قحط

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
صومالیہ قحط کے دوران بچے خوراک کے منتظر ہیں۔

قحط غذائی قلت پر محیط ایسی صورت حال ہے، جس میں کسی بھی جاندار کو خوردنی اشیاء دستیاب نہ ہوں۔ یا خوردنی اشیاء کی شدید قلت پڑ جائے جو عموماً زمینی خرابی، خشک سالی اور وبائی امراض کی بدولت ہوسکتی ہے۔ ایسی صورت حال میں بڑے پیمانے پر اموات کا بھی خدشہ ہوتا ہے۔

ہندوستان[ترمیم]

ہندوستان کے لوگ غیر متوقع خشک سالی کے نتائج سے بخوبی واقف تھے اور اتنا اناج ذخیرہ کر کے رکھتے تھے کہ بارش نہ ہونے کے باوجود غذا کی کمی نہ ہو۔ مغلوں کے دور حکومت میں لگان (ٹیکس) 10 سے 15 فیصد ہوا کرتا تھا جسے ادا کرنے کے بعد بھی عوام کے پاس کافی غلہ بچ جاتا تھا۔ مگر 1765ء میں معاہدہ الٰہ باد طے پایا جس کے نتیجے میں شاہ عالم ثانی نے ٹیکس وصول کرنے کے اختیارات ایسٹ انڈیا کمپنی کو بخش دیے۔ راتوں رات ٹیکس بڑھ کر 50 فیصد ہو گیا۔ اس سے غربت میں شدید اضافہ ہوا اور آنے والے بُرے وقتوں کے لیے بچت کرنا انتہائی مشکل ہو گیا۔

Cornelius Wallard کے مطابق ہندوستان میں دو ہزار سالوں میں 17 دفعہ قحط پڑا تھا۔ مگر ایسٹ انڈیا کمپنی کے 120 سالہ دور میں 34 دفعہ قحط پڑا۔ مغلوں کے دور حکومت میں قحط کے زمانے میں لگان (ٹیکس) کم کر دیا جاتا تھا مگر ایسٹ انڈیا کمپنی نے قحط کے زمانے میں لگان بڑھا کر 60 فیصد کر دیا۔
1770-1771 ء کے قحط کے باوجود ایسٹ انڈیا کمپنی کو 1771ء میں 1768ء سے زیادہ منافع ہوا۔
وارن ہیسٹنگز ( Warren Hastings) کے مطابق بنگال کے قحط میں لگ بھگ ایک کروڑ افراد بھوک سے مر گئے جو کل آبادی کا ایک تہائی تھے۔ لوگ روٹی کی خاطر اپنے بچے بیچنے لگے تھے۔[1]

1876–1878ء کے جنوبی ہندوستان کے قحط زدگان۔ انگریز اس زمانے میں بھی ہندوستان سے غلہ ایکسپورٹ کرتے رہے۔ اس قحط میں لگ بھگ 70 لاکھ لوگ مر گئے۔
1876–1878ء کے قحط کے زمانے میں مدراس کے ساحل پر غلہ ایکسپورٹ کے لیے منتظر ہے۔ (February 1877)

1943ء کے بنگال کے قحط کے بارے میں ونسٹن چرچل نے کہا تھا "مجھے ہندوستانیوں سے نفرت ہے۔ یہ جنگلی لوگ ہیں اور ان کا مذہب بھی جنگلی ہے۔ قحط ان کی اپنی غلطی ہے کیونکہ وہ خرگوشوں کی طرح آبادی بڑھاتے ہیں"۔ 1945ء میں چرچل کو نوبل انعام برائے امن کے لیے نامزد کیا گیا مگر اسے یہ انعام نہ مل سکا۔ اس لیے 1953ء میں چرچل کو ادب کا نوبل انعام دیا گیا۔

Talking about the Bengal famine in 1943, Churchill said: “I hate Indians. They are a beastly people with a beastly religion. The famine was their own fault for breeding like rabbits.”[2]

