بریٹن وڈز کا معاہدہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

بریٹن وڈز کا معاہدہ جولائی، 1944ء میں بریٹن ووڈز، نیو ہیمپشائر، امریکہ میں کچھ ممالک کے درمیان ہونے والا ایسا معاہدہ ہے جس کا مقصد دنیا کو ایک نیا مالیاتی اور زری نظام دینا اور جنگ زدہ ممالک کی تعمیر و ترقی تھا۔ اسی معاہدہ کے تحت عالمی بنک اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کا قیام عمل میں آیا۔


جب کوئی ایک ملک کسی دوسرے ملک کی کاغذی کرنسی پر کنٹرول حاصل کر لیتا ہےتو وہ بڑے پوشیدہ طریقے سے اُس دوسرے ملک کی معیشت، صنعت، تجارت اور دولت پرحاوی ہو جاتا ہے۔بریٹن اوڈز سسٹم بنانے کا اصل مقصد بھی اسی طرح سے دنیا بھر پر امریکی بینکاروں کی حکمرانی قائم کرنا تھا۔ جس سال بریٹن ووڈز کا معاہدہ طے پایا اسی سال نوبل انعام یافتہ مصنف Friedrich Hayek نے اپنی کتاب "غلام مملیکت کا رستہ" (The Road to Serfdom) میں لکھا "سارے لوگوں پر جو حاکمیت معاشی کنٹرول عطا کرتا ہے اس کی سب سے بہترین مثال فورین ایکسچینج کے شعبہ میں واضح ہے۔ جب (مارکیٹ کی بجائے) ریاست فورین ایکسچینج کنٹرول کرنا شروع کرتی ہے تو شروع میں تو کسی کی ذاتی زندگی پر کوئی اثر پڑتا محسوس نہیں ہوتا اور زیادہ تر لوگ اسے بالکل نظر انداز کر دیتے ہیں۔ لیکن بہت سے یورپی ممالک کے تجربات کے بعد دانشوروں نے اس طرز عمل کو مکمل عالمی حاکمیت (Totalitarianism) کی جانب فیصلہ کن پیشرفت قرار دیا ہے۔یہ درحقیقت سارے لوگوں کو ریاست کی مطلق العنانی کے حوالے کر دینا ہے۔ یہ فرار ہونے کے سارے راستے بند کر دیتا ہے، نہ صرف امیروں کے بلکہ ہر کسی کے۔[1]"

بریٹن ووڈز کا ماونٹ واشنگٹن ہوٹل جہاں 1944ء میں بریٹن ووڈز کا عالمی معاہدہ طے ہوا۔
سن 1900ء سے امریکی سونے کے ذخائر اور سونے کی قیمت۔ 1950ء سے امریکی سونے کے ذخائر میں تیزی سے کمی آنے لگی اور 1970ء تک امریکہ اپنا 60 فیصد سونا کھو چکا تھا۔ اپنا سونا بچانے کے لئے اس نے بریٹن ووڈ کا معاہدہ توڑ دیا جس کی وجہ سے سونے کی قیمت بڑھنی شروع ہو گئی۔ 1976ء میں آئی ایم ایف نے 777 ٹن سونا بیچا جس سے قیمت تھوڑی سی کم ہوئی۔[2] 1999ء - 2000ء میں آئی ایم ایف نے اسی مقصد سے مزید 435 ٹن سونا بیچا۔ [3]

دوسری جنگ عظیم تک دنیا بھر کے عوام میں کاغذی کرنسی کا رواج مستحکم ہو چکا تھا لیکن مشکل یہ تھی کہ مرکزی بینک آپس میں کس طرح لین دین (بزنس) کریں۔ کوئی بھی مرکزی بینک کسی دوسرے مرکزی بینک کی چھاپی ہوئی کاغذی کرنسی قبول کرنے کو تیار نہیں تھا اور سونے کا مطالبہ کرتا تھا۔ اس مشکل کو حل کرنے کے لئے دوسری جنگ عظیم کے دوران جولائی 1944ء میں بریٹن ووڈز، نیو ہیمپشائر، امریکہ کے مقام پر ایک کانفرنس منعقد کی گئی۔ اس کانفرنس کے نتیجے میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (المعروف آئی-ایم-ایف) اور ورلڈ بینک وجود میں آئے۔ اس کانفرنس میں 44 اتحادی ممالک کے 730 مندوبین نے شرکت کی تھی جس میں روس بھی شامل تھا مگر جاپان شامل نہیں تھا۔ اسکے ایک سال بعد ہیروشیما پر ایٹم بم گرایا گیا۔
اس کانفرنس کے انعقاد کے وقت دنیا بھر کے مرکزی بینکوں کے پاس موجود کل سونے کا %75 حصہ امریکہ کے پاس تھا۔

