سونے کی منڈیاں

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

سونے کی منڈی (گولڈ مارکیٹ) سے مراد وہ بازار ہے جہاں بڑے پیمانے پر ایسے سونے کی خرید و فروخت ہوتی ہے جو زیور کی شکل میں نہیں ہوتا (اسے کچا سونا بھی کہتے ہیں)۔ یوں تو ہر شہر میں سونے کی منڈی ہوتی ہے لیکن دنیا میں پانچ ایسے شہر ہیں جہاں عالمی پیمانے پر سونا خریدا اور بیچا جاتا ہے کیونکہ یہاں بڑے گولڈ ایکسچینج قائم ہیں۔

سونے کی اینٹیں۔ ہر اینٹ کا وزن 400 اونس ہوتا ہے یعنی لگ بھگ ساڑھے بارہ کلو۔
سونے کے پانسے

نیویارک[ترمیم]

امریکی ٹکسال کا جاری کردہ سکہ گولڈ ایگل جو 22 قیراط سونے پر مشتمل ہے۔ اس کا وزن 33.93 گرام ہے۔ اس میں خالص سونے کی مقدار ایک اونس (31.1 گرام) ہے۔
امریکی سکے گولڈ ایگل کی سالانہ فروخت۔ اونس میں[1]
2007 198,500
2008 865,500
2009 1,435,000
2010 1,220,500
2011 1,000,000
2012 753,000
2013 856,500
2014 524,500
2015 801,500

امریکا کی یہ مارکیٹ 1970ء کی دہائی میں قائم کی گئی تھی جب بریٹن اوڈز کا معاہدہ ٹوٹنے کے بعد کاغذی ڈالر کا سونے سے ربط ختم ہو چکا تھا۔ اگست 2008ء سے یہ سی ایم ای گروپ آف شکاگو کی ملکیت میں ہے۔[2]
نیویارک میں واقع کومکس (comex) دنیا کی سب سے بڑی سونے کی مارکیٹ ہے اور پوری دنیا میں سونے کی قیمت پر اثر انداز ہوتی ہے۔ لیکن یہاں خرید و فروخت ہونے والا 99.999 فیصد سونا اصلی نہیں بلکہ کاغذی ہوتا ہے[3]۔ اصلی سونا فزیکل گولڈ (حقیقی سونا) کہلاتا ہے جبکہ گولڈ فیوچر، گولڈ آپشن، گولڈ فنڈز، مِنی آپشن وغیرہ کاغذی سونے کی چند مثالیں ہیں[4]۔ ایک فیوچر کونٹریکٹ کا مطلب 100 اونس (3110 گرام) سونا ہوتا ہے۔ (جبکہ چاندی کا ایک فیوچر کونٹریکٹ 5,000 اونس کا ہوتا ہے) فیوچر کونٹریکٹ کی میعاد پوری ہونے پر حقیقی سونے چاندی کی وصولیابی ایک پیچیدہ اور مہنگا سودا ہےجبکہ "کیش سیٹلمنٹ" بہت آسان اور منافع بخش رہتا ہے اس لیے بیشتر گاہک کیش سیٹلمنٹ کو ہی ترجیح دیتے ہیں اور کبھی اپنا اصلی سونا طلب نہیں کرتے[5]۔ اس طرح سونے کا ایک ہی ٹکڑا کئی گاہکوں کو بیچا جاتا ہے۔ ہر گاہک کے پاس صرف سونے کے کلیم کی کاغذی رسید ہوتی ہے۔[6]

کہا جاتا ہے کہ کومکس میں لیوریج دو سو گنا سے بھی زیادہ بڑھ چکا ہے۔ یعنی ہر اونس حقیقی سونے کو دو سو سے زیادہ گاہکوں کو بیچا جا چکا ہے۔[7] [8]

