انسولین کی اقسام

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

انسولین (Insulin) ایک ہارمون ہے جو انسانی جسم میں لبلبے سے خارج ہو کر خون میں شامل ہو جاتا ہے۔ یہ انسانی جسم میں خون میں گلوکوز کی مقدار کو کنٹرول میں رکھتا ہے۔ گلوکوز شوگر کی ایک قسم ہے۔ اس لیے انسولین کی کمی سے جو بیماری ہوتی ہے اُسے عام طور پر شوگر کی بیماری (یعنی ذیا بطیس ) کہتے ہے۔ اس بیماری میں مریض کے خون میں گلوکوز (شوگر) کی مقدار بڑھ جاتی ہے جو آہستہ آہستہ جسم کے کئی اعضاء کو ناقابل تلافی نقصان پہنچاتی ہے۔

بوتل میں انسولین ۔

تیاری[ترمیم]

انسانی جسم میں انسولین کا مولیکیول پیپٹائیڈ کی ایک ہی لمبی زنجیر کی شکل میں بنایا جاتا ہے جس میں 110 امینو ایسڈ ہوتے ہیں۔ کافی کاٹ چھانٹ کے بعد یہ پیپٹائیڈ کی دو زنجیروں پر مشتمل رہ جاتا ہے جس کی پہلی زنجیر (chain A) میں 21 اور دوسری زنجیر (chain B) میں 30 امینو ایسڈ رہ جاتے ہیں۔ یہ دونوں زنجیریں دو مقامات پر ایک دوسرے سے سلفر برج کے ذریعے جڑی ہوتی ہیں۔ ایک تیسرا سلفر برج chain A کے دو نقاط کو جوڑتا ہے۔

انسولین کی تیاری کی ایک سادہ تصویر۔ لمبے پیپٹائیڈ میں سے جب ہرے رنگ کا ٹکڑا کاٹ کر نکال دیا جاتا ہے تو انسولین کی دو زنجیریں بچتی ہیں جن میں تین سلفر برج موجود ہوتے ہیں۔

بازار میں دستیاب انسولین ایک ایسے جراثیم (Escherichia coli) کی مدد سے تیار کی جاتی ہے جو انسانوں میں کوئی بیماری نہیں پھیلاتا۔ انسولین کا فارمولا C257H383N65O77S6 ہوتا ہے اور اس کا مولیکیولی وزن 5808 ہوتا ہے۔ ہر 100 یونٹ انسولین میں 15 مائیکروگرام زنک (جست) بھی موجود ہوتا ہے۔

تاریخ[ترمیم]

انسان پر پہلی دفعہ انسولین 1922 میں کینیڈا میں استعمال ہوئی۔[1]
ای کولائی (E. Coli) جراثیم میں انسان کے جینز (genes) داخل کر کے پہلی دفعہ انسانی انسولین 1978 میں بنائی گئی جسے genetically engineered انسولین کہتے ہیں۔ اس سے پہلے سور سے انسولین حاصل کی جاتی تھی کیونکہ سور کی انسولین انسان کی انسولین سے قریب ترین مشابہت رکھتی ہے۔ سور کی انسولین انسان کی انسولین سے صرف ایک امینو ایسڈ کا فرق رکھتی ہے جبکہ گائے کی انسولین تین امینو ایسڈ کا اختلاف رکھتی ہے۔[2]

انسولین کی اقسام[ترمیم]

انسولین کا ایک مولیکیول۔ ایسے دو یا 6 مولیکیول باہم جڑ سکتے ہیں۔

عام طور پر انسولین کی چار اقسام زیادہ استعمال ہوتی ہیں۔ بیشتر مریض روزانہ دو قسم کی انسولین استعمال کرتے ہیں۔

  • جلد اثر (Rapid-acting)۔ یہ بڑی جلدی خون میں پہنچ کر شوگر کم کرنا شروع کر دیتی ہے۔ یہ کھانا کھانے سے 15 منٹ پہلے لگا لی جاتی ہے۔[3] کھانا کھانے سے جب شوگر بڑھتی ہے تو یہ اسے کنٹرول کر لیتی ہے۔ 30 منٹ سے 3 گھنٹوں تک اس کا بڑا اثر رہتا ہے مگر پھر کم ہونے لگتا ہے اورلگ بھگ 5 گھنٹوں کے بعد اس کا اثر ختم ہو جاتا ہے۔ چونکہ یہ 24 گھنٹوں تک شوگر کنٹرول نہیں کر سکتی اس لیے اسے کسی ایسی دوسری انسولین کے ساتھ استعمال کیا جاتا ہے جس کا اثر بہت دیر تک قائم رہے۔ اگر انسولین لگا کر کھانا نہ کھایا جائے تو خون میں شوگر بہت کم ہو جانے کی وجہ سے مریض بے ہوش ہو سکتا ہے۔
  • کم مدتی (Short-acting)- اسے ریگولر یا صرف R بھی کہتے ہیں۔ اسے کھانا کھانے سے آدھا یا ایک گھنٹہ پہلے لگا لینا چاہیے۔ اس انسولین کا اثر 30 منٹ سے ایک گھنٹے میں شروع ہوتا ہے اور 2 سے 5 گھنٹوں تک نمایاں رہتا ہے۔ اس کے بعد اثر کم ہونے لگتا ہے اور لگ بھگ 8 گھنٹے بعد بالکل ختم ہو جاتا ہے۔ اسے بھی کسی ایسی دوسری انسولین کے ساتھ استعمال کیا جاتا ہے جس کا اثر بہت دیر تک قائم رہے۔
  • درمیانی مدتی (Intermediate-acting)۔ اسے NPH یا صرف N بھی کہتے ہیں۔ یہ شوگر کو فوراً کم نہیں کر سکتی مگر اس کا اثر دیر تک قائم رہتا ہے۔ اس کا اثر شروع ہوتے ہوتے دیڑھ سے چار گھنٹے لگتے ہیں، 4 سے 12 گھنٹوں تک بہت اچھا اثر رہتا ہے اور پھر کم ہوتے ہوتے 24 گھنٹوں میں ختم ہو جاتا ہے۔ عام طور پر یہ انسولین ہر 12 گھنٹوں کے بعد لگائی جاتی ہے۔
  • زیادہ مدتی (Long-acting)۔ مثلاً Lantus۔ یہ بھی شوگر کو فوراً کم نہیں کر سکتی مگر دیرپا اثر رکھتی ہے۔ اس کا اثر لگ بھگ ایک گھنٹے میں شروع ہوتا ہے، آہستہ آہستہ بڑھتا ہے اور کئی گھنٹوں تک برقرار رہتا ہے اور پھر24 گھنٹوں میں ختم ہو جاتا ہے۔ یہ دن میں ایک یا دو بار لگائی جاتی ہے۔[4]

