جان مینارڈ کینز

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
John Maynard Keynes
Keynesian economics
Keynes 1933.jpg
Keynes in 1933
پیدائش 5 جون 1883 (1883-06-05)کیمبرج, کیمبرج شائر,انگلینڈ
وفات 21 اپریل 1946 (عمر 62 سال)ٹلٹن, نزد Firle, سسیکس, انگلینڈ
شعبہ
مادر علمی
شراکتیں

جان مینارڈ کینز (انگریزی: John Maynard Keynes) ایک انگریز ماہر معاشیات اور فلسفی تھا۔

ابتدائی زندگی[ترمیم]

کینیز ایک فاتح مملکت انگلستان میں آسودہ ماحول میں پیدا ہوا تھا۔ اس کی پیدائش 1883ء میں کیمبرج میں ہوئی تھی۔ وہ کیمبرج یونیورسٹی کے زیر سایہ پروان چڑھا جہاں اس کا باپ ملازم تھا۔

تعلیم و تدریس[ترمیم]

کیمبرج میں واقع کنگز کالج

کینیز نے ایٹن (Eton) کالج اور کنگز کالج سے تعلیم حاصل کی اور فیلوشپ مکمل کی۔اپنے استادوں کی حوصلہ افزائی پر اُس نے معاشیات کو اپنایا۔ اس کے بعد اس کی خواہش تھی کہ برطانوی ٹریژری میں ملازمت حاصل کرے لیکن مقابلے کے امتحان (سول سروس کے امتحان) میں اس کی دوسری پوزیشن آئی جبکہ ٹریژری میں صرف اول آنے والے کے لیے جگہ تھی۔1904ء میں اس نے برٹش امپائر کے انڈیا آفس میں ملازمت کر لی مگر ایک سال میں ہی وہ ملازمت چھوڑ دی۔اسکے بعد اس نے معاشیات کے لیکچرار کے طور پر کیمبرج یونیورسٹی میں کام کیا۔

عملی زندگی[ترمیم]

کینیز شروع میں فلسفے میں دلچسپی رکھتا تھا مگر حالات اسے معاشیات اور مالیات کی طرف لے آئے۔ اگلےکئی سالوں تک وہ رائل کمیشن برائے ہندوستانی کرنسی اور مالیات کے لیے کام کرتا رہا۔اسے گولف کھیلنے اور بیلے ڈانس دیکھنے کا شوق تھا۔

1913ء میں اس نے اپنی پہلی کتاب ہندوستانی کرنسی کے بارے میں لکھی (Indian Currency and Finance)۔ اس کے فوراً بعد پہلی جنگ عظیم چھڑ گئی۔ کینیز کو برطانوی ٹریژری میں جونیئر اکنومک ایڈوائزر کی نوکری کی پیشکش ہوئی جو اس نے قبول کر لی۔ اس نے بڑی جلدی ترقی کری اور برطانیہ کے جنگی اخراجات پورے کرنے کے لیے امریکہ سے قرض لینےکی کاروائیاں انجام دیں۔
بہت سارے دوسرے یورپیوں کی طرح اس کا بھی خیال یہی تھا کہ جنگ زیادہ عرصہ نہیں چلے گی۔ لیکن اس کی پیشن گوئی کے برعکس جنگ بہت طول کھینچ گئی۔ جنگ کے بعد اسے برطانوی ٹریژری کے نمائندے کی حیثیت سے پیرس کی امن کانفرنس میں شرکت کا موقع ملا جہاں اس نے یورپی معیشت بحال کرنے کا اپنا منصوبہ پیش کیا۔اس نے تجویز دی کہ جرمنی پر تاوان جنگ 5 ارب ڈالر ہونا چاہیے اور برطانیہ اور فرانس کی طرف سے امریکہ کو قرضوں کی واپسی اس بات سے مشروط ہونی چاہیے کہ آیا جرمنی برطانیہ اور فرانس کو تاوان جنگ کی قسطیں بروقت ادا کر رہا ہے یا نہیں۔ اگرچہ برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ لوئڈ جارج نے اس منصوبے کی حمایت کری لیکن امریکی صدر ووڈرو ولسن نے اسے یہ کہہ کر مسترد کر دیا کہ قرضوں کی واپسی کا تاوان جنگ سے کوئی تعلق نہیں ہونا چاہیئے۔ امریکہ کو خطرہ تھا کہ تاوان جنگ سے مشروطی کی وجہ سے قرضوں کی واپسی ناممکن نہ ہو جائے۔ اس اختلاف کی وجہ سے کینیز نے مئی 1919ء میں استعفاء دے دیا۔