Without collateral there is no trust, and without trust there is no credit, and without credit there is no leverage.[9]
OPEN INTEREST ON THE COMEX[10]
DATE GOLD PRICE TOTAL OPEN INTEREST TOTAL "COMMERCIAL" GROSS SHORT POSITION
01/26/16 $1121 385,350 175,176 contracts or 545 metric tonnes of paper gold
02/16/16 $1209 428,912 259,784 contracts or 808 mts of paper gold
8/3/2016 $1264 499,110 311,865 contracts or 971 mts of paper gold
12/4/2016 $1261 504,523 353,968 contracts or 1,101 mts of paper gold
04/26/16 $1243 497,994 356,553 contracts or 1,109 mts of paper gold
3/5/2016 $1292 565,774 410,000 contracts or 1,275 mts of paper gold

لندن[ترمیم]

لندن کی گولڈ مارکیٹ کو لندن بلین مارکیٹ بھی کہتے ہیں۔1804ء سے پہلے ایمسٹرڈیم دنیا کی سب سے بڑی گولڈ مارکیٹ تھی جولندن سے لگ بھگ 500 کلومیٹر کے فاصلے پر نیدرلینڈ میں واقع تھی۔ لیکن 1804ء میں اسکی جگہ لندن نے نمایاں حیثیت لے لی۔1919ء میں لندن بلین مارکیٹ کو سرکاری درجہ دے دیا گیا جہاں دن میں دو دفعہ سونے کی قیمت فکس کی جاتی تھی۔جنوری 1980ء میں سونے کی قیمت اچانک تیزی سے بڑھنے لگی تھی جسے بڑی مشکل سے قابو کیا گیا ورنہ کاغذی کرنسی اور بینکنگ کا سارا نظام زمین بوس ہو جاتا۔اپریل 1982ء سے لندن بلین مارکیٹ میں کاغذی سونے (گولڈ فیوچر کونٹریکٹ) کی خرید و فروخت شروع کی گئی جس سے سونے کی قیمت قابو کرنا آسان ہو گیا۔[11]

400 اونس وزنی 99.99% خالص سونے کی اینٹیں جو Good Delivery کہلاتی ہیں۔

کومکس کے برخلاف لندن بُلین مارکیٹ ایک ایکسچینج نہیں ہے بلکہ سونے کے بڑے بڑے ڈیلروں اور بینکوں کا ایک گروپ ہے جو آپس میں تجارت کرتا ہے یا اپنے گاہکوں کی طرف سے خرید و فروخت کرتا ہے۔ یہاں ہر کاروباری دن میں لگ بھگ 1000 ٹن سونا خریدا اور بیچا جاتا ہے جو کومکس کے مقابلے میں سات یا آٹھ گنا زیادہ ہے۔ اس ہزار ٹن سونے کا 99 فیصد کاغذی سونا ہوتا ہے اور ایک فیصد یعنی دس ٹن حقیقی سونا ہوتا ہے۔ کومکس میں کم سے کم تین کلو سونے کا کاروبار ہوتا ہے جبکہ لندن بلین مارکیٹ میں بڑے خریدار سونا ٹنوں میں خریدتے بیچتے ہیں۔[12]

خالصیت کے لحاظ سے یہاں تین طرح کا سونا بیچا جاتا ہے جو 995، 9995 اور 9999 ہوتا ہے۔

زیورخ[ترمیم]

سوئیزرلینڈ میں واقع یہ مارکیٹ دوسری جنگ عظیم کے بعد قائم ہوئی۔
لندن بلین مارکیٹ کے برخلاف زیورخ کی گولڈ مارکیٹ میں سونے کی قیمت فکس نہیں کی جاتی بلکہ ہر سودا طلب و رسد کے لحاظ سے طے کیا جاتا ہے۔سونے کی قیمت سارا دن اوپر نیچے ہوتی رہتی ہے۔
دنیا کی بڑی بڑی سونے کی ریفائنریاں سوئیزرلینڈ میں واقع ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر کی کانوں سے نکلنے والا زیادہ تر سونا سوئیزرلینڈ پہنچتا ہے اور یہاں سے گولڈ بار اور سونے کی اینٹوں کی شکل پا کر دوسری منڈیوں میں جاتا ہے۔یہاں سونا ذخیرہ کرنے کے لیےنجی سہولیات بھی میسر ہیں۔

