تبادلۂ خیال:بین الاقوامی انجمن صلیب احمر و ہلال احمر

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

Untitled[ترمیم]

کیا اس کا عنوان "صلیب احمر" کیا جا سکتا ہے کیونکہ اردو میں یہی معروف ہے۔ جس طرح ریڈ کریسنٹ کو ہلال احمر کہا جاتا ہے۔ رائے درکار ہے فہد احمد 09:11, 4 ستمبر 2009 (UTC)

ریڈ کراس کو صلیب احمر کرنا ترجمہ سازی نہیں ہو گی بشرطیکہ آپ کوئی ایسی مثال پیش کر دیں جہاں اس کا نام صلیب احمر کے طور پر استعمال کیا گی اہو۔ ورنہ ریڈ کراس محض ایک اصطلاح نہیں بلکہ ایک ادارہ ہے۔ اس ادارے کی مرضی کے بغیر اس کے نام کا کسی بھی زبان میں اس ادارے کی مرضی کے بغیر ترجمہ نہیں کیا جا سکتا۔ حیدر 09:29, 4 ستمبر 2009 (UTC)
Symbol support vote.svg تائید سمرقندی صاحب، میرا مؤقف اٹل ہے۔ خالص عربی و فارسی ذرائع قابل قبول نہیں۔ لہذا اصولی طور پر آپ کا اوپر دیا ہوا حوالہ میں قطعی طور پر مسترد کرتا ہوں۔ لیکن کئی اردو ذرائع پر، بشمول اس اور اس ویب سائیٹ کے، صلیب احمر کی اصطلاح کے خالص اردو میں مستعمل ہونے کے ثبوت دیکھنے کے بعد میں ریڈ کراس کی جگہ صلیب احمر کے استعمال کی حمایت کرتا ہوں۔ حیدر 09:47, 4 ستمبر 2009 (UTC)
  • ابھی آپ ناتجربہ کار ہیں ، آپ کے کہنے سے عربی اور فارسی لغات غیرمستند نہیں ہوجائیں گی ؛ بہرحال میں اب کسی بحث میں نہیں الجھنا چاہتا۔ --سمرقندی 09:53, 4 ستمبر 2009 (UTC)

عربی اور فارسی کی لغات اردو کی لغات نہیں ہیں۔ یہ بات سمجھنے کیلیے غالبا تجربہ کی نہیں عقل کی ضرورت ہوتی ہے۔ حیدر 10:20, 4 ستمبر 2009 (UTC)

  • مانا کہ میں کم عقل ہوں، مگر آپ بھی تو بلوغت کا کچھ ثبوت دیجیے پیارے! آپ کے ملک کی حکومتی سرپرستی میں روئے خط لغت ہر لفظ کے اگے قوسین میں اس کا ماخذ عربی عربی عربی درج کرتے نہیں تھکتی اور آپ یہاں ہم جیسے بیکار لوگوں سے بحث میں الجھے ہیں۔ ارے بھائی صاحب جاکر ان کو تو بتایئے یہ بات ، جو ہم کم عقلوں کو بتا رہے ہیں آپ۔ --سمرقندی 10:26, 4 ستمبر 2009 (UTC)

ہم نے تو شروع سے ہی ریڈکراس سنا ہے اور زیادہ تر تحریروں اور مضامین میں اس کو ریڈ کراس ہی لکھا جاتا ہے۔ اس کا ترجمہ میں نے کسی بھی تحریر یا مضمون میں نہیں دیکھا۔ اب جب یہ اردو زبان میں اتنا مستعمل رہا ہے کہ اسی زبان کا حصہ معلوم ہوتا ہے پھر ترجمہ کرنے کی کیا ضرورت۔ Wahab 10:13, 4 ستمبر 2009 (UTC)

حیرت نگاہِ شوق کی پسپائیوں پے ہے
جلوہ بذاتِ خود ہی تماشائیوں میں ہے

--سمرقندی 10:17, 4 ستمبر 2009 (UTC)

پھول کی پتی سے کٹ سکتا ہے ہیرے کا جگر
مرد ناداں پہ کلام نرم و نازک بے اثر

حیدر 10:22, 4 ستمبر 2009 (UTC)