نومبر 1919ء میں اس کی دوسری کتاب امن کا معاشی نتیجہ (The Economic Consequences of the Peace) چھپی۔ اس میں اس نے بتایا کہ جرمنی پر اتنا زیادہ تاوان جنگ عائد کیا گیا ہے کہ اس کے دور رس نتائج خود اتحادی ممالک کے لیے بڑے نقصان دہ ہوں گے۔ جرمنی سے اتنے زیادہ تاوان کا مطالبہ بے وقوفی ہو گی۔ اس کی کتاب نے جلد ہی بہت شہرت حاصل کر لی۔
جرمنی اس وقت تک تاوان جنگ ادا کرنے کے قابل نہیں ہو سکتا تھا جب تک کہ اس کا بنایا ہوا سامان دوسرے یورپی ممالک نہ خریدیں۔ لیکن دوسرے یورپی ممالک اگر جرمن اشیاء خریدنا شروع کرتے تو ان کی اپنی صنعتیں کمزور پڑ جاتیں۔ دوسرا طریقہ بس یہ ممکن تھا کہ جرمنی امریکہ سے قرض لے کر برطانیہ اور فرانس کو ادا کرے جو اُسی رقم سے پھر امریکہ کا قرض اتاریں۔ غالباً امریکہ کا سوچا سمجھا منصوبہ بھی یہی تھا۔ لیکن 1930ء کے گریٹ ڈپریشن کے بعد جرمنی کو امریکی قرضے حاصل کرنے میں شدید دشواری ہونے لگی اور 1931ء میں جرمنی قسطیں ادا کرنے کے قابل نہ رہا۔
کینیز کی پیشنگوئی درست ثابت ہوئِی اور کینیز کی شہرت میں بڑا اضافہ ہوا۔ 1923ء میں کینیز کی اگلی کتاب زرمبادلہ کی اصلاح کا راستہ (Tract on Monetary Reform) تھی۔ جنگ عظیم سے پہلے کینیز گولڈ اسٹینڈرڈ کا کٹر حامی تھا۔ لیکن جنگ کے بعد اس کتاب میں اس نے گولڈ اسٹینڈرڈ کی مخالفت شروع کر دی۔یوں لگتا ہے کہ اب کینیز کاغذی کرنسی چھاپنے والے مرکزی بینکاروں کے زیر اثر آ چکا تھا۔کینیز کا کہنا تھا کہ ماضی میں گولڈ اسٹینڈرڈ اس لیئے کامیاب ہوا تھا کیونکہ سونے کی پیداوار بھی بڑھی تھی۔ اور اب پہلے کی طرح لوگ کاغذی کرنسی پر شک نہیں کرتے۔ جبکہ حقیقت یہ تھی کہ پہلے ہارڈ کرنسی کی مقدار کاغذی کرنسی سے زیادہ تھی اور اس وجہ سے گولڈ اسٹینڈرڈ بظاہر کامیاب رہا تھا۔ ہر پونزی اسکیم شروع میں کامیاب رہتی ہے اور بعد میں کرائسس کا شکار ہو جاتی ہے۔ اس وقت کئی ممالک کی کرنسیاں انہدام کے نزدیک تھیں اور حکومتیں گولڈ اسٹینڈرڈ ترک کر رہی تھیں۔ چونکہ امریکہ کی معیشت بہت مضبوط تھی اور جنگ سے اسے نقصان کی بجائے فائدہ ہوا تھا اس لیئے امریکہ 1920ء کی دہائی میں بھی گولڈ اسٹینڈرڈ برقرار رکھنے میں کامیاب رہا۔

1920ء میں کینیز اپنی ہونے والی بیوی کے ساتھ۔

1922ء کے آخر میں کینیز نے شرح تبادلہ میں آنے والی تبدیلیوں کا درست اندازہ کر کے ۱یک لاکھ بیس ہزار ڈالر کمائے۔ اسی زمانے میں اسے ایک شادی شدہ روسی بیلے رقاصہ لیڈیا لوپوکووا (Lydia Lopokova) سے عشق ہو گیا۔ اس سے پہلے کینیز کی شہرت ہم جنس پرست (gay) کی رہی تھی۔ 1925 میں، جب لیڈیا اپنے پہلے شوہر سے طلاق حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئی تو کینیزاور لیڈیا کی شادی ہو گئی جو کینیز کی وفات تک قائم رہی۔
1924ء میں کینیز ونسٹن چرچل سے ملا اور اسے قائل کرنے کی کوشش کی کہ دوبارہ گولڈ اسٹینڈرڈ نہ اپنائے لیکن ناکام رہا۔ 1925ء میں چرچل نے گولڈ ایکسچینج اسٹینڈرڈ اپنا لیا مگر یہ 6 سال بھی نہ چل سکا۔
کینیز نے 1927ء میں پیشنگوئی کی تھی کہ اب اسٹاک مارکیٹ میں کوئی بڑا کریش نہیں ہو گا۔ "We will not have any more crashes in our time."[1] لیکن 1929ء میں اسٹاک مارکیٹ میں بدترین کریش ہوا۔ 1937ء میں اسٹاک مارکیٹیں دوبارہ ڈوب گئیں۔ اسی سال کینیز کو پہلا دل کا دورہ پڑا۔

1936ء میں کینیز نے ایک اور کتاب شائع کی جس کا نام The General Theory of Employment, Interest and Money تھا۔اس میں اس نے لگاتار کئی ایسے مفروضے پیش کیے جنہیں اب Keynesian Economics کہا جاتا ہے۔کینیز کا کہنا تھا کہ ڈپریشن اور رسیشن خودبخود ختم نہیں ہوتے اور حکومت کو انہیں ختم کرنے کے لیے مداخلت کرنی چاہیئے۔ مداخلت سے اس کی مراد یہ تھی کہ حکومت نجی مرکزی بینکوں سے قرض لے کر عوامی بہبود کے کام کرے تاکہ بے روزگاری اور عوامی بے چینی کم ہو۔ یہ عین مرکزی بینکاروں کی خواہش کی ترجمانی تھی جو حکومت پر زیادہ سے زیادہ قرض چڑھانے کے متمنی ہوتے ہیں حالانکہ غربت کی اصل وجہ بینکاروں کی حد سے زیادہ کاغذی کرنسی کی چھپائی (انفلیشن) ہوتی ہے۔ یہی بینکار ہارڈ کرنسی کے سخت دشمن ہوتے ہیں حالانکہ ہارڈ کرنسی کے دور میں مہنگائی اور ڈپریشن بہت کم وقوع پذیر ہوتے تھے۔

