غربت

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
مین ہیٹن نیو یارک 1890۔ سڑک پر رہنے والے بچے سو رہے ہیں

غربت (Poverty) کی اصطلاح کا ذکر عام طور پر کسی انسان یا معاشرے کی بنیادی ضروریات زندگی کے پس منظر میں کیا جاتا ہے۔ جبکہ اسکے علاوہ بھی غربت کا لفظ مختلف اوقات مختلف معنوں میں آتا ہے (ایسا اردو، عربی اور انگریزی میں اور دیگر زبانوں میں بھی دیکھنے میں آیا ہے، مثلا اردو شاعری یا ادب میں غریب یا غربت کا لفظ دیگر کئی مفہوم میں ملتا ہے)۔ موجودہ مضمون غربت کے اول الذکر معنوں کے بارے میں ہے، یعنی یہ کسی معاشرے یا انسان کی مادی ضروریات کی کمی سے تعلق رکھتا ہے۔

وجہ[ترمیم]

مختلف ماہرین غربت کی مختلف وجوہات بتاتے ہیں۔ جنگ، قحط اور دیگر آفات کی غیر موجودگی میں اکثریت کی غربت کی اصل وجہ نچلے طبقے کی دولت کا امیروں تک منتقل ہونا ہے۔ یہ دو طرح سے ممکن ہے۔


اعداد و شمار[ترمیم]

5 جون 2011 تک

  • تقریباً آدھی دنیا یعنی تین ارب سے زیادہ لوگ روزانہ ڈھائ امریکی ڈالر سے کم آمدنی پر گزارہ کرتے ہیں۔
  • 56 کروڑ 70 لاکھ لوگوں پر مشتمل 41 مقروض ممالک کی مجموعی جی ڈی پی (Gross domestic product) دنیا کے 7 امیر ترین لوگوں کی مجموعی دولت سے کم ہے۔
  • تقریباً ایک ارب لوگ اکیسویں صدی میں اس طرح داخل ہوئے کہ وہ نہ تو کوئ کتاب پڑھ سکتے ہیں اور نہ دستخط کر سکتے ہیں۔
  • اگر دنیا بھر کے ممالک اپنے دفاعی بجٹ کا صرف ایک فیصد تعلیم پر خرچ کرتے تو 2000 تک ہر بچے کے لیئے اسکول جانا ممکن ہو جاتا جو نہ ہو سکا۔
  • دنیا کے دو ارب بچوں میں سے ایک ارب بچے غربت کی زندگی گزار رہے ہیں۔ 64 کروڑ بچوں کے پاس سر چھپانے کو جگہ نہیں ہے۔ 40 کروڑ کو پینے کا صاف پانی نہیں ملتا۔ 27 کروڑ کو طبی سہولیات میسر نہیں ہیں۔
  • 2003 میں روزانہ لگ بھگ 29000 بچے مر گئے جنکی عمر پانچ سال سے کم تھی۔[1]


معاشی لوازمات زندگی کے اعتبار سے غربت کی تعریف یوں کی جاسکتی ہے کہ ؛ غربت کسی انسان (یا معاشرے) کی ایسی حالت کا نام ہے جس میں اسکے پاس کم ترین معیار زندگی (minimum standard of living) کے لیۓ لازم اسباب و وسائل کا فقدان ہو۔ سادہ سے الفاظ میں کہا جاۓ تو یوں کہ سکتے ہیں کہ ؛ غربت، بھوک و افلاس کا نام ہے۔ جب کسی کو اتنی رقم میسر نا ہو کہ وہ اپنا یا اپنے اہل و عیال کا پیٹ بھر سکے تو یہی غربت ہے۔ اگر کوئی بیمار ہوجاۓ اور اسکے پاس اتنی مالی استداد نا ہو کہ وہ دوا حاصل کر سکے تو یہ غربت ہے۔ جب کسی کے پاس سر چھپانے کی جاۓ پناہ نا ہو تو یہ غربت ہے، اور جب بارش میں کسی کے گھر کی چھت ایسے ٹپکتی ہو کہ جیسے وہ گھر میں نہیں کسی درخت کے نیچے بیٹھا ہو تو یہ غربت ہے۔ جب ایک ماں اپنے بچے کو دودھ پلانے کے بجاۓ چاۓ پلانے پر مجبور ہو تو یہ غربت ہے۔ یہ وہ پیمانے ہیں جو کہ کم از کم معیار زندگی کو مدنظر رکھ کر گنواۓ جاسکتے ہیں۔

غریبوں کی آواز نامی ایک موقع روۓ خط [1] کے مطابق 23 ممالک میں 20000 افراد سے پوچھنے پر جو عوامل غربت میں تصور کیۓ گۓ وہ یہ ہیں۔ یہ جائزہ ایک عام شہری کے ذہن میں احساس کمتری کا احساس اجاگر کرنے والے بہت نازک اور اہم پہلو سامنے لاتا ہے۔