انسولین اگر منہ سے کھا لی جائے تو آنتوں میں مکمل ہضم ہو جاتی ہے اور اثر کھو بیٹھتی ہے۔
2006 میں دواساز کمپنی Pfizer نے ایسی انسولین مارکیٹ میں پیش کی جسے انہیلر کی مدد سے سونگھا جا سکتا تھا۔ مہنگی ہونے کی وجہ سے فروخت اتنی کم ہوئی کہ ایک سال میں ہی دواساز کمپنی نے اسے بنانا بند کر دیا۔
انسولین اپنی مونومر (monomer) حالت میں اثر رکھتی ہے۔ لیکن انسانی جسم اسے hexamer (6 مولیکیول کا پیکیج) بنا کر ذخیرہ کرتا ہے کیونکہ اس شکل میں انسولین زیادہ پائیدار (مگر غیر موثر) ہوتی ہے۔ ایسی غیر قدرتی انسولین جس میں معمولی ردوبدل کیا جا چکا ہو ہیکزامر نہیں بناتیں۔ ایسی انسولین بڑی جلدی اثر کرتی ہیں مثلاً ایکٹ ریپیڈ۔
شوگر کے مریضوں میں ہر کھانے کے بعد خون میں شوگر تیزی سے بڑھتی ہے اور اسے روکنے کے لیے تیزی سے اثر کرنے والی انسولین کی ضرورت ہوتی ہے۔ عام طور پر پورے دن میں لگنے والی انسولین کی لگ بھگ آدھی مقدار تیزی سے اثر کرنے والی انسولین کی ہوتی ہے جو دو یا تین کھانوں میں تقسیم ہو جاتی ہے اور باقی آدھی مقدار زیادہ مدتی انسولین کی ہوتی ہے جو دو حصوں میں 12 گھنٹوں کے وقفے سے لگائی جاتی ہے۔ مریض کے مرض کی شدت، کام کاج اور ورزش کے معمول اورکھانا کھانے کے معمول کے مطابق معالج اس میں ترمیم کرتے ہیں۔
بازار میں دستیاب بیشتر انسولین کو ایک ہی سرنج میں ملا کر استعمال کیا جا سکتا ہے مگر glargine انسولین (Lantus) کو دوسری انسولین سے نہیں ملایا جا سکتا کیونکہ اس کی پی ایچ 4 (تیزابی) ہوتی ہے۔ ۔[5] اس کے برعکس ریگولر انسولین (R) کی پی ایچ 7.0 سے 7.8 تک ہوتی ہے۔

ڈوز[ترمیم]

زیادہ تر مریضوں کو 0.7 سے ایک یونٹ فی کلوگرام فی دن انسولین کی ضرورت ہوتی ہے۔ یعنی اگر کسی مریض کا وزن 70 کلوگرام ہے تو اسے دن بھر میں کل ملا کر 50 سے 70 یونٹ انسولین کی ضرورت ہوتی ہے۔ لیکن جب انسولین پہلی دفعہ استعمال کی جاتی ہے تو عام طور پر آدھی مقدار سے شروع کرتے ہیں اور خون میں شوگر چیک کر کے آہستہ آہستہ مقدار بڑھاتے ہیں یہاں تک کہ درست ڈوز پتہ چل جاَئے۔
کچھ مریضوں میں انسولین کے خلاف مزاحمت پیدا ہو جاتی ہے۔ ایسے مریضوں کو انسولین کی کافی زیادہ مقدار لگانے سے ان کی شوگر نارمل رہتی ہے۔

باہمی تعامل[ترمیم]

1990 کے بعد مارکیٹ میں شوگر کم کرنے کی کچھ نئی گولیاں دستیاب ہوئی ہیں جیسے rosiglitazone، Lobeglitazone اور pioglitazone جو انسولین کی حساسیت بڑھاتی ہیں۔ لیکن ان گولیوں کے استعمال سے ہارٹ فیل ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ اور اگر ان گولیوں کو استعمال کرتے ہوئے انسولین بھی لگائی جائے تو خطرہ اور بھی بڑھ جاتا ہے۔
انسولین شوگر کی دوسری گولیوں کے ساتھ استعمال کی جا سکتی ہے جیسے انسولین اور metformin کا ایک ساتھ استعمال کرنا عام بات ہے۔ انسولین کے استعمال سے کچھ مریضوں کا وزن بڑھ جاتا ہے۔ سمجھا جاتا ہے کہ انسولین اور میٹفورمن کا ایک ساتھ استعمال مریض کا وزن بڑھنے نہیں دیتا۔

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]