ناقدین کہتے ہیں کہ کینیز کی 1936 کی اس کتاب میں کینیز کا انداز بیان بالکل ہی بدلا ہوا ہے۔کتاب سمجھ میں نہیں آتی اور یوں محسوس ہوتا ہے کہ کینیز خود بھی کنفیوزڈ تھا۔ اس کتاب کا خلاصہ یہ ہے کہ

  • قدرتی طور پر معیشت کبھی بھی سارے لوگوں کو روزگار فراہم نہیں کرتی۔( اس سے پہلے نیوکلاسیکل اکنومک والے کہتے رہے تھے کہ اگر تنخواہیں لچکدار ہوں تو فری مارکیٹ میں بے روزگاری بالکل ختم ہو سکتی ہے۔)
  • بہت زیادہ بے روزگاری اس وقت تک ختم نہیں ہو سکتی جب تک کہ حکومت مداخلت نہ کرے اور بہ زور طاقت کھپت (consumption) نہ بڑھائے۔
  • کم شرح سود پر مرکزی بینکوں کا قرض فراہم کرنا مسئلہ کا حل نہیں ہوتا۔
  • مندی کے زمانے میں حکومت کو خسارے کا بجٹ بنا کر معیشت کو سہارا دینا چاہیئے۔

جب دوسری جنگ عظیم شروع ہوئی اور کینیز نے کئی مقالے لکھے کہ جنگ کے اخراجات کیسے پورے کیئے جائیں تو چرچل نے اسے بھی اکنومک ایڈوائیزر مقرر کیا۔اسے بینک آف انگلینڈ کا ڈائریکٹر بنایا گیا اور "لارڈ کینیز آف ٹلٹن" کا خطاب بھی ملا۔

1946 میں جورجیا میں آئی ایم ایف کے افتتاح کے موقع پر کینیز اور ہیری ڈکسٹر واہیٹ

دوسری جنگ عظیم کے آخری دنوں میں بریٹن اووڈز کا عالمی معاہدہ طے پایا جس میں کینیز روح رواں تھا۔ اس کی کوششوں سےآئی ایم ایف وجود میں آیا جس نے تیسری دنیا کے ممالک کو کنگال اور انتہائی مقروض بنا دیا۔ کینیز نے پوری کوشش کی کہ bancor نامی ایک عالمی کاغذی کرنسی تخلیق کی جائےمگر وہ مندوبین کو قائل نہ کر سکا اور ناکام رہا۔ آج کا ایس ڈی آر کینیز کے bancor کی نزدیک ترین شکل ہے۔
1946ء میں کینیز دل کا دورہ پڑنے سے مر گیا۔اس کی کوئی اولاد نہیں تھی۔

کینیز کے بیانات[ترمیم]

  • "ایک لمبے عرصے بعد ہم سب مر چکے ہونگے۔"
"In the long run we're all dead"


