گلاس اسٹیگل ایکٹ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

گلاس اسٹیگل ایکٹ (Glass-Steagall Act) ایک قانون کا نام تھا جو 27 فروری 1932ء کو متحدہ امریکہ کی کانگریس نے منظور کیا تھا۔ 1933ء میں اسے مزید وسعت دے کر the Banking Act of 1933 کا حصہ بنا دیا گیا۔
بنیادی طور پر یہ قانون انویسٹمنٹ بینکنگ کو کمرشیئل بینکنگ سے جدا کرتا تھا یعنی کھاتے داروں کی جمع شدہ رقم سے بینکوں کو پُرخطر سٹہ کھیلنے سے روکتا تھا۔
1999ء میں Gramm–Leach–Bliley Act بنا کر Glass Steagall Act کے بیشتر حصے کو ختم کر دیا گیا۔

کچھ ماہرین معاشیات کا کہنا ہے کہ اگر یہ قانون منسوخ نہ کیا جاتا تو 2008ء کے معاشی بحران سے بچا جا سکتا تھا۔

اقتباس[ترمیم]

  • "اس مسئلہ کو گلاس اسٹیگل کے قانون سے حل کیا گیا تھا جس نے بینکنگ سسٹم کو لگ بھگ 70 سالوں تک مستحکم بنیادوں پر استوار رکھا تھا۔ جب کلنٹن انتظامیہ نے کانگریس سے مل کر اسے منسوخ کر دیا تو ووٹروں کو بینکوں کی خاطر قربان کر دیا گیا"

This problem was addressed by Glass-Steagall and functioned very well, keeping the banking system essentially sound for almost seventy years, until it was repealed under the Clinton Administration in conjunction with a Congress all too willing to sacrifice the interests of their voters to Big Money.[1]

  • "گلاس اسٹیگل کا قانون ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لئے بنایا گیا تھا کیونکہ کساد عظیم کے دوران لگ بھگ 5000 بینک ڈوب چکے تھے۔"

It was enacted as an emergency response to the failure of nearly 5,000 banks during the Great Depression.[2]

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. Only Ten Years After The Last Financial Crisis the Banks Are At It Again
  2. The New York Times