اس کانفرنس کے دوران ہندوستان کے مندوب نے سوال پوچھا کہ gold convertible exchange سے کیا مراد لی جائے گی۔ اسکا گول مول جواب دیا گیا کہ امریکی ڈالر سے جتنا چاہیں سونا خریدا جا سکتا ہے اس لئے اس ایکسچینج سے ڈالر ہی مراد لیا جائے۔[4]

اس معاہدے کے مطابق 35 امریکی ڈالر ایک اونس سونے کے برابر طے پائے تھے اور امریکہ 35 ڈالر کے عوض اتنا سونا دینےکا پابند تھا۔ دنیا کی دیگر کرنسیوں کی قیمت امریکی ڈالر کے حساب سے طے ہوتی تھی۔ اس معاہدے میں بڑی چالاکی سے سونے چاندی کی بجائے ڈالر کو کرنسی کا معیار مقرر کیا گیا یعنی سونے کی بجائے معیار سونا کی آڑ میں "معیار ڈالر" لایا گیا۔ اس کانفرنس کے معاہدے کا مسودہ انگریز ماہر معاشیات جان مینارڈ کینز نے بنایا تھا جو بینک آف انگلینڈ کا ڈائریکٹر تھا۔ وہ چاہتا تھا کہ ایک ہی عالمی کرنسی (بینکور) ہو جو نہ سونے سے منسلک ہو نہ سیاسی دباو کے تحت آئے مگر وہ مندوبین کو اس پر قائل نہ کر سکا۔ صاف ظاہر ہوتا ہے کہ کینیز اپنے آقا ؤں کے لئے کام کر رہا تھا۔ دو سال بعد اس کا انتقال ہو گیا۔[5]
خود کینیز کے مطابق بریٹن وڈز کا یہ معاہدہ گولڈ اسٹینڈرڈ کا عین اُلٹ تھا۔ فرانسیسی مصنف Jacques Rueff کے مطابق یہ گولڈ ایکسچینج اسٹینڈرڈ "مغربی ممالک کا مالیاتی گناہ" تھا۔ اُس نے دس سال پہلے یہ پیشنگوئی کر دی تھی کہ یہ سسٹم چل نہیں سکتاَ۔[6]

اس معاہدے کے بعد دوسرے ممالک اپنی کرنسی کو امریکی ڈالر سے ایک مقررہ نسبت پر رکھنے پر مجبور ہو گئے چاہے اس کے لئے انہیں ڈالر خریدنے پڑیں یا بیچنے۔ اس اسکیم کی خاص بات یہ تھی کہ اب دنیا بھر میں کاغذی ڈالر زیر گردش آنے والا تھا۔[7][8] اس معاہدے سے امریکی بینکاروں کی پانچوں انگلیاں گھی میں اور سر کڑھائی میں آ گیا۔ اس معاہدے کے ذریعے دنیا بھر کے ممالک نے نادانستہ طور پر اپنی اپنی کرنسی کےکنٹرول سے رضا کارانہ دستبرداری منظور کر لی تھی۔ پہلے جو کچھ فوجی طاقت سے چھینا جاتا تھا اب وہ سب کچھ شرح تبادلہ کا کھیل بن گیا کیونکہ سونے کی رکاوٹ درمیان سے ہٹ چکی تھی۔
"یہ بڑی حیرت کی بات ہے کہ اس وقت کسی نے نہیں دیکھا کہ ورلڈ بینک کی آڑ میں (سارے ملکوں کی) حاکمیت منتقل ہو رہی ہے۔"
It is perhaps strange that almost no one at the time saw the transfer of power that was concealed under the grand term “World Bank”[9]
اس معاہدے نے غلامی کی ایک نئی قسم کی بنیاد رکھی جو پہلے ہارڈ کرنسی کے دور میں ممکن نہ تھی۔ اس نئی قسم کی غلامی میں انسان غلام نہیں ہوتے بلکہ ان کی کرنسی غلام ہوتی ہے۔ اور جب کرنسی غلام ہوتی ہے تو معیشت غلام ہوتی ہے۔
"(کاغذی) دولت غلامی کی ایک نئی قسم ہے جوپہلے والی غلامی سے یوں مختلف ہے کہ یہ غیر ذاتیاتی ہے۔ اس نئی قسم میں آقا اور غلام کبھی آمنے سامنے نہیں آتے۔"
money is a new form of slavery, and distinguishable from the old simply by the fact that it is impersonal – that there is no human relation between master and slave. Leo Tolstoy [10]
آسٹریلیا کے وزیر محنت Eddie Ward نےبریٹن اووڈز کی سازش کے بارے میں جو کچھ کہا تھا وہ سب کچھ آنے والے سالوں میں بالکل سچ ثابت ہوا۔
"مجھے یقین ہے کہ پرائیوٹ عالمی بینکار بریٹن اووڈز معاہدے کے ذریعے پوری دنیا پر اپنی ایسی مکمل اور خوفناک ڈکٹیٹر شپ قائم کرنا چاہتے ہیں جس کا ہٹلر نے کبھی خواب بھی نہ دیکھا ہو گا۔ یہ وحشیانہ طریقے سےچھوٹے ممالک کو غلام بنا دے گی اور ہر حکومت ان بینکاروں کی دلال بن جائے گی۔ عالمی مالیاتی اداروں کا گٹھ جوڑ بے روزگاری، غلامی، غربت، ذلت اور مالیاتی تباہی میں اضافہ کرے گا۔ اس لیئے ہم آزادی پسند آسٹریلویوں کو اس منصوبے کو نا منظور کر دینا چاہیئے۔"