  • "مسلسل نوٹ چھاپ کر حکومت نہایت خاموشی اور رازداری سے اپنے عوام کی دولت کے ایک بڑے حصے پر قبضہ کر لیتی ہے۔ اور صرف قبضہ نہیں کرتی بلکہ جتنا چاہے اتنا قبضہ کرتی ہے۔یہ طریقہ اکثریت کو غریب بنا دیتا ہے مگر چند لوگ امیر ہو جاتے ہیں۔"
"By a continuing process of inflation governments can confiscate, secretly and unobserved, an important part of the wealth of their citizens. By this method they not only confiscate, but they confiscate arbitrarily; and, while the process impoverishes many, it actually enriches some."
  • ہندوستانی کرنسی کے نظام کے بارے میں 1913 میں کینیز کا کہنا تھا کہ" ہندوستان کی حکومت کے موجودہ نظام کی کوئی منطق نہیں ہے۔ اسے سمجھنا بہت ہی مشکل ہے اور اس وجہ سےاکثر اس بارے میں کافی غلط فہمی پیدا ہو جاتی ہے۔"
The Government of India’s present system has no logical basis, is exceedingly difficult to understand, and has often led, in consequence, to a good deal of misunderstanding.
  • کاغذی کرنسی میں پوشیدہ عیاری اور مکاری کو دس لاکھ لوگوں میں ایک آدمی بھی سمجھ نہیں پاتا۔
"Lenin was certainly right. There is no subtler, no surer means of overturning the existing basis of society than to debauch the currency. The process engages all the hidden forces of economic law on the side of destruction, and does it in a manner which not one man in a million is able to diagnose."
  • "20 سال پہلے میں نادیدہ ہاتھ کا تصور معاشیات سے نکالنا چاہ رہا تھا لیکن میں دیکھ رہا ہوں کہ ہمارے مسائل کا حل اسی نادیدہ ہاتھ کے پاس ہے"۔ نادیدہ ہاتھ سے کینیز کی مراد سینٹرل بینکرز تھے۔ یہ بیان دینے کے دس دن بعد کینیز کا انتقال ہو گیا۔
“I find myself more and more relying for a solution of our problems on the invisible hand which I tried to eject from economic thinking twenty years ago.”[2]
  • 1913 میں اپنی پہلی کتاب میں کینیز نے لکھا تھا کہ"حالیہ دنوں میں ہندوستان میں ہونے والی مہنگائی نے یہ بالکل واضح کر دیا ہے کہ کرنسی کی گرتی ہوئی قوت خرید معاشرے کے بہت بڑے حصے کو کئی طرح سے نقصان پہنچاتی ہے اگرچہ کہ یہ عارضی طور پر چند لوگوں کےلیئے منافع بخش ہو سکتی ہے۔"
The recent spell of rising prices in India has shown clearly in how many ways a depreciating currency damages large sections of the community, although it may temporarily benefit other sections.
  • 1913 میں کینیز نے لکھا کہ "پچھلے 60 سالوں میں ایک اندازے کے مطابق ہندوستان میں لگ بھگ دو کروڑ تولے (2190 ٹن) سونا جذب ہو گیا۔چاندی اس کے علاوہ ہے۔ اس میں وہ سونا شامل نہیں ہے جوپہلے سے ہندوستان میں موجود تھا۔"
During the past sixty years India is supposed to have absorbed, in addition to her previous accumulations, more than £300,000,000 of gold (apart from enormous quantities of silver).
  • کینیز ہندوستانیوں کی سونے کا سکہ استعمال کرنے اور سونے کی شکل میں بچت کرنے کی عادت کو غیر مہذبانہ اور فضول خرچی قرار دیتا ہے۔
India, as we all know, already wastes far too high a proportion of her resources in the needless accumulation of the precious metals. The Government ought not to encourage in the slightest degree this ingrained fondness for handling hard gold. By the elimination of both precious metals, to the utmost extent that public opinion will permit, from amongst the hoards and the circulation of the country, they ought to counteract an uncivilised and wasteful habit.
  • "اگر کبھی ایسا وقت آیا جب ہندوستانی لوگ اپنی سونا جمع کرنے کی غیر سود مند عادت کو ترک کر دیں اوراپنے اثاثے صنعت کاری اورزراعت کی ترقی پر خرچ کریں تو دنیا بھر کی مالیاتی مارکیٹیں (لندن کی بجائے) ہندوستان کے رحم و کرم پر ہوں گی۔"
if a time comes when Indians learn to leave off their unfertile habits and to divert their hoards into the channels of productive industry and to the enrichment of their fields, they will have the money markets of the world at their mercy.
  • "غیر محسوس طور پر (قانون میں موجود) لفظوں کے مطلب بدل چکے ہیں جو پرانے (مالیاتی) نظام کو مشکلات میں کچھ سودمندی کا موقع فراہم کرتے ہیں۔"
but by unforeseen chance the words have changed their meanings, and have permitted the old system to acquire through inadvertence a certain degree of usefulness.
  • ہندوستان میں چاندی کی کرنسی ختم کرنے اور اس کی جگہ کاغذی کرنسی رائج کرنے کے لیئے برطانوی حکومت نے 1893 میں چاندی کا روپیہ بنانے والی ٹکسالیں بند کر دیں تھیں۔ لیکن عوام میں چاندی کے روپے کی طلب برقرار رہی۔ اس مسئلہ کو حل کرنے کے لیئے 29 اپریل 1898 میں Fowler Committee بنائی گئی جس کی سفارش پر گولڈ ایکسچینج اسٹینڈرڈ نافذ کیا گیا۔اس طرح ہندوستان میں بھی کاغذی کرنسی کی راہ ہموار ہو گئی۔ کینیز کے الفاظ میں"1899 سے ہندوستان میں (کاغذی) کرنسی کے نظام نے بڑی تیزی لیکن خاموشی سے ترقی کری"
The evolution of the Indian (paper) currency system since 1899 has been rapid, though silent.
  • یورپ، امریکہ،ہندوستان اور چین میں عوام چاندی کے سکے استعمال کیئے جانے کے زبردست حامی تھے مگر کیپیٹلسٹ حکومتوں نے کاغذی کرنسی کو فروغ دینے کے لیئے زبردستی چاندی کی ٹکسالیں بند کروا دیں۔ 1913 میں کینیز کا خیال تھا کہ ہندوستان میں اب چاندی کی طلب ختم ہو چکی ہے۔
Time has muffled the outcries of the silver interests
لیکن پہلی جنگ عظیم شروع ہوتے ہی ثابت ہو گیا کہ کینیز کا خیال غلط تھا اور لوگ اُس وقت بھی کاغذی کرنسی کو شک کی نگاہ سے دیکھتے تھے کیونکہ لوگوں نے بینکوں سے نوٹ کے بدلے بڑی مقدار میں چاندی کے سکے طلب کرنا شروع کر دیئے۔
  • "سونا بین الاقوامی کرنسی ہے لیکن ملکی کرنسی نہیں ہے۔"
Gold is an international, but not a local currency.[3]
  • " ہندوستانی کرنسی کا سوال کچھ دلچسپ بن گیا۔ (ہندوستان کی پارلیمنٹ کے) ممبران ایک دوسرے سے سے پوچھتے رہے کہ "گولڈ اسٹینڈرڈ ریزرو" کیا ہے۔اور جب اخبارات میں لکھنے والوں نے انہیں بتایا کہ "گولڈ اسٹینڈرڈ ریزرو" میں کوئی سونا نہیں ہے تو وہ بجا طور پر خوفزدہ ہو گئے۔مزید جانچ پڑتال سے کچھ اور حقائق سامنے آئے جن کا شبہہ بھی نہ تھا۔ یہ انکشاف ہوا کہ لندن کی مالیاتی مارکیٹ کےسب سے اہم ممبران کی ایک بڑی تعداد یہودی ہے اور ہندوستانی حکومت کے خریدے ہوئے برطانوی کاغذی اثاثوں (کونسولز) کی قیمت کافی گر چکی ہے۔ اس بات پر کافی توجہ دی گئی کہ لندن میں رکھی ہندوستانی رقومات، جوکافی اتار چڑھاو کے بعدپچھلے سال کافی بڑھ چکی تھیں، بہت ہی کم شرح سود پر غیر ملکیوں کو اُدھار دے دی گئیں۔ پارلیمنٹ کا ایک عام ممبرکس طرح یقین کر سکتا تھا کہ کچھ یہودی بین الاقوامی بینکاروں کا گروہ اُن ہندوستانی عوام کا خون نہیں چوس رہا ہے، جن عوام کا وہ نمائیندہ ہے؟"
It turned out that they had made insufficient allowance for the deep interest which the House of Commons takes in suggestions of personal scandal. The question of Indian currency became almost interesting. Members asked one another what the Gold Standard Reserve might be, and, when writers in the Press told them, were duly horrified to learn that it contained no gold. Closer inquiry elicited further facts unsuspected hitherto. It was discovered that a number of the most prominent members of the London Money Market were Jews, and that the Government of India’s holdings of Consols had depreciated in market value since they were bought. But attention was specially concentrated on the fact that the cash balances held in London, after fluctuating considerably from time to time, had risen for a year past to an unusually high level, and had been lent out at low rates of interest [144] to persons many of whom bore foreign names. How was the ordinary member of Parliament to be sure that some cosmopolitan syndicate of Jews was not fattening at the expense of the ryots of India, whose trustee he had often declared himself to be? Indian currency is too complicated a subject to be mastered at a moment’s notice; and many persons, without paying much attention to random charges of corruption, felt, quite legitimately, that there was a great deal going on of which they had no conception, and that they would like to be fully satisfied for themselves, and not merely on the word of the officials, that everything was really in order. The situation in its fundamentals has arisen before, and will arise from time to time in the future so long as the relations of the House of Commons to India combine in a high degree responsibility and ignorance.