چرچل نہ صرف سفید فاموں کی برتری (white supremacist) کا قائل تھا بلکہ وہ انڈیا کے لوگوں کو جانور سمجھتا تھا اور چرچل کی پالیسیوں کی وجہ سے 1940 کی دہائی میں انڈیا میں بڑا قحط رہا۔

Churchill viewed Indian people as animals, and that his policies regarding India led to mass starvation there in the early 1940s.[3]

جب برطانوی افسروں نے چرچل کی توجہ بنگال میں بڑے پیمانے پر ہونے والی اموات کی طرف دلائی تو چرچل کا جواب تھا کہ "پھر گاندھی ابھی تک کیوں نہیں مرا؟"

“And when conscience-stricken British officials wrote to the Prime Minister in London pointing out that his policies were causing needless loss of life all he could do was write peevishly in the margin of the report, ‘Why hasn’t Gandhi died yet?'"[4]
بنگال کے قحط[5]
1770ء
1783ء
1866ء
1873ء
1892ء
1897ء
1943ء

قحط بطور ہتھیار[ترمیم]

  • 1943-1944 ء کے بنگال کے قحط کی وجہ خراب فصل نہیں تھی۔[6] انگریز سارا غلہ دوسرے ممالک میں اپنی بر سر پیکار فوجوں کو بھیج رہے تھے جس کی وجہ سے غلے کی قلت ہو گئی تھی۔ انگریزوں کو یہ خطرہ بھی تھا کہ جاپانی برما کی طرف سے ہندوستان میں نہ داخل ہو جائیں اس لیے انہوں نے بنگال کا سارا اناج برآمد کر دیا کہ جاپانی فوج کو غلہ نہ مل سکے۔ اس قحط میں 30 لاکھ لوگ مر گئے۔
  • ٹائمز آف انڈیا اخبار نے 16 نومبر 1943ء کو لکھا:
'مشرقی بنگال میں ایک ہولناک مگر عام منظر یہ تھا کہ نصف صدی کی سب سے شاندار فصل کے درمیان پڑا ہوا گلا سڑا کوئی انسانی ڈھانچہ نظر آ جاتا تھا۔'[7]
the riches of the west were built on the graves of the East.[8]
  • لوگ ہمیشہ سے جانتے ہیں کہ غلہ کی قلت سے قحط آتا ہے۔ لیکن کاغذی کرنسی کے دور میں قحط کی ایک نئی قسم ایجاد ہوئی جب اناج کی افراط کے باوجود قحط آنے لگے۔ یہ دراصل قحط نہیں بلکہ غربت ہے۔
the issue and destruction of money by the money-lender is not a service, but a weapon which can be and has been used to perpetuate poverty amidst abundance,[9]

آئر لینڈ[ترمیم]

1845 میں آئرلینڈ میں شدید قحط آیا جس سے 1,029,000 لوگ مر گئے۔ تاریخ میں وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ آلو کی فصل ناکام ہونے کی وجہ سے یہ قحط آیا تھا جبکہ اسی سال آئرلینڈ سے اتنا غلہ ایکسپورٹ ہوا جو بھوک سے مرنے والوں کی چار سال تک غذائی ضرورت پوری کر سکتا تھا۔[10]

"آئر لینڈ کے قحط کے دوران بھی ماہرین معاشیات یہی بتاتے رہے کہ معاشی تھیوری کے تحت آئرلینڈ کا غلہ ایکسپورٹ کرنا ضروری ہے۔"نوم چومسکی[11]

قحط کی سیاست[ترمیم]