I am convinced that the Bretton Woods Agreement will enthrone a world dictatorship of private finance more complete and terrible than any Hitlerite dream. It … quite blatantly sets up controls which will reduce the smaller nations to vassal states and make every government the mouthpiece and tool of International Finance …. World collaboration of private financial institutions can only mean more unemployment, slavery, misery, degradation and financial destruction. Therefore, as freedom loving Australians, we should reject this infamous proposal. [9]

اس معاہدے کے بعد اب چونکہ نوآبادیاتی نظام کی ضرورت باقی نہیں رہی تھی اس لیے دنیا کی ساری کالونیوں کو آزاد کر دیا گیا اورمزاحمتی لیڈروں کو اقتدار سونپ دیا گیا۔ برصغیر کی آزادی گاندھی کا کارنامہ نہیں تھی بلکہ بریٹن ووڈز معاہدے کا خاموش نتیجہ تھی۔

اس معاہدے کی کامیابی کا میڈیا میں بڑے زور و شور سے چرچا کیا گیالیکن تصویر کا صحیح رُخ آج تک چھپایا جاتا ہے۔ اور جس بات کا چرچا نہیں کیا گیا وہ یہ تھی کہ 35 ڈالر میں ایک اونس سونا خریدنے کا حق عوام کو نہیں دیا گیا تھا بلکہ یہ حق امریکہ کی طرف سے صرف اور صرف دوسرے ممالک کے سینٹرل بینکوں کو دیا گیا تھا۔ گویا عوام کے لئے صرف کاغذی کرنسی اور امیروں کے لئے سونے کی کرنسی طے پائی۔ اُس وقت امریکی عوام کو سونا رکھنے کی اجازت نہیں تھی۔ چین میں بھی 1950ء سے 2003 ء تک عوام پر خام سونا رکھنے کی پابندی تھی۔ [11] ہندوستان کی برطانوی حکومت اور آزادی کے بعد مورار جی دیسائی نے ہندوستان میں سونے کی درآمد کو روکے رکھا۔ اور اسی وجہ سے بریٹن اوڈز کا معاہدہ لگ بھگ دو دہائیوں تک چل سکا۔

