کساد عظیم

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
ڈوروتھیا لینگ کی مشہور تصویر "مہاجر ماں" جو کیلیفورنیا کے مفلس کسانوں کی حالت کی عکاس ہے، تصویر کے وسط میں 32 سالہ فلورنس اونز تھامسن ہیں، جو سات بچوں کی ماں تھیں۔ مارچ 1936ء
1929 کے گریٹ ڈپریشن کے دوران وال اسٹریٹ پر نیو یارک اسٹاک ایکسچینج کے باہر لوگ جمع ہیں۔

کساد عظیم (انگریزی زبان: The Great Depression) دوسری جنگ عظیم سے قبل کی دہائی میں ایک عالمی اقتصادی بحران تھا۔ مختلف ممالک میں یہ مختلف ادوار میں رہا، لیکن بیشتر ممالک میں یہ بحران 1929ء سے لے کر 1930ء کی دہائی کے اواخر یا 1940ء کی دہائی کے اوائل تک رہا۔ یہ 20 ویں صدی کا سب سے بڑا، سب سے بڑے علاقے پر محیط اور سب سے گہرا بحران تھا اور آج 21 ویں صدی میں بھی عالمی معیشت کے زوال کے حوالے سے اس بحران کی مثال دی جاتی ہے ۔ بحران کا آغاز ریاستہائے متحدہ امریکا میں 29 اکتوبر 1929ء کو بازار حصص کے ٹوٹنے سے ہوا تھا (جسے سیاہ منگل کہا جاتا ہے)، لیکن انتہائی تیزی سے یہ بحران دنیا کے ہر ملک تک پھیل گیا۔

کساد عظیم نے دنیا کے تقریبا ہر ملک، غریب و امیر دونوں، پر تباہ کن اثرات مرتب کیے۔ ذاتی آمدنی، محصول کی آمدنی، نفع و قیمتوں میں کمی، اور بین الاقوامی تجارت نصف سے دو تہائی رہ گئی۔ امریکہ میں بے روزگاری کی شرح 25 فیصد ہوگئی اور چند ممالک میں تو یہ شرح 33 فیصد تک پہنچ گئی۔ دنیا بھر کے شہر بہت زیادہ متاثر ہوئے، خصوصاً وہ جو بھاری صنعت پر انحصار کرتے تھے۔ کئی ممالک میں تعمیرات کا کام تقریبا ختم ہو گیا۔ فصلوں کی قیمتیں تقریبا 60 فیصد تک گرنے کی وجہ سے کھیتی باڑی اور دیہی علاقے بھی متاثر ہوئے۔

اس بحران کے بعد 1930ء کی دہائی کے وسط سے صورتحال بہتر ہونا شروع ہوئی، لیکن کئی ممالک میں کساد عظیم کے اثرات نے دوسری جنگ عظیم کے آغاز تک معیشت کو جکڑے رکھا۔ چین پر کساد عظیم کا کوئی اثر نہیں ہوا۔

وجہ[ترمیم]

اس عظیم کساد بازاری کی اصل وجہ فیڈرل ریزرو تھا جیسا کہ اسکے گورنر نے اعتراف کیا I would like to say to Milton and Anna: Regarding the Great Depression. You're right, we did it. We're very sorry. But thanks to you, we won't do it again. [1] >

امریکی سونے کی مقدار[ترمیم]

سونا خوشحالی کی علامت ہے۔ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ گریٹ ڈپریشن کے دوران جب عوام بھوکوں مر رہے تھے، بینکاروں کے سونے میں کم و بیش مسلسل اضافہ ہوتا رہا۔ فروری 1934ء میں سونے کی سرکاری قیمت 20.67 سے لگ بھگ 70 فیصد بڑھا کر 35 ڈالر فی اونس کر دی گئی تھی۔

Historical US Gold Reserve
سال سونے کی مالیت,

دس لاکھ ڈالر میں[2] [3]

سونے کی سرکاری قیمت

ڈالر فی اونس

سونے کی مقدار

میٹرک ٹن میں

جنوری 1931 $4,356 20.67 6555
جنوری 1932 $4,129 20.67 6213
جنوری 1933 $4,265 20.67 6418
جنوری 1934 $4,033 20.67 6069
فروری 1934 $7,438 35 6610
جنوری 1935 $8,391 35 7457
جنوری 1936 $10,182 35 9049
جنوری 1937 $11,538 35 10254
جنوری 1938 $12,756 35 11336
جنوری 1939 $14,682 35 13048
جنوری 1940 $17,931 35 15935

ماہر معاشیات کی پیشنگوئی[ترمیم]

  • جان مینارڈ کینز جو اپنے وقت کا بہت بڑا ماہر معاشیات سمجھا جاتا تھا اور جس نے بریٹن اووڈز کے معاہدے میں مرکزی کردار ادا کیا تھا، نے 1927 میں پیشنگوئی کی تھی کہ اب اسٹاک مارکیٹ میں کوئی بڑا کریش نہیں ہو گا۔

"We will not have any more crashes in our time."[4]

