زرکاغذ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
اصطلاح term

زرِکاغذ

رائج الوقتی
مصرف
رقعۂ مصرف
رقعہ
رقعۂ کاغذ
قابل مصالحت ادات
زرِرقعہ
کاغذ کا ورق
زر کثیف
زر فرمان

paper money /
paper currency
currency
bank
banknote
note
paper note
negotiable instrument
currency note
paper leaf
hard currency
fiat currency

چند ممالک کے کچھ بڑی مالیت کے کاغذی نوٹ

کرنسی یا سکّہ یا زر سے مراد ایسی چیز ہوتی ہے جس کے بدلے دوسری چیزیں خریدی یا بیچی جا سکیں۔ اور اگر یہ چیز کاغذ کی بنی ہو تو یہ کاغذی کرنسی، کاغذی سکّہ یا زر کاغذ کہلاتی ہے۔ ماضی میں کرنسی مختلف دھاتوں کی بنی ہوتی تھی اور اب بھی چھوٹی مالیت کے سِکّے دھاتوں سے ہی بنائے جاتے ہیں۔

پاکستانی کاغذی کرنسی پر تحریر وعدہ
PKR Rs 1000.jpg
بینک دولت پاکستان ایک ہزار روپیہ حامل ٰہذا کو مطالبے پر ادا کرے گا
پاکستان کے ہزار روپیہ کے بینک نوٹ پر لکھے اس ادائیگی کے وعدے کا مطلب کیا ہے؟ بڑے نوٹ کے بدلے چھوٹے چھوٹے نوٹ تو کوئ بھی دوکاندار دے سکتا ہے پھر اس کے لیئے سرکاری بینک کی ہی کیا ضرورت ہے؟

ساڑھے تین سال کی مدت میں 5600 میل کا سفر طے کر کے جب مئی 1275 میں مارکو پولو پہلی دفعہ چین پہنچا تو چار چیزیں دیکھ کر بہت حیران ہوا۔ یہ چیزیں تھیں: جلنے والا پتھر( کوئلہ)، نہ جلنے والے کپڑے کا دسترخوان (ایسبسٹوس) ،کاغذی کرنسی اور شاہی ڈاک کا نظام۔[1] مارکو پولو لکھتا ہے "آپ کہہ سکتے ہیں کہ ( قبلائ ) خان کو کیمیا گری ( یعنی سونا بنانے کے فن ) میں مہارت حاصل تھی۔ بغیر کسی خرچ کے خان ہر سال یہ دولت اتنی بڑی مقدار میں بنا لیتا تھا جو دنیا کے سارے خزانوں کے برابر ہوتی تھی۔ [2] لیکن چین سے بھی پہلے کاغذی کرنسی جاپان میں استعمال ہوئی ۔ جاپان میں یہ کاغذی کرنسی کسی بینک یا بادشاہ نے نہیں بلکہ پگوڈا نے جاری کی تھی۔

کہا جاتا ہے کہ کاغذی کرنسی موجودہ دنیا کا سب سے بڑا دھوکہ ہے۔ [3] [4] [5] [6] [7] [8] [9] جولائی 2006 کے ایک جریدہ وسہل بلور کے ایک مضمون کا عنوان ہے کہ ڈالر جاری کرنے والا ادارہ "فیڈرل ریزرو اس صدی کا سب سے بڑا دھوکا ہے۔ [10] [11] مشہور برطانوی ماہر معاشیات جان کینز نے کہا تھا کہ مسلسل نوٹ چھاپ کر حکومت نہایت خاموشی اور رازداری سے اپنے عوام کی دولت کے ایک بڑے حصے پر قبضہ کر لیتی ہے۔ یہ طریقہ اکثریت کو غریب بنا دیتا ہے مگر چند لوگ امیر ہو جاتے ہیں۔[12] 1927 میں بینک آف انگلینڈ کے گورنر جوسیہ سٹیمپ ( جو انگلستان کا دوسرا امیر ترین فرد تھا ) نے کہا تھا کہ"جدید بینکاری نظام بغیر کسی خرچ کے رقم (کرنسی) بناتا ہے۔ یہ غالباً آج تک بنائ گئی سب سے بڑی شعبدہ بازی ہے۔ بینک مالکان پوری دنیا کے مالک ہیں۔ اگر یہ دنیا ان سے چھن بھی جائے لیکن ان کے پاس کرنسی بنانے کا اختیار باقی رہے تو وہ ایک جنبش قلم سے اتنی کرنسی بنا لیں گے کہ دوبارہ دنیا خرید لیں۔۔۔ اگر تم چاہتے ہو کہ بینک مالکان کی غلامی کرتے رہو اور اپنی غلامی کی قیمت بھی ادا کرتے رہو تو بینک مالکان کو کرنسی بنانے دو اور قرضے کنٹرول کرنے دو۔[13][14] بنجمن ڈی اسرائیلی نے کہا تھا کہ یہ بڑی اچھی بات ہے کہ ملک کےعوام بینکاری اور مالیاتی نظام کےبارے میں کچھ نہیں جانتے کیونکہ اگر وہ یہ سب کچھ جانتے تو مجھے یقین ہے کہ کل صبح سے پہلے بغاوت ہو جاتی۔[14] روتھسچائلڈ نے 1838 میں کہا تھا کہ مجھے کسی ملک کی کرنسی کنٹرول کرنے دو۔ پھر مجھے پرواہ نہیں کہ قانون کون بناتا ہے۔[15]

زر[ترمیم]

کسی زمانے میں کوڑی بطور رقم استعمال ہوتی تھی

روپیہ، پیسہ، نقدی ، رقم سکّہ یا کرنسی سے مراد ایک ایسی چیز ہوتی ہے جس کے بدلے

  • دوسری چیز خریدی یا بیچی جا سکے۔
  • خدمت خریدی یا بیچی جا سکے۔ (خدمت کا معاوضہ، اجرت، مزدوری، تنخواہ، فیس، کمیشن ادا کیا جا سکے۔)
  • کرایہ، قرض، بھتہ اور محصول دیا اور لیا جا سکے۔
  • تحفہ، رشوت، چندہ، خیرات وغیرہ دی اور لی جا سکے۔
  • خون بہا ادا کیا جا سکے۔[16]
  • بچت کی جا سکے۔ یہ وہ واحد شرط ہے جو بہت کم کرنسیوں میں ممکن ہوتی ہے۔

کرنسی کو زر یا زرمبادلہ بھی کہتے ہیں۔ روپیہ کی ایجاد سے پہلے لین دین اور تجارت "چیز کے بدلے چیز" (یعنی بارٹر نظام) کے تحت ہوتی تھی مثلاً گندم کی کچھ بوریوں کے عوض ایک گائے خریدی جا سکتی تھی۔ اسی طرح خدمت کے بدلے خدمت یا کوئ چیز ادا کی جاتی تھی۔ لیکن گندم اور گائے کی صورت میں لمبی مدت کے لیئے بچت ممکن نہیں ہوتی۔ اس لیئے کسی دوسری کرنسی کی ضرورت موجود تھی جس میں بچت بھی آسان ہو۔

کرنسی کی خوبیاں[ترمیم]

ہر کرنسی میں چار خوبیاں ہونی چاہئیں:

  • فوری لین دین کی صلاحیت یعنی وسیلۂ مبادلہ۔ کرنسی میں یہ صلاحیت لوگوں کے اعتماد سے آتی ہے جو ماضی کے تجربات پر منحصر ہوتا ہے۔
  • بچت کی صورت میں قدر کی برقراری یعنی store of value۔ کاغذی کرنسی مبادلے کی صلاحیت تو رکھتی ہے مگر قدر کی برقراری نہیں رکھتی ( یعنی وقت گزرنے کے ساتھ اسکی قوت خرید کم ہوتی چلی جاتی ہے)۔ اسکے برعکس سونا قدر کی برقراری تو بہت اچھی رکھتا ہے مگر چھوٹی لین دین کے لیئے مناسب نہیں ہے۔
  • منتقلی یا نقل و حمل کی آسانی۔ مکان اور زمین، اثاثہ تو ہوتے ہیں مگر غیر منقولہ ہونے کی وجہ سے کرنسی نہیں بن سکتے جبکہ الیکٹرونک کرنسی صرف منتقلی کی آسانی کی وجہ سے مقبول ہوتی جا رہی ہے۔ ماضی میں مویشیوں کو بطور کرنسی صرف اس لیئے استعمال کرتے تھے کہ انہیں ضرورت کی جگہ پر ہانک کر منتقل کرنا آسان اور کم خرچ ہوتا تھا۔ دوسرے الفاظ میں کرنسی قوت خرید کو منتقل اور موخّر کرنے کا ذریعہ ہے۔ (money is a transmitter of value through space and time.)
  • کرنسی قابل تقسیم ہونی چاہیئے۔ اگر سونے کے ایک ٹکڑے کے دس حصے کر دیئے جائیں تو یہ دس ٹکڑے مل کرلگ بھگ اسی قیمت کے ہونگے۔ لیکن اگر کسی قالین یا ہیرے کے دس ٹکڑے کر دیئے جائیں تو ان ٹکڑوں کی مجموعی قیمت بری طرح گر جائے گی۔

روپیہ، ڈالر یا کسی بھی کرنسی کو اگرچہ تبادلے کا وسیلہ (medium of exchange) سمجھا جاتا ہے مگر کرنسی محض ایک خیال کا نام ہے جس پر سب کو اعتماد ہو (money is an idea, backed by confidence)۔ لوگوں کا یہ اعتماد ہی کاغذ، پلاسٹک، دھات یا کریڈٹ کارڈ کو کرنسی کا درجہ دیتا ہے۔[17]

ماضی کی کرنسیاں[ترمیم]

ماضی میں بہت ساری مختلف اشیا رقم یا کرنسی کے طور پر استعمال ہوتی رہی ہیں جن میں مختلف طرح کی سیپیاں، چاول، نمک، مصالحے، خوبصورت پتھر، اوزار، گھریلو جانور اور انسان (غلام، کنیز) شامل ہیں۔[18]

  • حضرت عیسیٰ کی پیدائش کے زمانے تک چین میں چاقو کرنسی کی حیثیت رکھتا تھا۔
  • افریقہ میں ہاتھی کے دانت کرنسی کا درجہ رکھتے تھے۔
  • پہلی جنگ عظیم تک نمک اور بندوق کے کارتوس امریکہ اور افریقہ کے بعض حصوں میں کرنسی کے طور پر استعمال ہوتے رہے۔
  • دوسری جنگ عظیم کے فوراً بعد آسٹریا میں فلیٹ کا ماہانہ کرایا سگریٹ کے دو پیکٹ تھا۔[19]
  • جزائر فجی میں انیسویں صدی تک سفید حوت کے دانت بطور کرنسی استعمال ہوتے تھے۔ ایک دانت کے بدلے ایک کشتی خریدی جا سکتی تھی یا خون بہا یا مہر ادا کیا جا سکتا تھا۔ [20]
  • انگولا کی خانہ جنگی (1975 سے 2002) کے دوران بیئر کی بوتلیں بطور کرنسی استعمال ہوئیں۔[21]
  • ایران میں کبھی کبھار ادائیگی زعفران کی شکل میں کی جاتی ہے۔


تاریخ بتاتی ہے کہ

  • سونا بادشاہوں کی کرنسی رہا ہے۔
  • چاندی امرا اور شرفا کی کرنسی ہوا کرتی تھی۔
  • چیز کے بدلے چیز کا نظام یعنی بارٹر سسٹم کسانوں اور مزدوروں کی کرنسی تھی اور
  • قرض غلاموں کی کرنسی ہوا کرتی تھی۔

ادائیگی کا وعدہ[ترمیم]

سونے چاندی یا دوسری دھاتوں کے ذریعہ کی جانے والی لین دین مقایضہ نظام (barter system) ہی کی ایک شکل ہوتی ہے جس میں ادائیگی مکمل ہو جاتی ہے (یعنی قوت خرید منتقل ہوتی ہے)۔ کاغذی کرنسی سے کی جانے والی ادائیگی درحقیقت ادائیگی نہیں بلکہ محض آئیندہ ادائیگی کا وعدہ ہوتی ہے جو کبھی پورا نہیں ہوتا۔ یعنی کاغذی کرنسی میں ادائیگی دراصل قرض کی منتقلی ہوتی ہے۔ اس قرض کی ادائیگی کی ضامن عام طور پر حکومت ہوتی ہے۔
بارٹر سسٹم کے ذریعے اجنبیوں کے درمیان بھی لین دین ہو سکتی ہے۔
قرض اور ادائیگی کے وعدے کے ذریعے اجنبی آپس میں خرید و فروخت نہیں کر سکتے۔

سکّوں کی تاریخ[ترمیم]

اصل مضمون: سکّہ
آٹھویں صدی عیسوی سے قبل جاپان میں تیر کے سر، چاول اور سونے کا چورا رقم کے طور پر استعمال ہوتے تھے
600 سال قبل از مسیح استعمال ہونے والے سکے.
300 سال قبل از مسیح کا سکندر اعظم کا سونے کا سکّہ
قدیم روم میں استعمال ہونے والا چاندی کا سکہ جو دیناریس کہلاتا تھا
سنہ 1540-1545 میں شیر شاہ سوری کا جاری کردہ سب سے پہلا روپیہ جو تقریباً ایک تولے چاندی کا بنا ہوا تھا اور تانبے کے بنے 40 پیسوں کے برابر تھا۔ اس وقت ایک روپے میں 8 من چاول بکتا تھا۔
1565-1575شہنشاہ اکبر کا جاری کردہ روپیہ جو ایک تولہ چاندی کا بنا ہوا تھا

پانچ ہزار سال قبل چاندی کے خام ڈلے بطور کرنسی استعمال ہوئے۔ هيرودوت کے مطابق سب سے پہلے ترکی کے صوبے مانیسہ کے ایک علاقے لیڈیا میں سونے اور چاندی پر مہر لگا کر سکّے بنانے کا کام 600 صدی قبل از مسیح شروع کیا گیا تھا۔ سکے بنانے سے تولنے کی ضرورت ختم ہو گئی اور محض گن کر کام چلایا جانے لگا۔ سکوں پر موجود مہر اسکے وزن اور خالصیت کی ضمانت ہوتی تھی۔

تاریخی حقائق
  • قدیم چین کے سکّے گول ہوتے تھے جن میں چوکور سراخ ہوتا تھا جس کی مدد سے یہ ڈوری میں پروے جا سکتے تھے۔
  • ڈالر بھی کسی زمانے میں چاندی کا سکہ ہوا کرتا تھا۔ اسی طرح برطانوی پاونڈ سے مراد ایک پاونڈ وزن کی چاندی (sterling) ہوا کرتی تھی۔
  • اٹھارویں صدی میں ہسپانوی ڈالر یورپ امریکہ اور مشرق بعید میں تجارت کے لیے بہت استعمال ہوتا تھا۔ یہ چاندی کا سکّہ تھا جس میں 25.56 گرام خالص چاندی ہوتی تھی۔ اسی کی طرز پر بعد میں امریکی ڈالر بنایا گیا تھا۔
  • پہلا امریکی ڈالر 1794ء میں بنایا گیا جس میں 89.25% چاندی اور 10.75% تانبہ ہوتا تھا۔
  • امریکہ کے 1792 کے سکوں سے متعلق قانون کے مطابق ایک امریکی ڈالر کے سکے میں 24.1 گرام خالص چاندی ہوتی تھی۔ 1792 سے 1873 تک سونا چاندی سے 15 گنا مہنگا ہوتا تھا[22]۔ امریکہ کی دریافت کے بعد جیسے جیسے چاندی کی نئی کانیں دریافت ہوتی چلی گئیں چاندی کی قیمت گرتی چلی گئی۔ اب سونا چاندی سے 50 گنا سے زیادہ مہنگا ہے۔
  • سنہ 1900 میں امریکہ میں طلائی معیار (گولڈ اسٹینڈرڈ) کا قانون لاگو ہوا جس پر صدر ولیم میک کنلے کے دستخط تھے۔ اس قانون کے تحت صرف سونا کرنسی قرار پایا اور چاندی سے سونے کا تبادلہ روک دیا گیا کیونکہ چاندی کی قیمتیں گر رہی تھیں اور چاندی کی دستیابی بڑھنے کی وجہ سے بڑے بینکوں کے لیئے چاندی پر اجارہ داری برقرار رکھنا مشکل ہوتا جا رہا تھا اور کاغذی کرنسی کے رواج کو مستحکم کرنے کی انکی کوششیں کامیاب نہیں ہو پا رہی تھیں۔ اس قانون کے مطابق 20.67 ڈالر ایک ٹرائے اونس (31.1 گرام) سونے کے برابر قرار پائے۔ 25 اپرل 1933 کو امریکہ اور کینیڈا نے معیار سونا ترک کر دیا کیونکہ اس سال امریکہ میں عوام پہ سونا رکھنے پر پابندی لگا دی گئی تھی۔
  • پہلے سکّے اپنی اصل مالیت کے ہوا کرتے تھے یعنی ان میں جتنے کی دھات ہوتی تھی اتنی ہی قدر ان پر لکھی ہوتی تھی۔ لیکن رفتہ رفتہ سکّے جاری کرنے والی حکومتیں کم قیمت کی دھات پر زیادہ قدر لکھنے لگیں۔ آجکل سِکّوں پر لکھی ہوئی قدر ان کی اصل قیمت سے کہیں زیادہ ہوتی ہے۔ ایسے سکے ٹوکن منی کہلاتے ہیں۔
  • اگر کسی وجہ سے سکّوں پر لکھی ہوئی رقم دھات کی مالیت سے کم ہو جائے تو لوگ سکّے پگھلا کر استعمال کی دوسری دھاتی چیزیں بنا لیتے ہیں۔ 1920 میں ہندوستانی روپیہ پگھلا کر لوگوں نے بڑی مقدار میں چاندی ایکسپورٹ کری۔
  • 1947ء میں جب آزادی برطانوی ہند عمل میں آئی تو پاکستانی کرنسی کا وجود نہ تھا اس لیئے برطانوی ہند کے روپیہ پر پاکستان کی مہر لگا کر استعمال کیا گیا۔ 1948 میں پاکستان نے اپنی کاغذی کرنسی چھاپی اور دھاتی سکّے بھی جاری کیئے۔ اس وقت ایک روپیہ میں سولہ آنے ہوتے تھے اور ہر آنے میں چار پیسے۔ ایک پیسہ تین پائ کے برابر تھا یعنی ایک روپے میں 64 پیسے یا 192 پائی ہوتی تھیں۔