سوئیزرلینڈ کا بنا ایک ٹرائے اونس وزنی (یعنی 31.1 گرام کا) سونے کا بسکٹ۔ سیریل نمبر کی عدم موجودگی اس کی اصلیت کو مشکوک بنا دیتی ہے۔
سوئیزرلینڈ کی سونے کی ریفائنریاں[13]
نام پیداواری صلاحیت (سالانہ) دنیا بھر میں درجہ
Valcambi 1400 ٹن 1
Metalor 650 ٹن 2
PAMP 450 ٹن 5
Argor Heraeus 400 ٹن 7
Johnson 250 ٹن 9

ہانگ کانگ[ترمیم]

ہانگ کانگ کی گولڈ مارکیٹ ایشیا کی بڑی اہم سونے کی منڈی ہے جہاں حقیقی اور کاغذی دونوں طرح کے سونے کی خرید و فروخت ہوتی ہے۔ مغربی ممالک میں عرصہ دراز سے معیشت دان لوگوں کو یہ پڑھانے میں مصروف رہے ہیں کہ بچت محفوظ رکھنے کے لیے سونا بالکل مناسب نہیں ہے کیونکہ اس پر سود نہیں ملتا۔ اس لیے مغربی ممالک میں لوگ کاغذی سونے پر اعتبار کر لیتے ہیں۔ [14] لیکن مشرقی ممالک کے لوگ کاغذی سونے پر بہت کم اعتبار رکھتے ہیں اور حقیقی سونا خریدتے ہیں۔

ہانگ کانگ ایکسچینج نے حال ہی میں اعلان کیا ہے کہ سرمائیہ دار عنقریب سونے کے کونٹریکٹ کی خرید و فروخت ڈالر کی بجائے چین کی کرنسی یوان میں کر سکیں گے۔ اگر واقعی ایسا ہو جاتا ہے تو یہ ڈالر کے لیے بڑا دھچکا ہو گا۔[15]

شنگھائی[ترمیم]

سن 2002ء سے پہلے چین میں صرف پیپلز بینک آف چائنا کو سونے چاندی کی تجارت پر اجارہ داری حاصل تھی۔ لوگوں کو صرف سونے کے زیورات خریدنے کی اجازت تھی۔ 2002ء میں شنگھائی گولڈ ایکسچینج کا افتتاح ہوا اور 2004ءسے عام لوگوں کو سونے میں سرمائیہ کاری کی اجازت مل گئی۔[16]
دس سال بعد ستمبر 2014ء میں شنگھائی انٹرنیشنل گولڈ ایکسچینج کا بھی افتتاح کر دیا گیا۔

دورانیہ (ء) شنگھائی گولڈ ایکسچینج سےسونے کی ادائیگی[17]
2007ء 363.2 ٹن
2008ء 543.2 ٹن
2010ء 837.2 ٹن
2013ء 2181 ٹن
2014ء 2102 ٹن
2015ء 2596 ٹن[18]

چین میں واقع شنگھائی گولڈ ایکسچینج (SGE) دنیا کی سب سے بڑی حقیقی سونے کی مارکیٹ ہے جسے سرکاری حیثیت بھی حاصل ہے۔چین پچھلے دس گیارہ سالوں سے نہ صرف سرکاری سطح پر سونا خرید رہا ہے بلکہ چینی حکومت عوام کو بھی سونا خریدنے کی ترغیب دے رہی ہے۔ چین کے اکثر شہروں میں بینک بھی سونے کے سکہ کی خرید و فروخت کرتے ہیں۔ اس کے برعکس ہندوستان میں حکومت نے بینکوں پر سونے کا سکہ بیچنے کی پابندی لگا رکھی ہے۔[19]