  • 1864 میں برطانوی حکومت نے برطانوی سونے کا سکہ sovereign ہندوستان میں رائج کرنے کی کوشش کی مگر ناکام رہی۔ 1893 میں ہندوستان میں ٹکسالوں کی بندش کے بعد 1899 میں یہی کوشش دوبارہ کی گئی جو ابتدائی ناکامی کے بعد کامیاب رہی۔کینیز اپنی کتاب میں ایک جگہ لکھتا ہے کہ 15 روپے کا یہ سکہ ہندوستان کی غریب عوام کے لیئے بہت مہنگا تھا اس لیئے نہ چل سکا۔
unsuitability of the sovereign, by reason of its high value, for so poor a country as India.
لیکن دوسری طرف اسی کتاب میں یہ بھی لکھتا ہے کہ
"جب موجودہ حالات میں ان کی ضرورت پڑتی ہے تو سوورین کے سونے کے سکے انڈیا کی طرف کھنچے چلے آتے ہیں۔"
Sovereigns are readily attracted to India when required under existing conditions....
"سوورین کے سونے کے سکے مقبول ہوتے جا رہے ہیں اور ان کی گردش بڑھ رہی ہے۔ وہ بازار میں بطور کرنسی قبول کر لیئے جاتے ہیں جو لوگوں کی ذہانت کی عکاسی ہے۔"
sovereigns are becoming popular and that their circulation is increasing. They are accepted as legal tender in the bazaars, and this may be attributed to the intelligence of the people
حقیقت یہ تھی کہ ہندوستان کی برطانوی حکومت چاہتی تھی کہ یہ سکہ عوام میں زیر گردش رہے اور اس کی آڑ میں کاغذی کرنسی کے رواج کو فروغ ملے جیسا کہ برطانیہ میں ہو چکا تھا۔ مگر ہندوستان میں عوام اس سکے کو بچت (hoarding) کرنے کے لیئے استعمال کر رہے تھے۔ یہ برطانوی سونے کے ذخائر میں کمی لانے کا سبب بن رہا تھا اس لیئے حکومت نے خود ہی اسے رائج کرنے کی کوشش ترک کر دی۔
کینیز کے مطابق صرف 1912 میں ہندوستان میں 2 کروڑ 15 لاکھ سوویرین سکے امپورٹ ہوئے(یعنی 157 ٹن سونا)۔ کینیز نے تسلیم کیا ہے کہ ہندوستان میں سونے کی طلب بہت ہی زیادہ ہے۔
Perhaps we may fairly sum this evidence up by saying that it goes to show the existence in India at the present time of an enormous demand for gold bullion, a very considerable demand for sovereigns for purposes of hoarding, and a relatively smaller demand for them, chiefly confined to the United Provinces, the Punjab, Madras, and Bombay, for purposes of currency.
  • کینیز نے یہ تسلیم کیا ہے کہ برطانوی حکومت ہندوستان میں صدیوں سے رائج چاندی کی کرنسی کا نظام جان بوجھ کر تباہ کررہی تھی۔
In 1893 four possible bases of currency seemed to hold the field: debased and depreciating currencies usually of paper; silver; bimetallism; and gold. It was not to be supposed that the Government of India intended to adopt the first; the second they were avowedly upsetting
  • ہندوستان میں برطانوی حکومت نے کئی دفعہ سونے کو کرنسی بنانے کا ارادہ ظاہر کیا تھا مگر یہ محض ایک جھانسہ تھا۔کینیز نے بھی شک ظاہر کیا ہے کہ ہندوستان کی برطانوی حکومت سونے کو واقعی کرنسی بنانا چاہتی تھی۔
The Committee of 1898 explicitly declared themselves to be in favour of the eventual establishment of a gold currency.
This goal, if it was their goal, the Government of India have never attained.
  • 1898 میں ہندوستان میں گولڈ ایکسچینج اسٹینڈرڈ مسٹر لنڈسے کی تجویز پر نافذ کیا گیا تھا۔ اُس کا کہنا تھا کہ یہ اسکیم کوئی نہیں سمجھ پائے گا سوائے ان چند لوگوں کے جوبہت ہی ذہین ہیں۔ اور اس طرح ہندوستان میں کاغذی کرنسی کا نظام آ جائے گا۔ کینیز لکھتا ہے کہ
The prophecy of 1898 by Mr. A. M. Lindsay, in proposing a scheme : "This change” he said, "will pass unnoticed, except by the intelligent few, and it is satisfactory to find that by this almost imperceptible process the Indian currency will be placed on a footing which Ricardo and other great authorities have advocated as the best of all currency systems, viz., one in which the currency media used in the internal circulation are confined to notes and cheap token coins, which are made to act precisely as if they were bits of gold by being made convertible into gold for foreign payment purposes."
  • انگریز حکومت ہندوستان میں کاغذی کرنسی کا رواج اس وعدے کے ساتھ بڑھا رہی تھی کہ لوگ جب چاہیں اس کاغذی نوٹ کے بدلے چاندی کے سکے حاصل کر سکتے ہیں۔ مگر لوگ کاغذی نوٹ پر بجا طور پر شک کرتے تھے۔ حکومت کو اکثر نوٹ کے بدلے لوگوں کو چاندی کے سکے واپس دینے میں مشکل پیش آتی تھی۔ کینیز کا کہنا تھا کہ "ہندوستانی عوام کوپڑھایا ہی نہیں گیا ہے کہ وہ یہ سمجھیں کہ نوٹ کے بدلے چاندی کے سکے صرف اس لیئے واپس نہیں کیئے جا سکتے کیونکہ عالمی منڈی میں مناسب مقدار میں چاندی دستیاب نہیں ہے۔" جبکہ حقیقت یہ تھی کہ عالمی مارکیٹ میں چاندی کی قیمت بڑھ رہی تھی اور حکومت یہ ادا نہیں کرنا چاہتی تھی۔
the Indian people were not educated to understand that inconvertibility was forced merely by the inability to find sufficient silver in the world markets
  • کینیز اپنی پہلی کتاب میں بتاتا ہے کہ کس طرح انگلستان نے "شرح سود" کی مدد سے تجارتی خسارے کے باوجود اپنا سونا دوسرے ملکوں کے حوالے کرنے سے بچایا۔
To guard against a possible drain of gold abroad, a complicated mechanism has been developed which in the details of its working is peculiar to this country. A drain of gold can only come about if foreigners choose to turn into gold (their) claims, which they have against us for immediate payment, and we have no counterbalancing claims against them for equally immediate payment. The drain can only be stopped if we can rapidly bring to bear our counterbalancing claims. When we come to consider how this can best be done, it is to be noticed that the position of a country which is preponderantly a creditor in the international short-loan market is quite different from that of a country which is preponderantly a debtor. In the former case, which is that of Great Britain, it is a question of reducing the amount lent; in the latter case it is a question of increasing the amount borrowed. A machinery which is adapted for action of the first kind may be ill suited for action of the second. Partly as a consequence of this, partly as a consequence of the peculiar organisation of the London Money Market, the "bank rate" policy for regulating the outflow of gold has been admirably successful in this country,...
The essential characteristics of the British monetary system are, therefore, the use of cheques as the principal medium of exchange, and the use of the bank rate for regulating the balance of immediate foreign indebtedness (and hence the flow, by import and export, of gold).
  • 1944میں ہونے والی بریٹن اووڈز کانفرنس کے نمائیندوں کے بارے میں کینیز نے کہا تھا
The negotiators had taken on roles ranging from, as Keynes said, “the economist, to the journalist, to the propagandist, to the lawyer, to the statesman—even, I think, to the prophet and to the soothsayer.”