  • بہت عمدہ شعر ہے حیدر بھائی ؛ مگر کیا کریں کہ یہ جگہ بیت بازی کی نہیں۔ --سمرقندی 10:28, 4 ستمبر 2009 (UTC)
بس یہی بات آپ کو یاد کرانا مقصود تھا۔ شکر ہے میر مقصد پورا ہوا۔ لیکن وہ کہتے ہیں نا کہ ہر بات کی تہہ میں ایک بات ہوتی ہے (اور بعض اوقات) وہی ساری بات ہوتی ہے۔ حیدر 10:32, 4 ستمبر 2009 (UTC)

جس کو تم لوگ پوجتے ہو![ترمیم]

کچھ تو انصاف کرو پیارو! ارے کچھ تو خوف کرو خدا کا یارو! یا اس کا جس کو تم لوگ پوجتے ہو! اس ویکیپیڈیا پر جو ناانصافی اور ظلم روا رکھا جا رہا ہے اس کو دیکھ تو فیض صاحب سے معذرت کے ساتھ دل سے یہی کرب ناک صدا نکلتی ہے کہ؛

خاک میں مل جائیں گے تب انصاف کرو گے
منصف ہو تو اب حشر اٹھا کیوں نہیں دیتے

اول تو یہ کہ red cross کی اپنی website پر عربی میں صلیب الاحمر ملنے کے بعد کسی منہ ماری سے پہلے شرم آنی چاہیۓ لیکن یہاں تو سونے پر سہاگہ کی مانند نا صرف منہ ماری کی جارہی ہے بلکہ اس پر مستزاد یہ کہ جو روابط حیدر صاحب نے پیش کیئے ہیں اردو کے ان کی کوئی مستند حیثیت نہیں ہے۔ اب تو میں سوال پوچھ سکتا ہوں کہ کیوں صاحب ایسی لغت الاردو کا کیا حوالہ آپ دیتے ہیں جس میں الفاظ کو ہر کوئی داخل کرسکتا ہے؟ ہم سے یہ پوچھنے سے قبل جاکر ان website پر تو پوچھیئے کہ تم نے صلیب احمر لکھنے سے قبل کسی مستند لغت میں اس کو دیکھا ؟ اور اس سے بڑھ کر سوال یہ کہ کیا تم نے اس ترجمے کی اجازت red cross والوں سے لی تھی ؟ اللہ بھلا کرے محبوب بھائی کا کہ ایک نسبتاً مستند لغت کا حوالہ دے دیا اور معاملہ انجام کو پہنچایا۔ --سمرقندی 00:57, 5 ستمبر 2009 (UTC)

  • یا اللہ خیر، یہ اتنے چھوٹے سے معاملے پر بھی اتنے طویل مباحث۔ لگتا ہے اب سائنسی مضامین کے بعد یہ جھگڑا دیگر مضامین کو بھی اپنی لپیٹ میں لے گا۔ بہرحال صلیب احمر اردو میں مستعمل ہے، ایک ربط تو اوپر محبوب صاحب فراہم کر چکے ہیں دوسرا اوکسفرڈ کی انگریزی اردو لغت (مرتبہ: شان الحق حقی) کے صفحہ نمبر 1398 پر اس کا یہ مطلب درج ہے:
Red Cross: صلیب احمر، ایک بین الاقوامی تنظیم (ابتداءً طبی) جو جنگ یا قدرتی آفات کے شکار لوگوں کی امداد کرتی ہے

میرے خیال میں یہ انتہائی مستند حوالہ بنتا ہے۔ ریڈ کراس کیونکہ ایک عالمی ادارہ ہے اس لیے اس نے دنیا بھر میں مقامی زبانوں میں اپنا نام تبدیل کیا ہے، ان کی عربی ویب سائٹ ملاحظہ کیجیے، وہاں انہوں نے خود اس کا نام تبدیل کر کے صلیب الاحمر کیا ہے۔ تاہم یہ مسلم ملکوں میں زیادہ تر ہلال احمر (Red Crescent) کے نام سے کام کرتی ہے۔ ترجمہ کرنے کی بہت زیادہ ضرورت تو نہیں ہے لیکن جب ہلال احمر اس حد تک مستعمل ہے تو ہمیں صلیب احمر ہی کہنا چاہیے کیونکہ یہ دراصل ایک ہی ادارے کے دو حصے ہیں۔ فہد احمد 03:45, 7 ستمبر 2009 (UTC)