2014ء میں شنگھائی گولڈ ایکسچینج میں 9,243 ٹن سونے کی خرید و فروخت ہوئی جبکہ 2015ء میں یہ 84 فیصد اضافے کے ساتھ 17,033 ٹن تک پہنچ گئی۔ اس میں سے 2582 ٹن سونا وصول کر لیا گیا۔[20] چین کے عوام کاغذی سونے کو اہمیت نہیں دیتے۔
چین میں سونے کی ایک کلو کی اینٹ (Bar) زیادہ مقبول ہے۔
2013 میں شنگھائی گولڈ ایکسچینج نے 2181 ٹن حقیقی سونا ادا کیا۔ 2014ء میں یہ مقدار 2102 ٹن تھی۔ 2009 ءسے جون 2015ء تک چین کے عوام 8370 ٹن سونا شنگھائی گولڈ ایکسچینج سے وصول کر چکے ہیں۔[21]

2014 میں سونے کی فروخت
بیچنے والے کا نام کتنا سونا بیچا (ٹن میں)
امریکی ٹکسال (گولڈ ایگل) 16
کومکس گولڈ ڈیلیوری 84
جی ایل ڈی 777
شنگھائی گولڈ ایکسچینج 2016

19 اپریل 2016ء سے شنگھائی گولڈ ایکسچینج نے سونے کی قیمت ڈالر کی بجائے اپنی کرنسی یوان میں فکس کرنا شروع کر دی ہے[22]۔ یہ ڈالر کی شان میں وہ گستاخی ہے جس کی جرات لندن بلین مارکیٹ بھی کبھی نہ کر سکی تھی۔

"مشرق میں ہونے والی (پیداوار اور) کھپت کی قیمت مغرب کیوں طے کرے۔"
Shanghai Gold will change the current gold market “consumption in the East priced in the West” situation.

1971 میں امریکی صدر نکسن نے بریٹن وڈز کا معاہدہ توڑ کر "gold window" بند کر دی تھی۔ شنگھائی گولڈ ایکسچینج نے 4 دہائیوں کے بعد یہ دوبارہ ممکن بنا دیا ہے کہ تیل بیچنے والے ممالک تیل کی قیمت سونے میں وصول کریں جسے کوئی چھاپ نہیں سکتا۔ اسی وجہ سے تیل کی قیمت گر گئی ہے۔اگر قیمت کے لحاظ سے دیکھا جائے تو دنیا میں ہر سال جتنا سونا نکلتا ہے اس کا دس گنا تیل نکلتا ہے۔[23]

چین اجازت نہیں دیتا کہ سونا اس کے ملک سے باہر جائے لیکن شنگھائی انٹرنیشنل گولڈ ایکسچینج "شنگھائی فری ٹریڈ زون" (SFTZ) میں واقع ہے اور یہاں سے سونا ملک سے باہر لے جانے کی اجازت ہے۔ [24]

Now that the Chinese have pricing power in gold, they quite literally have the ability to completely screw and hammer the Comex and London Banks.[25]

انگریزی کہاوت ہے کہ جو کوئی بھی سونےکی قیمت اپنی کرنسی میں کنٹرول کرتا ہے وہ سونے کی قیمت باقی کرنسیوں میں بھی کنٹرول کر لیتا ہے۔
Whoever controls the price of gold against their own currency controls the price of gold against any other currency
شنگھائی فیوچر ایکسچینج میں چاندی کی تجارت کا حجم اتنی تیزی سے بڑھ رہا ہے کہ امکان ہے کہ اب جے پی مورگن کی چاندی پر اجارہ داری ختم ہونے والی ہے۔ [26] مغربی ممالک کا شنگھائی گولڈ ایکسچینج سے نفرت کا یہ عالم ہے کہ انگریزی ویکیپیڈیا پر شنگھائی گولڈ ایکسچینج کے عنوان سے کوئی مضمون نہیں ہے۔ اسی طرح چین کے سونے کے سکوں کی بھی کوئی تصویر ویکیپیڈیا پر دستیاب نہیں۔

