تو اس سے بیاہ دوورنہ انکارکرو،انہوں نے کہا، بلال ؓ!تم جس کے بھائی ہوگے اس سے تعلق پیدا کرنا ہمارے لیے عار نہیں۔ [22]

مذہبی زندگی[ترمیم]

حضرت بلال ؓ رسول اللہ ﷺ کے مؤذن خاص تھے، اس بنا پر اس کو ہمیشہ خانۂ خدا میں حاضر رہنا پڑتا تھا، معاملات دنیاوی سے سروکارنہ ہونے کے باعث عبادت وشب زندہ داری ان کا خاص مشغلہ تھا، ایک مرتبہ رسول اللہ ﷺ نے ان سے پوچھا کہ تم کو کس عملِ خیر پر سب سے زیادہ ثواب کی امید ہے،عرض کیا میں نے ایسا کوئی کام نہیں کیا ہے،البتہ ہر طہارت کے بعد نماز اداکی ہے۔[23]نماز میں سب سے پہلے آمین کہتے تھے،لیکن رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ مجھ سے سبقت نہ کیاکرو۔ [24]

ایمان کو تمام اعمال حسنہ کی بنیاد سمجھتے تھے،ایک مرتبہ کسی نے پوچھا کہ سب سے بہتر عمل کیا ہے؟ بولے خدا اوراس کے رسول پر ایمان لاؤ،پھر جہاد،پھر حج مبرور [25]

حلیہ[ترمیم]

حلیہ یہ تھا، قدنہایت طویل،جسم لاغر، رنگ نہایت گندم گوں؛ بلکہ مائل بہ سیاہی،سر کے بال گھنے،خمدار اوراکثر سفید تھے۔ [26]

ازواج[ترمیم]

بلال نے متعدد شادیاں کیں، ان کی بعض بیویاں عرب کے نہایت شریف ومعزز گھرانوں سے تعلق رکھتی تھیں، ابوبکر کی صاحبزادی سے خود رسول اللہ ﷺ نے نکاح کرادیا تھا، بنو زہرہ اور ابودرداء کے خاندان میں بھی رشتہ مصاہرت قائم ہواتھا، لیکن کسی سے کوئی اولاد نہیں ہوئی۔[27]یہ ابو بکر نہیں بلکہ ابو بکیر بن عبدیالیل ہیں بعض اردو سیرت نگاروں نے بغیر تحقیق کے انہیں ابو بکر کا داماد لکھ دیا ہے[حوالہ درکار]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. (اسد الغابہ:1/206)
  2. (اسد الغابہ:1/ 206)
  3. (طبقات ابن سعد قسم اول جزوثالث : 165)
  4. (ایضاً وبخاری)
  5. (طبقات ابن سعد قسم اول جزوثالث : 167)
  6. (بخاری باب بدوالاذان)
  7. (طبقات ابن سعد قسم اول جزوثالث :176)
  8. (بخاری باب الاذان بعدالفجر وباب اذان الاعمی 12 منہ)
  9. (بخاری باب الاذان بعد ذہاب الوقت)
  10. (اسدالغابہ:1/207)
  11. (طبقات ابن سعد قسم اول جزوثالث: 167)
  12. (بخاری وطبقات ابن سعد قسم اول جزء ثالث: 168)
  13. (بخاری وطبقات ابن سعد قسم اول جزو ثالث صفحہ 168)
  14. (تاریخ طبری واسد الغابہ:1/208)
  15. (اسد الغابہ :1/208)
  16. (ایضاً)
  17. اسدالغابہ:1/207
  18. (مستدرک حاکم:3/284)
  19. (طبقات ابن سعد قسم اول جزء ثالث میں 168)
  20. (بخاری :1/ 311)
  21. (طبقات ابن سعد قسم اول جزء ثالث: 169)
  22. (مستدرک حاکم :3/283)
  23. (بخاری :2/ 24/1)
  24. (اصابۃ تذکرہ بلال ؓ بحوالہ بخاری)
  25. (بخاری :2/1142)
  26. (طبقات ابن سعد قسم اول جزء ثالث، :170)
  27. طبقات ابن سعد قسم اول جزوثالث :176