  • ایک دوسرے ماہر معاشیات فریڈرک ہائیک کو اسٹاک مارکیٹ کریش سے صرف چند مہینے پہلے Kreditanstalt Bank میں نہایت اعلیٰ ملازمت کی پیشکش ہوئی مگر اس نے یہ کہہ کر ٹھکرا دی کہ میں آنے والے کریش میں ملوث نہیں ہونا چاہتا۔ بعد میں اسے نوبل انعام دیا گیا۔
I was one of the only ones to predict what was going to happen. In early 1929, when I made this forecast, I said that there would be no hope of a recovery in Europe until interest rates fell, and interest rates would not fall until the American boom collapses, which I said was likely to happen within the next few months.
What made me expect this, of course, is one of main theoretical beliefs that you cannot indefinitely maintain an inflationary boom. Such a boom creates all kinds of artificial jobs that might keep going for a fairly long time but sooner or later must collapse. Also, I was convinced that after 1927, when the Federal Reserve made an attempt to stave off a collapse by credit expansion, the boom had become a typically inflationary one.
Friedrich Hayek[5]

میک فیڈن کا تبصرہ[ترمیم]

کانگریس کے رکن میک فیڈن جو کرنسی کمیٹی کا چیئرمین بھی تھا، نے 1929 کے گریٹ ڈپریشن کے بارے میں کہا تھا کہ "یہ کریش ایک حادثہ نہیں تھا۔ یہ ایک سازش کا نتیجہ تھا۔ بین الاقوامی بینکار مایوسی کی ایک ایسی فضا پیدا کرنا چاہتے تھے جس کے نتیجے میں وہ ہمارے حکمران بن کر اُبھریں" [6] اسکے بعد بینک فار انٹرنیشنل سیٹلمنٹ کا قیام عمل میں آیا جو پس پردہ دنیا پر حکمرانی کرتا ہے۔


ہندوستان پر اثرات[ترمیم]

لارڈ ویلنگڈن جو گریٹ ڈپریشن کے زمانے میں ہندوستان کا وائسرائے تھا۔

جو سونا ہندوستان لندن بھیج رہا تھا وہ کرب و افلاس کا نتیجہ تھا۔لوگ زیور بیچ کر روٹی کپڑے خریدتے تھے اور ٹیکس ادا کرتے تھے۔

Much of the gold that India was exporting was “distress” gold, that is, gold which the people had sold to buy food and clothing and to pay Government dues.

یکم اکتوبر 1931 سے دسمبر 1932 تک 8 کروڑ پاونڈ کی مالیت کا سونا ہندوستان سے لندن بھیجا گیا۔

From October 1, 1931, to December 1932 gold exports amounted to Rs. 107.08 crores or £ 80.125 million.[7]

وائس رائے لارڈ ویلنگڈن نے خوشی کا اظہار کیا تھا کہ تاریخ میں پہلی دفعہ معاشی حالات کی وجہ سے ہندوستانی اپنا سونا اُگل رہے ہیں۔ ہم نے پچھلے دو تین مہینوں میں ڈھائی کروڑ پاونڈ کا سونا لندن بھیجا اور مجھے امید ہے کہ یہ سلسلہ جاری رہے گا۔

For the first time in history, owing to the economic situation, Indians are disgorging gold. We have sent to London in the past two or three months, 25,000,000 sterling and I hope that the process will continue.[8]

The Viceroy, Lord Willingdon remarked

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اپریل 1932 سے مارچ 1941 تک ہندوستان کی برطانوی حکومت نے 1337.5 ٹن سونا برطانیہ بھیجا جس کی اُس وقت مالیت 375 کروڑ روپے تھی۔ اُس وقت اس سونے کی اوسط قیمت 33 روپے فی تولہ سے بھی کم تھی۔ اس سونے سے بینک آف انگلینڈ کو سونے کا ذخیرہ بنانے میں بڑی مدد ملی۔[9] اگر آج کے سونے کے نرخ سے دیکھا جائے تو یہ 50 ارب ڈالر سے زیادہ مالیت کا سونا تھا۔

"However, the price of gold in India, on the basis of the exchange rate of the rupee around 1S.6d., was lower than the price prevailing abroad practically throughout; the disparity in prices made the export of the metal profitable, which phenomenon continued for almost a decade. Thus, in 1931-32, there were net exports of 7.7 million ounces, valued at Rs. 57.98 crores. In the following year, both the quantity and the price rose further, net exports totaling 8.4 million ounces, valued at Rs.65.52 crores. In the ten years ended March 1941, total net exports were of the order of 43 million ounces (1337.3 Tons) valued at about Rs. 375 crores, or an average price of Rs. 32-12-4 per tola."

مزید دیکھیئے[ترمیم]

حوالہ[ترمیم]

  1. Remarks by FED Governor Ben S. Bernanke
  2. Depression, gold standard
  3. FED St. Louis
  4. Quotes and Political "Spin" of a Different Era
  5. Wall Street Crash of 1929
  6. capitalist terrorism
  7. finance and commerce - Shodhganga
  8. [1]
  9. "pdf:ریزرو بینک آف انڈیا کی یاد داشت". rbidocs.rbi.org.in.