بھارت[ترمیم]

2013ء سے بھارت کی حکومت تجارتی خسارہ کم کرنے کے بہانے ملک میں سونے کی درآمد کم کرنے کی کوشش میں مصروف ہے۔ حکومت کی ان کوششوں کے پیچھے ریزرو بینک آف انڈیا کا ہاتھ ہے جو برائے نام حکومتی بینک ہے لیکن اسے آئی ایم ایف کنٹرول کرتا ہے۔
2015ء میں بھارت میں سونے کے زیورات کی تجارت کا حجم 25 ارب امریکی ڈالر کی مالیت کےبرابر تھا۔ اس کے برعکس اسی سال پوری دنیا کے چاندی کے زیورات کی تجارت کا حجم صرف ساڑھے تین ارب ڈالر تھا۔[27]

مورار جی دیسائی نے ہمیشہ ہندوستان میں سونے کی آمد کو روکنے کی کوشش کی۔

"اس احسان پر تو ماونٹ رشمور پر مورار جی دیسائی کا مجسمہ بن جانا چاہیے تھا"[28]
ہندوستان میں سونے کی امپورٹ [19]
دورانیہ کتنا سونا امپورٹ ہوا
2010ء 941 ٹن
2011ء 1079 ٹن
2012ء 980 ٹن
2013ء 828 ٹن
2014ء 779 ٹن
2015ء 900 ٹن

روس[ترمیم]

روس کے سینٹرل بینک نے اکتوبر 2016ء میں 48 ٹن سونا خریدا۔ پچھلے 18 سالوں میں روس کی سونے کی یہ سب سے بڑی ماہانہ خریداری ہے۔

روس کے سینٹرل بینک کی سونے کی خریداری[29]
دورانیہ کتنا سونا خریدا
2014ء 172 ٹن
2015ء 208 ٹن

دبئی[ترمیم]

2003ء میں دبئی نے 6 ارب امریکی ڈالر کا سونا بیچا تھا۔2012ء تک یہ مقدار 70 ارب ڈالر تک پہنچ گئی اور 2013ء میں 75 ارب ڈالر ہو گئی جو دنیا بھر کے حقیقی سونے کی فروخت کا 40 فیصد بنتی ہے۔ ان اعداد و شمار سے پریشان ہو کر یہودی بینکار اس کوشش میں مصروف ہیں کہ اسلامی ممالک میں بھی کاغذی سونے کو متعارف کیا جائے۔[30]

"ون گرام یا ایسی ہی کوئی اور سونے کی پشت پناہی پر قائم کرپٹو کرنسی ایک نیا عالمی گولڈ اسٹینڈرڈ متعارف کرانے کا خفیہ طریقہ ہو سکتا ہے۔"
OneGram, or another gold-backed crypto currency like it, could be a stealthy way to introduce a new global gold standard.[31]

کاغذی سونا[ترمیم]

کاغذی سونا خریدنا دراصل سونے کے شیئر (اسٹاک) خریدنا ہے اور جس طرح اسٹاک مارکیٹ میں نفع نقصان ہو سکتا ہے اسی طرح کاغذی سونے میں بھی ہو سکتا ہے۔ کاغذی سونے کا خریدار اس وہم میں مبتلا رہتا ہے کہ وہ اپنے خریدے ہوئے سونے کا مالک ہے جو معیاد پوری ہونے پر اسے مل جائے گا[4]۔ورلڈ گولڈ کونسل کا کہنا ہے کہ اگر معاہدے کی معیاد ایک ہی دن میں مکمل ہو جائے تو سونے پر سٹہ لگانا غیر اسلامی نہیں ہے۔[32] لیکن اکثر مسلمان یہ سمجھتے ہیں کہ حقیقی سونے کی ملکیت حاصل کیئے بغیر صرف رسیدوں یا قول پر نفع نقصان شریعت میں جائز نہیں۔