Neo-Keynesianism[ترمیم]

کینیز کی تھیوری میں بتایا گیا تھا کہ بے روزگاری کو ختم کرنے کے لیئے ضروری ہے کہ تنخواہیں لچکدار ہوں۔ نیو کینیزینزم میں کہا جاتا ہے کہ بے روزگاری کو کم ترین شرح پر برقرار رکھنے کے لیئے ضروری ہے کہ تنخواہیں غیر لچکدار ہوں۔
John Hicks, Franco Modigliani اور Paul Samuelson نیو کینیزینزم کے بانیوں میں سے ہیں جبکہ Robert Clower اور Axel Leijonhufvud کا کہنا ہے کہ کینیز کو اس طرح بالکل غلط طور پر پیش کیاجاتا ہے۔
1970ء کی دہائی میں بہت سے ترقی یافتہ ممالک میں اسٹیگفلیشن (stagflation) آیاجو کینیزینزم اور نیوکینیزینزم دونوں کی تھیوریوں کے مطابق ناممکن تھا۔اس وجہ سے نیو کینیزینزم کے حامیوں پر سے حکومت کا دست شفقت ہٹ گیا۔ ملٹن فریڈمین جیسے معاشیات دان جو عرصہ دراز سے کینیزینزم کی مخالفت کرتے چلے آئے تھے اور اسکی تھیوری میں خامیوں کی نشاندہی کرتے آئے تھے، اب زیادہ نمایاں ہونے لگے۔ ملٹن فرائڈمین کا ہمیشہ سے یہ کہنا تھا کہ معیشت میں حکومت کی مداخلت کم ہونی چاہیے اورمارکیٹوں کو زیادہ آزادی ملنی چاہیئے۔
میڈیا آج بھی اس بات پر پردہ ڈالنے کی کوشش کرتا ہے کہ 1970ء کی دہائی میں آنے والے اسٹیگفلیشن کی اصل وجہ نکسن شاک تھا۔اگست 1971ء میں جب امریکہ نے ڈالر کا سونے سے ناطہ توڑا تھا تو سارے ترقی یافتہ ممالک جن کی کرنسیاں عالمی اعتبار رکھتی تھیں، انہوں نےبڑی تعداد میں کرنسی چھاپی اور دنیا بھر میں پھیلائی جس کی وجہ سے انفلیشن میں یکدم اضافہ ہوا۔انفلیشن اور کرنسی کی گرتی ہوئی قیمت (یعنی سونے کی بڑھتی ہوئی قیمت) کو روکنے کے لیئے شرح سود میں اضافہ کرنا پڑا۔ لیکن میڈیا میں یہی بتایا گیا کہ یہ سب کچھ تیل کی قیمتیں یکدم بڑھنے کی وجہ سے ہوا تھا۔[4]

