غربت

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
مین ہیٹن نیو یارک 1890۔ سڑک پر رہنے والے بچے سو رہے ہیں

غربت (Poverty) کی اصطلاح کا ذکر عام طور پر کسی انسان یا معاشرے کی بنیادی ضروریات زندگی کے پس منظر میں کیا جاتا ہے۔ جبکہ اسکے علاوہ بھی غربت کا لفظ مختلف اوقات مختلف معنوں میں آتا ہے (ایسا اردو، عربی اور انگریزی میں اور دیگر زبانوں میں بھی دیکھنے میں آیا ہے، مثلا اردو شاعری یا ادب میں غریب یا غربت کا لفظ دیگر کئی مفہوم میں ملتا ہے)۔ موجودہ مضمون غربت کے اول الذکر معنوں کے بارے میں ہے، یعنی یہ کسی معاشرے یا انسان کی مادی ضروریات کی کمی سے تعلق رکھتا ہے۔

وجہ[ترمیم]

تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ دنیا میں اب تک غربت کی صرف پانچ بڑی وجوہات ہیں ۔

آبادی میں اضافہ[ترمیم]

غربت کی سب سے بڑی وجہ آبادی میں اضافہ ہے ۔ہم اس کو ایک مثال سے سمجھائیں گے۔

" جیسے ایک گھر میں دو افراد ہیں دونوں کے پاس دو روٹیاں ہیں ۔اگر ان کے گھر میں دو اور آدمی آجائیں تو ان کو آدھی آدھی روٹی نصیب ہوگی ۔اسی طرح اگر چار اور آ جائیں تو ان سب کو دو روٹیوں کا چوتھا حصہ نصیب ہو گا ۔اب یہاں بات یہ غور کرنے والی ہے کہ ہر فرد اپنے حساب سے الگ سسٹم رکھتا ہے یعنی کوئی بندہ ایک روٹی کھا کر سیر ہوتا ہے کوئی دو کھا کر ۔اب جو لوگ زیادہ خوراک کھانے والے ہیں ان پر بُرے اثرات پیدا ہوں گے اور وہ برائی پر اتر آئیں گے ۔"(اسی طرح دوسری چیزیں بھی کم پڑ جائیں گی مثلاً کپڑے یا دوسری چیزیں)

اس مثال سے یہ سمجھانے کی کوشش کی ہے کہ غربت کی بہت بری وجہ آبادی میں اضافہ ہے۔دنیا میں اس وقت تقریباً آٹھ کھرب لوگ رہتے ہیں ۔اب اسی مثال کے مطابق ہر فرد دوسرے فرد سے الگ ہے ہر بندہ فاقے نہیں کر سکتا یوں غربت جرائم کو جنم دیتی ہے۔

لوگوں کا آبادی میں اضافہ کے بارے میں رویہ[ترمیم]

پاکستان ایک پسماندہ ملک ہے اور یہاں لوگوں میں تعلیم کی بے انتہا کمی ہے ۔اگر لوگوں کو کہا جاۓ ۓے بچے دو ہی اچھے تو ان کا در عمل عجیب ہو جاتا ہے۔

دراصل ان لوگوں کے خیال میں یہ بات اڑ جاتی ہے کہ اللہ نے جس کو بھی پیدا کرتا ہے اس کے ساتھ رزق بھی پیدا کرتا ہے۔یوں یہ لوگ عقیدت کے مارے دس دس بچے پیدا کرتے ہیں اور خود کو بھی اور آنے والے کی بھی زندگی خراب کرتے ہیں۔زیادہ تر دیہاتی علاقوں یا پسماندہ علاقوں میں ہی ایسا رواج پایا جاتا ہے۔

لمحہ فکریہ[ترمیم]

پاکستان کی بھڑتی ہوئی آبادی پاکستانیوں کو غربت کی طرف لیے جارہی ہے۔پاکستان کی آبادی اب تک بیس کڑوڑ تک جاپہنچی ہے۔آگے کیا ہوگا یہ تو پاکستان کے لوگوں کو ہی تہہ کرنا ہوگا۔

لوگوں میں شعور اجاگر کریں[ترمیم]

لوگوں میں ہر صورت شعور اجاگر کرنا ہوگا کہ یہ چیز انسانوں کے لیے کتنی خطر ناک  ثابت ہوسکتی ہے ۔اگر آبادی بڑھے گی تو جرائم بھی بڑھیں گے  جس سے اور بہت سے مثال پیدا ہوں گے ۔