  • غیر یقینی زریعۂ معاش (یا منحصر و محتاج روزگار / precarious livelihoods)
  • داخلہ ممنوع مقامات (شہری مقامات جہاں عام شہری کو داخلے کی اجازت نہ ہو / excluded locations)
  • جسمانی انحصاری / معذوری
  • معاملات تذکیر و تانیث
  • معاشری روابط (معاشرے کا برتاؤ)
  • عدم تحفظ
  • طاقت کا ناجائز استعمال (سیاسی ، امراء ، یا سرکار کے بااثر کارندے جو غریب کو پریشان کریں)
  • اختیار کا چھین لیا جانا
  • کم ہنری یا کم اہلی
  • کمزوری بلدیاتی (محلی) ادارے

غریبوں کی غربت اور امیروں کی غربت[ترمیم]

عالمی اداروں (بشمول عالمی مخزن (The World bank)) اور مختلف حکومتوں کے اعداد و شمار اور تعریفیں غربت کے بارے میں ایک نہایت عجیب صورتحال پیدا کرتی ہیں[2]۔ ایک غریب کیلیۓ غربت یہ ہے کہ اسکو دن میں ایک وقت کا کھانا مشکل سے میسر آتا ہو جبکہ ایک امیر کیلیۓ غربت یہ ہے کہ وہ روزآنہ غذایت سے بھر پور متوازن غذا اور اعلی کھانے مشکل سے کھا سکتا ہو۔

غربت کی پیمائش کو مقامی سطح پر ناپنے کا ایک پیمانہ عتبۂ غربت (poverty threshold) کو مقامی صورتحال کے مطابق لاگو کر کہ بنایا جاتا ہے۔ اس طریقے کے مطابق ایک خط غربت یا غربت کی لائن مقرر کر دی جاتی ہے اور پھر یہ دیکھا جاتا ہے کہ کسی فرد (یا کسی معاشرے میں اسکے افراد) کا مقام اس خط یا حد (یعنی تھریشولڈ) سے کیا نسبت رکھتا ہے، گویا یوں کہ لیں کہ یہ دیکھا جاتا ہے کہ یہ فرد یا افراد، اس خط سے نیچے ہیں ، برابر ہیں یا اوپر ہیں۔ اب اگر ایک انسان (مرد یا عورت) کی آمدن اس خط سے نیچے ہے تو وہ بجا طور پر غریب کہلانے کا حقدار ہے، یہاں یہ بات غور طلب ہے کہ اس خط غربت کا مقام وقت کے پیمانوں پر تو تبدیل ہوتا ہی ہے؛ جگہوں، ممالک اور اقوام کے لحاظ سے بھی تبدیل ہوتا رہتا ہے۔

غریبوں امیروں کی مشترکہ غربت[ترمیم]

جب عالمی پیمانے پر غربت کی پیمائش کی کوشش کی جاۓ تو کوئی ایسا خط غربت تلاش کرنا ہوتا ہے کہ جو تمام دنیا میں مشترکہ طور پر لاگو کیا جاسکتا ہو۔ عالمی مخزن اس سلسلے میں ایک اور دو ڈالر (یعنی قریبا پچاس تا سو رپے)کی یومیہ آمدنی کا پیمانہ مقرر کرتا ہے اور اسکے مطابق 2001ء میں دنیا کی 6 ارب سے زائد آبادی میں 1.1 ارب افراد کی آمدن یومیہ ایک ڈالر سے کم اور 2.7 ارب افراد دو ڈالر یومیہ سے کم آمدن پر زندگی گذارنے پر مجبور تھے (حوالہ 1) ۔ اس جگہ ایک بات کا ذکر کرنا اہم ہوگا کہ یہ اعداد و شمار جو عالمی مخزن کے صفحے پر دیۓ گۓ ہیں اپنی جگہ؛ جن لوگوں کو ہندوستان ، بنگلہ دیش اور پاکستان کے ممالک میں عوام کی حالت دیکھنے کا موقع نصیب ہوا ہے وہ اس بات کا اندازہ لگا سکتے ہیں کہ اصل صورتحال اس ایک اور دو ڈالر کی غربت کی لائن سے بہت زیادہ ابتر اور تکلیف دہ حدود سے آگے ہے۔


مزید دیکھیئے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ The World bank group Voices of the poor.
  2. ^ The World Bank overview of poverty; Understanding Poverty.

بیرونی روابط[ترمیم]

افریقہ میں غربت کی بڑی وجہ IMF اور ورلڈ بینک ہیں

‘‘http://ur.wikipedia.org/w/index.php?title=غربت&oldid=782278’’ مستعادہ منجانب