"کومکس کا سونے سے کوئی واسطہ نہیں ہے۔ یہ تو صرف ایک جوا خانہ ہے جہاں جواری سونے کی قیمتوں پر شرطیں لگاتے ہیں۔ سونے کے ایک اونس پر 500 اونس کے کلیم ہیں۔"
The COMEX has nothing to do with gold. That is simply a casino where gamblers place their bets on the gold price… The claims are well over 500-to-1 now.[33]

کاغذی سونا بیچنے کی چند بڑی کمپنی یہ ہیں۔

کاغذی سونے کی کمپنی کا نام سونے کی ملکیت
GLD (SPDR) 900 ٹن
ETF Securities products 300 ٹن
iShares gold ETFs 275 ٹن
Xetra-Gold 110 ٹن
دورانیہ کاغذی سونے کی عالمی مقدار[34]
1975ء آٹھ کروڑ 40 لاکھ اونس (2,612 ٹن)
1977ء 19 کروڑ اونس (5,909 ٹن)
1979ء ایک ارب دو کروڑ 70 لاکھ اونس (31,940 ٹن)

دیگر شہر[ترمیم]

مندرجہ بالا شہروں کے علاوہ ٹوکیو، سڈنی، سنگاپور، ممبئی اور ریو ڈی جنیرو میں بھی سونے کی بڑی مارکیٹیں موجود ہیں۔ امکان ہے کہ بھارت بھی 2016ء میں حقیقی سونے کا ایکسچینج قائم کر لے گا۔[35] اطلاعات ہیں کہ چین گوادر (پاکستان) میں دس تولے سونے کے بسکٹ کی خرید و فروخت میں دلچسپی رکھتا ہے۔

ورلڈ گولڈ کونسل[ترمیم]

ورلڈ گولڈ کونسل (World Gold Council) دنیا کی بڑی بڑی سونے کی کان کن کمپنیوں کی ایک تنظیم ہے جس کا صدر دفتر برطانیہ میں ہے۔اس کے 18 ممبر ہیں[36]۔ اس کا دعویٰ ہے کہ یہ سونے کی مانگ اور فراہمی کو بڑھانے کی کوشش کرتی ہے جبکہ ناقدین کے خیال میں یہ اس کے عین برعکس کام کرتی ہے۔ اگرچہ یہ بڑی تفصیل سے دنیا بھر میں سونے کی پیداوار اور کھپت کے اعداد و شمار پیش کرتی ہے لیکن اس کےبیان کردہ اعداد و شمار میں بے شمار عیب ہوتے ہیں اور یہ بر وقت میسر بھی نہیں ہوتے۔[37] سونے کے اعداد و شمار میں "ڈبل کاونٹننگ" ایک عام سی بات ہے جس کا جوابدہ کوئی نہیں۔

  • Strangely, institutional supply and demand are categories not included in the World Gold Council’s data[38]
  • monetary gold is exempt from trade statistics reporting.۔.۔.۔This does not take into account the gold lending market which the central banks and bullion banks go to great lengths to keep secret.[39]

اقتباس[ترمیم]

  • سونا امریکی اور عالمی معیشت کی صحت کا بیرومیٹر ہے۔جب سونے کی قیمت گرتی ہے تو یہ امریکی اور عالمی معیشت کے لیے بڑی اچھی خبر ہوتی ہے (کیونکہ ڈالر مضبوط ہو جاتا ہے) لیکن سونے کی قیمت کا بڑھنا ان کے لیے بُرا ہوتا ہے۔اور سونے کی قیمت کا بہت زیادہ بڑھ جانا تو اُن کے لیے بہت ہی خوفناک ہے۔ اور اسی وجہ سے وہ بار بار سونے کی قیمت گراتے ہیں۔

"Gold is a barometer of U.S.، and world, economic health. Down is good, up is bad. Way up is terrible. Thus the gold price is suppressed over and over again thanks to the elitist/establishment world."

