گلوکوز

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
D-Glucose
Alpha-D-glucopyranose-2D-skeletal.png
α-D-glucopyranose (chair form)
Alpha-D-Glucopyranose.svg
Haworth projection of α-D-glucopyranose
D-glucose-chain-2D-Fischer.png
Fischer projection of D-glucose
نام
Preferred IUPAC name
D-Glucose
Systematic IUPAC name
(2R,3S,4R,5R)-2,3,4,5,6-Pentahydroxyhexanal
دیگر نام
Blood sugar
Dextrose
Corn sugar
D-Glucose
Grape sugar
شناختساز
Abbreviations Glc
کاس عدد
پبکیم 5793
اینیکس عدد

200-075-1

KEGG C00031
MeSH Glucose
ChEBI 4167
ریٹکس عدد

LZ6600000

اسمائلس
Beilstein Reference 1281604
Gmelin Reference 83256
ChemSpider ID 5589
3DMet B01203
خـواص
Molecular formula C6H12O6
مولرکمیت 180.16 g mol-1
ظہور White powder
کثافت

1.54 g/cm3

نقطۂ_پگھلاؤ

146 °C, 419 K, 295 °F

حل پذیری

پانی میں

909 g/L (25 °C (77 °F))

−101.5×10−6 cm3/mol
دوقطبی اثر

8.6827

حر کیمیاء
تشکیل کی
معیاری سخانہ تبدیلی
ΔfHo298

−1271 kJ/mol[1]

معیاری مولر
اعتلاج
So298

209.2 J K−1 mol−1[2]

218.6 J K−1 mol−1[2]
خـطرات
NFPA 704
NFPA 704.svg
1
0
0
 
Except where noted otherwise, data is given for materials in their standard state (at 25 °C (77 °F), 100 kPa)
 YesY ویری فائی (کیا ہےYesY/N؟)
خانہ معلومات حوالہ جات

گلوکوز شوگر کی ایک قسم ہے جس کا کیمیائی فارمولا C6H12O6 ہوتا ہے۔ ساری شوگروں کی طرح گلوکوز بھی کاربوہائیڈریٹ کے خاندان سے تعلق رکھتا ہے۔ گلوکوز کو dextrose یا بلڈ شوگر بھی کہتے ہیں۔ یہ انگور چینی کے طور پر بھی جانا جاتا ہے۔ یہ ایک سادہ چینی (monosaccharide) ہے اور حیاتیات میں ایک نہایت اہم کاربوہائڈریٹ ہے کیونکہ خلیات اس سے توانائی حاصل کرتے ہیں۔ گلوکوز پودوں میں ضیائی تالیف کے نتیجے میں سورج کی توانائی جذب کر کے بنتا ہے اور مختلف جانداروں میں عمل اندرونی تنفس کے نتیجے میں ٹوٹ کر اپنی توانائی جاندار کو مہیا کرتا ہے۔
انسان اور جانوروں کے جسم میں ضرورت سے زیادہ گلوکوز کے مولیکیول باہم جُڑ کر glycogen کی شکل اختیار کر لیتے ہیں جو بلڈ شوگر بڑھائے بغیر جسم میں ذخیرہ کیا جا سکتا ہے۔ یہاں گلوکوز ایک مونومر ہے جبکہ اس سے بنا گلائیکوجن ایک پولی مر ہے۔ اس کے بر عکس پودے اپنا زائد گلوکوز اسٹارچ (نشاستے) کی شکل میں ذخیرہ کرتے ہیں جو گلائیکوجن کی طرح گلوکوز کا ایک دوسرا پولی مر ہوتا ہے۔ جب غذا کی قلت ہوتی ہے تو جانور اپنے گلائیکوجن سے اور پودے اپنے نشاستے سے دوبارہ گلوکوز حاصل کر کے زندہ رہتے ہیں۔
گلوکوز کا ہی ایک تیسرا پولی مر بھی ہوتا ہے جسے سیلولوز (Cellulose) کہتے ہیں۔ اس سے پودوں کے خلیات کی سب سے بیرونی دیوار (cell wall) بنی ہوتی ہے۔ جانوروں کے خلیات میں ایسی کوئی دیوار نہیں ہوتی۔ بدقسمتی سے انسان سیلولوز کو ہضم کر کے توانائی حاصل نہیں کر سکتا مگر گائے بکری اور دیگر چرنے والے جانوروں کے معدے میں خاص طرح کے جراثیم (Trichonympha) موجود ہوتے ہیں جو سیلولوز کو گلوکوز میں تبدیل کر دیتے ہیں جو ان جانوروں کی غذا بن جاتا ہے۔ دیمک کی آنتوں میں بھی ایسے ہی جراثیم موجود ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دیمک لکڑی کھا سکتی ہے کیونکہ لکڑی کا لگ بھگ نصف حصہ سیلولوز پر مشتمل ہوتا ہے۔

گلوکوز کا پولیمر آئیسومر مولیکیولی جوڑ[3]
نشاستہ (اسٹارچ) الفا گلوکوز ایک گلوکوز کا پہلا کاربن دوسرے گلوکوز کے چوتھے کاربن سے جُڑتا ہے۔
گلائیکوجن الفا گلوکوز ایک گلوکوز کا پہلا کاربن دوسرے گلوکوز کے چھٹے کاربن سے جُڑتا ہے۔
سیلولوز بی ٹا گلوکوز ایک گلوکوز کا پہلا کاربن دوسرے گلوکوز کے چوتھے کاربن سے جُڑتا ہے۔

مزید دیکھیے[ترمیم]


نگار خانہ[ترمیم]

الفا ڈی گلوکوز اور بی ٹا ڈی گلوکوز۔ یہاں کاربن کے ایٹموں کو کالے اور آکسیجن کے ایٹموں کو لال رنگ سے ظاہر کیا گیا ہے۔ سفید رنگ سے ہائیڈروجن کے ایٹم دکھائے گئے ہیں۔ ہر حلقے یا کڑی میں پانچ ایٹم کاربن کے ہیں جبکہ چھٹا ایٹم آکسیجن کا ہے۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. V. V. Ponomarev؛ L. B. Migarskaya (1960)، "Heats of combustion of some amino-acids"، Russ. J. Phys. Chem. (Engl. Transl.) 34: 1182–83 
  2. ^ ا ب Juliana Boerio-Goates (1991)، "Heat-capacity measurements and thermodynamic functions of crystalline α-D-glucose at temperatures from 10K to 340K"، J. Chem. Thermodynam. 23 (5): 403–09، doi:10.1016/S0021-9614(05)80128-4 
  3. Starch, Glycogen and Cellulose