ابوذر غفاری

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
تخطيط اسم أبو ذر الغفاري.png

٣٣ھ ۔۔۔۔٦٥٣ء

صحابی۔ جندب نام، ابوذر کنیت، شیخ الاسلام لقب۔ قبیلہ بنو غفار سے تھے جس کا پیشہ رہزنی تھا۔ ابتدا میں آپ نے بھی آبائی پیشہ اختیار کیا لیکن جب حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بعثت کی خبر سنی تو مکے آکر اسلام قبول کر لیا۔ عظیم المرتبت محدثین میں شمار ہوتے ہیں۔ آپ سے بے شمار احادیث مروی ہیں۔ بڑے قناعت پسند اور سادہ مزاج تھے۔ مال و زر کے معاملے میں قلندرانہ مسلک رکھتے تھے۔ ساری زندگی امراء اور اغنیاء کو زر اندوزی سے روکتے رہے۔ قرآن کی اس آیت؛ (جو لوگ سونا اور چاندی جمع کرتے ہیں وہ درحقیقت آگ کھاتے ہیں) سے استدلال کرتے تھے کہ سونا اور چاندی جمع کرنا ناجائز ہے۔ مگر اس دور کے صحابہ اور مفسرین و محدثین کو آپ کی اس توجیہ سے اتفاق نہ تھا۔ آپ کی زندگی کا آخری حصہ بڑی تکلیف میں گزرا۔ معاویہ کے حکم سے دمشق سے خارج البلد کیے گئے تو مدینہ واپس آئے۔ مگر وہاں بھی حضرت عثمان نے قیام کرنے کی اجازت نہ دی۔ اور ملک بدر کر کے قریبی شہر الربذہ بھیج دیا اور ساتھ ہی خلیفہ نے یہ حکم بھی دیا کوئی اس کے ساتھ نہ جائے لیکن حضرت علی نے ایک نہیں مانا اور حضرت حسنین کو ابو ذرغفاری کے ساتھ بھیج دیا۔ ابو ذر غفاری کی عظمت کے لیے یہ بھی کافی ہے کہ حضرت حسنین چچا کہہ کر پکارتے تھے۔ ابوغفاری کو حضرت عثمان کے حکم سے مدینے کے پاس الزبدہ کے مقام پر کسمپرسی کی حالت میں سخت اذیتیں دے کرقتل کیا گیا, یہ شیعہ نقطہ نظر ہے ان کی وفات کے بارے میں سنی نقطہ نظر ذیل میں بیان کیا گیا ہے۔[1]

وفات[ترمیم]

مورخ ابن واضح اپنی تاریخ میں لکھتا ہے کہ جب سے حضرت ابوذر زبدہ بھیجے گئے مرتے وقت تک وہیں رہے اور جب وقت وفات قریب ہوا تو ان کی لڑکی نے کہا کہ اے باپ میں اس مقام میں اکیلی ہوں اور ڈرتی ہوں کہ آپ کی حفاظت درندوں سے نہ کرسکوں گی۔ ابوذر نے کہا کہ خوف نہ کر عنقریب چند مرد دیندار یہاں آیا چاہتے ہیں ذرا دیکھ تو کوئی ادھر آرہا ہے؟ لڑکی نے کہا کہ نہیں۔ ابوذر بولے کہ ابھی شاید میرا وقت نہیں آیا۔ تھوڑی دیر کے بعد پھر پوچھا کہ کوئی دکھائی دیا۔ لڑکی نے کہا ہاں کچھ سوار آرہے ہیں ابوذر نے فرمایا کہ اللہ اکبر خدا اور اس کا رسول سچّا ہے۔ اب میرا منھ قبلہ کی جانب پھیر دے اور جب وہ سوار یہاں پہونچیں تو ان سے میرا سلام کہنا اور جس وقت وہ میری تجہیز و تکفین سے فارغ ہوں تو ان کے لیے یہ بکری ذبح کرانا اور انھیں میری جانب سے قسم دے کر کہنا کہ بغیر کھانا کھائے ہوئے تم لوگ یہاں سے نہ جاؤ۔ اتنا کہہ کے ابوذر راہی خلد بریں ہوئے اور جب وہ سوار وہاں پہونچے تو لڑکی نے ان سے کہا کہ ابوذر صحابی رسول کا انتقال ہوگیا ہے۔ اور وہ بے گور و کفن پڑے ہیں۔ یہ سن کر وہ سوار جو تعداد میں سات تھے سواریوں سے اتر پڑے۔ ان میں حذیفہ بن الیمان صحابی رسول اور اشتر بھی تھے ابوذر پر وہ سب بہت روئے اور غسل و کفن دینے کے بعد نماز جنازہ پڑھ کر ان کو دفن کیا۔ جب اس سے فارغ ہوئے تو لڑکی نے کہا کہ میرے باپ نے تم کو قسم دلائی ہے کہ بغیر کھانا کھائے یہاں سے نہ جائیں۔ ان لوگوں نے بکری ذبح کی اور کھانا کھانے کے بعد اس لڑکی کو ساتھ لے کر مدینہ منورہ کی جانب روانہ ہوگئے۔[2]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. تاریخ کامل ابن اثیر
  2. تاریخ ابن واضح