قحط کو ایک قدرتی آفت سمجھا جاتا ہے لیکن ہمیشہ ایسا نہیں ہوتا۔ 1980ء کے جنوبی سوڈان کے قحط سے بالکل واضح ہے کہ صادق ال مہدی کی جمہوری حکومت، حکومت کے حمایت یافتہ جنگجو گروہ، بین الاقوامی امدادی ادارے اور SPLM نے دنکالینڈ میں قحط پیدا کرنے میں بھرپور حصہ لیا۔[12]
امرتیا سن (Amartya Sen) کا یہ نظریہ بالکل غلط نکلا کہ غربت کی وجہ سے قحط آتا ہے۔ دنکالینڈ پر ثروت کی وجہ سے قحط آیا اور ان کی دولت چند دوسرے بااثر لوگوں کو منتقل ہو گئی۔ اس مثال سے انسانی ہمدردی کرنے والے بین الاقوامی اداروں کی ساکھ مشکوک ہو گئی ہے۔ [13]

یوکرین[ترمیم]

یوکرین سویت یونین کا سب سے زرخیز علاقہ تھا اور دولت اور ثروت میں روس کے بعد دوسرے نمبر پر تھا۔ لیکن 1928ء میں جب وہاں کے کسانوں نے اسٹالن کی پالیسیوں کی مخالفت کری تو اسٹالن نے 1932-1933 میں وہاں بدترین قحط پیدا کر دیا جسے Holodomor کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ اس قحط میں لگ بھگ 70 لاکھ لوگ مر گئے۔

Through the Ukranian famine and genocides similar to it (The Kazakstan Famine, The Muslim Deportations) Stalin assured that Russia would dominate the Soviet Union and would not be challenged by nationalism (Infoukes).[14]

اقتباس[ترمیم]

  • "یہ بالکل واضح تھا کہ (ہندوستان میں) قحط سے نمٹنے کے لیے جس رقم کی ضرورت تھی وہ 1878 ء سے 1880ء کی افغانستان سے جنگ پر خرچ ہو رہی تھی۔"[15]
  • "امریکی تاریخ دان میتھیو وائٹ نے 'دا گریٹ بُک آف ہاریبل تھنگز' کے نام سے ایک کتاب لکھی ہے جس میں انھوں نے تاریخ کی ایک سو بدترین سفاکیوں کا جائزہ پیش کیا ہے جن کے دوران سب سے زیادہ انسانی جانیں ضائع ہوئیں۔ اس کتاب میں تاریخ کی چوتھی بدترین سفاکی برطانوی دور میں ہندوستان میں آنے والے قحط ہیں جن میں وائٹ کے مطابق دو کروڑ 66 لاکھ ہندوستانیوں کی جانیں ضائع ہوئیں۔"[16] اس تعداد میں وائٹ نے دوسری جنگِ عظیم کے دوران بنگال میں آنے والے قحط کو شمار نہیں کیا جس میں 30 سے 50 لاکھ کے قریب لوگ مارے گئے تھے۔[7] اس کے برعکس چنگیز خان نے بغداد اور گردونواح میں 1206ء میں حملہ کیا اور 20 سالوں میں 4 کروڑ لوگ مارے گئے۔

مزید دیکھیے[ترمیم]

بیرونی ربط[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. The Corporation that Changed World
  2. 5 of the worst atrocities carried out by the British Empire
  3. Cambridge University Panel: Winston Churchill A “White Supremacist” Leading Empire “Worse Than The Nazis”
  4. Winston Churchill has as much blood on his hands as the worst genocidal dictators, claims Indian politician
  5. بنگال کا قحط: کس طرح برطانیہ نے منافع کی خاطر تاریخ کا سب سے بڑا قتل عام کیا
  6. Famine in India
  7. ^ ا ب بی بی سی اردو
  8. The Bengal Famine: How the British engineered the worst genocide in human history for profit
  9. Money Manipulation and Social Order by REV. DENIS FAHEY-1944[مردہ ربط]
  10. جنگوں، انقلابوں اور افراط کے باوجود غربت کے پیچھے چھپا "خفیہ ہاتھ"
  11. Keeping the Rabble in Line
  12. ‘politics of famine’
  13. قحط کے فوائد
  14. "Benefits for Russia". 19 دسمبر 2016 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 05 جنوری 2018. 
  15. Florence Nightingale on Health in India: Collected Works of Florence Nightingale
  16. The Great Big Book of Horrible Things