سکّے[ترمیم]

ہزاروں سال پہلے جو رقم کے طور پر استعمال ہوتا تھا۔ مگر ایسی چیزوں کو رقم کے طور پر استعمال کرنے میں یہ خرابی تھی کہ انہیں عرصے تک محفوظ نہیں رکھا جا سکتا تھا اس لیئے دھاتوں کا رقم کے طور پر استعمال شروع ہوا جو لمبے عرصے تک محفوظ رکھی جا سکتی تھیں۔ سونے میں یہ خوبی ہوتی ہے کہ یہ موسمی حالات سے خراب نہیں ہوتا ( جیسے زنگ لگنا ) اور یہ کمیاب بھی ہے۔ اسی وجہ سے دنیا بھر میں اسے دولت کو ذخیرہ کرنے کے لیئے (یعنی بچت کرنے کے لیئے) چُنا گیا۔

کرنسی بننے کے لیئے ایسی چیز موزوں ہوتی ہے جو پائیدار ہو، کمیاب ہو، اور ضخیم نہ ہو۔ یہی وجہ ہے کہ پچھلی کچھ صدیوں میں سونے چاندی تانبے کانسی وغیرہ کے سکّے استعمال ہوتے رہے۔ دھاتوں کی اپنی قیمت ہوتی ہے اور ایسے سکّے کو پگھلا کر دھات دوبارہ حاصل کی جا سکتی ہے۔ ایسے سکّے نہ کسی حکومتی یا ادارتی سرپرستی کے محتاج ہوتے ہیں نہ کسی سرحد کے پابند۔ یہ زرِ کثیف یعنی ہارڈ کرنسی کہلاتے ہیں۔ اس کے برعکس کاغذی کرنسی کی اپنی کوئی قیمت نہیں ہوتی بلکہ یہ حکومت کی سرپرستی کی وجہ سے وہ قدر رکھتی ہے جو اس پر لکھی ہوتی ہے۔ یہ زرِ فرمان یعنی fiat کرنسی کہلاتی ہے اور جیسے ہی حکومتی سرپرستی ختم ہوتی ہے یہ کاغذ کے ڈھیر میں تبدیل ہو جاتی ہے۔

بنگلہ دیش کے قیام کے وقت وہاں پاکستانی کرنسی رائج تھی جو اپنی قدر کھو چکی تھی۔ اسی طرح صدام حسین کے ہاتھوں سقوط کوِیت کے بعد کویتی دینار کی قدر آسمان سے زمین پر آ گئی تھی۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ ہر کاغذی کرنسی کے پیچھے ایک فوجی طاقت کتنی ضروری ہے۔

  • آج بھی بھارت کا کاغذی روپیہ نیپال اور بھوٹان میں چلتا ہے کیونکہ نیپال اور بھوٹان کے مقابلے میں بھارت کہیں زیادہ بڑا ملک ہے اور اس وجہ سے اسکی کرنسی زیادہ اعتبار رکھتی ہے۔ مضبوط فوجی طاقت کاغذی کرنسی کو بھی مستحکم کرتی ہے۔ نیپال اور بھوٹان کی کرنسی بھارت میں نہیں چلتی۔
  • 1791 سے 1857 تک ہسپانیہ کا سکّہ متحدہ امریکہ میں قانونی سکّے کے طور پر چلتا تھا کیونکہ یہ چاندی کا بنا ہوا تھا اور اپنی قدر خود رکھتا تھا۔
  • 1959 تک دبئی اور قطر کی سرکاری کرنسی ہندوستانی روپیہ تھی جو چاندی کا بنا ہوا ہوتا تھا۔

عالمی کرنسی کی تاریخ[ترمیم]

  • 1450 سے 1530 تک عالمی تجارت پہ پرتگال کا سکّہ چھایا رہا۔
  • 1530 سے 1640 تک عالمی تجارت پہ ہسپانیہ کا سکّہ حاوی رہا۔
  • 1640 سے 1720 تک عالمی تجارت ولندیزی سکّے کے زیر اثر رہی۔
  • 1720 سے 1815 تک فرانس کے سکّے کی حکومت رہی۔
  • 1815 سے 1920 تک برطانوی پاونڈ حکمرانی کرتا رہا۔
  • 1920 سے اب تک امریکی ڈالر نے راج کیا لیکن اب اسکی مقبولیت تیزی سے گرتی جا رہی ہے۔ ماضی کی کرنسیوں کے برخلاف یہ چاندی کی نہیں بلکہ کاغذ کی کرنسی ہے اور محض امریکی حکومت پر اعتماد اور اسکی فوجی دھونس پر قائم ہے۔[23]

[24] [25]

بینک نوٹ[ترمیم]

اصل مضمون: رقعہ مصرف
مردے کی روح کو رقم پہنچانے کے لیئے چین میں تدفین کے موقع پر ایسے نوٹ جلائے جاتے ہیں۔ اس نوٹ کی مالیت اگرچہ ایک ارب ڈالر ہے مگر یہ بہت سَستا ملتا ہے۔ اس پر دوزخ کے داروغہ کی تصویر بنی ہوئی ہے۔
دسمبر 1930۔ اپنے پیسے واپس لینے کے لیئے بینکِ آف یونائیٹڈ اسٹیٹ کے باہر مجمع لگا ہے۔

سکّوں کے نظام سے دنیا کا روزمرہ کا کاروبار نہایت کامیابی سے چل رہا تھا مگر اس میں یہ خرابی تھی کہ بہت زیادہ مقدار میں سکّوں کی نقل و حمل مشکل ہو جاتی تھی۔ وزنی اور ضخیم ہونے کی وجہ سے بڑی رقوم چور ڈاکووں کی نظروں میں آ جاتی تھیں اور سرمایہ داروں کی مشکلات کا سبب بنتی تھیں۔ اسکا قابل قبول حل یہ نکالا گیا کہ سکّوں کی شکل میں یہ رقم کسی ایسے قابل اعتماد شخص کی تحویل میں دے دی جائے جو قابل بھروسہ بھی ہو اور اس رقم کی حفاظت بھی کر سکے۔ ایسا شخص عام طور پر ایک امیر سونار ہوتا تھا جو ایک بہت بڑی اور بھاری بھرکم تجوری کا مالک بھی ہوتا تھا اور اسکی حفاظت کے لیئے مناسب تعداد میں محافظ بھی رکھتا تھا۔ اس شخص سے اس جمع شدہ رقم کی حاصل کردہ رسید (نوٹ) کی نقل و حمل آسان بھی ہوتی تھی اور مخفی بھی۔ سونار کی ان رسیدوں پر بھی ادائیگی کا ایسا ہی وعدہ لکھا ہوتا تھا جیسے اب بھی بہت سے بینک نوٹوں پر لکھا ہوتا ہے۔ اگر ایسا شخص بہت ہی معتبر ہوتا تھا تو اسکی جاری کردہ رسید کو علاقے کے بہت سے لوگ سکّوں کے عوض قبول کر لیتے تھے اور ضرورت پڑنے پر وہی رسید دکھا کر اس سونار سے اپنے سکّے وصول کر لیتے تھے۔ اس زمانےمیں سنار لوگوں سے رقم کی حفاظت کرنے کا معاوضہ وصول کیا کرتے تھے۔ اس طرح رسید کے طور پر کاغذی کرنسی (بینک نوٹ) کا قیام عمل میں آیا جبکہ سنار معتبر ادارے کے طور پر بینکوں میں تبدیل ہو گئے۔ ایسی رسیدیں زر نمائندہ کہلاتی ہیں کیونکہ ان کی پشت پناہی کے لیئے بینکوں میں اتنا ہی سونا موجود ہوتا ہے جتنی رسیدیں بینک جاری کرتا ہے۔ ایسے بینکوں میں کبھی 'بینک رن' نہیں ہوتا۔[26]

اس نمائندہ کاغذی کرنسی (زرکاغذ نمائندہ) کا تصور نیا نہیں تھا بلکہ ہزاروں سال پہلے بھی موجود تھا۔ جاپان اور آس پاس کے علاقوں میں مذہبی عبادت گاہوں (پگوڈا) میں اناج ذخیرہ کرنے کے بڑے بڑے گودام موجود ہوا کرتے تھے جن میں لوگ اپنا اناج جمع کرکے کاغذی رسید حاصل کر لیتے تھے اور پھر منڈی میں لین دین کے لیئے ان ہی رسیدوں کا آپس میں تبادلہ کر لیتے تھے۔ پگوڈا میں اناج جمع کرانے والے کو بھی اجرت ادا کرنی پڑتی تھی۔

شروع شروع میں تو بینک اتنی ہی رسیدیں جاری کرتے رہے جتنی رقوم دھاتی سکّوں کی شکل میں ان کے پاس جمع کی جاتی تھیں مگر بعد میں جب لوگوں کا اعتماد ان رسیدوں پر بڑھتا چلا گیا اور بینک سے اپنے سکّے طلب کرنے کا رجحان کم ہوتا چلا گیا تو بینک اپنے پاس جمع شدہ دھات سے زیادہ مالیت کی رسیدیں جاری کرنے لگے جو انکی اپنی اضافی آمدنی بن جاتی تھیں۔ اس طرح ماضی میں بینکوں نے خوب خوب لُوٹا اور مناسب وقت آنے پر وہ ساری دولت سمیٹ کر منظر عام سے غائب ہو گئے۔ امریکہ کی تاریخ ایسے بینک فراڈوں سے بھری پڑی ہے (11 دسمبر 1930 کو نیویارک کا تیسرا سب سے بڑا بینک، بینک آف یونائیٹڈ اسٹیٹ، بند ہو گیا۔ اگلے سال ستمبر اکتوبر کے دو مہینوں میں 800 مزید بینک بند ہوئے۔[27])۔ صرف بینکوں نے ہی نہیں بلکہ حکومتوں نے بھی عوام اور دوسرے ممالک کی حکومتوں کو خوب اُلّو بنایا۔ اسکی تازہ ترین مثال پہلے تو حکومت امریکہ کا 24 جون 1968 کو سلور سرٹیفیکٹ کے بدلے چاندی واپس کرنے سے انکار کرنا اور پھر اگست 1971 میں 35 ڈالر میں ایک اونس سونا واپس کرنے کے وعدے سے مکرنا تھا۔
امریکہ چین سے 3200 ارب ڈالر کا سامان خرید چکا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اب امریکہ اپنے ڈالر کی قیمت گرا رہا ہے تاکہ چین کے ان ڈالروں کی قوت خرید گر جائے۔

پاکستانی کاغذی کرنسی پر تحریر وعدہ
بینک دولت پاکستان ایک ہزار روپیہ حامل ٰہذا کو مطالبے پر ادا کرے گا
PKR Rs 1000.jpg Pakistani one rupee coin 1948.JPG
پاکستان کے ہزار روپیہ کے بینک نوٹ پر لکھے اس وعدے کا مطلب یہ ہے کہ اسٹیٹ بینک کاغذ کی اس رسید یا نوٹ کے بدلے چاندی کے 1000 روپے ادا کرے گا۔ چاندی کا روپیہ پاکستان بنتے وقت رائج تھا۔ لیکن اب لوگ بھی چاندی کا روپیہ بھول چکے ہیں اور اسٹیٹ بینک بھی چاندی کے سکّے کی ادائیگی نہیں کر سکتا۔ پاکستان کا 1948ء کا بنا ہوا ایک روپے کا دھاتی سکّہ اگرچہ ماضی کے دھاتی روپے کی طرح چاندی کا ہی سمجھا جاتا تھا مگر درحقیقت وہ نکّل کا بنا ہوا تھا اور وزن میں ایک تولے سے قدرے کم، 11.1 گرام کا تھا۔ لفظ روپیہ سنسکرت زبان کے لفظ روپا سے ماخوذ ہے جسکے معنی ہیں چاندی۔

ہندوستان اور کاغذی کرنسی[ترمیم]

ہزاروں سال سے کرنسی سونے چاندی کے سکّوں پر مشتمل ہوا کرتی تھی کیونکہ لوگ اپنی مرضی کی چیز بطور کرنسی استعمال کرنے کا حق رکھتے تھے۔ لیکن بعد میں حکومتیں قانون بنا کر لوگوں کو مخصوص کرنسی استعمال کرنے پر مجبور کرنے لگیں۔ یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے۔

جب بینکاری کو عروج ہوا تو بینکوں کو اندازہ ہوا کہ کاغذی کرنسی کے رواج کو فروغ دینے سے بینکوں کو کس قدر زیادہ منافع ہو سکتا ہے۔ مرکزی بینک چونکہ سونا اور چاندی بنا نہیں سکتے اس لیئے وہ سونے چاندی سے بنی کرنسی کو کنٹرول بھی نہیں کر سکتے۔ اس لیئے مرکزی بینک سونے چاندی کو بطور کرنسی استعمال کرنے کے سخت خلاف ہوتے ہیں۔ مرکزی بینک ہمیشہ ایک ایسی کرنسی چاہتے ہیں جسے وہ پوری طرح کنٹرول کر سکیں تاکہ بے حد امیر اور طاقتور بن سکیں اور یہ کرنسی صرف کاغذی کرنسی ہو سکتی تھی کیونکہ کاغذی کرنسی جتنی چاہیں اتنی چھاپی جا سکتی ہے۔ اس طرح دولت تخلیق کرنے کا اختیار بینکاروں کے ہاتھ میں آ جاتا ہے۔ لیکن مشکل یہ تھی کہ برطانیہ میں تو بادشاہ نے قانون بنا کر لوگوں کو بینک آف انگلینڈ کی چھاپی ہوی کاغذی کرنسی استعمال کرنے پر مجبور کر دیا تھا جو بعد میں وہاں پوری طرح رائج بھی ہو گئی تھی لیکن دنیا کے کئی ممالک میں کاغذی کرنسی مقبول نہ ہو سکی کیونکہ وہاں لوگ سونے چاندی پر زیادہ اعتبار کرتے تھے اور کاغذی نوٹ کو شک کی نگاہوں سے دیکھتے تھے۔ اس میں چین اور ہندوستان بھی شامل تھے۔ ان بینکوں نے بہت آہستہ آہستہ لوگوں کو کاغذی کرنسی کے استعمال کی عادت ڈال دی اور مختلف مواقع پر ایسے قوانین نافذ کروائے جو لوگوں کو کاغذی کرنسی استعمال کرنے پر مجبور کریں۔ مختلف طلائی معیار (گولڈ اسٹینڈرڈ) اِن ہی قوانین کی مثالیں ہیں۔

جب انگریز ہندوستان آیا تو یہاں کی دولت لوٹنے کے لیے کاغذی نوٹ کو رواج دینے کی کوشش میں لگ گیا۔ ہندوستان باقی دنیا کو بہت زیادہ مالیت کا سامان تجارت برآمد کرتا تھا جبکہ درآمدات کم تھیں۔ یعنی تجارت کا توازن ہندوستان کے حق میں تھا۔ انگریزوں کو اس مال کے بدلے ہندوستان کے لوگوں کو سونا یا چاندی ادا کرنی پڑتی تھی جو وہ نہیں دینا چاہتے تھے۔ انگریزوں کی خواہش تھی کہ اگر ہندوستان میں بھی کاغذی نوٹ کا رواج پڑ جائے تو صرف کاغذ چھاپ چھاپ کر مال خریدا جا سکتا ہے۔ اس وقت ہندوستانیوں کو بینکاری اور کاغذی نوٹوں کا بالکل تجربہ نہیں تھا جبکہ انگریز اس میں ماہر تھا۔ ہندوستان کے لوگوں کو بینکاری کی عادت ڈالنے کے لیئے ایسٹ انڈیا کمپنی کے زمانے سے ہی ڈاک خانوں میں پوسٹل سیونگ بینک بنائے گئے جن سے متوسط اور نچلے طبقے کے پاس محفوظ سونا چاندی بٹورنا ممکن ہو گیا۔ 1879 میں ان پوسٹل سیونگ بینکوں کی جانب سے 4 فیصد سے زیادہ سود دیا جاتا تھا جو بعد میں کم ہوتا چلا گیا۔ اس زمانے میں افراط زر نہ ہونے کی وجہ سے یہ ایک بہت ہی معقول منافع تھا۔

سلور اسٹینڈرڈ[ترمیم]

انگریز چونکہ ہندوستان سے سونا بٹورنا چاہتا تھا اس لیئے اس نے صرف چاندی کے روپے کو سرکاری کرنسی قرار دیا۔ 1835 میں انہوں نے معیارِ نقرہ کا قانون (سلور اسٹینڈرڈ) نافذ کیا جس کے مطابق چاندی کا روپیہ سرکاری سکّہ بن گیا۔ یہ سکّہ پہلے ہی سے بمبئی اور مدراس میں رائج تھا۔ سونے اور چاندی کے ان سکوں کا وزن ایک تولہ یعنی 180 گرین (grain) ہوتا تھا اور یہ 22 قیراط کے ہوتے تھے۔ حکومت عوام سے سونے کا سکّہ قبول تو کر لیتی تھی مگر عوام کو سونا دینے کی پابند نہیں تھی۔ اسی قانون میں اشرفی (گولڈ مُہر) کی قیمت 15 چاندی کے روپے طے کی گئی۔ اس قانون کے ذریعے لوگوں کی توجہ چاندی پر مرکوز کروا کر انگریز حکومت نے بڑی مالیت میں زیر گردش سونے کے سکے اپنے پاس ذخیرہ کر لیے جو بعد میں انگلستان بھجوا دیئے گئے۔

اس وقت کاغذی کرنسی "پریزیڈنسی بینکِ بنگال" جاری کرتا تھا۔ در حقیقت یہ بینک 1809 سے کاغذی کرنسی جاری کر رہا تھا مگر وہ ہندوستان میں مقبول نہیں ہو رہی تھی اور قانونی کرنسی کا درجہ نہیں رکھتی تھی۔ بمبئی میں کاغذی کرنسی 1840 میں اور مدراس میں 1943 میں جاری کی گئی۔ اس وقت ایک علاقے کی کاغذی کرنسی دوسرے علاقے میں نہیں چلتی تھی۔

