بلال ابن رباح

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
بلال بن رباح

حضرت بلال حبشی

بلال بن رباح.png
خطاطی نام بلال بن رباح
اہم معلومات
پورا نام بلال بن رباح
نسب حبشی
لقب ابو عبد الله، مؤذن رسول
تاريخ ولات
مقام ولادت حبشہ
تاريخ وفات 20ھ [1]
مقام وفات شام
مقام دفن دمشق
پیشہ اذان
اسلام میں
جنگیں تمام غزوات میں
اہم واقعات اذان
فرمان نبوی رجل من أهل الجنة
بلال لا يكذب
خصوصیت موذن رسول
اسلام کے پہلے موذن
بلال ابن رباح کی قبر باب صغیر دمشق میں

بلال ابن رباح (عربی: بلال بن رباح الحبشي) المعروف بلال حبشی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے مشہور صحابی تھے۔

نام،نسب[ترمیم]

بلال نام ،ابوعبداللہ کنیت،والد کا نام رباح اوروالدہ کانام حمامہ تھا،یہ حبشی نژاد غلام تھے ؛لیکن مکہ ہی میں پیدا ہوئے،بنی جمح ان کے آقا تھے۔

اسلام[ترمیم]

بلال نے اس وقت اسلام کا اعلان کیا جب صرف سات آدمیوں کو اس کے اعلان کی توفیق ہوئی تھی جس کی وجہ سے مصائب اورطرح طرح کے مظالم سے ان کے استقلال واستقامت کی آزمائش ہوئی،تپتی ہوئی ریت ،جلتے ہوئے سنگریزوں اوردہکتے ہوئے انگاروں پر لٹائے گئے، مشرکین کے لڑکوں نے گلے مبارک میں رسیاں ڈال کر کرکھینچا ابوجہل ان کو منہ کے بل سنگریزوں پر لٹا کر اوپر سے پتھر کی چکی رکھدیتا اورجب آفتاب کی تمازت بیقرار کردیتی تو کہتا،بلال اب بھی محمد کے خدا سے بازآ،لیکن اس وقت بھی دہن مبارک سے یہی احد احد نکلتا۔

آزادی[ترمیم]

بلال ایک روز حسبِ معمول مشقِ ستم بنائے جارہے تھے،ابوبکر صدیق اس طرف سے گذرے تو یہ درد ناک منظر دیکھ کر دل بھر آیا اورایک گرانقدر رقم معاوضہ دے کر آزاد کردیا، آنحضرت ﷺ نے سنا تو فرمایا،ابوبکر تم مجھے اس میں شریک کرلو، عرض کیا یا رسول اللہ میں آزاد کراچکا ہوں۔

مؤذن رسول[ترمیم]

اسلام کے پہلے مُؤذن تھے۔ اعلان عام کے لیے اذان کا طریقہ اپنایا کیا گیا، بلال سب سے پہلے وہ بزرگ ہیں جو اذان دینے پر مامور ہوئے۔[2] سفر میں حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے کھانے پینے کا انتظام بلال رضي الله عنه.png کے سپرد ہوتا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بعد عمر رضي الله عنه.png کے اصرار پر صرف ایک دفعہ اذان کہی۔ کہا جاتا ہے کہ اس روز اذان میں جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا نام آیا تو غش کھا کر گر پڑے۔ بلال کی آواز نہایت بلند وبالا ودلکش تھی،ان کی ایک صدا توحید کے متوالوں تک پہنچتی،مرد اپنا کاروبار،عورتیں شبستان حرم اوربچے کھیل کود چھوڑ کروالہانہ وارفتگی کے ساتھ مسجد میں جمع ہوجاتے تو نہایت ادب کے ساتھ آستانہ نبوت پر کھڑے ہوکر کہتے حی علی الصلوۃ، حی علی الفلاح، الصلوۃ یا رسول اللہ! یعنی یارسول اللہ نماز تیار ہے،غرض آپ تشریف لاتے اوربلال اقامت کہتے اہل ایمان سربسجود ہونے کے لیے صف بصف کھڑے ہو جاتے۔

غزوات[ترمیم]

بلال تمام مشہور غزوات میں شریک تھے،غزوۂ بدر میں انہوں نے امیہ بن خلف کو تہِہ تیغ کیا جو اسلام کا بہت بڑا دشمن تھا اورخود ان کی ایذارسانی میں بھی اس کا ہاتھ سب سے پیش پیش تھا۔

ہجرت[ترمیم]

وہ مکہ سے ہجرت کر کے مدینہ پہنچے تو سعد بن خثیمہ کے مہمان ہوئے ابوردیحہ عبداللہ بن عبدالرحمن خثعمی سے مواخات ہوئی،ان دونوں میں نہایت شدید محبت پیدا ہوگئی تھی، عہدِ فاروق میں بلال نے شامی مہم میں شرکت کا ارادہ کیا تو عمرنے پوچھا، بلال تمہارا وظیفہ کون وصول کرے گا؟ عرض کیا"ابوردیحہ کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے ہم دونوں میں جو برادرانہ تعلق پیدا کردیا ہے وہ کبھی منقطع نہیں ہوسکتا۔[3]

وفات[ترمیم]

20ھ میں دنیائے فانی کو خیرباد کہا،کم وبیش ساٹھ برس کی عمر پائی، دمشق میں باب الصغیر کے قریب مدفون ہوئے[4]

ازواج[ترمیم]

بلال نے متعدد شادیاں کیں، ان کی بعض بیویاں عرب کے نہایت شریف ومعزز گھرانوں سے تعلق رکھتی تھیں، ابوبکر کی صاحبزادی سے خود رسول اللہ ﷺ نے نکاح کرادیا تھا، بنی زہرہ اور ابوالدرداءکے خاندان میں بھی رشتہ مصاہرت قائم ہواتھا،لیکن کسی سے کوئی اولاد نہیں ہوئی۔[5]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. http://islamstory.com/ar/بلال_بن_رباح
  2. بخاری باب بدءالاذان
  3. طبقات ابن سعد قسم اول جزوثالث : 167
  4. اسدالغابہ:1/207
  5. طبقات ابن سعد قسم اول جزوثالث :176