سونے کی قیمت

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

ڈوئیچے بینک کے ایک حالیہ جائیزے کے مطابق سونے کی قیمت کچھ اس طرح ہونی چاہیے۔

سونے کی مناسب قیمت کتنی ہونی چاہیے؟
(on 10 October 2014)[1]
USD/oz
PPI کے لحاظ سے 725
مشعر صارفی قیمت کے لحاظ سے 770
فی کس آمدنی کے لحاظ سے 800
S&P500 کے لحاظ سے 900
تانبے کی قیمت کے لحاظ سے 1050
خام تیل کی قیمت کے لحاظ سے 1400

پاکستان میں سونے کی قیمت[ترمیم]

22 قیراط سونے کی فی تولہ قیمت پاکستانی روپے میں 30 جون کو مندرجہ ذیل تھی۔ ایک تولہ 11.66 گرام کے برابر ہوتا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پچھلے ساٹھ سالوں میں سونے کی قیمت 600 گنا بڑھ چکی ہے۔ دوسرے الفاظ میں کاغذی کرنسی کی قدر 600 گنا گر چکی ہے۔

سونے کی اینٹیں
دنیا کی سب سے بڑی سونے کی اینٹ جسکا وزن 250 کلو گرام ہے۔
سن فی تولہ قیمت روپے میں
1952 87
1953 91
1954 97
1955 103
1956 107
1957 111
1958 114
1959 133
1960 131
1961 135
1962 135
1963 124
1964 132
1965 123
1966 134
1967 138
1968 138
1969 176
1970 154
1971 177
1972 246
1973 432
1974 592
1975 714
1976 535
سن فی تولہ قیمت روپے میں
1977 597
1978 714
1979 1230
1980 2250
1981 1920
1982 1636
1983 2244
1984 2156
1985 2123
1986 2478
1987 3300
1988 3478
1989 3275
1990 3380
1991 3705
1992 3345
1993 4172
1994 4700
1995 4722
1996 5220
1997 5096
1998 5507
1999 5100
2000 5648
2001 6366

حوالہ The Taxman 2001-02 by Mr.Azher Chaudhary

لندن فکس[ترمیم]

انگلستان میں سونے کی سالانہ قیمتوں کا اوسط درج ذیل ہے۔ ایک اونس 31.1 گرام کے برابر ہوتا ہے۔

سن سونے کی قیمت ڈالر فی اونس
1995 384
1996 388
1997 331
1998 294
1999 279
2000 279
2001 271
2002 310
2003 363
2004 410
2005 445
2006 604
2007 695
2008 872
2009 972
2010 1225
18 نومبر 2011 تک 1560

سونے کی سب سے زیادہ قیمت پانچ اور چھ ستمبر 2011 کو رہی جب لندن میں سونے کا بھاو 1895 ڈالر فی اونس پر بند ہوا۔ چھ ستمبر 2011 کو کچھ دیر کے لیے سونے کی فیوچر قیمت 1923.70 ڈالر فی اونس تک جا پہنچی تھی۔[1]

اگر ڈالر فی اونس کی قیمت سے دیکھا جائے تو 18 نومبر 2011 تک پچھلے 6 ماہ میں سونے کی قیمت میں %15.35، پچھلے ایک سال میں سونے کی قیمت میں %27.51 اور پچھلے پانچ سال میں سونے کی قیمت میں % 177.58 اضافہ ہوا۔ یہ شرح قومی بچت اور مختلف بینکوں کی شرح سود سے کہیں زیادہ ہے۔

[2] [3]

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالے[ترمیم]

بیرونی ربط[ترمیم]