دراصل پاکستان کے لوگ ہر اس بات کو مانتے ہیں جو اسلام نے کہی ہے ،اسلام کے ملاؤں کو میدان میں آکر لوگوں کو بتا نا چائے اور ان کے سولات کا جواب دینا چایئے ۔

مثلاً اگر ہم یہ مان لیں کے خُدا جس بندے کو پیدا کرتا ہے اس کا رزق بھی اتارتا ہے تو آخر پھر غربت کیوں ہے؟

مسلمانوں میں دو تین احادیث بیان کی جاتی ہیں ۔

 خصور ﷺ نے فرمایا کہ ایسی عورت سے شادی کرو جو زیادہ بچے پیدا کرنے والی ہو

مگر یہ حدیث ایک خاص وقت میں کہی گئی تاکہ مسلمانوں کی تعداد بڑھے اور اس وقت کا رواج بھی یہی تھا۔ اسی طرح یہ بھی کہا جاتا ہےکہ

  اور اپنے بچوں کو مال کے ڈر سے قتل نہ کرو  

یوں یہ بات ایک خاص وقت میں کہی گئی تھی تاکہ لوگ بُرائی سے بچے رہیں اور زندہ بچوں کو نہ قتل کریں۔

 مگر یہاں تو المیہ یہ ہے کہ لوگ سپرم کو بھی بچہ سمجھ کر ضائع نہیں کرتے اور اس کو بھی  ضائع کرنا قتل سمجھتے ہیں

جنگ[ترمیم]

جنگ غربت کی وجوہات میں سے دوسرے نمبر پر ہے اور دنیا میں جنگ نے انسانوں کو غریب کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔جنگ جس بھی وجہ سے ہو اس میں انسانی جان جاتی ہے ۔ایک مُلک ،قبیلے یا علاقے کا سارا مال و دولت دوسرے علاقوں میں چلا جاتا ہے یوں وہ لوگ غربت کا شکار ہوجاتے ہیں۔لوگوں کو غلام بنایا جاتا ہے ۔جس سے ان کی اولاد اور وہ خود بنیادی انسانی ضروریات سے محروم ہوجاتے ہیں۔

قدرتی آفات[ترمیم]

بے شک انسان ابھی تک قدرتی آفات پر قابو نہیں پا سکا جس کی وجہ سے اس کو بہت سا نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔قدرتی آفات میں سونامی،قہط،زلززلے،سیلاب وغیرہ شامل ہیں ۔قدرتی آفات کی وجہ سے انسانوں کے گھر ٹوٹ جاتے ہیں ،ان کا جانی و مالی نقصان ہوتا ہے یوں قدرتی آفات نے انسانوں کی غربت میں اہم کردار ادا کیا۔

اصولِ تقسیم ِ دولت[ترمیم]

یعنی دولت کو تقسیم کرنے کا اصول : دراصل انسانوں کو ابھی تک کوئی اچھا معاشی نظام نہیں مل سکا جس پر وہ سب متفق ہو اور چل سکیں۔اگر کوئی اچھا نظام ہو تو بہت سارے طبقے اس کی خلاف ورزی کرتے ہیں ۔سود کی وجہ سے انسانوں کا ایک گروہ امیر سے امیر ہوتا جاتا ہے جبکہ دوسرا گروہ غریب سے غریب ہوتا چلا جاتا ہے۔

اسی طرح مسلمانوں نے ایک اصول بنایا جو غیر مسلموں کے لیے تھا یعنی جزیہ کا اصول ۔اس طرح لوگوں کو صرف اپنا ایمان بدلنے کی وجہ سے اتنی بری قیمت اٹھانی پڑی اور وہ غربت کا شکار ہوگئے ۔بعد ازاں بہت سے لوگوں نے اس سے بچنے کے لئیے اسلام قبول کرلیا۔ مسلمانوں کا ایک ہی نعرہ تھا

جزیہ دو یا سلام قبول کرو

علم و ہنر کی کمی[ترمیم]

جب ایک معاشرے میں علم و ہنر کی کمی ہو تو وہ معاشرہ کبھی ترقی نہیں کر سکتا ۔جب کسی فر د کو یہ ہی نہ معلوم ہو کہ اس نے اپنی زمین میں کیا اور کیسے بونا ہے تو وہ کیا کاٹے گا۔

