ریڈ کراس

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

بRed Cross

ایک فلاحی ادارہ جس کی شاخیں دنیا کے ہر ملک میں ہیں۔ یہ ادارہ سب سے پہلے سوئٹزر لینڈ میں قائم ہوا ۔ اس کا مقصد جنگ میں زخمی ہونے والے سپاہوں کی دیکھ بھال اور جنگی قیدیوں کی امداد اور خبر گیری کرنا تھا۔ بعد میں اس کے مقاصد کو وسعت دے دی گئی اور زمانہ امن میں بھی اسے عوام کی خدمت کاذریعہ بنا دیا گیا ۔چنانچہ اب یہ ادارہ ہنگامی حوادث سے متاثر ہونے والوں کی بھی امداد کرتا ہے۔ 1940ء میں بین الاقوامی ریڈ کراس سوسائٹی نے بچوں کے تحفظ اور امداد کی غرض سے ایک الگ شعبہ قائم کردیا ۔ ریڈکراس اس سوسائٹی کے قیام و تنظیم کی ضرورت کا احساس عام کرنے کا سہرا سوئٹزلینڈ کے ایک شہری ڈوننٹ کے سر ہے۔ اس نے ایک کتابچے میں جنگ کی تباہ کاریوں کا ذکرکرتے ہوئے ان سپاہیوں کی حالت زار خاص طور پر بیان کی تھی جو جنگ میں زخمی ہوئے تھے لیکن طبی امداد سے محرومی کے باعث سسک سسک کر مر گئے ۔ ڈوننٹ نے دنیا بھر کے ملکوں سے اپیل کی کہ وہ جنگ میں زخمی ہونے والوں کی خبر گیری اور علاج معالجے کا کوئی موثر انتظام کریں ۔ 63 اقوام نے متعلقہ مسائل پر غور و خوص کے لیے ایک کانفرنس میں شریک ہونا منظور کر لیا۔

کانفرنس میں طے ہوا کہ جنگ میں مجروح ہونے والوں اوردوسرے مصیبت زدوں کی امداد کے لیے جو لوگ کام کریں ان کی حفاظت کی جائے گی اور انہیں اپنے فرائض کے انجام دہی میں ہر ممکن سہولتیں فراہم کی جائیں گی۔ یہ کارکن ایک ایسا علامتی نشان استعمال کریں جس سے کسی کارکن کے وطن کی تخصیص کا پہلو نہ نکلتا ہو۔ چوں کہ ریڈ کراس سوسائٹی کی ابتدا سوئٹزر لینڈ سے ہوئی اس لیے اس کے جھنڈے کا رنگ بدل کر سوسائٹی نے اسے اپنا نشان بنا لیا۔ سوئٹزرلینڈ کے جھنڈے میں سرخ زمین پر سفید صلیب ہے۔ ریڈ کراس کا علامتی نشان سفید زمین پر سرخ صلیب ہے۔ اس مناسبت سے اسے صلیب احمر یا ریڈ کراس کہا جانے لگا۔ جینوا کنونشن کے اصولوں اور مقاصد پر 1904 میں نظر ثانی کی گئی۔ اور 1906ء سے ان پر عمل درامد شروع ہوا۔ انگلستان میں ریڈ کراس سوسائٹی 1870ء میں قائم ہوئی ۔ برصغیر میں اس کی داغ بیل پہلی جنگ عظیم کے دوران پڑی ۔ 1920ء میں ایک خاص قانون کے تحت ہندوستانی ریڈکراس سوسائٹی وجود میں آئی۔ قیام پاکستان کے بعد یہ ادارہ بھی تقسیم ہوگیا۔ بعض اسلامی ممالک میں اس ادارے کو ہلال احمر یعنی سرخ ہلال کہتے ہیں۔پاکستان اور مسلم ممالک میں اس کے جھنڈے پر صلیب کے بجائے ہلال یعنی چاند بنا ہوتا ہے۔صلیب عیسائیت کا مذہبی نشان ہے اس لیے اسے ہلال سے تبدیل کیا گیا۔ 6 مارچ 1974ء کو پاکستان میں بھی اس ادارے کا نام بدل کر ہلال احمر رکھ دیا گیا۔ ریڈ کراس کا صدر دفتر جینوا میں ہے۔