1848 سے 1855 کے درمیان امریکہ میں کیلیفورنیا میں بڑی مقدار میں سونا پایا گیا جس سے سونے کی قیمتیں عارضی طور پر گر گئیں. لیکن بعد کے سالوں میں چاندی کی بے شمار کانیں دریافت ہوئیں اور 1873 سے چاندی کی قیمت گرنے لگی۔ 1892 میں امریکہ نے چاندی کا قانونی کرنسی کا درجہ ختم کر کے صرف سونے کو قانونی کرنسی قرار دیا۔ اسکے پیچھے بینک آف انگلینڈ کا ہاتھ تھا۔

1861 میں ہندوستان میں کاغذی کرنسی کا قانون نافذ ہوا۔ اس قانون کے ذریعے دوسرے بینکوں کا کاغذی نوٹ چھاپنے کا اختیار ختم کر دیا گیا اور اب یہ حق حکومت کے پاس آگیا[28] اور ہندوستانی حکومت مارچ 1935 تک نوٹ چھاپتی رہی۔ اسکے بعد پہلی اپریل 1935 سے نوٹ چھاپنے کا اختیار نئے بنے ریزرو بینک آف انڈیا کو بخش دیا گیا جو ایک نجی مرکزی بینک تھا اور عملی طور پر بینک آف انگلینڈ کی ہندوستانی شاخ تھا۔[29] اس کے بعد ہندوستان کی برطانوی حکومت کے پاس صرف ایک روپے کے نوٹ چھاپنے کا اختیار باقی رہا۔


1893 میں ہندوستان کی برطانوی حکومت نے چاندی کا سکّہ بنانے والی ٹکسال بند کروا دیں تاکہ نہ چاندی کا سکہ مناسب مقدار میں دستیاب ہو نہ لوگ اسے استعمال کر سکیں۔ سونے کا سکہ (اشرفی) انگریز پہلے ہی سمیٹ کر غائب کر چکا تھا۔ اب ہندوستان میں لوگوں کے پاس لین دین کے لیئے کاغذی کرنسی استعمال کرنے کے سوا کوئی چارہ نہ رہا۔ اس طرح 1835 میں سرکار کا بنایا ہوا سلور اسٹینڈرڈ 1893 میں بحقِ کاغذی کرنسی ختم ہو گیا۔

برطانیہ میں 1821 سے سونے کے سکّے قانونی کرنسی کا درجہ رکھتے تھے۔ امریکہ آسٹریلیا اور کینیڈا میں بھی یہ بہت مقبول تھے۔ فرانس اور جرمنی کی جنگ (1870-1871) میں فرانس کی شکست کے بعد جرمنی نے فرانس سے تاوان جنگ 5 ارب فرانک سونے کی شکل میں وصول کیا اور اپنی کرنسی کو چاندی سے ہٹا کر سونے کی کرنسی اختیار کی کیونکہ چاندی کی مقبولیت گِر رہی تھی۔ لیکن اسی دوران ہندوستان میں برطانوی راج صدیوں سے رائج سونے کی کرنسی ہٹا کر چاندی کی اور پھر کاغذ کی کرنسی نافذ کرنے میں مصروف رہا۔ جولائی 1926 میں حکومت ہی کے بنائے ہوئے Hilton Young Commission نے بھی ہندوستان میں حقیقی گولڈ اسٹینڈرڈ کی سفارش کی مگر حکومت نے نظر انداز کر دی۔

گولڈ اسٹینڈرڈ[ترمیم]

اصل مضمون: معیار طلا


طلائی معیار (گولڈ اسٹینڈرڈ) مالیاتی نظام کی ایک قسم تھی جس میں ایک کاغذی روپیہ،(یا ڈالر، پاونڈ وغیرہ) سونے کی ایک مخصوص مقدار کی نمائندگی کیا کرتا تھا۔[30] یعنی کاغذی روپیہ سونے کے سکے کی رسید یا ٹوکن کی حیثیت رکھتا تھا نہ کہ fiat کرنسی کی۔
طلائی معیار کا قانون مرکزی بینکوں کی جانب سے ان سونے کے سکّوں کی بجائے کاغذی کرنسی کا استعمال زیادہ سے زیادہ قابل قبول بنانے کی غالباً پہلی اور بڑی حد تک کامیاب کوشش تھی۔ لوگ یہ سمجھ کر کاغذی کرنسی قبول کرنے لگے کہ اسکے بدلے جب چاہیں بینک سے سونے کے سکّے حاصل کر سکتے ہیں۔

گولڈ اسٹینڈرڈ کی اقسام[ترمیم]

لگ بھگ 500 سال قبل تک گولڈ اسٹینڈرڈ سے مراد وہ قوانین ہوتے تھے جو سونے کے سکے کا وزن اور خالصیت (قیراط) بیان کرتے تھے۔ لیکن بعد میں گولڈ اسٹینڈرڈ کے نام سے ایسے قوانین بنائے جانے لگے جو کاغذی کرنسی کو سونے کا متبادل قرار دیتے تھے۔

  • طلائی نقدی معیار: (Gold specie standard) اسے کلاسییکی طلائی معیار بھی کہتے ہیں۔ اس میں ایک کاغذی روپیہ ایک چاندی کے روپے کے برابر ہوتا تھا اور 15 چاندی کے روپے ایک سونے کے سکّے (طلائی مہر یا اشرفی) کے برابر تھے۔ یہ وہ زمانہ تھا جب برطانوی ہندوستان میں صرف سونے چاندی تانبے وغیرہ کے سکّے چلتے تھے اور انگریز حکومت کاغذی کرنسی کا رواج شروع کر رہی تھی۔ کاغذی کرنسی پہ اعتبار بڑھانے کے لیے شروع شروع میں تو لوگوں کو بینک سے کاغذی روپیہ کے بدلے سونا یا چاندی دے دی جاتی تھی مگر رفتہ رفتہ یہ مشکل تر ہوتا چلا گیا اور بالآخیر بالکل ہی ختم ہو گیا۔ برطانیہ میں یہ نظام 1821 سے پہلی جنگ عظیم (اگست 1914) تک چلا۔

ہندوستان میں قانون تو طلائی معیار کا بنا تھا لیکن چند سالوں بعد ہی عملی طور پر "گولڈ ایکسچینج اسٹینڈرڈ" رواج دے دیا گیا اور حقیقی طلائی معیار کے تقاضے کبھی بھی پورے نہ ہو سکے۔[31] حقیقی طلائی معیار میں سونا چاندی بغیر کسی روک ٹوک کے عوام کی دسترس میں ہوتا ہے کیونکہ سونے چاندی کے سکے گردش میں ہوتے ہیں۔ برطانیہ میں طلائی معیار کا قانون 1816 میں بنا تھا جس کے بعد اگلے سال سونے کا سکہ "سوورین" (sovereign) جاری کیا گیا جو 22 قیراط سونے سے بنا تھا اور اس میں 7.3 گرام خالص سونا ہوتا تھا۔ یہ ایک پاونڈ یعنی 20 چاندی کے شلنگ کے برابر تھا۔ نومبر 1864 میں اسکی قیمت 10 ہندوستانی روپے کے مساوی قرار دی گئی تھی۔ (یعنی سوورین کی شکل میں 22 قیراط سونے کی قیمت لگ بھگ 16 روپیہ فی تولہ تھی جبکہ اتنے ہی سونے کی اشرفی کی قیمت 15 روپے تھی)۔ 26 جون 1893 کو سوورین کی قیمت بڑھا کر 15 روپے قرار دی گئی۔ (یعنی لگ بھگ 24 روپے فی تولہ)

  • طلائی تبدل معیار: (Gold exchange standard)۔ اپنے نام کی مماثلت کے باوجود گولڈ اسٹینڈرڈ اور گولڈ ایکسچینج اسٹینڈرڈ میں زمین آسمان کا فرق ہے لیکن دونوں ایک ہی سلسلے کی کڑیاں ہیں یعنی قابل تخلیق کرنسی کو رائج کرنا ۔ گولڈ ایکسچینج اسٹینڈرڈ کے نظام میں سونے چاندی کے سکّے گردش میں نہیں ہوتے تھے اور حکومت اس بات کی ضمانت دیتی تھی کہ کاغذی روپیہ کے بدلے ایک مقررہ مقدار میں سونا یا چاندی دی جائے گی جو حکومت (یا مرکزی بینک) کے پاس محفوظ رکھی ہوتی تھی۔ اس زمانے میں لوگوں کا بینک سے کاغذی روپیہ کے بدلے سونا یا چاندی حاصل کرنا بہت مشکل بنا دیا گیا تھا۔ اب سونا چاندی عوام کی دسترس سے نکل گیا تھا کیونکہ اب بینک کی روک ٹوک درمیان میں آ گئی تھی۔ تاریخ گواہ ہے کہ اس ضمانت کی آڑ میں دنیا بھر میں حکومتوں اور مَرکزی بینکوں نے عوام کا سونا چاندی بڑی مقدار میں ہڑپ کر لیا۔ ہندوستان کی برطانوی حکومت نے اس دوران بڑی مقدار میں سونا ہندوستان سے انگلستان بھیجا اور اس طرح ہندوستان میں سونے کی قلّت پیدا ہو گئی تھی جس کو چھپانے کے لیئے اصلی سکّوں کی جگہ کاغذی کرنسی کو ہی قانونی کرنسی قرار دیا گیا۔ ہندوستان میں گولڈ ایکسچینج اسٹینڈرڈ 1898 میں Fowler Report کے بعد باضابطہ طور پر نافذ کیا گیا اور ایک ہندوستانی روپیہ ایک شلنگ اور چار پینس (1s 4d) کے برابر قرار دیا گیا۔ برطانیہ میں اس نظام کو لانے کی وجہ یہ تھی کہ پہلی جنگ عظیم کے بعد برطانیہ پہ 85 کروڑ پاونڈ کا قرضہ چڑھ چکا تھا اور حکومت کے اخراجات کا 40 فیصد سود ادا کرنے پر خرچ ہوتا تھا۔ (سو سال بعد آج برطانیہ پہ 31 ارب پاونڈ کا قرضہ ہے)۔ برطانیہ میں یہ نظام صرف 6 سال (1925 سے 1931 تک) چل سکا۔ مئی 1931 میں آسٹریا کے سب سے بڑے بینک میں بینک دوڑ ہوا اور وہ بینک ناکام ہو گیا۔ یہ بینک دوڑ اسی سال جرمنی اور برطانیہ تک پہنچ گیا۔ 19 ستمبر 1931 میں برطانیہ نے یہ نظام ختم کر دیا جس سے برطانوی پاونڈ کی قیمت بڑی تیزی سے گری۔ چونکہ ہندوستانی روپیہ پاونڈ سے منسلک تھا اس لیئے روپے کی قدر بھی بہت کم ہو گئی۔ صرف تین چار مہینوں میں ہندوستان میں سونے کی قیمت 45 فیصد اضافہ کے بعد لگ بھگ 32 روپے تولہ ہو گئی۔ یہ سب مرکزی بینکوں کی جانب سے ذخیرہ شدہ سونے کی مالیت سے کہیں زیادہ نوٹ چھاپنے کا نتیجہ تھا۔ اس سارے بحران میں مرکزی بینکوں نے خوب خوب کمایا۔

مالیات کی دنیا میں مبہم اور ذو معنی اصطلاحات کا استعمال بہت عام ہے۔ گولڈ ایکسچینج اسٹینڈرڈ میں لفظ ایکسچینج سے مراد بل آف ایکسچینج تھا جو ایک بینک ڈرافٹ ہوتا تھا اور اس زمانے میں بین الاقوامی ادائیگیوں میں بہت استعمال ہوتا تھا۔[32] گولڈ ایکسچینج اسٹینڈرڈ کا لب لباب یہ تھا کہ سونے کے بدلے کاغذ لے لو۔ عوام کو اگرچہ کاغذی رسید کے بدلے سونا نہیں دیا جاتا تھا مگر اب بھی عوام کا سونے پر حق تسلیم کیا جاتا تھا۔

  • طلائی سلاخ معیار: (Gold bullion standard) اس نظام میں عام آدمی کے لیئے کاغذی کرنسی کے بدلے بینک سے سونے کا سکہ لینے کا حق ہی ختم کر دیا گیا۔ صرف چند امیر لوگوں کے پاس یہ حق باقی رہ گیا جو دوسرے ممالک سے تجارت کرتے تھے اور یک مشت 400 اونس (لگ بھگ ساڑھے بارہ کلو) کی سونے کی اینٹ خرید سکتے تھے۔ ریزرو بینک آف انڈیا کے گورنر سر چنتا من راو دیشمکھ نے ہندوستان میں برطانوی حکومت کی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ "ایسی اصلاحات کے بعد انڈیا آفس اس طرح کا نا ممکن کاروبار ہو سکنے کے بارے میں اندھا ہے اور بے چارے مالیاتی حکام کو اسمبلی میں کھڑے ہو کر اُن پالیسیوں کا دفاع کرنا پڑتا ہے جنہیں وہ خود بھی غلط سمجھتے ہیں اور جنکے نقصانات بڑے واضح ہوتے ہیں"۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 1932 سے مارچ 1941 تک ہندوستان کی برطانوی حکومت نے 1337.5 ٹن سونا برطانیہ بھیجا جسکی مالیت 375 کروڑ روپے تھی۔ اس وقت اس سونے کی اوسط قیمت 33 روپے فی تولہ سے بھی کم تھی۔ اس سونے سے بینک آف انگلینڈ کو سونے کا ذخیرہ بنانے میں بڑی مدد ملی۔[33]

گولڈ اسٹینڈرڈ اور امریکہ[ترمیم]

ابتدا ہی سے امریکہ میں دو دھاتی نظام (bimetallic standard) قائم تھا یعنی ڈالر کی قیمت سونے اور چاندی دونوں کے وزن اور خالصیت (قیراط) کے لحاظ سے بیان کی جا سکتی تھی اور ڈالر کا سکہ سونے کا بھی ہوتا تھا اور چاندی کا بھی۔ اس طرح امریکہ میں سونا چاندی سے 15 گنا مہنگا تھا۔ لیکن اس وقت باقی دنیا میں سونا چاندی سے پندرہ کی بجائے ساڑھے پندرہ گنا مہنگا تھا۔ دوسرے الفاظ میں امریکہ میں سونا باقی دنیا سے سستا تھا اور اسی وجہ سے سونے کے امریکی ڈالر کا سکہ بڑی مقدار میں دوسرے ممالک میں چلا گیا اور امریکہ میں عملاً چاندی کے ڈالر کا سکہ گردش میں رہا۔
اس خامی کو دور کرنے کے لیئے 1834 میں امریکی سونے کے ڈالر کے سکے میں سونے کی مقدار گھٹا دی گئی اور اب یہ سکہ چاندی سے 16 گنا مہنگا کر دیا گیا۔ اب چونکہ چاندی کا ڈالر سستا ہو گیا تھا اس لیئے امریکہ سے چاندی باہر جانے لگی اور سونا واپس آنے لگا۔ امریکہ میں سونے کی نئی کانیں بھی دریافت ہوئیں اور سونا مزید سستا ہو گیا جس کی وجہ سے چاندی کے سکے بالکل ہی نایاب ہو گئے۔ نوبت یہاں تک آ گئی کہ دکاندار ریزگاری واپس کرنے سے قاصر ہو گئے۔
اس مشکل کو دور کرنے کے لیئے 1853 میں چاندی کے ایسے سکے جاری کیئے گئے جن میں چاندی تو کم ہوتی تھی مگر ان پر قدر زیادہ لکھی ہوتی تھی تاکہ ریزگاری بھی واپس کی جا سکے اور سکہ اسمگل ہو کر ملک سے باہر بھی نہ جائے۔ ایسے سکے ٹوکن منی کہلاتے ہیں اور دھاتی ہونے کے باوجود fiat کرنسی ہوتے ہیں۔
امریکہ کی سول وار کے دوران (1862) حکومت نے ایسی کاغذی کرنسی جاری کی جس کی پشت پناہی کے لیئے نہ سونا ہوتا تھا نہ چاندی۔


برطانیہ 1819 میں[34] اور کینیڈا 1853 میں گولڈ اسٹینڈرڈ اپنا چکے تھے۔ جرمنی نے 1871 میں گولڈ اسٹینڈرڈ اپنا لیا تھا۔ امریکہ میں 1873 میں سکوں سے متعلق قانون میں ترمیم کر کے عملاً گولڈ اسٹینڈرڈ اپنا لیا گیا۔

جب بھی اثاثوں سے زیادہ کرنسی چھپتی ہے نتیجہ معاشی بحران ہوتا ہے۔ 4 اکتوبر 1873۔ نیویارک سٹی میں ہونے والے ایک "بینک رن" کی یاد گار تصویر۔

1879 میں امریکہ دوبارہ دھاتی کرنسی پر واپس آ گیا لیکن اس دفعہ چاندی کو کرنسی نہیں قرار دیا گیا بلکہ صرف سونے کو کرنسی قرار دیا گیا۔ عوام کا بڑی شدت سے اصرار رہا کہ چاندی کو بھی کرنسی بنایا جائے مگر 1900 میں دوبارہ صرف سونے کو ہی قانوناً کرنسی قرار دیا گیا۔
1862 سے پہلے ہارڈ کرنسی کے اُس دور میں بھی امریکہ میں سونے چاندی کے سکوں کے ساتھ ساتھ کاغذی نوٹ بھی بڑی مقدار میں گردش کرتے رہے۔ ان نوٹوں کی حیثیت سونے چاندی کی رسید یا representative money جیسی تھی۔ یہ نوٹ بہت سے مختلف پرائیوٹ بینکوں کی طرف سے بھی جاری ہوتے تھے اور حکومت کے محکمہ خزانہ کی طرف سے بھی لیکن ان میں سے کسی کو بھی لیگل ٹینڈر کی حیثیت حاصل نہ تھی۔ چونکہ اس زمانے میں "بینک رن" بہت عام تھے اس لیئے 1913 میں فیڈرل ریزرو سسٹم بنایا گیا تاکہ چیک اور نوٹ کے بدلے عوام کو سونے چاندی کی ادائیگی کو یقینی بنایا جا سکے لیکن جو کچھ ہوا وہ اسکے عین برعکس تھا۔ 1933 میں امریکی عوام سے سونا رکھنے کا حق ہی چھین لیا گیا۔ 1934 سے 1973 تک گولڈ اسٹینڈرڈ کے نام پر جو سسٹم چلانے کی کوشش کی گئی وہ ہرگز گولڈ اسٹینڈرڈ نہ تھا۔ [35]