تنقید[ترمیم]

کینیز کی موت کے بعد 1950 اور 1960 کی دہائیوں میں ساری کیپیٹلسٹ حکومتوں نے کینیز کی پالیسیاں اپنائی جو کینیزکو بہت بڑا معاشیات دان ثابت کرتی ہیں۔ لیکن تنقید کرنے والے کہتے ہیں کہ آثار سے پتہ چلتا ہے کہ کیپیٹلسٹ بینکاروں نے کینیز کو رائے عامہ کو ہموار کرنے کے لیئے بطور مہرہ استعمال کیا جو کہ بینکار ہمیشہ سے کرتے چلے آئے ہیں۔ چونکہ میڈیا بھی مرکزی بینکاروں کے قبضے میں ہے اس لیئے اِس نے کینیز کو بہت بڑھا چڑھا کر پیش کیا۔
1999 میں ٹائم میگزین نے کینیز کے بارے میں تبصرہ کیا کہ کینیز کےبنیادی تصوارات (کہ حکومت کوقرض لے کر اخراجات بڑھانے چاہیئں) نے کیپیٹل ازم کو تباہی سے بچا لیا۔ In 1999, Time magazine included Keynes in their list of the 100 most important and influential people of the 20th century, commenting that: "His radical idea that governments should spend money they don't have may have saved capitalism."(English Wikipedia)

اقتباسات[ترمیم]

  • اُسے گولڈ اسٹینڈرڈ سے نفرت تھی۔ He hated the gold standard
  • یہودیوں کے بارے میں اس نے کہا تھا

"love of money [as] a somewhat disgusting morbidity, one of the semi-criminal, semi-pathological propensities which one hands over with a shudder to specialists in mental disease." "I still think the race (the jews) has shown itself, not merely for accidental reasons, more than normally interested in the accumulation of usury."

  • Keynes' first academic article, "Recent Economic Events in India," published in 1909 when he was 26, marked the true beginning of his enduring intellectual love affair with matters of money. Generating "statistics of verification" linking Indian price movements with gold flows put him into a "tremendous state of excitement," he wrote to painter Duncan Grant. "Here are my theories -- will the statistics bear them out? Nothing except copulation is so enthralling."All that is missing here is the information that it was Duncan Grant with whom Keynes was copulating.
  • کینیز چاہتا تھا کہ کاغذی کرنسی کی تخلیق کا اختیار نجی مرکزی بینکوں کے پاس رہے۔ یہ 1923 میں کینیز کی معاشیات کا محور تھا۔

Keynes wanted fiat money created by the central bank. This was the heart of Keynesian economics in 1923.

  • 1944 کے بریٹن اووڈز کانفرنس کے ڈرامے کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ "جیسا کہ کامن ویلتھ کے ایک برطانوی افسر نےاس کانفرنس کے بعد بتایا تھا کہ ہندوستانی وفد کچھ زیادہ ہی منہ پھٹ تھا حالانکہ اسوقت ہندوستان برطانیہ کی کالونی تھا۔ ۔۔۔اگرچہ برطانیہ کی اس کانفرنس میں یہ ایک شکایت رہی تھی لیکن یہ حیران کن نہیں ہے کہ ہندوستانی وفد کیوں اتنا منہ پھٹ تھا۔ مسئلہ یہ تھا کہ برطانیہ ہندوستان کا مقروض تھا اور ہندوستان اس قرض کی واپسی چاہتا تھا۔ جو کچھ آپ دستاویزات میں ہندوستانی قرض کی واپسی کے بارے میں پڑھتے ہیں وہ دراصل اُس طرح نہیں تھی۔ یہ گفتگو بڑے محتاط طریقے سے لارڈ کینیز، سر جیریمی ریزمین اور ڈاکٹر وائیٹ نے پس پردہ ترتیب دی تھی"۔ (خیال رہے کہ پچھلے 12 سالوں میں انگریز ہندوستان سے 1300 ٹن سے زیادہ سونا لے جا چکے تھے اور وہ سونا ہندوستان کو پھر کبھی واپس نہیں ملا۔)

The Indian delegation is said to have been particularly outspoken, despite the fact that India was still then a colony of the UK. It’s not actually surprising that the Indian delegation was outspoken; this was one of the UK’s complaints about the conference. The problem was that the UK owed India money, and India wanted to get paid. Of course what you read in the transcripts about the Indian debt conversations isn’t everything that went on – “These conversations were carefully stage-managed by Lord Keynes, Sir Jeremy Raisman, and Dr. White,” as one official of the UK Commonwealth office said after the conference.