اعداد و شمار[ترمیم]

آبادیوں کا تناسب جو 1 اعشاریہ 25 ڈالر سے بھی کام آمدنی پر زندگی بسر کرتے ہیں (بمطابق اقوام متحدہ اعداد شمار از 2000ء تا 2006ء).
آبادیوں کا تناسب جو شدید بھوک سے دو چار ہیں، بمطابق 2008ء
گینی کو ایفیشنٹ جو مختلف اقوام کے فی کس آمدنی پر مبنی ہوتا ہے، 2014ء

5 جون 2011 تک

  • تقریباًًً آدھی دنیا یعنی تین ارب سے زیادہ لوگ روزانہ ڈھائ امریکی ڈالر سے کم آمدنی پر گزارہ کرتے ہیں۔
  • 56 کروڑ 70 لاکھ لوگوں پر مشتمل 41 مقروض ممالک کی مجموعی جی ڈی پی (Gross domestic product) دنیا کے 7 امیر ترین لوگوں کی مجموعی دولت سے کم ہے۔
  • تقریباًًً ایک ارب لوگ اکیسویں صدی میں اس طرح داخل ہوئے کہ وہ نہ تو کوئی کتاب پڑھ سکتے ہیں اور نہ دستخط کر سکتے ہیں۔
  • اگر دنیا بھر کے ممالک اپنے دفاعی بجٹ کا صرف ایک فیصد تعلیم پر خرچ کرتے تو 2000 تک ہر بچے کے لیے اسکول جانا ممکن ہو جاتا جو نہ ہو سکا۔
  • دنیا کے دو ارب بچوں میں سے ایک ارب بچے غربت کی زندگی گزار رہے ہیں۔ 64 کروڑ بچوں کے پاس سر چھپانے کو جگہ نہیں ہے۔ 40 کروڑ کو پینے کا صاف پانی نہیں ملتا۔ 27 کروڑ کو طبی سہولیات میسر نہیں ہیں۔
  • 2003 میں روزانہ لگ بھگ 29000 بچے مر گئے جنکی عمر پانچ سال سے کم تھی۔[1]

معاشی لوازمات زندگی کے اعتبار سے غربت کی تعریف یوں کی جاسکتی ہے کہ ؛ غربت کسی انسان (یا معاشرے) کی ایسی حالت کا نام ہے جس میں اسکے پاس کم ترین معیار زندگی (minimum standard of living) کے لیے لازم اسباب و وسائل کا فقدان ہو۔ سادہ سے الفاظ میں کہا جاۓ تو یوں کہ سکتے ہیں کہ ؛ غربت، بھوک و افلاس کا نام ہے۔ جب کسی کو اتنی رقم میسر نا ہو کہ وہ اپنا یا اپنے اہل و عیال کا پیٹ بھر سکے تو یہی غربت ہے۔ اگر کوئی بیمار ہوجاۓ اور اسکے پاس اتنی مالی استداد نا ہو کہ وہ دوا حاصل کر سکے تو یہ غربت ہے۔ جب کسی کے پاس سر چھپانے کی جاۓ پناہ نا ہو تو یہ غربت ہے، اور جب بارش میں کسی کے گھر کی چھت ایسے ٹپکتی ہو کہ جیسے وہ گھر میں نہیں کسی درخت کے نیچے بیٹھا ہو تو یہ غربت ہے۔ جب ایک ماں اپنے بچے کو دودھ پلانے کے بجاۓ چاۓ پلانے پر مجبور ہو تو یہ غربت ہے۔ یہ وہ پیمانے ہیں جو کم از کم معیار زندگی کو مدنظر رکھ کر گنواۓ جاسکتے ہیں۔

غریبوں کی آواز نامی ایک موقع روۓ خط [1] کے مطابق 23 ممالک میں 20000 افراد سے پوچھنے پر جو عوامل غربت میں تصور کیۓ گئے وہ یہ ہیں۔ یہ جائزہ ایک عام شہری کے ذہن میں احساس کمتری کا احساس اجاگر کرنے والے بہت نازک اور اہم پہلو سامنے لاتا ہے۔