افراط زر[ترمیم]

اصل مضمون: افراط زر
زمبابوے میں اتنے زیادہ نوٹ چھاپے گئے کہ سنہ 2008 میں 100 بیلین ڈالر میں صرف تین انڈے خریدے جا سکتے تھے

کاغذی کرنسی پہلے تو حکومت کے پاس موجود سونے چاندی کی مالیت کے برابر مقدار میں چھاپی جاتی تھی لیکن 1971 میں بریٹن ووڈ معاہدہ ٹوٹنے کے بعد ایسی کوئ روک ٹوک باقی نہیں رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کرنسی کنٹرول کرنے والے ادارے اور حکومتیں اپنی آمدنی بڑھانے کے لیئے زیادہ سے زیادہ کرنسی چھاپنے کے خواہشمند ہوتے ہیں۔ لیکن اگر کرنسی زیادہ چھاپی جائے تو افراط زر کی وجہ سے اس کی قدر لامحالہ کم ہو جاتی ہے ( یعنی اس کی قوت خرید کم ہو جاتی ہے) اس طرح لوگوں کا اور باقی دنیا کا اعتبار اس کرنسی پر کم ہونے لگتا ہے۔ جو کرنسی چھاپنے والے ادارے یا حکومت کے لیئے نقصان دہ ثابت ہوتا ہے کیونکہ لوگ اب دوسری کرنسی کی طرف رجوع کرنے لگتے ہیں۔ اس لیئے حکومتیں ایک حد سے زیادہ کرنسی نہیں چھاپ پاتیں۔ اسکی مثال سونے کا انڈا دینے والی مرغی کی طرح ہے جسے ذبح نہ کرنا ہی سود مند رہتا ہے۔ لیکن تھوڑی تھوڑی مقدار میں بھی مسلسل کاغذی کرنسی چھپتے رہنے سے اس کرنسی کی قوت خرید کم ہوتی چلی جاتی ہے۔ اس کے بر عکس دھاتی کرنسی کی قدر وقت کے ساتھ بڑھتی چلی جاتی ہے۔ اسی لیئے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ اپنے رکن ممالک کو اس بات پر مجبور کرتا ہے کہ وہ اپنی کرنسی کو سونے سے منسلک نہ کریں۔ اگر کوئ کرنسی سونے سے منسلک ہو گی تو آئی-ایم-ایف کے لیئے اسکی شرح تبادلہ اپنی مرضی کے مطابق کنٹرول کرنا مشکل ہو جائے گا۔

پچھلی دھائی میں زمبابوے کی حکومت نے اپنی بقا کے لیئے بے تحاشہ کاغذی کرنسی چھاپ کر اپنی آمدنی میں اضافہ کیا۔ اس کے نتیجہ میں 2008 میں زمبابوے کے 1200 ارب ڈالر صرف ایک برطانوی پاونڈ کے برابر رہ گئے۔ اسقدر افراط زر کی وجہ سے زمبابوے میں شرح سود %800 تک جا پہنچی تھی۔[36]

کاغذی کرنسی کا کمال یہ ہے کہ کسی کو اپنی بڑھتی ہوئی غربت کا احساس نہیں ہوتا۔ اگر کسی مزدور کی تنخواہ پانچ فیصد کم کر دی جائے تو اسے شدید اعتراض ہوتا ہے۔ لیکن جب افراط زر کی وجہ سے اسکی تنخواہ کی قوت خرید دس فیصد کم ہو جاتی ہے تو وہ اتنا اعتراض نہیں کرتا۔ جتنے سالوں میں کسی کی تنخواہ دوگنی ہوتی ہے اتنی ہی مدت میں سونے کی قیمت ( اور مہنگائی ) تین گنی ہو چکی ہوتی ہے۔

1930 تک سونے کی قیمت تقریباً 20 ڈالر فی اونس تھی۔ یہ قیمت پچھلے دیڑھ سو سال سے برقرار تھی۔ اتنے لمبے عرصہ تک قیمت مستقل رہنے کی وجہ یہی تھی کہ ڈالر کاغذی نہیں بلکہ دھاتی تھا۔ قیمتوں کا بڑھنا کاغذی کرنسی کا لازمی جُز ہے۔ 1717 سے 1945 تک یعنی سوا دو سو سال تک برطانیہ میں سونے کی سرکاری قیمت 4.25 پاونڈ فی اونس تھی۔ بریٹن ووڈ کے معاہدے کے بعد برطانیہ میں سونے کی سرکاری قیمت ختم کر دی گئی۔ 1927 میں ایک برطانوی پونڈ کی قیمت ساڑھے تیرہ ہندوستانی روپے تھی۔ 1925 میں ہندوستان میں سونے کی قیمت لگ بھگ 26 روپیہ فی تولہ تھی۔ دوسری جنگ عظیم سے قبل یہ 30 روپیہ فی تولہ تھی۔ اس وقت ایک عام فوجی سپاہی کی تنخواہ 60 روپے ہوا کرتی تھی۔[37] 1947 میں پاکستان میں ایک امریکی ڈالر لگ بھگ تین روپے کا تھا جبکہ سونا 80 روپے تولہ تھا۔ 1965 میں سونے کی قیمت 127 روپیہ فی تولہ تھی۔


مختلف کرنسی کے سالانہ افراط زر[ترمیم]

سونا ایک غیر اعلانیہ بین الا اقوامی زرِ کثیف (ہارڈ کرنسی) ہے۔ اسکی قیمت کے بڑھنے سے کسی ملک کی کاغذی کرنسی میں ہونے والے افراط زر (مہنگائی) کا بخوبی اندازہ ہو جاتا ہے۔ 18 نومبر 2011 تک سونے کی قیمت میں ہونے والا سالانہ فیصد اضافہ مختلف کرنسی میں مندرجہ ذیل ہے۔


سوئس فرانک جاپانی ین آسٹریلوی ڈالر کینیڈین ڈالر ہندوستانی روپیہ چینی یوان ¥ یورو€ برطانوی پاونڈ £ امریکی ڈالر $ '
5.7% _ 13.3% 22.8% 23.9% _ 6.4% 13.1% 24.7% 2002
7.6% _ -8.5% 0.6% 14.8% _ 1.7% 9.9% 21.1% 2003
-3.5% 3.7% 1.4% -2.1% 0.5% 13.6% -3.1% -2.4% 5.4% 2004
37.8% 37.6% 28.9% 15.4% 24.2% 21.3% 36.7% 33.0% 20.0% 2005
14.2% 24.4% 12.6% 23.0% 20.8% 18.7% 10.6% 8.3% 23.0% 2006
21.7% 22.9% 18.3% 12.1% 16.5% 23.3% 18.4% 29.2% 30.9% 2007
-0.1% -14.4% 31.3% 30.1% 28.8% -2.4% 10.5% 43.2% 5.6% 2008
20.1% 26.8% -3.0% 5.9% 19.3% 23.6% 20.7% 12.7% 23.4% 2009
15.4% 11.4% 13.3% 21.3% 22.3% 22.8% 37.1% 31.4% 27.1% 2010
19.0% 14.2% 23.2% 25.4% 39.1% 16.8% 19.8% 18.8% 21.3% 2011
13.8% 15.8% 13.1% 15.5% 21.0% 17.2% 15.9% 19.7% 20.3% اوسط سالانہ اضافہ

[38]


اگر پہلی جنوری 2001 سے پہلی جنوری 2014 تک کی سونے کی قیمتوں کا جائیزہ لیا جائے تو پتہ چلتا ہے پچھلے تیرہ سالوں میں پاکستانی کرنسی کی قیمت میں ساڑھے سات گنا اور ہندوستانی کرنسی کی قیمت میں پانچ گنا کمی آئی ہے جبکہ اسی دوران ایران میں مہنگائی لگ بھگ 60 گنا بڑھ چکی ہے۔[39]


مہنگائی ملک اور کرنسی
88584% کونگو کا فرانک
65789% برما کا کیات
33787% لائبیریا کا ڈالر
5856% ایران کا ریال
3720% مالاوی کا کواچہ
3123% ساو توم کا ڈوبرا
1996% گنی کا فرانک
1309% گمبیا کا دلاسی
1021% ڈومینیکا کا پیسو
1005% شام کا پاونڈ
973% جمیکا کا ڈالر
948% برونڈی کا فرانک
947% ہئیتی کا گورڈے
901% ایتھوپیا کا بِر
764% نکاراگوا کا قرطبہ
755% مصر کا پاونڈ
751% پاکستان کا روپیہ
666% سری لنکا کا روپیہ
622% انڈونیشیا کا روپیہ
542% بنگلہ دیش کا ٹکا
501% نیپال کا روپیہ
496% ہندوستان کا روپیہ
336% بحرین کا دینار
332% جاپان کا ین
319% امریکی ڈالر
319% اومان کا ریال
319% سعودی عرب کا ریال
319% قطر کا ریال
308% برطانیہ کا پاونڈ
288% کویت کا دینار
250% اسرائیل کا شیکل
208% کینیڈا کا ڈالر
207% آسٹریلیا کا ڈالر
206% چین کا یوان
206% یورو
135% سوئیزر لینڈ کا فرانک
16% سونا بہ نسبت چاندی

تاریخ کے بد ترین افراط زر[ترمیم]

اگر کرنسی دھاتی ہو اور سکّے اپنی مالیت خود رکھتے ہوں تو افراط زر ناممکن ہو جاتا ہے۔ دھاتی کرنسی میں افراط زر صرف اسی صورت میں ممکن ہوتا ہے جب اس دھات کی اتنی بڑی کان دریافت ہو جائے کہ دنیا بھر کی ضرورت سے زیادہ ہو کیونکہ دھاتی کرنسی عالمی قبولیت رکھتی ہے۔ اسکے برعکس کاغذی کرنسی چھاپ کے حکومتیں اپنی آمدنی تو بڑھا لیتی ہیں لیکن اپنے عوام کو غریب بنا دیتی ہیں۔ اس طرح وہ اپنے عوام سے خفیہ طور پر انفلیشن ٹیکس وصول کرتی ہیں۔ 1945-46 میں ہنگری میں اتنی زیادہ کاغذی کرنسی چھاپی گئی کہ ہر چیز کی قیمت اربوں کھربوں پینگو تک جا پہنچی۔ 18 اگست 1946 کو پرانی کرنسی پینگو کی جگہ نئی کرنسی فورنٹ جاری کی گئی۔ ایک فورنٹ 400,000,000,000,000,000,000,000,000,000 پینگو کے برابر تھا (یعنی 400 ارب ارب ارب پینگو کے برابر)۔ 15 نومبر 1923 کو جرمنی میں نئی کرنسی رینٹن مارک جاری کی گئی۔ ایک نیا مارک پرانے 1000 ارب مارک کے برابر قرار دیا گیا۔ پرانا مارک پیپیر مارک کہلاتا تھا۔

جرمنی اکتوبر 1923۔ ایک میلین مارک کے نوٹ جسکی سادہ پشت کو ردّی کاغذ کی طرح لکھنے کے لیئے استعمال کیا جا رہا ہے۔

اسی طرح ترکی میں نوٹوں پر سے صفر کم کرنے کے لیئے یکم جنوری 2005 کو نیا ٹرکش لیرا جاری کیا گیا۔ ایک نیا ٹرکش لیرا 1,000,000 پرانے ٹرکش لیرا کے برابر مقرر کیا گیا۔

1946میں ہنگری میں خاکروب جھاڑو لگا کر سڑک کو پرانے نوٹوں سے صاف کر رہا ہے
13 جولائی 1931۔ برلن میں ایک بینک رن۔
تاریخ کے بد ترین ماہانہ افراط زر [40]
ملک کرنسی کا نام بد ترین مہینہ ماہوار افراط زر روزانہ افراط زر قیمتیں دوگنی ہونے کی مدت
ہنگری ہنگری کا پینگو جولائی 1946 4.19 × 1016 % 207.19% 15 گھنٹے
زمبابوے زمبارے ڈالر نومبر 2008 7.96 × 1010 % 98.01% 24.7 گھنٹے
یوگوسلاویہ یوگوسلاو دینار جنوری 1994 3.13 × 108 % 64.63% 1.4 دن
جرمنی جرمن پیپیرمارک اکتوبر 1923 29,500% 20.87% 3.7 دن
یونان یونانی دراچمہ اکتوبر 1944 13,800% 17.84% 4.3 دن
تائیوان قدیم تائیوان ڈالر مئی 1949 2,178% 10.98% 6.7 دن

سونے چاندی کی قیمت کا اتار چڑھاو[ترمیم]

منڈی کی دوسری ساری چیزوں کی طرح سونے چاندی کی قیمت بھی طلب و رسد کے قانون کے مطابق ہونی چاہیئے۔ جب بھی بینکوں اور بچت اسکیموں کی شرح سود میں کمی آتی ہے تو سونے کی قیمت بڑھنے لگتی ہے کیونکہ اگر خاطر خواہ منافع کی امید نہ رہے تو لوگ افراط زر کے نقصان سے بچنے کے لیئے اپنی جمع پونجی سونے کی شکل میں رکھنا پسند کرتے ہیں جسے صدیوں سے "محفوظ جنت" تصوّر کیا جاتا ہے۔ لیکن اگر بہت سارے لوگ اپنی کاغذی کرنسی کے بدلے سونا لے لیں گے تو کاغذی کرنسی کی وقعت میں کمی آجائے گی اور سونے کی قیمت چڑھ جائے گی اس لیئے بڑے بڑے مرکزی بینک سونے چاندی کی قیمت گرانے کی کوشش کرتے ہیں۔[41] [42] [43] [44][45][46] [47] [48]
انڈریو میگاری[49] نامی ایک سونے کے تاجر نے 29 مارچ 2010 کو ریڈیو پر ایک انٹرویو دیا جو اپریل 2010 کو نشر ہوا۔ اس میں اس نے انکشاف کیا کہ فیڈرل ریزرو کی ہدایت پر کس طرح جے پی مارگن چیز اور ایچ ایس بی چیز سونے کی قیمتیں گرانے میں کردار ادا کرتے ہیں۔ اس سے پہلے 3 فروری 2010 کو انڈریو میگاری نے کموڈٹی فیوچر ایکسچینج کمیشن کو بتا دیا تھا کہ چاندی کی قیمت کس طرح تبدیل کی جائے گی اور دو دن بعد بالکل ویسا ہی ہوا۔ جس دن یہ معلوم ہوا کہ یہ راز انڈریو میگاری نے فاش کیئے ہیں اسکے دوسرے دن یعنی 26 مارچ 2010 کو ایک تیز رفتار گاڑی نے انڈریو میگاری اور اسکی بیوی کو ٹکر ماری اور فرار ہو گئی۔ لندن کی پولیس ہیلی کاپٹر سے پیچھا کر کے اس ڈرائیور کو گرفتار کرنے میں کامیاب ہو گئی مگر بعد میں اسکا نام ظاہر کیئے بغیر اسے برائے نام سزا دیکر چھوڑ دیا گیا۔ انڈریو میگاری کا خیال ہے کہ یہ اسے قتل کرنے کی ناکام کوشش تھی۔

1970 میں چاندی کی قیمت 1.63 ڈالر اور سونے کی قیمت 35 ڈالر فی اونس تھی۔ جنوری 1980 میں چاندی کی قیمت بڑھ کر لگ بھگ 50 ڈالر فی اونس ہو گئی تھی اور کاغذی کرنسی پر لوگوں کا اعتماد ڈگمگانے والا تھا۔ سونے کی قیمت بھی صرف دیڑھ مہینے میں دگنی ہو کر 850 ڈالر فی اونس تک پہنچ گئی تھی۔ کاغذی کرنسی کا مستقبل بچانے کے لیئے فیڈرل ریزرو نے شرح سود بڑھا کر 20 فیصد کر دی (جو کبھی تاریخ میں نہیں رہی) اور نیویارک مرکنٹائل ایکسچینج سے نئے قاعدے قانون نافذ کروائے۔ اسکے نتیجے میں چاندی کے بڑے تاجر دیوالیہ ہو گئے لیکن دو سال میں چاندی کی قیمتیں 90 فیصد تک گر گئیں۔ اسکے بعد دوبارہ کسی ایسے گولڈ رن سے بچنے کے لیئے عالمی سطح پر سونے کی لیزنگ شروع کی گئی تاکہ سونے کی قیمتیں کنٹرول کی جا سکیں۔ 1990 کی دھائی میں سونے کی قیمتیں گرنے کی وجہ یہی سونے کی لیزنگ تھی۔ اسکی وجہ سے سونا برآمد کرنے والے ممالک (جنوبی افریقہ، چین اور روس) بڑے خسارے میں رہے۔[50] اپریل 2013 سے سونے کی قیمت اچانک گرنے کی وجہ کومیکس میں کاغذی سونے کے کنٹریکٹ (Gold Future) کی بڑے پیمانے پر فروخت تھی جو امریکہ کی جے پی مورگن سیکوریٹیز اور HSBC سیکوریٹیز نے بیچے تھے۔[51]


1997 میں جب سونے کی قیمتیں بہت گری ہوئی تھیں سوئیزرلینڈ نے 1400 ٹن سونا بیچا۔ اس سے سونے کی قیمت گر کر 309 ڈالر فی اونس رہ گئی۔ اسی دوران برطانیہ نے اعلان کیا کہ وہ 415 ٹن سونا 1999-2000 کے دوران بیچے گا۔ اس طرح سونے کی قیمت مزید گر کر 258 ڈالر تک آ گئی جو پچھلے 22 سالوں کی کم ترین قیمت تھی۔ اس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بینکاروں نے افریقہ میں سونے کی کانیں کوڑیوں کے داموں خرید لیں۔ شبہ کیا جاتا ہے کہ مرکزی بینکوں کی طرف سے بیچا جانے والا بیشتر سونا مرکزی بینک کے ہی مالکان نجی حیثیت سے خرید لیتے ہیں۔ لندن بُلین مارکیٹ کچھ اس طرح کام کرتی ہے کہ عام طور پر خریدار کی شناخت ممکن نہیں ہوتی۔[52]