  • Deflation is not a death spiral as the Keynesians believe.
  • دوسرے الفاظ میں (1933 میں) روزویلٹ کے صدر بننے سے پورے ایک سال پہلے اُس نے کینیز کی تائید سےاُس منصوبے کی جزیات طے کی تھیں جو 1944 میں بریٹن اووڈز کا منصوبہ بنا، یعنی کرنسیوں کو مستحکم شرح تبادلہ پر رکھا جائے گا، لیکن ہر ملک کی معاشی خوشحالی کی ضرورتوں کے لحاظ سے شرح تبادلہ میں ردوبدل کیا جا سکتا ہے۔ (تاریخ سے پتہ چلتا ہے کہ بریٹن اووڈز کا منصوبہ کرنسی نوٹ چھاپنے والے بینکاروں کا پوری دنیا کو بیوقوف بنانے کا عالیشان منصوبہ تھا۔)

In other words, before Roosevelt had been in office a full year, he had articulated, with Keynes’s approval, all the elements of what would become the Bretton Woods monetary policy in 1944: currencies would be kept at stable exchange rates, but would be adjustable in keeping with the needs of economic prosperity in each country. [5]

  • 1934 میں ہیری ڈیکسٹر واہیٹ نے محسوس کیا کہ فکسڈ ایکسچینج ریٹ اور لچکدار ایکسچینج ریٹ دونوں سے فائیدہ اٹھانا ممکن ہے۔جب ایکسچینج ریٹ فکسڈ ہوتا ہے تو تجارت کرنا آسان ہو جاتا ہے اور جب ایکسچینج ریٹ لچکدار ہو اور بُرا وقت آن پڑے تو کرنسی چھاپ کر یا شرح سود میں ردوبدل کر کے صورتحال سے نمٹا جا سکتا ہے۔

میرے خیال میں یہی چیز بعد میں adjustable peg بنی۔ peg کے نام پر آپ کو فکسڈ ایکسچینج ریٹ کا منافع ملتا ہے۔ جبکہ ضرورت پڑنے پر ایکسچینج ریٹ کو adjustable ہونے کے بہانےتبدیل بھی کر سکتے ہیں۔
In 1934, Harry Dexter White noted you could derive benefits from a fixed exchange rate (easier trade) and from a flexible exchange rate (without having to worry about the exchange rate, you’d be free to use monetary policy to fight off a downturn). This sounds to me like what became known as the adjustable peg: you derive some of the benefits of fixed exchanges (that’s the peg part) while holding out the possibility of changing the exchange rate in time of need (that’s the adjustable part).

  • دو جلدوں پر مشتمل اپنی 1930 کی کتاب میں کینیز نے بڑی تفصیل سے بینک کےکردار اور انکی کاغذی کرنسی کی تخلیق کی نہایت اہم ذمہ داری کا ذکر کیا ہے۔کینیز نے خاص طور پر کرنسی کی دو قسمیں بتائی ہیں۔ ایک حکومتی کرنسی اور دوسری بینک کی کرنسی۔ حکومتی کرنسی بڑی طاقتور ہوتی ہے اور مرکزی بینک سے برآمد ہوتی ہے۔ جبکہ بینک کرنسی کمرشیئل بینک (فریکشنل ریزرو بینکنگ کے ذریعے) کھاتوں میں جمع شدہ رقم سے بناتے ہیں۔

اس کتاب میں کینیز نے کئی صفحے بینک کرنسی کے بارے میں لکھے ہیں۔ اس میں حیرانی کی کوئی بات نہیں ہے کیونکہ کینیز نے یہ بات بالکل واضح کر دی ہے کہ 1930 میں بینک کرنسی کی مقدار حکومتی کرنسی سے بہت زیادہ تھی۔ اور اب تک زیادہ کچھ نہیں بدلا۔ آج بھی برطانیہ میں کل کرنسی کا 82 فیصد بینک کرنسی پر مشتمل ہے۔

Then, in his two-volume 1930 work, A Treatise on Money, Keynes devotes a great deal of space to banks and their important role in creating money. In particular, Keynes separates money into two classes: state money and bank money. State money is the high-powered money that is produced by central banks. Bank money is produced by commercial banks through deposit creation. Keynes spends many pages in The Treatise dealing with bank money. This isn’t surprising because, as Keynes makes clear, bank money was much larger than state money in 1930. Well, not much has changed since then. Today, bank money accounts for almost 82 percent of the broad money supply (M4) in the United Kingdom.

مزید دیکھیئے[ترمیم]

بیرونی روابط[ترمیم]

Generating currency out of thin air and trading it for tangible goods is the definition of hegemony. Is there is any greater magic power than that?[6]

Indian Currency and Finance کا لنک[ترمیم]

Indian Currency and Finance, by John Maynard Keynes

حوالہ[ترمیم]

Biographical Summary of John Maynard Keynes

  1. Quotes and Political "Spin" of a Different Era
  2. By Michael J. Kosares
  3. Wikisource
  4. Stagflation: What Is It, What Causes It, and Can It Happen Again?
  5. [1]
  6. کیا اس سے بڑا جادو بھی کوئی ہو سکتا ہے؟