فقیر

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

فقیر کا لفظ عربی کے فقر سے نکلا ہے جس کے معنی ضرورت مند اور محتاج کے ہیں۔

لغوی اعتبار سے[ترمیم]

فقیر لغت عرب میں اس شخص کو کہتے ہیں جس کی ریڑھ ہڈی ٹوٹی ہوئی ہو یا یہ افقر سے ہے جس کے معنی حفرۃ یعنی گڑھے کے ہیں اور اسی سے فقیر ہر اس گڑھے کو کہتے ہیں جس میں بارش کا پانی جمع ہوجاتا ہے۔ بعض نے کہا ہے کہ یہاں الفقیر ایک کنویں کا نام ہے۔

اصطلاحی معنی میں[ترمیم]

فقیر وہ شخص ہے جس کے پاس کچھ ہومگرنہ اتناکہ نصاب کوپہنچ جائے یانصاب کی مقدار ہوتواس کی حاجت اصلیہ میں مستغرق ہو۔[1]

فقیر کی قسمیں[ترمیم]

فقیر کا لفظ چار طرح پر استعمال ہوتا ہے۔

  • (1)زندگی کی بنیادی ضروریات کا نہ پایا جانا اس اعتبار سے انسان کیا کائنات کی ہر شے فقیر و محتاج ہے۔ چنانچہ اسی معنی میں فرمایا لوگو ! تم سب خدا کے محتاج ہو۔ [ فاطر/ 15]اور الانسان میں اسی قسم کے احتیاج کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا : اور ہم نے ان کے ایسے جسم نہیں بنائے تھے کہ کھانا نہ کھائیں۔ [ الأنبیاء/ 8]
  • (2)ضروریات زندگی کا کما حقہ پورا نہ ہونا چنانچہ اس معنی میں فرمایا : تو ان حاجت مندوں کے لیے جو خدا کے راہ میں رے بیٹھے ہیں [ البقرة/ 273]۔ اگر وہ مفلس ہوں گے تو خدا ان گو اپنے فضل سے خوشحال کر دے گا ۔[ النور/ 32] صدقات ( یعنی زکوۃ و خیرات ) تو مفلسوں اور محتاجوں ۔۔۔ کا حق ہے۔ [ التوبة/ 60]
  • (3)فقرالنفس : یعنی مال کی ہوس۔ چنانچہ فقر کے اس معنی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے آنحضرت نے فرمایا : کا دالفقر ان یکون کفرا۔ کچھ تعجب نہیں کہ فقر کفر کی حد تک پہنچادے اس کے بالمقابل غنی کے معنی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا الغنیٰ عنی النفس کو غنا تو نفس کی بے نیازی کا نام ہے۔ اور اسی معنی میں حکماء نے کہا ہے۔ من عدم القناعۃ لم یفدہ المال غنی جو شخص قیامت کی دولت سے محروم ہوا سے مالداری کچھ فائدہ نہیں دیتی۔
  • (4)اللہ تعالیٰ کی طرف احتیاج جس کی طرف آنحضرت نے اشارہ کرتے ہوئے فرمایا اللھم اغننی بالافتقار الیک ولا تفتونی بالاستغناء عنک ( اے اللہ مجھے اپنا محتاج بناکر غنی کر اور اپنی ذات سے بے نیاز کرکے فقیر نہ بنا ) اسی معنی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا : کہ پروردگار میں اس کا محتاج ہوں کہ تو مجھ پر اپنی نعمت نازل فرمائے [ القصص/ 24] ۔[2]
  • تصوف میں ایک ایسے شخص کو کہتے ہیں جو نفسی خواہشات کی بجائے صرف خدا کی رضآ کا طالب اور محتاج ہو۔ فقیر مسلمان صوفیاء کے لیے استعمال ہوتا ہے جنہوں نے اپنا سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر کسی کی بجائے صرف اللہ کے سامنے اپنا سر جھکایا۔ فقیر لوگ اکثر غریب ہوتے ہیں اور اپنا زیادہ وقت خدا کے ذکر میں گزارتے ہیں البتہ ان کے مریدوں کی تعداد بہت زیادہ ہوتی ہے پچھلے ادوار میں بادشاہان وقت ان کے در کی سلامی دیتے تھے۔


اسلامی فقہ میں فقیر اس شخص کو کہتے ہیں جس کے پاس اپنے سال کے اخراجات نہ ہوں۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ازبہارشریعت،ج1،حصہ5،ص924
  2. مفردات القرآن،امام راغب اصفہانی