بریٹن وڈز کا معاہدہ[ترمیم]

بریٹن ووڈز کا ماونٹ واشنگٹن ہوٹل جہاں 1944 میں بریٹن ووڈز کا عالمی معاہدہ طے ہوا۔

دوسری جنگ عظیم تک دنیا بھر کے عوام میں کاغذی کرنسی کا رواج مستحکم ہو چکا تھا لیکن مشکل یہ تھی کہ مرکزی بینک آپس میں کس طرح لین دین (بزنس) کریں۔ کوئی بھی مرکزی بینک کسی دوسرے مرکزی بینک کی چھاپی ہوئی کاغذی کرنسی قبول کرنے کو تیار نہیں تھا اور سونے کا مطالبہ کرتا تھا۔ اس مشکل کو حل کرنے کے لیئے دوسری جنگ عظیم کے دوران جولائی 1944 میں بریٹن ووڈز، نیو ہیمپشائر، امریکہ کے مقام پر ایک کانفرنس منعقد کی گئی۔ اس کانفرنس کے نتیجے میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (المعروف آئی-ایم-ایف) اور ورلڈ بینک وجود میں آئے۔ اس کانفرنس میں 44 اتحادی ممالک کے 730 مندوبین نے شرکت کی تھی جس میں روس بھی شامل تھا مگر جاپان شامل نہیں تھا۔ اسکے ایک سال بعد ہیروشیما پر ایٹم بم گرایا گیا۔
اس کانفرنس کے انعقاد کے وقت دنیا بھر کے مرکزی بینکوں کے پاس موجود کل سونے کا %75 امریکہ کے پاس تھا۔

اس کانفرنس کے دوران ہندوستان کے مندوب نے سوال پوچھا کہ gold convertible exchange سے کیا مراد لیا جائے گا۔ اسکا گول مول جواب دیا گیا کہ امریکی ڈالر سے جتنا چاہیں سونا خریدا جا سکتا ہے اس لیئے اس ایکسچینج سے ڈالر ہی مراد لیا جائے۔[53]

اس معاہدے کے مطابق 35 امریکی ڈالر ایک اونس سونے کے برابر طے پائے تھے اور امریکہ 35 ڈالر کے عوض اتنا سونا دینےکا پابند تھا۔ دنیا کی دیگر کرنسیوں کی قیمت امریکی ڈالر کے حساب سے طے ہوتی تھی۔ اس معاہدے میں بڑی چالاکی سے سونے چاندی کی بجائے ڈالر کو کرنسی کا معیار مقرر کیا گیا یعنی سونے کی بجائے معیار سونا کی آڑ میں "معیار ڈالر" لایا گیا۔ اس کانفرنس کے معاہدے کا مسودہ انگریز ماہر معاشیات جان مینارڈ کینز نے بنایا تھا جو بینک آف انگلینڈ کا ڈائریکٹر تھا۔ وہ چاہتا تھا کہ ایک ہی عالمی کرنسی ہو جو نہ سونے سے منسلک ہو نہ سیاسی دباو کے تحت آئے مگر وہ مندوبین کو اس پر قائل نہ کر سکا۔ صاف ظاہر ہوتا ہے کہ کینیز اپنے آقاوں کے لیئے کام کر رہا تھا۔ دو سال بعد اسکا انتقال ہو گیا۔[54]
خود کینیز کے مطابق بریٹن وڈز کا یہ معاہدہ گولڈ اسٹینڈرڈ کا عین اُلٹ تھا

اس معاہدے کے بعد دوسرے ممالک اپنی کرنسی کو امریکی ڈالر سے ایک مقررہ نسبت پر رکھنے پر مجبور ہو گئے چاہے اس کے لیئے انہیں ڈالر خریدنے پڑیں یا بیچنے۔ اس معاہدے سے امریکی بینکاروں کی پانچوں انگلیاں گھی میں اور سر کڑھائ میں آ گیا۔
اس معاہدے کی کامیابی کا بڑے زور و شور سے چرچا کیا گیا۔ لیکن جس بات کا چرچا نہیں کیا گیا وہ یہ تھی کہ 35 ڈالر میں ایک اونس سونا خریدنے کا حق عوام کو نہیں دیا گیا تھا بلکہ یہ حق امریکہ کی طرف سے صرف اور صرف دوسرے ممالک کے سینٹرل بینکوں کو دیا گیا تھا۔ گویا عوام کے لیئے صرف کاغذی کرنسی اور امرا کے لیئے سونے کی کرنسی طے پائی۔

1971 میں ویتنام کی جنگ کی وجہ سے امریکی معیشت سخت دباو کا شکار تھی اور افراط زر تیزی سے بڑھ رہا تھا۔ اپریل 1971 میں جرمنی نے امریکی دباؤ میں آ کر پانچ ارب ڈالر خریدے تا کہ امریکی ڈالر کو سہارا مل سکے۔ مئی 1971 میں جرمنی نے بریٹن ووڈ معاہدے سے ناطہ توڑ لیا کیونکہ وہ گرتے ہوے امریکی ڈالر کی وجہ سے اپنےجرمن مارک کی قیمت مزید نہیں گرانا چاہتا تھا۔ اسکے صرف تین مہینوں بعد جرمنی کی معیشت میں بہتری آ گئی اور ڈالر کے مقابلے میں مارک کی قیمت %7.5 بڑھ گئی۔ امریکی ڈالر کی گرتی ہوئی قیمت دیکھتے ہوئے دوسرے ممالک نے امریکہ سے سونے کا مطالبہ شروع کر دیا۔ سویزر لینڈ نے جولائی 1971 میں پانچ کروڑ ڈالر کا سونا امریکہ سے وصول کیا۔ امریکہ نے سفارتی دباو ڈال کر دوسرے ممالک کو سونا طلب کرنے سے روکنا چاہا مگر فرانس نے جارحانہ انداز اپناتے ہوئے 19.1 کروڑ ڈالر امریکہ سے سونے میں تبدیل کروائے۔ اس طرح امریکہ اور فرانس کے تعلقات خراب ہو گئے جو آج تک بہتر نہ ہو سکے۔ 12 اگست 1971 کو برطانیہ نے بھی 75 کروڑ ڈالر کے سونے کا مطالبہ کر دیا۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اسوقت امریکہ اپنے پاس موجود سونے سے تین گنا زیادہ ڈالر چھاپ چکا تھا۔ حقیقی اعداد و شمار اس سے بھی زیادہ رہے ہوں گے۔[54]
1971 تک امریکہ کے پاس موجود سونے کی مالیت صرف 15 ارب ڈالر تھی جبکہ دوسرے ممالک کے پاس 50 ارب امریکی ڈالر کے ذخائر جمع ہو چکے تھے۔ [55] 15 اگست 1971 کو امریکہ اپنے بریٹن ووڈز کے وعدے سے یک طرفہ مکر گیا جسے نکسن دھچکا کہتے ہیں۔ امریکی صدر نکسن نے اعلان کیا کہ اب امریکہ ڈالر کے بدلے سونا نہیں دے گا۔ [56] کیونکہ امریکہ کاغذی ڈالر چھاپ چھاپ کر اس کے بدلے عربوں سے اتنا تیل خرید چکا تھا کہ عرب اگر ڈالر کے بدلے سونے کا مطالبہ کر دیتے تو امریکہ اپنا پورا سونا دے کر بھی یہ قرض نہ چکا سکتا تھا۔ 1971 کے اس امریکی اعلان سے عربوں کے اربوں ڈالر کاغذی ردّی میں تبدیل ہو گئے۔ قانون قدرت یہ ہے کہ ایک کا نقصان کسی دوسرے کا فائدہ ہوتا ہے۔ دنیا بھر میں ہونے والے اس نقصان کا سارہ فائدہ امریکہ کو ہوا۔
بریٹن ووڈز کے معاہدے کے خاتمے کا اعلان کرتے ہوئے امریکی صدر نکسن نے اپنی تقریر میں کہا تھا کہ آپکے ڈالروں کی قوت خرید کل بھی اُتنی ہی ہو گی جتنی آج ہے۔ وقت نے ثابت کر دیا کہ یہ صرف ایک اور سفید جھوٹ تھا۔
بریٹن ووڈز کا معاہدہ ٹوٹنے کے بعد ہر ملک کو اپنی مرضی کے مطابق کاغذی کرنسی چھاپنے کا اختیار مل گیا۔ اس طرح 1971 کے بعد ہارڈ کرنسی یا زر کثیف کا دور ختم ہو گیا اور زر فرمان (Fiat currency) نے مستقل جگہ بنا لی۔ لیکن ان 27 سالوں میں امریکہ کا کاغذی ڈالر بین الاقوامی کرنسی بن چکا تھا۔ امریکی بینکار 1944 میں بریٹن ووڈز کے معاہدے میں جو کچھ حاصل نہیں کر سکے تھے وہ اب بڑی حد تک انہیں حاصل ہو گیا۔ سوئزر لینڈ وہ آخری ملک تھا جس نے سنہ 2000 میں اپنی کاغذی کرنسی کا سونے سے ناطہ توڑا۔

بریٹن ووڈز پر مزید دیکھیئے:

دولت[ترمیم]

اصل مضمون: دولت
امریکی حکومت نے 1933 تک 15 ٹن سونے سے 20 ڈالر کے یہ سکے بناے مگر جاری نہیں کیے اور انہیں دوبارہ پگھلا کر سونے کی اینٹوں میں تبدیل کر دیا
کیا دولت تخلیق بھی کی جا سکتی ہے؟ اسکا جواب ہے ہاں۔

بلا شُبہ سونا تخلیق نہیں کیا جا سکتا نہ چاندی تانبہ پیتل اور کانسی۔ مگر محنت کر کے اچھی فصل حاصل کی جا سکتی ہے جسے دھاتی کرنسی میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ اسی طرح محنت کر کے طرزیات میں ترقی کر کے ایسی اشیا بنائ جا سکتی ہیں جو منڈی میں اچھی قیمت دے جائیں۔ محنت کر کے سونے چاندی وغیرہ کی کانوں سے دولت حاصل کی جا سکتی ہے۔ یعنی دولت محنت سے تخلیق ہوتی ہے[57] اور محنت کرنے والے مزدور ہی ہمیشہ سے دولت کے تخلیق کرنے والے رہے تھے کیونکہ انکی محنت سے ہی خام مال قابل استعمال چیز کی شکل پاتا ہے اور استعمال کی جگہ تک پہنچتا ہے۔[58] دولت سے جو بھی چیز خریدی جاتی ہے اس پر کوئ محنت کر چکا ہوتا ہے۔ مزدور کےلیئے دولت خون پسینے کی کمائ یا خون جگر کی کمائی ہے۔ مگر ڈالر چھاپنے میں کوئ خاص محنت صرف نہیں ہوتی اور چھاپنے والوں کو یہ دولت بغیر محنت کے مل جاتی ہے۔ یعنی ہوا میں سے دولت تخلیق کی جا سکتی ہے۔ [59] محنت کر کے دولت حاصل کرنا دولت کمانا کہلاتا ہے اور یہ حق ہر ایک کو حاصل ہے۔ مگر بغیر محنت کے دولت تخلیق کرنے کی نا جائز مراعت محض چند لوگوں کو حاصل ہے جو بےحد امیر ہو چکے ہیں۔ یہ لوگ مرکزی بینکوں کے مالکان ہیں۔

اس مخطط سے ظاہر ہوتا ہے کہ 28 سالوں میں 80 فیصد غریب اور متوسط طبقہ لوگوں کی حقیقی آمدنی میں کوئ اضافہ نہیں ہوا ہے جبکہ ایک فیصد امیر ترین لوگوں کی آمدنی پانچ گنا بڑھ چکی ہے۔[60]

اگر دنیا کی تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو پتہ چلتا ہے کہ پچھلے دو ہزار سالوں میں اٹھارہ سو سالوں تک دنیا کا سب سے امیر ملک ہندوستان رہا ہے[61] اس کے بعد چین کا نمبر آتا تھا۔ ان ممالک میں محنت کرنے کے بھر پور مواقع موجود تھے اور خطیر مقدار میں پیداوار ہوتی تھیں۔ ان ممالک کا تجارتی سامان دنیا کے دور دراز علاقوں تک پہنچتا تھا۔ لیکن یہ اس وقت کی بات ہے جب کرنسی دھاتی ہوتی تھی اور مرکزی بینکوں کا عالمی گروہ موجود نہیں تھا۔ کاغذی کرنسی کے نظام نے محنت کرنے والوں کو افراط زر اور شرح تبادلہ کی شعبدہ بازی کی وجہ سے نہایت غریب کر دیا ہے جبکہ کاغذی کرنسی چھاپنے والوں اور اس کے سہارے شرح تبادلہ کنٹرول کرنے والے ممالک نہایت ہی امیر ہو گئے ہیں۔

1997 میں ایک سازش کے تحت ملیشیا کے کرنسی رنگٹ کی قدر اچانک گر کر تقریباً آدھی رہ گئی۔ اس پر ملیشیا کے وزیراعظم مہاتیر محمد نے یہ تجویز پیش کی تھی کہ سارے اسلامی ممالک سونے کا دینار خود بنائیں اور آپس کی لین دین کے لیئے امریکی ڈالر کی بجائے سونے کا دینار استعمال کریں۔ مہاتیر محمد نے اعلان کیا تھا کہ 2003 کے وسط تک وہ یہ دینار جاری کر دیں گے۔ ظاہر ہے کہ اگر ایسی سونے کی کرنسی میں لین دین کا رواج آ گیا تو شرح تبادلہ کی ضرورت ختم ہو جائے گی جس پر مغربی ممالک کی ثروت کا انحصار ہے۔ اس لیئے 2003 میں مہاتیر محمد کو 22 سالہ وزارتِ اعظمی سے ہٹا کر عبداللہ احمد بداوی کو وزیر اعظم بنایا گیا جس نے ملکی سطح پر دینار جاری ہونے رکوا دیئے۔ ملیشیا کی ایک اسٹیٹ کیلانتن نے پھر بھی 20 ستمبر 2006 کو سونے کے دینار جاری کیئے جنکا وزن 4.25 گرام ہے اور یہ 22 قیراط سونے سے بنے ہوئے ہیں۔ صدام حسین نے بھی ایسی ہی جسارت کی تھی۔ اس نے یہ کوشش کی تھی کہ عراق کو تیل کا معاوضہ امریکی ڈالر کی بجائے کسی اور کرنسی میں دیا جائے۔ یہ امریکی ڈالر کی مقبولیت پر براہ راست وار تھا۔ اسکا یہ ناقابل معافی جرم آخر کار اسے لے ڈوبا۔ لیبیا کے معمر قذافی نے صدام حسین کے انجام سے کوئ سبق نہیں سیکھا اور افریقہ میں تجارت کے لیئے سونے کا دینار نافذ کرنے کا ارادہ کیا اس لیئے اسکا بھی وہی حشر کرنا پڑا۔[62] [63] 2007 سے ایران نے بھی اپنے تیل کی قیمت امریکی ڈالر میں وصول کرنا بند کر دی ہے[64] اگر آج بھی کاغذی کرنسی کی جگہ سونے چاندی کو خرید و فروخت کے لیے کرنسی کی طرح استعمال کیا جائے تو امیر ممالک کی فہرست تبدیل ہو سکتی ہے۔ اس لیئے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ اس بات کا سب سے بڑا مخالف ہے۔ خیال رہے کہ آئی-ایم-ایف (بین الاقوامی مالیاتی فنڈ) ایک نجی ادارہ ہے اور کسی حکومت کے ماتحت نہیں ہے۔

کاغذی کرنسی اور جنگیں[ترمیم]

جرمنی میں جب 1933 میں نازی پارٹی الیکشن جیت کر حکومت میں آئی تو جرمنی کی معیشت بالکل تباہ و برباد ہو چکی تھی۔ 60 لاکھ لوگ بے روزگار تھے۔ پہلی جنگ عظیم میں شکست کے بعد جرمنی کو بھاری تاوان جنگ ادا کرنا پڑ رہا تھا۔ بیرونی سرمائیہ کاری کے امکانات بالکل صفر تھے۔ جرمنی کی ساری نو آبادیاں اس سے چھین لی گئیں تھیں۔ لیکن صرف چار سال میں ہٹلر نے جرمنی کو دوبارہ یورپ کی مضبوط ترین معیشت بنا دیا۔ اس وقت تک جرمنی نے بڑے پیمانے پر اسلحہ سازی بھی شروع نہیں کی تھی۔ 1935 سے ہٹلر نے پرائیوٹ بینکوں سے قرض لینے کی بجائے حکومت کی جانب سے خود کرنسی چھاپنی شروع کر دی۔ 1945 تک جرمنی یہ کرنسی چھاپتا رہا جسکی پشت پر نہ کوئی سونا تھا نہ کوئی قرض۔ جس وقت امریکہ اور دوسرے یورپی ممالک میں لاکھوں لوگ بے روزگار تھے، جرمنی میں بے روزگاری ختم ہو چکی تھی۔ معیشت مضبوط ہو چکی تھی۔ عالمی بینکاروں کی طرف سے لگائی جانے والی معاشی پابندیوں اور بائیکاٹ کے باوجود جرمنی بارٹر سسٹم کی مدد سے دوسرے ممالک سے تجارت بحال کرنے میں کامیاب ہو چکا تھا۔
ایک طرف جرمنی میں کرنسی چھاپنے کا اختیار حکومت نے پرائیوٹ بینکوں سے چھین لیا تھا دوسری طرف جاپان میں بھی کرنسی حکومت چھاپ رہی تھی۔ اور ان دونوں ممالک میں ترقی کی رفتار نہایت تیز تھی۔ یہ صورتحال مرکزی بینکاروں کی برداشت سے باہر تھی۔ اگر دوسرے ممالک کے عوام بھی حکومتی کرنسی چھاپنے کا مطالبہ کر دیتے تو بینکاروں کا صدیوں پرانا کھیل ہمیشہ کے لیئے ختم ہو جاتا۔ اس لیئےجرمنی اور جاپان کے خلاف دوسری جنگ عظیم شروع کی گئی۔[65]
1945 میں جنگ عظیم دوم میں جاپان کو ایٹمی ہتھیاروں سے شکست دینے کے بعد وہاں سب سے پہلا کام کاغذی کرنسی کی تخلیق کے بلا سودی بینکاری نظام کو "درست" کیا گیا تھا اور امریکا برطانیہ روس اور فرانس کی طرح پرائیوٹ سنٹرل بینک قائم کیا گیا تھا۔ اس جنگ سے پہلے جاپان کا سینٹرل بینک حکومتی ملکیت میں تھا اور نوٹ چھپنے پر حکومت کو نہ قرض لینا پڑتا تھا نہ سود دینا پڑتا تھا۔ [66] آج جاپان پر قرضے 23,000 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکے ہیں جو جی ڈی پی کا 245 فیصد ہیں۔[67]

سوئیزرلینڈ کے سونے کا ذخیرہ.