  • غیر یقینی زریعۂ معاش (یا منحصر و محتاج روزگار / precarious livelihoods)
  • داخلہ ممنوع مقامات (شہری مقامات جہاں عام شہری کو داخلے کی اجازت نہ ہو / excluded locations)
  • جسمانی انحصاری / معذوری
  • معاملات تذکیر و تانیث
  • معاشری روابط (معاشرے کا برتاؤ)
  • عدم تحفظ
  • طاقت کا ناجائز استعمال (سیاسی ، امراء ، یا سرکار کے بااثر کارندے جو غریب کو پریشان کریں)
  • اختیار کا چھین لیا جانا
  • کم ہنری یا کم اہلی
  • کمزوری بلدیاتی (محلی) ادارے

غریبوں کی غربت اور امیروں کی غربت[ترمیم]

عالمی اداروں (بشمول عالمی مخزن (The World bank)) اور مختلف حکومتوں کے اعداد و شمار اور تعریفیں غربت کے بارے میں ایک نہایت عجیب صورتحال پیدا کرتی ہیں[2]۔ ایک غریب کے لیے غربت یہ ہے کہ اس کو دن میں ایک وقت کا کھانا مشکل سے میسر آتا ہو جبکہ ایک امیر کے لیے غربت یہ ہے کہ وہ روزآنہ غذایت سے بھر پور متوازن غذا اور اعلی کھانے مشکل سے کھا سکتا ہو۔

غربت کی پیمائش کو مقامی سطح پر ناپنے کا ایک پیمانہ عتبۂ غربت (poverty threshold) کو مقامی صورتحال کے مطابق لاگو کر کہ بنایا جاتا ہے۔ اس طریقے کے مطابق ایک خط غربت یا غربت کی لائن مقرر کر دی جاتی ہے اور پھر یہ دیکھا جاتا ہے کہ کسی فرد (یا کسی معاشرے میں اسکے افراد) کا مقام اس خط یا حد (یعنی تھریشولڈ) سے کیا نسبت رکھتا ہے، گویا یوں کہ لیں کہ یہ دیکھا جاتا ہے کہ یہ فرد یا افراد، اس خط سے نیچے ہیں ، برابر ہیں یا اوپر ہیں۔ اب اگر ایک انسان (مرد یا عورت) کی آمدن اس خط سے نیچے ہے تو وہ بجا طور پر غریب کہلانے کا حقدار ہے، یہاں یہ بات غور طلب ہے کہ اس خط غربت کا مقام وقت کے پیمانوں پر تو تبدیل ہوتا ہی ہے؛ جگہوں، ممالک اور اقوام کے لحاظ سے بھی تبدیل ہوتا رہتا ہے۔

غریبوں امیروں کی مشترکہ غربت[ترمیم]

جب عالمی پیمانے پر غربت کی پیمائش کی کوشش کی جاۓ تو کوئی ایسا خط غربت تلاش کرنا ہوتا ہے کہ جو تمام دنیا میں مشترکہ طور پر لاگو کیا جاسکتا ہو۔ عالمی مخزن اس سلسلے میں ایک اور دو ڈالر (یعنی قریبا پچاس تا سو رپے)کی یومیہ آمدنی کا پیمانہ مقرر کرتا ہے اور اسکے مطابق 2001ء میں دنیا کی 6 ارب سے زائد آبادی میں 1.1 ارب افراد کی آمدن یومیہ ایک ڈالر سے کم اور 2.7 ارب افراد دو ڈالر یومیہ سے کم آمدن پر زندگی گذارنے پر مجبور تھے (حوالہ 1) ۔ اس جگہ ایک بات کا ذکر کرنا اہم ہوگا کہ یہ اعداد و شمار جو عالمی مخزن کے صفحے پر دیۓ گئے ہیں اپنی جگہ؛ جن لوگوں کو ہندوستان ، بنگلہ دیش اور پاکستان کے ممالک میں عوام کی حالت دیکھنے کا موقع نصیب ہوا ہے وہ اس بات کا اندازا لگا سکتے ہیں کہ اصل صورتحال اس ایک اور دو ڈالر کی غربت کی لائن سے بہت زیادہ ابتر اور تکلیف دہ حدود سے آگے ہے۔

مزید دیکھیئے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. The World bank group Voices of the poor.
  2. The World Bank overview of poverty; Understanding Poverty.

بیرونی روابط[ترمیم]

افریقہ میں غربت کی بڑی وجہ IMF اور ورلڈ بینک ہیں