  • عالمی مرکزی بینکاروں پر اعتبار جتنا کم ہوتا ہے، سونے کی قیمت اتنی زیادہ ہوتی ہے۔

the gold price is essentially the reciprocal of confidence in global central bankers.

  • (عالمی مرکزی بینکاروں پر) اعتبار بہت تیزی سے ختم ہو جائے گا۔۔۔اچانک مہنگائی کی لہر آئے گی۔۔۔ اس لیے سونے میں دلچسپی رکھنے والے لوگوں کو میرا مشورہ یہ ہے کہ سونا ابھی خرید لو کیونکہ ابھی تم خرید سکتے ہو۔ تم کس بات کا انتظار کر رہے ہو؟۔ سونے کے لیے جنگ ہو گی۔ جیمز جی ریکارڈز

“Confidence will be lost very quickly,” he said. And like a coiled spring, “You will have your inflation—all at once.”۔.۔.۔So my advice to people interested in gold is—get it now while you still can. What are you waiting for? James G. Rickards[40]

  • جب انگلینڈ سونا خریدتا ہے تو سونے کی قیمت بڑھتی ہے اور جب وہ بیچتا ہے تو سونے کی قیمت گرتی ہے۔

The UK is a net importer on a rising price and net exporters on declining price.۔.۔ Effectively, GFMS is hiding the most important part of global physical gold flows.[41]

  • 17 اکتوبر 2016 کو Deutsche بینک نے چاندی کی قیمت گرانے کے مقدمے سے بچنے کے لیے 3 کروڑ 80 لاکھ ڈالر دینے پر رضامندی ظاہر کری۔ 2 دسمبر کو اس بینک نے مزید 6 کروڑ ڈالر دینے پر آمادگی ظاہر کری ہے تاکہ سونے کی قیمت گرانے کے مقدمے سے بھی جان چھوٹے۔Barclays, Bank of Nova Scotia, HSBC اور Societe Generale کو بھی ایسے ہی مقدمات کا سامنا ہے۔[42]
    "یہ جاننا بہت ضروری ہے کہ اس کا بیشتر حصہ ایک عظیم فراڈ ہے۔ ایسا بہت ہی کم ہوتا ہے کہ حقیقی دھات کا تبادلہ ہو۔ اس کی بجائے کومکس کا ہر دوسرے مہینے (قیمتی دھاتوں کی) حوالگی (ڈیلیوری) دینے کا مرحلہ محض کاغذی رسیدوں کا تبادلہ ہوتا ہے۔ اور تبادلہ کرنے والے درحقیقت وہی بینک ہوتے ہیں، ایک مہینے نوا اسکوشیا بینک HSBC کو ڈیلیوری دیتا ہے تو دوسرے مہینے HSBC واپس نوا اسکوشیا کو ڈیلیوری دیتا ہے۔ یہ سالوں سے ہوتا آیا ہے اور آج بھی جاری ہے۔"

What you need to know is that most of this is just a massive scam. Rarely is any actual, physical metal exchanged. Instead, the bi-monthly Comex delivery process is primarily a shuffle of paper warehouse receipts and warrants. Additionally, the parties to these exchanges of paper are usuallly The Banks themselves, acting in one seemingly endless circle jerk where one month Scotia "delivers" to HSBC and, the next month, HSBC turns around and "delivers" metals back to Scotia. It's been this way for years and it continues to this day.[43]