دوسری جنگ عظیم کے دوران سوئیزرلینڈ کے ایک طرف جرمنی اور اسکے حامی تھے اور دوسری جانب اتحادی افواج۔ اس لحاظ سے سوئیزرلینڈ کو تو محاذ جنگ ہونا چاہیئے تھا۔ مگر جب سارا یورپ جنگ کی آگ میں جل رہا تھا اس وقت سوئیزرلینڈ میں نہ صرف کوئی جنگ نہ ہوئی بلکہ وہ دونوں متحارب فوجوں کو سامان جنگ بھی فروخت کرتا رہا۔ جنگ کے دوران امریکہ، برطانیہ، کینیڈا، جرمنی، اٹلی اور فرانس نے سوئیس نیشنل بینک کو 3.8 ارب سوئیس فرانک کا سونا بیچا یعنی لگ بھگ 784.4 ٹن [68] ۔ بیسل، سوئیزرلینڈ میں بینک فار انٹرنیشنل سیٹلمنٹ کا مرکزی دفتر تھا جو سارے بڑے مرکزی بینکوں کا محور تھا اور یہ بینک ہی دونوں طرف کی فوجوں کو سامان جنگ کی خریداری کے لیئے کاغذی سرمایہ سود پر فراہم کر رہے تھے۔ 1940 سے 1950 کے دوران امریکہ اور فرانس پر قرضے 600 گنا بڑھے جبکہ جاپان پر 1348 گنا بڑھے۔ اس طرح مرکزی بینکوں کا منافع بھی خوب بڑھا[69]

7 اکتوبر 2001 میں افغانستان میں جنگ شروع ہوئی۔ جنگ جب عروج پر تھی اس وقت بون جرمنی میں مغربی مرکزی بینکوں کے ایک اجلاس میں افغانستان کے لیئے ایک نئی کاغذی کرنسی تجویز کی گئی اور صرف تین مہینوں کے اندر افغانستان میں ایک نیا مرکزی بینک بنا کر 2 جنوری 2002 تک اس نئی کرنسی کو پوری طرح نافذ کر دیا گیا۔ اسی طرح 20 مارچ 2003 کو عراق کی جنگ شروع ہوئی اور ایک سال کے اندر اندر عراق میں نیا مرکزی بینک بنا دیا گیا اور نئی کاغذی کرنسی نافذ کر دی گئی۔ [70] جنگ اور کاغذی کرنسی کا یہ رشتہ بہت پرانا ہے۔ اگلا ہدف ایران اور شمالی کوریا ہونگے تاکہ وہاں بھی کرنسی پر مغربی بینکار اپنا تسلط قائم کر سکیں۔
چین کا سنٹرل بینک (پیپلز بینک آف چائنا) پرائیوٹ نہیں بلکہ حکومتی ملکیت میں ہے اور چین کو کرنسی چھپنے پر نہ قرض لینا پڑتا ہے اور نہ سود دینا پڑتا ہے۔ اسی وجہ سے چین پر آج کوئی قرضہ نہیں ہے اور اسکی معیشت ترقی کر رہی ہے۔ اگر چین آئی ایم ایف کا مقروض ہوتا تو اسے بھی کئی ناجاِئز شرائط قبول کرنی پڑتیں۔ چین اپنی کرنسی کو float کرنے کا بھی شدت سے مخالف ہے کیونکہ بہت سے ممالک یہ غلطی کر کے کنگال ہو چکے ہیں۔[71] اگر چین کے پاس جوہری ہتھیار نہ ہوتے تو عالمی بینکار چین کو بھی کسی تیسری عالمگیر جنگ برپا کر کے اسی طرح تہس نہس کر دیتے جس طرح کرنسی چھاپنے کے جرم میں دوسری جنگ عظیم میں جرمنی اور جاپان کو کیا گیا تھا۔

کاغذی کرنسی اور غربت[ترمیم]

امریکہ کے تیسرے صدر تھامس جیفرسن نے1788 میں کاغذی کرنسی کے بارے میں کہا تھا کہ یہ محض غربت ہے، یہ صرف رقم کا بھوت ہے رقم نہیں ہے۔

Paper is poverty... it is only the ghost of money, and not money itself

—تھامس جیفرسن

[72]

امریکہ کے ساتویں صدر اینڈریو جیکسن نے فروری 1834 میں ایک تقریر کے دوران کہا تھا "میں بڑے غور سے مشاہدہ کر رہا ہوں کہ بنکِ ریاستہائے متحدہ کیا کر رہا ہے۔ میرے آدمی کافی عرصے سے تم پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور اب میں قائل ہو چکا ہوں کہ تم لوگوں نے بینک میں جمع شدہ رقم سے اشیاء خوردونوش پر سٹہ کھیلا۔ جب تم جیتے تو تم نے منافع آپس میں بانٹ لیا۔ اور جب تمہیں نقصان ہوا تو تم نے اسے بینک کے کھاتے میں ڈال دیا۔ تم مجھے بتاتے ہو کہ اگر میں تمہارے بینک کا سرکاری اجازت نامہ منسوخ کر دوں تو دس ہزار گھرانے برباد ہو جائینگے۔ معززین، ہو سکتا ہے یہ درست ہو لیکن یہ تمہارا گناہ ہے۔ اور اگر میں نے تمہیں اسی طرح کام کرنے دیا تو تم لوگ پچاس ہزار خاندان تباہ کر دو گے اور یہ میرا گناہ ہو گا۔ تم لوگ زہریلے سانپوں اور چوروں کا گروہ ہو اور میں تمہیں ہر حال میں ختم کر کے رہوں گا"[73] اگرچہ کانگریس نے بینکِ ریاستہائے متحدہ کی دوبارہ بحالی کا بل منظور کر لیا تھا مگر بعد میں اینڈریو جیکسن نے اسے ویٹو کر دیا تھا۔ 30 جنوری 1835 کو اینڈریو جیکسن پر قاتلانہ حملہ ہوا لیکن اس پر چلائی گئی دونوں گولیاں اسے نہیں لگیں۔

امریکہ کے بیسویں صدر جیمز گارفیلڈ نے کہا تھا کہ جو کوئ بھی کسی ملک میں کرنسی کو کنٹرول کرتا ہے وہ دراصل ساری معیشت اور ساری صنعت کا مالک ہوتا ہے۔ اس صدر کو صدارت کے ساتویں مہینے میں 2 جولائی 1881 کو گولی مار دی گئی تھی۔ کوئ بھی حکومت زرِ کثیف کو پوری طرح کنٹرول نہیں کر سکتی جبکہ کاغذی کرنسی کو کنٹرول کرنا نہایت آسان ہوتا ہے۔

کاغذی کرنسی نے تقسیم دولت کا توازن انتہائ حد تک بگاڑ کر غربت کو تیزی سے دنیا بھر میں پھیلا دیا ہے۔ دولت بڑی سرعت سے محض چند لوگوں کے ہاتھوں میں مرتکز ہوتی جا رہی ہے اور طبقۂ وسطی سکڑتا جا رہا ہے۔ امریکہ کے سولہویں صدر ابراھم لنکن نے 21 نومبر 1864 کو اپنے ایک خط میں عین اسی بات کی واضح پیشنگوئ کی تھی۔

"میں دیکھ رہا ہوں کہ عنقریب ایک بڑا بحران آنے والا ہے جو مجھے پریشان کر دیتا ہے اور میں اپنے ملک کی حفاظت کے خیال سے لرزنے لگتا ہوں۔۔۔۔ کارپوریشنوں کو بادشاہت مل گئی ہے اور اعلیٰ سطح پر کرپشن آنے والی ہے۔ اور دولت کی طاقت (رشوت) لوگوں کی سوچ پرحاوی ہو کر اپنا راج جاری رکھنے کی پوری کوشش کرے گی یہاں تک کہ ساری دولت چند ہاتھوں میں سمٹ جائے اورجمہوریت تباہ ہو جائے۔ " چند ہی مہینوں بعد 1865 میں ابراھم لنکن کو گولی مار دی گئی۔

—لنکن

"I see in the near future a crisis approaching that unnerves me, and causes me to tremble for the safety of our country. Corporations have been enthroned, an era of corruption will follow, and the money power of the country will endeavor to prolong its reign by working upon the prejudices of the people, until the wealth is aggregated in a few hands, and the republic is destroyed.

—لنکن

[74]

مارکو پولو نے کاغذی کرنسی کے بارے میں لکھا تھا کہ چین کی سلطنت کے بہترین خاندان تباہ و برباد ہو گئے اور عوام کے معاملات کنٹرول کرنے والے نئے لوگ آ گئے اور ملک قتل و غارت گری، جنگ اور انتشار کا شکار ہو گیا۔[75]

GoldasPercent.jpg

امریکی ڈالر اور فیڈرل ریزرو[ترمیم]

1694 سے پہلے انگلستان میں اپنے پاس جمع شدہ سونے سے زیادہ کی رسیدیں ( نوٹ ) چھاپنا (یعنی فریکشنل ریزرو بینکنگ) قانوناً جرم تھا۔ فرانس سے جنگ کی وجہ سے بادشاہ ولیم سوئم ( آرینج کا) شدید مالی مشکلات کا شکار تھا۔ چند امیر سناروں نے بادشاہ کو 12 لاکھ پاونڈ کی خطیر رقم سونے چاندی کی شکل میں 8 فیصد سود پر اس شرط کے ساتھ قرض دی کہ انہیں اپنے پاس جمع شدہ سونے سے زیادہ مالیت کی رسیدیں ( نوٹ ) چھاپنے کا حق دیا جائے۔ اس طرح 1694 میں ولیم پیٹرسن کو بینکِ انگلستان بنانے کی اجازت ملی۔ یہ حکومت کی طرف سے جعلی نوٹ چھاپنے کا پہلا اجازت نامہ تھا۔ اسی طرز پہ 1913 میں امریکہ میں فیڈرل ریزرو بنایا گیا۔

دنیا کے تقریباً ہر چھوٹے ملک میں وہاں کی کاغذی کرنسی وہیں کی حکومت جاری کرتی ہے تا کہ حکومتی آمدنی میں اضافہ ہو مگر حیرت کی بات ہے کہ دنیا کی سب سے بڑی کاغذی کرنسی یعنی امریکی ڈالر امریکی حکومت جاری نہیں کرتی بلکہ یہ ایک نجی ادارے کی طرف سے جاری ہوتا ہے۔ فیڈرل ریزرو کو عام طور پر حکومتی ادارہ سمجھا جاتا ہے جبکہ حقیقتاً یہ ایک نجی ادارہ ہے جو ڈالر چھاپ کر حکومت امریکہ کو نہ صرف قرض دیتا ہے بلکہ اس پر سود بھی وصول کرتا ہے۔[76] اپنی بے تحاشہ دولت کے باعث یہودیوں کا یہ ادارہ امریکی حکومت پر حکومت کرتا ہے۔[77] [78]اس ادارے کے پس پردہ روتھشیلڈ خاندان کی دولت کا اندازہ پانچ ہزار بیلین ڈالر ہے جبکہ دنیا کے امیر ترین سمجھے جانے والے شخص بل گیٹس کی دولت صرف چالیس بیلین ڈالر ہے۔[79]

اپنے نام فیڈرل ریزرو کے برعکس یہ ادارہ نہ تو فیڈرل ہے اور نہ ہی ریزرو۔[80]

مرکزی بینک جمہوری حکومت کی مدد سے عوام کو لوٹتے ہیں۔ بادشاہ مرکزی بینکوں کو کاغذی کرنسی چھاپنے نہیں دیتا اس لیئے مرکزی بینک بادشاہت کے سخت دشمن ہوتے ہیں۔[81]
ایک مضحکہ خیز کارٹون جو 1797 میں جیمز گلرے نے کاغذی کرنسی کے خلاف بنایا تھا۔ نوٹوں کے کپڑے پہنے خزانے پر بیٹھی خاتون سے مراد بنکِ انگلستان ہے جبکہ مرد ولیم پٹ ہے جو اسوقت برطانیہ کا وزیر اعظم تھا۔


امریکی صدر تھامس جیفرسن نے کہا تھا کہ "میرے خیال میں بینکاری کے ادارے ہماری آزادی کے لیئے زیادہ خطرناک ہیں بہ نسبت سر پہ کھڑی (دشمن کی) فوج کے" [82]
بنکِ انگلستان کے مالک ناتھن روتھشیلڈ کا کہنا تھا کہ مجھے کوئی پرواہ نہیں کہ انگلستان کے تخت پر کون سا پُتلا بیٹھا سلطنت چلا رہا ہے۔۔۔۔۔جو برطانیہ کی کرنسی کو کنٹرول کرتا ہے وہی برطانوی سلطنت کو کنٹرول کرتا ہے اور یہ کرنسی میں کنٹرول کرتا ہوں۔[83]

صدر کینیڈی نے فیڈرل ریزرو کی اس اجارہ داری کو محسوس کر کے اس کے خلاف اقدام اٹھانے کی کوشش کی تھی۔اس نے 4 جون 1963 کو ایک فرمان[84] جاری کیا تھا جس کے مطابق امریکی حکومت اپنے پاس موجود چاندی کے عوض خود امریکی ڈالر چھاپہ کرے گی۔ امریکہ کے ڈالر چھاپنے والے نجی ادارے کے کرتا دھرتاوں نے فوراً خطرہ بھانپ لیا اور 22 نومبر 1963 کو صدر کینڈی کو اس جسارت پر قتل کروا دیا گیا۔[85] [86] قتل سے صرف چھ دن پہلے صدر کینیڈی نے محکمہ خزانہ کو امریکی ڈالر چھاپنے کاحکم دیا تھا۔[87] اسوقت پاکستانی نوٹوں کی طرح امریکی ڈالر پر بھی ادائیگی کا وعدہ لکھا ہوتا تھا۔ صدر کینیڈی کے قتل کے صرف چار دن بعد فیڈرل ریزرو نے جو نوٹ جاری کیئے ان پر ایسا کوئ وعدہ نہ تھا۔ صدر کینیڈی کے قاتل لی ہاروے اوسوالڈ کو جیک روبی نے سرعام قتل کر دیا اور بعد میں خود جیل میں بیمار ہو کر مرگیا۔( یا شائید زہر دے دیا گیا)

صدر کینیڈی کا وہ فرمان 9 ستمبر 1987 تک قانون کا حصہ رہا مگر اس پر عمل نہ ہوا۔ اسکے بعد صدر رونالڈ ریگن نے اسے منسوخ کر دیا۔ صدر کینیڈی کے قتل سے لگ بھگ سو سال پہلے مقبول امریکی صدر ابراھم لنکن کو 14 اپریل 1865 کو بھی اسی وجہ سے گولی مار دی گئی تھی کہ اس نے کاغذی نوٹ چھاپنے کا اختیار نجی بینکوں سے لیکر حکومت کے محکمہ خزانہ کو دے دیا تھا۔[88]

ماضی میں لوگ کاغذی کرنسی کو کئی بار ڈوبتا دیکھ چکے تھے اور اس پر اتنا اعتبار نہیں کرتے تھے[89]۔ لوگوں کو کاغذی کرنسی کی طرف راغب کرنے کے لیئے با قاعدہ قوانین بنائے گئے جن کے مطابق کاغذی نوٹ وصول کرنے سے انکار کرنا یعنی دھاتی سکے طلب کرنا جرم قرار دیا گیا تھا۔[90]

اس متنازع قانون کو آٹھ سال بعد ہی 1870 میں چیف جسٹس سالمن چیز نے امریکی آئین کے خلاف قرار دیا۔ امریکی صدر الیسیز گرانٹ نے اسی دن دو نئے جج بھرتی کیئے جنہوں نے مخالفت میں ووٹ دے کر چیف جسٹس کے فیصلے کو پلٹ دیا۔[91]