1971ء میں ویتنام کی جنگ کی وجہ سے امریکی معیشت سخت دباو کا شکار تھی اور افراط زر تیزی سے بڑھ رہا تھا۔ اپریل 1971 میں جرمنی نے امریکی دباؤ میں آ کر پانچ ارب ڈالر خریدے تا کہ امریکی ڈالر کو سہارا مل سکے۔ مئی 1971 میں جرمنی نے بریٹن ووڈ معاہدے سے ناطہ توڑ لیا کیونکہ وہ گرتے ہوے امریکی ڈالر کی وجہ سے اپنےجرمن مارک کی قیمت مزید نہیں گرانا چاہتا تھا۔ اسکے صرف تین مہینوں بعد جرمنی کی معیشت میں بہتری آ گئی اور ڈالر کے مقابلے میں مارک کی قیمت %7.5 بڑھ گئی۔ امریکی ڈالر کی گرتی ہوئی قیمت دیکھتے ہوئے دوسرے ممالک نے امریکہ سے سونے کا مطالبہ شروع کر دیا۔ سویزر لینڈ نے جولائی 1971 میں پانچ کروڑ ڈالر کا 44 ٹن سونا امریکہ سے وصول کیا۔ امریکہ نے سفارتی دباو ڈال کر دوسرے ممالک کو سونا طلب کرنے سے روکنا چاہا مگر Jacques Rueff کے مشورے پر فرانس نے جارحانہ انداز اپناتے ہوئے 19.1 کروڑ ڈالر امریکہ سے 170ٹن سونے میں تبدیل کروائے۔ اس طرح امریکہ اور فرانس کے تعلقات خراب ہو گئے جو آج تک بہتر نہ ہو سکے۔ 12 اگست 1971 کو برطانیہ نے بھی 75 کروڑ ڈالر کے سونے کا مطالبہ کر دیا۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اسوقت امریکہ اپنے پاس موجود سونے سے تین گنا زیادہ ڈالر چھاپ چکا تھا۔ حقیقی اعداد و شمار اس سے بھی زیادہ رہے ہوں گے۔[5]
1971ء تک امریکہ کے پاس موجود سونے کی مالیت صرف 15 ارب ڈالر تھی جبکہ دوسرے ممالک کے پاس 50 ارب امریکی ڈالر کے ذخائر جمع ہو چکے تھے۔ [12] اگر سارے قرضے شامل کر کے حساب لگایا جائے تو اس وقت امریکہ ہر ایک ڈالر کے سونے کے عوض 44 ڈالر کا مقروض ہو چکا تھا[13]۔
15 اگست 1971 کو امریکہ اپنے بریٹن ووڈز کے وعدے سے یک طرفہ مکر گیا جسے نکسن دھچکا کہتے ہیں۔ امریکی صدر نکسن نے اعلان کیا کہ اب امریکہ ڈالر کے بدلے سونا نہیں دے گا۔ [14] اس وقت تک امریکہ کاغذی ڈالر چھاپ چھاپ کر اس کے بدلے عربوں سے اتنا تیل خرید چکا تھا کہ عرب اگر ڈالر کے بدلے سونے کا مطالبہ کر دیتے تو امریکہ اپنا پورا سونا دے کر بھی یہ قرض نہ چکا سکتا تھا۔ 1971 کے اس امریکی اعلان سے عربوں کے اربوں ڈالر کاغذی ردّی میں تبدیل ہو گئے۔ قانون قدرت یہ ہے کہ ایک کا نقصان کسی دوسرے کا فائدہ ہوتا ہے۔ دنیا بھر میں ہونے والے اس نقصان کا سارہ فائدہ امریکہ کو ہوا۔
بریٹن ووڈز کے معاہدے کے خاتمے کا اعلان کرتے ہوئے امریکی صدر نکسن نے اگرچہ اپنی تقریر میں کہا تھا کہ یہ ایک عارضی اقدام ہے اور یہ کہ آپکے ڈالروں کی قوت خرید کل بھی اُتنی ہی ہو گی جتنی آج ہے لیکن وقت نے ثابت کر دیا کہ یہ صرف ایک اور سفید جھوٹ تھا۔[15] [16] ڈالر سے سونے کا تعلق ٹوٹنے کے بعد 1972ء میں جب ایران اور سعودی عرب نے اپنے ڈالروں سے امریکی کمپنیاں خریدنے کا ارادہ ظاہر کیا تو امریکی حکام نے دھمکی دی متنبہ کیا کہ امریکہ اسے اقدام جنگ سمجھے گا۔ [17] حالانکہ پہلی جنگ عظیم کے بعد خود امریکہ نے بڑے پیمانے پر جرمن کمپنیاں خریدی تھیں۔

بریٹن ووڈز کا معاہدہ ٹوٹنے کے بعد ہر ملک کو اپنی مرضی کے مطابق کاغذی کرنسی چھاپنے کا اختیار مل گیا۔ اس طرح 1971ء کے بعد ہارڈ کرنسی یا زر کثیف کا دور ختم ہو گیا اور زر فرمان (Fiat currency) نے مستقل جگہ بنا لی۔ لیکن ان 27 سالوں میں امریکہ کا کاغذی ڈالر بین الاقوامی کرنسی بن چکا تھا۔ امریکی بینکار 1944ء میں بریٹن ووڈز کے معاہدے میں جو کچھ حاصل نہیں کر سکے تھے وہ اب بڑی حد تک انہیں حاصل ہو گیا۔ سوئزر لینڈ وہ آخری ملک تھا جس نے سنہ 2000ء میں اپنی کاغذی کرنسی کا سونے سے ناطہ توڑا۔
جب تک کرنسی کا سونے سے تعلق برقرار تھا اس وقت تک حکومتی قرضوں (ٹریژری بونڈز) پر سٹے بازی (speculation) بالکل نہیں ہوا کرتی تھی۔ کرنسی کا سونے سے تعلق ٹوٹنے کے بعد بونڈز میں سٹے بازی بے انتہا بڑھ گئی جس کا خمیازہ محنت کشوں کو برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔[18] ڈیری ویٹو مارکیٹ بونڈز پر سٹے بازی کی بنیادپر قائم ہے۔

بریٹن ووڈز پر مزید دیکھیے:

حوالے[ترمیم]

مزید دیکھیئے[ترمیم]