  • "افواہیں بیچو۔ حقیقت خریدو۔" ‘sell the rumor, buy the fact’
  • "سونے کی حقیقتاً کوئی مارکیٹ نہیں ہے، یہ سب نورا کُشتی ہے کہ اصلی سونے اور کاغذی سونے کو اس طرح خریدو بیچو جیسے کہ یہ دونوں بالکل ایک ہی چیز ہیں۔ جبکہ ایسا نہیں ہے۔"
"there really is no true market for gold, just a rigged game consisting of physical gold and paper gold trading side by side as if they were one and the same. They’re not."[44]

آسان حساب[ترمیم]

  • 8 تولے برابر ہوتے ہیں 3 اونس کے۔
  • ایک تولہ برابر ہوتا ہے 11.6638 گرام کے۔
  • ایک اونس برابر ہوتا ہے 31.1034768 گرام کے۔
  • ایک میٹرک ٹن میں 1000 کلوگرام یا 32,150 ٹرائے اونس یا 85735 تولے سونا ہوتا ہے (تقریباً)۔
  • دس گرام سونے کی قیمت کو 7 سے ضرب دے کر 6 سے تقسیم کیا جائے تو فی تولہ قیمت حاصل ہو جاتی ہے (تقریباً)۔
  • تین تولے برابر ہوتے ہیں 35 گرام کے (تقریباً)۔

مزید دیکھیے[ترمیم]

بیرونی ربط[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. Continued Financial Market Deterioration Impacts Gold Eagle Sales In A Big Way
  2. International major gold market
  3. Governments holding paper gold
  4. ^ 4.0 4.1 A Shareholder, not a Gold Holder
  5. “Gold” is created out of thin air as paper obligations.
  6. Cash Versus Physical Settlement
  7. gold coverage
  8. Number Of Owners Per Ounce Of Registered Gold Goes Exponential
  9. Collateral Damage
  10. Sprott Money
  11. امریکی حکومت نے جے پی مورگن کے خلاف مقدمات واپس لے لیے۔
  12. The Two Sides of the Gold Market
  13. دنیا کی نو سب سے بڑی سونے کی ریفائنریاں
  14. hundred paper claims for every ounce of gold
  15. The Coming Clash Of Empires: Russia's Role As A Global Game-Changer
  16. [1]
  17. Koos Jansen
  18. Chinese Gold Market
  19. ^ 19.0 19.1 "indian gold market"۔ 
  20. China’s Gold Market Opens Up To Boost RMB Internationalization
  21. Smaulgld
  22. Notice of Launching Shanghai Gold Benchmark Price Trading
  23. The Death Of The Petrodollar, And What Comes After
  24. BullionStar Blogs Koos Jansen
  25. Comex Gold Open Interest
  26. Silver Bullion Market Has Key New Player – China Replaces JP Morgan
  27. India’s golden quest to tackle ‘black money’ and the lessons from a century ago
  28. Anuraag Sanghi (2008)۔ "جو بات وہ آپ کو کبھی نہیں بتائیں گے"۔ 
  29. Russia Gold Buying
  30. اسلامی گولڈ
  31. Hard Assets
  32. Gold Standard Approved for Islamic Finance, Opening New Market
  33. A Big Move Is Coming
  34. NEW UNCOVERED INFORMATION: Why Central Banks Were Forced To Rig The Gold Market
  35. Indian industry group to launch first physical gold exchange
  36. انگریزی وائیکیپیڈیا
  37. World Gold Council Continues To Hide Insatiable Chinese Gold Demand.
  38. How The West Has Been Selling Gold Into A Black Hole
  39. Bank of England Gold Vaults Bled 1500 Tonnes of Gold over 2013–2016
  40. "There Will Be A War On Gold"
  41. The Great Physical Gold Supply & Demand Illusion by Koos Jansen
  42. Deutsche Bank Pays $60 Million To Settle Gold-Manipulation Lawsuit
  43. march Comex Silver "Deliveries" - Craig Hemke
  44. A Tale of Two Gold Markets