1930 میں امریکی معیشت سخت کساد بازاری کا شکار تھی۔ فیڈرل ریزرو نے کرنسی کی فراہمی بڑھانے کی بجائے کم کر دی تھی۔ ڈالر کی گرتی ہوئی قیمت دیکھتے ہوئے بینکوں سے کاغذی کرنسی کے بدلے اپنا سونا چاندی واپس لینے کا رجحان آہستہ آہستہ بڑھتا جا رہا تھا۔ امریکی صدر روزویلٹ، جو ایک بینکار خاندان سے تعلق رکھتا تھا، نے 4 مارچ 1933 کو امریکہ میں اپنی صدارت کا آغاز کیا اور دوسرے ہی دن سے 9 دنوں کے لیئے بینک کی تعطیلات کا اعلان کیا تا کہ لوگ فیڈرل ریزرو سے اپنا سونا نہ نکلوا سکیں۔ 5 اپریل 1933 کو، یعنی صرف ایک مہینے بعد روزویلٹ نے ایک صدارتی فرمان[92] جاری کیا جسکے تحت امریکی شہریوں کو 100 ڈالر سے زیادہ مالیت کا سونا رکھنے پر پابندی عائید ہو گئی اور وہ اپنا زائد سونا فیڈرل ریزرو (جو ایک پرائیوٹ ادارہ ہے) کو ایک مہینے کے اندر اندر بحساب 20.67 ڈالر فی ٹرائے اونس بیچنے پر مجبور ہو گئے۔ خلاف ورزی کی سزا دس ہزار ڈالر جرمانہ یا / اور دس سال قید تھی۔ اس زمانے کے دس ہزار ڈالر مئی ء2011 کے حساب سے سوا سات لاکھ ڈالر کے برابر تھے (بلحاظ سونے کی قیمت)۔ اس زمانے میں امریکہ میں سونے کے سکّے چلتے تھے جنہیں لوگوں سے لے کر فیڈرل ریزرو نے کاغذ کے نوٹ تھما دیئے۔ جب لوگوں کا سونا ہتھیا لیا گیا تو اگلے سال سونے کی سرکاری قیمت 20.67 سے بڑھا کر 35 ڈالر فی اونس کر دی گئی۔ ایک اندازہ کے مطابق اسطرح 8000 ٹن سونا لوگوں سے چھن گیا[93]۔ اسکے چند دن بعد 23 مئی 1933 کو کانگرس کے ایک رکن مک فیڈن نے فیڈرل ریزرو اور محکمہ خزانہ کے کئی اعلیٰ عہدیداران کے خلاف اربوں ڈالر کے غبن کے الزامات عائد کیئے لیکن معاملہ دبا دیا گیا اور ان الزامات کا آج تک جواب نہیں دیا گیا ہے۔[87] میک فیڈن پر دو بار قاتلانہ حملہ ہوا مگر وہ بچ نکلا۔ 1936 میں وہ پراسرار موت مارا گیا۔ 8 نومبر 2002 کو فیڈرل ریزرو کے گورنر بن برنانکے نے جامعہ شکاگو میں ایک تقریر کے دوران یہ تسلیم کیا کہ 1930 کے کساد عظیم کی اصل وجہ فیڈرل ریزرو تھا۔[94]

31 دسمبر 1974 کو امریکیوں کو سونا رکھنے کی اجازت دوبارہ دے دی گئی۔[95]


فیڈرل ریزرو کے پاس موجود 8133.5 ٹن سونے کی پچھلے 60 سال سے کوئ جانچ پڑتال نہیں ہوئی ہے۔[96] یہ بھی واضح نہیں ہے کہ اس سونے کے مالکان کون کون ہیں۔ جرمنی کا 1500 ٹن سونا فیڈرل ریزرو کے پاس بطور امانت رکھا ہوا ہے جسے اب فیڈرل ریزرو واپس کرنے پر آمادہ نہیں۔[97] اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ چین کا بھی کم از کم 600 ٹن سونا فیڈرل ریزرو کے پاس محفوظ ہے۔[98]

شبہ کیا جاتا ہے کہ مرکزی بینکوں کے پاس اب اتنا سونا نہیں بچا ہے جتنا کہ وہ دعویٰ کرتے ہیں۔ [99] [100][101] [102] فیڈرل ریزرو پہلے تو ہر سال ایسے اعداد و شمار جاری کرتا تھا جس سے پتہ چل سکے کہ اس نے کتنے ڈالر چھاپے ہیں۔ اگرچہ کہ یہ اعداد و شمار کبھی بھی شک و شبہ سے بالاتر نہیں رہے لیکن اب اس ادارے نے اعداد و شمار جاری کرنے سے ہی صاف انکار کر دیا ہے۔ دوسرے لفظوں میں ہماری مرضی ہم جتنے چاہیں ڈالر چھاپیں۔ تم کون ہوتے ہو پوچھنے والے؟

سنہ جاری شدہ امریکی ڈالر M3
بیلین ڈالر میں
امریکی حکومت پر قرضہ
ارب ڈالر میں
1960 315.2 290.2
1970 677.1 389.2
1980 1995.5 930.2
1990 4154.6 3233.3
2000 7117.7 5674.2
2005 10,191.4 8,170.4
2007 اعداد جاری نہیں کیئے گئے 10,245.2
2010 اعداد جاری نہیں کیئے گئے 14,025
اگست2011 اعداد جاری نہیں کیئے گئے 14,697
16 نومبر2011 اعداد جاری نہیں کیئے گئے 15,000[103]
17 اکتوبر 2013 اعداد جاری نہیں کیئے گئے 17,040

فیڈرل ریزرو کے پاس موجود 8133.5 ٹن سونے کی کل مالیت 450 ارب ڈالر سے کم ہے (جنوری 2013 کی قیمت) جبکہ امریکی حکومت پر قرضے 17,000 ارب ڈالر سے زیادہ ہو چکے ہیں۔ صاف ظاہر ہے کہ امریکی حکومت کبھی بھی یہ قرض ادا نہیں کر سکتی۔ اور نہ ہی فیڈرل ریزرو کبھی اتنی رقم کا مالک رہا تھا جو اس نے قرض دی ہے۔ فیڈرل ریزرو نے یہ رقم چھاپ کر قرض دی ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر فیڈرل ریزرو یہ ساری رقم چھاپ سکتا ہے تو امریکی حکومت خود کیوں نہیں چھاپ لیتی؟ اگر حکومت خود چھاپے تو نہ قرض ادا کرنا پڑے گا نہ سود دینا پڑے گا۔ اسکی وجہ سو سال پرانا اور دھوکے سے بنایا گیا ایک غلط قانون ہے جس کے مطابق صرف فیڈرل ریزرو کو کرنسی چھاپنے کا اختیار دیا گیا ہے اور جو کوئی بھی اس قانون کی منسوخی کی بات کرتا ہے اسے ہمیشہ کے لیئے خاموش کرا دیا جاتا ہے۔ ایسے ہی کالے قوانین برطانیہ فرانس اور جرمنی میں بھی پہلے ہی سے موجود ہیں جو صرف پرائیوٹ سینٹرل بینکوں کو نوٹ چھاپنے کا حق دیتے ہیں۔
امریکی حکومت نے 2012 میں اپنے اس سارے قرضوں پر 2.24 فیصد سود ادا کیا ہے یعنی 360 ارب ڈالر عوام سے بطور اضافی ٹیکس وصول کر کے فیڈرل ریزرو کے مالکان کو بطور ذاتی منافع ادا کیا ہے۔ صرف ایک سال پہلے یہ اضافی ٹیکس اور یہ منافع 454 ارب ڈالر تھا۔ اگر یہ صرف نوٹ چھاپنے کا معاوضہ ہے تو پھر یہ کروڑوں گنا زیادہ ہے۔ خیال رہے کہ 360 ارب ڈالر کی رقم پاکستان کے 2012-2013 کے بجٹ کا پانچ گنا ہے۔[104]۔ اس طرح عوام کی دولت کو امیر بینکاروں تک منتقل کرنے میں جمہوری حکومت کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔ اگر سینٹرل بینک سرکاری ملکیت میں ہوں تو عوام اس اضافی ٹیکس سے با آسانی بچ سکتے ہیں۔

فیڈرل ریزرو کا کہنا ہے کہ اب اس کے پاس جمع شدہ سونے کی مالیت کے اعتبار سے ڈالر چھاپنے کی ضرورت نہیں رہی ہے بلکہ وہ اقتصادی سرگرمی کے لحاظ سے ڈالر چھاپ رہا ہے۔
ڈالر چھاپ چھاپ کر ہوتی یہ عیاشی دیکھ کر یورپ والوں کو بھی مزے لوٹنے کا خیال آیا۔ چونکہ یورپ کا کوئ ملک اتنا مضبوط نہیں تھا کہ اکیلا امریکی ڈالر کا مقابلہ کر سکے اس لیئے انہوں نے مل کر یورو جاری کیا جسکے بعد ڈالر کی اجارہ داری میں قدرے زوال آیا۔ یورو کو اصل سہارا جرمنی کے مضبوط مارک سے ملا ہے۔

عالمی کرنسی کی فیصدی

مقداری تسہیل (Quantitative Easing)[ترمیم]

اصل مضمون: مقداریہ سہل

2007 سے شروع ہونے والے زبردست مالی بحران[105] نے امریکہ اور یورپ کو ہلا کر رکھ دیا ہے اور ان ممالک کی معیشتوں کے بالکل بیٹھ جانے کا خطرہ ہو گیا ہے۔ ڈر اس بات کا بھی ہے کہ لوگوں کا کاغذی کرنسی سے اعتبار ہی نہ اٹھ جائے جیسا کہ سونے کی بڑھتی ہوئی قیمتوں سے اندازہ ہو رہا ہے۔ امریکہ میں فیڈرل ریزرو ، انگلستان میں بینک آف انگلینڈ اور یورپ میں یورپی مرکزی بینک نے کاغذی کرنسی بڑی مقدار میں چھاپ کر دوسرے بینکوں سے مال خریدنا شروع کر دیا ہے تا کہ زیر گردش نوٹوں کی تعداد میں اضافہ ہو اور معیشت رواں رہے۔ اس حکمت عملی کو "مقداری تسہیل" [106] [107] کا نام دیا گیا ہے۔ امریکہ میں پہلی مقداری تسہیل نومبر 2008 سے مئی 2010 تک جاری رہی۔ دوسری مقداری تسہیل نومبر 2010 سے جون 2011 تک جاری رہی۔ تیسری مقداری تسہیل 13 ستمبر 2012 سے شروع کی گئی ہے جس میں شروع میں ہر ماہ 40 ارب ڈالر چھاپے گئے لیکن بعد میں ہر ماہ 85 ارب ڈالر چھاپے جانے لگے اور یہ سلسلہ ابھی جاری ہے۔ [108] یعنی ہر گھنٹے میں ساڑھے گیارہ کروڑ ڈالر۔ یہ مقدار دنیا بھر میں ہر گھنٹے میں بازیاب ہونے والے سونے کی مالیت سے دس گنا زیادہ ہے۔ دنیا کی دوسری کاغذی کرنسیاں اس کے علاوہ ہیں۔

یہ مرکزی بینک اپنے صوابدیدی اختیارات استعمال کرتے ہوئے وفاقی ذخائر کی شرح سود (Federal Fund Rate) میں اضافہ نہیں ہونے دے رہے جو ٹیلر کے اصول کے مطابق نوٹ زیادہ چھاپنے کا قدرتی نتیجہ ہوتا ہے ۔ اندازہ ہے کہ امریکہ میں 5 ٹریلین ڈالر اس عرصہ میں مقداری تسہیل کے نام پر چھاپے گئے۔ یہ اتنی بڑی مقدار ہے کہ بچے بوڑھے سمیت ہر امریکی کو 17000 ڈالر دیئے جا سکتے تھے[109]۔ 85 ارب ڈالر ماہانہ کی رقم سے دو کروڑ لوگوں کو سالانہ 50,000 ڈالرتنخواہ دے کر کوئی ملازمت دی جا سکتی ہے اور بے روزگاری بڑی آسانی سے ختم کی جا سکتی ہے مگر امریکہ میں بے روزگاری میں پھر بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ اتنی رقم سے امریکہ کا ہر طالب علم چار سال یونیورسٹی میں پڑھ سکتا ہے یا دنیا سے بھوک 30 دفعہ ختم کی جا سکتی ہے۔ مگر یہ ساری رقم عوام تک نہیں پہنچ رہی بلکہ بینکاروں کو مزید امیر بنا رہی ہے۔ [110] [111] مرکزی بینکوں کا تخلیق کردہ یہ سرمائیہ صرف اسٹاک مارکیٹ میں تیزی لا رہا ہے۔
منطتقی بات یہ ہے کہ اگر زبوں حال معیشت کے لیئے مقداری تسہیل اتنی ہی کارآمد چیز ہے تو اسے مستقل بنیادوں پر کیوں نہیں اپنا لیا جاتا ؟ صرف برے وقت میں ہی کیوں اس سے استفادہ کیا جاتا ہے؟ وجہ صاف ہے کہ مقداری تسہیل سے ملنے والا سہارا عارضی ہوتا ہے اور بعد میں اسکی قیمت زبردست افراط زر ( مہنگائ ) کی شکل میں چکانی پڑتی ہے۔ دنیا کے بڑے بڑے مرکزی بینکوں کے مالکان حکومتوں کی مدد سے عوام کو نچوڑ رہے ہیں۔ [112] [113]

نوبل انعام یافتہ امریکی ماہر معاشیات ملٹن فریڈمین کا کہنا تھا کہ آج کا ناقابل حل معاشی مسلہ یہ ہے کہ فیڈرل ریزرو سے کیسے جان چھڑائ جائے۔

کاغذی سکوں کا انجام اور تخلیص[ترمیم]

مشہور فرانسیسی فلاسفر وولٹیر کا کہنا تھا کہ کاغذی دولت انجام کار اپنی اصلی قدر تک پہنچتی ہے جو صفر ہے۔ دنیا کے 775 کاغذی کرنسی میں سے 599 ڈوب چکے ہیں۔[114][115]

سبق[ترمیم]

  • کرنسی قابل تخلیق نہیں ہونی چاہیئے جیسے کہ سونا چاندی انسان کے لیئے قابل تخلیق نہیں ہوتا۔ جب کرنسی قابل تخلیق ہوتی ہے (جیسے کہ کاغذی کرنسی یا الیکٹرونک کرنسی e-money ہوتی ہے) تو تخلیق کنندہ نہایت امیر اور طاقتور ہو جاتا ہے اور نہ صرف حکومت کے کنٹرول سے باہر ہو جاتا ہے بلکہ اپنی اجارہ داری قائم رکھنے کے لیئے ہر طرح کے ہتھکنڈے بھی استعمال کرتا ہے۔ قابل تخلیق کرنسی غریبوں کی دولت کو امیروں تک خاموشی سے منتقل کرنے کا موثر ترین حربہ ہے۔[116]
  • Hard کرنسی (زر کثیف) کے نظام میں سرمایہ محنت اور بچت سے تخلیق ہوتا ہے۔ Fiat کرنسی (زر فرمان) کے نظام میں سرمایہ مرکزی بینک کے صوابدیدی اختیارات سے تخلیق ہوتا ہے۔
  • ہارڈ کرنسی (زر کثیف) کا نظام شفاف ہوتا ہے۔ Fiat کرنسی (زر فرمان) کا نظام جان بوجھ کر نہایت پیچیدہ اور غیر شفاف بنایا گیا ہے۔ زر فرمان درحقیقت ایک پونزی اسکیم ہے۔ مالیات کی دنیا میں ہر مہینے چند نئی اصطلاحات کا اضافہ ہو جاتا ہے جن کا مطلب پوری طرح سمجھتے سمجھتے لوگوں کو سال لگ جاتے ہیں۔
  • ہارڈ کرنسی کے پیچھے کوئی دھونس دھمکی نہیں ہوتی اس لیئے یہ دائمی ہوتی ہے۔ زر فرمان کے پیچھے ہمیشہ فوجی طاقت ہوتی ہے اس لیئے یہ عارضی ہوتی ہے کیونکہ ہر فوج کو کبھی نہ کبھی زوال آتا ہے۔
  • زر کثیف کا نظام مرکزی بینکوں کو مفلس اور عوام الناس کو خوشحال بناتا ہے۔ زر فرمان کا نظام مرکزی بینکوں کے مالکان کو کھرب پتی بنا چکا ہے جبکہ آج کا مزدور اپنے دادا پردادا سے دوگنا زیادہ کام کر کے بھی بدحال رہتا ہے۔
  • زر فرمان کی وجہ سے جدید بینکاری نظام بچت کی حوصلہ شکنی کرتا ہے اور قرض اور قرض در قرض کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔ صرف امریکہ کے اندرونی اور بیرونی قرضے 60,000 ارب ڈالر سے زیادہ ہو چکے ہیں۔[117] [118] [119]
  • کاغذی کرنسی (زر فرمان) میں کی جانے والی بچت افراط زر کی وجہ سے تیزی سے سکڑتی جاتی ہے یعنی اسکی قوت خرید گرتی جاتی ہے۔ ہارڈ کرنسی کے نظام میں بچت کی قوت خرید وقت کے ساتھ ساتھ بڑھتی چلی جاتی ہے۔ دوسرے الفاظ میں ہارڈ کرنسی store of value ہے جبکہ کاغذی کرنسی قدر کی چوری (steal of value) ہے۔ یہی قدر کی چوری آج دنیا بھر میں تیزی سے بڑھتی ہوئی غربت کی بنیادی وجہ ہے۔[120]
  • اپنی ملکیت میں موجود اثاثوں سے زیادہ قرض دینے کی صلاحیت درحقیقت دولت تخلیق کرنے کی صلاحیت ہے (خواہ یہ قرضے بغیر سود کے ہی کیوں نہ ہوں)۔ یہی چیز فریکشنل ریزرو بینکنگ ہے۔
  • اگر کرنسی hard ہو تو بھی بینک فریکشنل ریزرو بینکنگ کے ذریعے قرض دے کر اپنے کھاتوں میں حقیقی اثاثوں سے زیادہ مالیت کے اثاثے دکھا سکتے ہیں۔ اگر فریکشنل ریزرو کی حد 20 فیصد ہو تو جمع شدہ اثاثے پانچ گنا زیادہ تک ظاہر کیئے جا سکتے ہیں۔ اس طرح فرضی دولت پر بھی حقیقی منافع کمایا جا سکتا ہے۔ فریکشنل ریزرو کو 'money multiplier' بھی کہتے ہیں۔
  • یہ غلط ہے کہ عدلیہ، انتظامیہ اور مقننہ حکومت کے تین اہم ستون ہوتے ہیں۔ حکومت کا ایک چوتھا ستون بھی ہوتا ہے جو ان تینوں ستونوں کو کنٹرول کرتا ہے اور وہ ہے کرنسی۔ اس لیے کرنسی کا کنٹرول حکومت کے پاس ہونا چاہیئے۔ ترقی یافتہ ممالک میں حقیقت اس کے برعکس ہے۔[5]
  • بینکاری نظام پر ضرب لگانے کے خواہشمند لیڈر مروا دیئے جاتے ہیں۔
  • ترقی یافتہ ممالک میں بھی جمہوری حکومتیں عوام سے زیادہ مرکزی بینکوں کے مفادات کا خیال رکھتی ہیں۔
  • جنگ عظیم اول اور دوم نے کاغذی کرنسی کو بڑا دوام بخشا اور اس طرح مرکزی بینکوں کی طاقت اور اقتدار میں بے پناہ اضافہ ہوا۔
  • لا علمی ہمیشہ غلامی کی طرف لے جاتی ہے (ignorance is the surest path to slavery)۔ کاغذی کرنسی کی حقیقت سے لاعلمی بہت سے ممالک کو آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کا غلام بنا چکی ہے۔

مزید دیکھیے[ترمیم]

بیرونی ربط[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ "silk road"، http://www.silk-road.com/artl/marcopolo.shtml 
  2. ^ "Fiat currency [زر فرمان]" (انگریزی میں)، http://dailyreckoning.com/fiat-currency 
  3. ^ An Empire of Fraud and Deception
  4. ^ "جعلی دولت". http://articles.businessinsider.com/2012-03-12/markets/31146614_1_debt-fractional-reserve-fiat. 
  5. ^ 5.0 5.1 "چند بینکار خاندان جو پوری دنیا کو کنٹرول کرتے ہیں". http://foolscrow.wordpress.com/2011/07/21/beware-the-risen-people-part-1-of-3-global-banking-%E2%80%93-a-criminal-syndicate-of-tyrants-and-thieves/. 
  6. ^ "the money masters". http://www.themoneymasters.com/monetary-reform-act/the-five-%E2%80%9Cbank-wars%E2%80%9D/. 
  7. ^ "paper money is fraud". http://ohiorepublic.blogspot.com/2008/11/paper-money-is-fraud.html. 
  8. ^ "paper money is fraud". http://www.facebook.com/note.php?note_id=306011075725. 
  9. ^ "paper money is fraud". http://www.ecclesia.org/truth/reserve.html. 
  10. ^ "فیڈرل ریزرو: صدی کا سب سے بڑا فراڈ" (انگریزی میں)، وسل بلوور، جولائی 2006، http://superstore.wnd.com/whistleblower 
  11. ^ "فیڈرل ریزرو: صدی کا سب سے بڑا فراڈ" (انگریزی میں)، ایبل ٹو نو، 4 اگست 2006، http://able2know.org/topic/82469-1 
  12. ^ Keynes, John Maynard (1920). Economic Consequences of the Peace. Gutenberg. http://www.gutenberg.org/ebooks/15776. 
  13. ^ "بینکاری کے خفیہ راز". http://ancientbankingsecret.com/. 
  14. ^ 14.0 14.1 "united earth". http://www.unitedearth.com.au/banking.html. 
  15. ^ "Infamous Quote from Mayer Amschel Rothschild". http://quotes.liberty-tree.ca/quote/mayer_amschel_rothschild_quote_8bed. 
  16. ^ "اسلام کا نظریہ زر اور کاغذی کرنسی کی حقیقت۔ اردو میں". http://www.mohaddis.com/apr2009/1114-islam-ka-nazaria-zar-aor-kaghzi-currency-ki-haqeeqat.html. 
  17. ^ "دولت". http://www.relfe.com/A06/wealth.html. 
  18. ^ "وہ 20 چیزیں جو رقم کے طور پر استعمال ہوتی تھیں". http://www.smosh.com/smosh-pit/knowledge/20-things-used-money-there-was-money. 
  19. ^ "PEINA". http://www.angelfire.com/art/peina/Oct01n_1.htm. 
  20. ^ Allen, Larry (1999). The encyclopedia of money. ABC-CLIO. ISBN 1576070379. 
  21. ^ جنگ اور معیشت کی تاریخ
  22. ^ "ریزرو بینک آف انڈیا کی تاریخ". http://rbidocs.rbi.org.in/rdocs/content/PDFs/89635.pdf. 
  23. ^ مائیکل شومین (6 نومبر 2009)، "کیا ڈالر ایک سست موت مر رہا ہے" (انگریزی میں)، ٹائم ڈاٹ کام، http://www.time.com/time/business/article/0,8599,1935868,00.html 
  24. ^ "امریکی حکومت مر رہی ہے" (انگریزی میں)، درحقیقت کیا ہوا، http://whatreallyhappened.com/WRHARTICLES/USgovernmentdying.html 
  25. ^ "بین الاقوامی زرمبادلہ کے طور پر ڈالر کی جگہ دوسری کرنسی متعارف کروانے کی ضرورت ہے" (انگریزی میں)، معاشی تباہی، 11 فروری 2011، http://theeconomiccollapseblog.com/archives/shocking-new-imf-report-the-u-s-dollar-needs-to-be-replaced-as-the-world-reserve-currency-and-that-sdrs-could-constitute-an-embryo-of-global-currency 
  26. ^ Honest Money
  27. ^ "انجیل پر یقین کرنے والے". http://www.biblebelievers.org.au/monie.htm. 
  28. ^ "British India Issues". بھارتی مرکزی مصرف. http://www.rbi.org.in/currency/museum/p-brit.html. 
  29. ^ "Currnecy FAQ's". بھارتی مرکزی مصرف. http://rbi.org.in/Scripts/BS_ViewCurrencyFAQ.aspx. 
  30. ^ "گولڈ اسٹینڈرڈ". http://wiki.mises.org/wiki/Gold_standard. 
  31. ^ "pdf:ریزرو بینک آف انڈیا کی یاد داشت". http://rbidocs.rbi.org.in/rdocs/content/PDFs/89635.pdf. 
  32. ^ انسائیکلوپیڈیا بریٹانیکا
  33. ^ "pdf:ریزرو بینک آف انڈیا کی یاد داشت". http://rbidocs.rbi.org.in/rdocs/content/PDFs/89635.pdf. 
  34. ^ THE CONCISE ENCYCLOPEDIA OF ECONOMICS
  35. ^ کانگریس کی تحقیقاتی رپورٹ
  36. ^ "زمبابوے میں شرح سود 800 فیصد". ٹیلیگراف. http://www.telegraph.co.uk/news/worldnews/1564924/Zimbabwe-interest-rates-up-to-800pc.html. 
  37. ^ "دوبارہ جائزہ". http://2ndlook.wordpress.com/tag/azad-hind-fauj/. 
  38. ^ "goldprice.org". http://goldprice.org/. 
  39. ^ دنیا کی 120 کرنسیوں کا گرنا
  40. ^ "pdf". CATO. http://www.cato.org/pubs/journal/cj29n2/cj29n2-8.pdf. 
  41. ^ کیا یہ سچ ہے
  42. ^ The Big Reset, In Gold We Trust
  43. ^ IN GOLD WE TRUST
  44. ^ ڈوئیچے بینک کا لندن بلین مارکیٹ سے استعفاء
  45. ^ "مرکزی بینک اور سونے کی لیزنگ". http://whiskeyandgunpowder.com/the-gold-carry-trade/. 
  46. ^ "gold-price-manipulation-exposed". http://www.goldstockbull.com/articles/gold-price-manipulation-exposed/. 
  47. ^ مرکزی بینکوں کا سونے کی قیمت گرانا یوٹیوب پر
  48. ^ "کیا گورڈن براون نے بینکوں کو سہارا دینے کے لیئے برطانیہ کا سونا سستی ترین قیمت پر بیچا؟". http://www.zerohedge.com/article/did-gordon-brown-sell-uks-gold-keep-aig-and-rothschild-solvent-more-disclosures-how-ny-fed-m. 
  49. ^ "Andrew McGuire, whistle-blower on market manipulation, injured in hit-and-run accident". http://www.sott.net/article/205674-Andrew-McGuire-whistle-blower-on-market-manipulation-injured-in-hit-and-run-accident. 
  50. ^ سونے کی لیزنگ۔
  51. ^ THE BIG RESET
  52. ^ Dr. Carroll Quigley. "Tragedy and Hope". http://www.womensgroup.org/gold_20000311.html. 
  53. ^ بریٹن ووڈز کا ایک جائیزہ
  54. ^ 54.0 54.1 "Time:A brief history of Bretton Woods System". ٹائم. http://www.time.com/time/business/article/0,8599,1852254,00.html. 
  55. ^ بریٹن ووڈ کی موت کی وجہ
  56. ^ "the-nixon-shock". بزنس ویک میگزین. http://www.businessweek.com/magazine/the-nixon-shock-08042011.html. 
  57. ^ Only labour can create wealth, Gold is condensed labour
  58. ^ "معیشت کے طفیلی کیڑے". http://www.endtheillusion.org/economic/parasites.htm. 
  59. ^ "پتلی ہوا میں سے دولت تخلیق کرنا". http://www.globalresearch.ca/index.php?context=va&aid=14701. 
  60. ^ Kenworthy, L (August 20, 2010). "The best inequality graph, updated: Consider the Evidence". http://lanekenworthy.net/2010/07/20/the-best-inequality-graph-updated/. 
  61. ^ "ہندوستان: دنیا کی امیر ترین معاشیات". http://2ndlook.wordpress.com/2007/11/10/india-the-worlds-richest-economy/. 
  62. ^ "لیبیا پر جارحیت اور کرنل قذافی کا دینار جاری کرنے کا منصوبہ". http://www.goldstockbull.com/articles/libya-invasion-gaddafi-plan-gold-dinar/. 
  63. ^ "فسانے کی حقیقت". http://www.factoverfiction.com/article/4664. 
  64. ^ "Iran presses ahead with dollar attack". ٹیلیگراف. 12 فروری 2012ء. http://www.telegraph.co.uk/finance/commodities/9077600/Iran-presses-ahead-with-dollar-attack.html. 
  65. ^ ہٹلر کا مالیاتی نظام
  66. ^ "دوسری جنگ عظیم تو بینکاروں کی حفاظت کے لیئے لڑی گئی تھی". http://www.veteranstoday.com/2011/06/26/was-world-war-ii-fought-to-make-the-world-safe-for-usury/. 
  67. ^ "Mr-Yen-cautions-on-Japans-unsafe-debt-trajectory". ٹیکیگراف. http://www.telegraph.co.uk/finance/financialcrisis/9955287/Mr-Yen-cautions-on-Japans-unsafe-debt-trajectory.html. 
  68. ^ Bergier, Jean-Francois; W. Bartoszewski, S. Friedländer, H. James, H. Junz, G. Kreis, S. Milton, J. Picard, J. Tanner, D. Thürer, J. Voyame (2002). "Final Report of the Independent Commission of Experts Switzerland – Second World War". Zürich: Pendo Verlag GmbH. p. 107. ISBN 3-85842-603-2. 
  69. ^ "The.History.of.the.Money.Changers". http://iamthewitness.com/books/Andrew.Carrington.Hitchcock/The.History.of.the.Money.Changers.htm. 
  70. ^ "root cause of poverty [غربت کی اصلی وجہ]" (انگریزی میں)، http://mpra.ub.uni-muenchen.de/27719/1/MPRA_paper_27719.pdf 
  71. ^ قرض میں جکڑی غلام دنیا
  72. ^ "کاغذی غربت". http://paperpoverty.blogspot.com. 
  73. ^ "AbolishFiatSlavery". http://unameitltd.limewebs.com/id20.htm. 
  74. ^ Shaw, H (1950). The Lincoln Encyclopedia. Macmillan, NY. http://mpra.ub.uni-muenchen.de/27719/1/MPRA_paper_27719.pdf. 
  75. ^ "زر فرمان". http://dailyreckoning.com/fiat-currency. 
  76. ^ "غلامو جاگو". http://whatreallyhappened.com/WRHARTICLES/fedponzi.php. 
  77. ^ "بے ایمان میڈیا". http://theunjustmedia.com/Banking%20&%20Federal%20Reserve/The%20Federal%20Reserve%20is%20Privately%20owned.htm. 
  78. ^ "کاغذی کرنسی غلامی ہے". http://forgingnewparadigms.blogspot.com/2011/11/money-is-slavery-by-proxy.html. 
  79. ^ Rickards, James. Currency Wars: The Making of the Next Global Crisis. Portfolio Trade. ISBN 978-1591845560. 
  80. ^ "the federal reserve neither truly federal nor a fullreserve". http://financicles.com/regions/north-america/the-federal-reserve-neither-truly-federal-nor-a-full-reserve/. 
  81. ^ "ڈاکووں اور لٹیروں کا گروہ". http://foolscrow.wordpress.com/2011/07/21/beware-the-risen-people-part-1-of-3-global-banking-%E2%80%93-a-criminal-syndicate-of-tyrants-and-thieves/. 
  82. ^ "بینکنگ پر مشہور اقتباسات". http://www.themoneymasters.com/the-money-masters/famous-quotations-on-banking/. 
  83. ^ "دنیا کی صحیح تاریخ". http://trueworldhistory.info/docs/quotes.html. 
  84. ^ "Executive order حکم نامہ 11110". http://www.presidency.ucsb.edu/ws/index.php?pid=59049&st=&st1= Executive order. 
  85. ^ "آٹھ خاندانوں کا بدمعاش گروہ". http://www.globalresearch.ca/the-federal-reserve-cartel-the-eight-families. 
  86. ^ "جھوٹ چوری اور دھوکوں کی تاریخ". http://www.scionofzion.com/federalreserve.htm. 
  87. ^ 87.0 87.1 "monie". http://www.biblebelievers.org.au/monie.htm. 
  88. ^ منی چینجروں کو عبادت گاہ سے جبراً باہر نکالنے کے چند ہی دنوں بعد حضرت عیسیٰ کو صلیب پر لٹکایا گیا
  89. ^ IN GOD WE TRUST?/ IN GOLD WE TRUST
  90. ^ "Legal-Tender-Act-1862". http://www.britannica.com/EBchecked/topic/334889/Legal-Tender-Act. 
  91. ^ "Legal Tender Cases - 79 U.S. 457 (1870)". http://supreme.justia.com/cases/federal/us/79/457/case.html. 
  92. ^ "34 - Executive Order 6102". http://www.presidency.ucsb.edu/ws/index.php?pid=14611. 
  93. ^ "china-bullion-gold-silver-and-silk". http://2ndlook.wordpress.com/2007/11/26/china-bullion-gold-silver-and-silk/. 
  94. ^ "بن برنانکے کی تقریر". http://www.federalreserve.gov/boarddocs/speeches/2002/20021108/default.htm. 
  95. ^ "سونے کی تاریخ". http://www.nma.org/pdf/gold/gold_history.pdf. 
  96. ^ "Ron Paul/ Ron Paul". http://littlealexinwonderland.wordpress.com/2010/08/31/ron-paul-audit-government-gold-reserves Ron Paul/. 
  97. ^ فیڈرل ریزرو کا سونا ختم ہو گیا؟
  98. ^ Only labour can create wealth, Gold is condensed labour
  99. ^ یہ سونا خریدنے کا صحیح وقت ہے
  100. ^ "کیا مرکزی بینکوں کے پاس واقعی سونا بچا ہے؟". http://sprottglobal.com/markets-at-a-glance/maag-article/?id=6590. 
  101. ^ "کاغذی سونے کا بند ٹوٹنے والا ہے". http://silverdoctors.com/alasdair-macleod-physical-gold-vs-gaper-gold-waiting-for-the-dam-to-break/. 
  102. ^ وال اسٹریٹ ڈیلی- فورٹ نوکس/
  103. ^ "امریکی حکومت پر قرضوں کی تازہ ترین صورتحال". http://www.usdebtclock.org/. 
  104. ^ امریکی قرضے۔ انگریزی ویکیپیڈیا پر
  105. ^ "Global Financial Crisis Timeline: 2007-2012". http://www.usfn.org/AM/Template.cfm?Section=USFN_E_Update&Template=/CM/HTMLDisplay.cfm&ContentID=20609. 
  106. ^ "QE3: What is quantitative easing? And will it help the economy?". بلاگ واشنگٹن پوسٹ. http://www.washingtonpost.com/blogs/wonkblog/wp/2012/09/13/qe3-what-is-quantitative-easing-and-will-it-help-the-economy/. 
  107. ^ "Quantitative easing explained [یو ٹیوب پر اس فلم کو ایک سال میں تقریباً 50 لاکھ لوگوں نے دیکھا]" (انگریزی میں)، http://www.youtube.com/watch?v=PTUY16CkS-k 
  108. ^ "the-fed-should-stop-paying-banks-not-to-lend". نیویارک ٹائمز. http://economix.blogs.nytimes.com/2012/07/31/the-fed-should-stop-paying-banks-not-to-lend/. 
  109. ^ "Bernanke-on-fed-policies". http://www.theblaze.com/stories/is-gold-money-ron-paul-grills-bernanke-on-fed-policies/.  اور اس طرح حاصل ہونے والا معیشت کو بڑھاوا زیادہ نمایاں بھی ہوتا۔
  110. ^ امریکہ میں بیروزگاری 23 فیصد
  111. ^ تخلیق شدہ ڈالروں پر دھول جم رہی ہے
  112. ^ "root cause of poverty [غربت کی اصلی وجہ]" (انگریزی میں)، http://mpra.ub.uni-muenchen.de/27719/1/MPRA_paper_27719.pdf 
  113. ^ "دنیا کے آٹھ سب سے بڑے مرکزی بینک اور انکا کاغذی کرنسی چھاپنا". http://www.ritholtz.com/blog/2012/01/living-in-a-qe-world/. 
  114. ^ "دھندلا ڈالر". http://dollardaze.org/blog/?post_id=00405. 
  115. ^ کاغذی کرنسی ڈوبنے والی ہے۔ اردو میں
  116. ^ "غربت کی اصل وجہ". http://mpra.ub.uni-muenchen.de/27719/1/MPRA_paper_27719.pdf. 
  117. ^ "this-collapse-will-be-very-frightening-because-once-the-credit-stops-the-economy-stops". http://bullmarketthinking.com/ian-gordan-this-collapse-will-be-very-frightening-because-once-the-credit-stops-the-economy-stops/. 
  118. ^ "State-Wrecked: The Corruption of Capitalism in America". http://www.nytimes.com/2013/03/31/opinion/sunday/sundown-in-america.html?pagewanted=all&_r=0. 
  119. ^ "جرمنی امریکہ سے کیوں اپنا سونا واپس مانگ رہا ہے؟". http://www.washingtonsblog.com/2013/01/the-real-reasons-that-germany-is-demanding-that-the-u-s-return-its-gold.html. 
  120. ^ "کاغذی کرنسی غلامی ہے". http://forgingnewparadigms.blogspot.com/2011/11/money-is-slavery-by-proxy.html.