ایکواڈور

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش


República del Ecuador
Ikwatur Mamallakta
جمہوریہ ایکواڈور
ایکواڈور کا پرچم ایکواڈور کا قومی نشان
پرچم قومی نشان
شعار: Dios, patria y libertad
(خدا، وطن اور آزادی)
ترانہ: Salve, Oh Patria
ایکواڈور کا محل وقوع
دارالحکومت کیٹو
عظیم ترین شہر گوایاکل
دفتری زبان(یں) ہسپانوی
نظامِ حکومت
صدر
جمہوریہ (صدارتی نظام)
رافیل کوریا
آزادی
- ہسپانیہ سے
کولمبیا سے
ہسپانیہ سے
24 مئی 1822ء
13 مئی 1830ء
رقبہ
 - کل
 
 - پانی (%)
 
283561  مربع کلومیٹر (73)
109484 مربع میل
8.8
آبادی
 - تخمینہ:2007ء
 - کثافتِ آبادی
 
13,341,000 (69)
53 فی مربع کلومیٹر(151)
137 فی مربع میل
خام ملکی پیداوار
     (م۔ق۔خ۔)

 - مجموعی
 - فی کس
تخمینہ: 2007ء

98.28 ارب بین الاقوامی ڈالر (63 واں)
7100 بین الاقوامی ڈالر (91 واں)
انسانی ترقیاتی اشاریہ
   (تخمینہ: 2007ء)
0.772
(89) – متوسط
سکہ رائج الوقت امریکی ڈالر (USD)
منطقۂ وقت
 - عمومی
۔ موسمِ گرما (د۔ب۔و)

(یو۔ٹی۔سی۔ 2)
مستعمل (یو۔ٹی۔سی۔ 3)
ملکی اسمِ ساحہ
    (انٹرنیٹ)
.ec
رمزِ بعید تکلم
  (کالنگ کوڈ)
+593

ایکواڈور (انگریزی، ہسپانوی :Ecuador ) باضابطہ نام جمہوریہ ایکوڈور براعظم جنوبی امریکہ کا ایک جمہوری ملک ہے جسکے شمال میں کولمبیا، مشرق اور جنوب میں پیرو اور مغرب میں پیسیفک اوشن واقع ہے۔ اسکے علاوہ سمندر میں واقع جزائر گالاپاگوز کے جزائر بھی ملک کا حصہ ہیں، جو مغرب میں ساحل سے 965 کلومیٹر دور سمندر میں واقع ہیں۔ ملک کا کل رقبہ 256,370 مربع کلومیٹر اور آبادی 13,810,000 ہے، اور وفاقی دارالحکومت کیٹو ہے۔


تاریخ[ترمیم]

ابتدائی تاریخ[ترمیم]

ایکواڈور میں انسانی تہذیب کے آثار 3500 قبل مسیح سے ملتے ہیں، جہاں سے کئی تہذیبوں جن میں والدیویا تہذیب اور مچالیلہ تہذیب ساحلی علاقوں اور کوئیٹس (موجودہ دارالحکومت کیٹو کے قریبی علاقہ) اور کناری موجودہ کوئنکا کی تہذیبوں نے جنم لیا۔ ہر تہذیب نے اپنی الگ پہچان، فن تعمیر، برتن سازی اور مذہبی اقتدار بنائیں۔ کئی سالوں کی مزاہمت کے بعد کناری اور دیگر قبائل ہار گۓ اور مذاہمتی لڑاکوں کو قتل کر کے ندی میں پھینک دیا گیا جیسا کہ یاہوارکوکا کی لڑائی (battle of Yahuarcocha) یا خونی جھیل (Blood Lake) میں بتایا جاتا ہے اور جس کے نتیجہ میں ایکواڈور انکان سلطنت (Incan empire) کا حصہ بنا۔


بطور ہسپانوی کالونی[ترمیم]

1531ء میں ہسپانوی فاتحین نے فرانسسکو پزارو کے قیادت میں اندرونی خلفشار کا شکار انکا سلطنت کو فتح کیا


جغرافیعہ[ترمیم]

تفصیلی مضمون ایکواڈور کا جغرافیعہ

ایکواڈور کو جغرافیائی اعتبار سے تین حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔

  • لا کوستہ ملک کے مغرب میں پیسیفک کے ساحل کے ساتھ ساتھ قدرے نچلے علاقہ کو کہتے ہیں۔
  • لا سیعیرا ملک کے درمیان سے گزرتی پہاڑی پٹی کو کہتے ہیں جو شمال سے جنوب تک پہھلی ہے جن میں بڑا پہاڑی سلسلہ آندیس پہاڑی سلسلہ ہے۔
  • ایل اوریعنتے ایمازون کے بارشی جنگلات پر مشتمل علاقہ ہے جو ملک کے مشرق میں واقع ہے اور ملک کے نصف سے زیادہ علاقہ بناتا ہے، جبکہ اس علاقہ میں ملک کی صرف پانچ فیصد آبادی رہتی ہے۔

انکے علاوہ ملک کا ایک اور حصہ زمینی علاقہ سے لگ بھگ ایک ہزار کلومیٹر دور پیسیفک اوشن میں واقع ہے جسکو جزائر گالاپاگوز کے جزائر کہتے ہیں۔


جنگلی حیات[ترمیم]

جزائر گالاپاگوز کچھوہ

ایکواڈور کا شمار دنیا کے ایسے سترہ ممالک میں ہوتا ہے جہاں جنگلی حیات کی بہتات ہے۔ ایکواڈور میں پرندوں کی سولہ سو انواع پائی جاتی ہیں جو دنیا کی پرندوں کی کل انواع کا پندرہ فیصد ہیں۔ اسے علاوہ پودوں کی اقسام میں پچیس ہزار انواع پائی جاتی ہیں۔ رینگنے والے جانوروں کی 106 انواع، جل تھیلیوں کی 138 انواع اور تتلیوں کی 6000 انواع انکے علاوہ ہیں۔ جزائر گالاپاگوز جزائر جنگلی حیات کی رہائش کے لیے مشہور ہیں جہاں مشہور ماہر حیاتیات چارلس ڈارون نے جنگلی حیات پر تحقیق کی اور مشہور نظریہ ارتقا پیش کیا۔


بشری شماریات[ترمیم]

ایکواڈور میں مختلف نسلوں کے لوگ بستے ہیں جن میں سے سب سے بڑا گروہ میستیزوس ہے جو ہسپانوی کالونی سازوں اور مقامی انڈین قبائل کے باہمی ملاپ سے بنا ہے، اور یہ گروہ ایکواڈور کی کل آبادی کا 62 فیصد بناتا ہے۔ امریکی انڈین موجودہ آبادی کا 25 فیصد ہیں۔ انکے علاوہ یورپ کے دوسرے علاقوں سے جانے والے مہاجر بھی رہتے ہیں جو کل آبادی کا لگ بھگ 10 فیصد ہیں۔

تارکین وطن[ترمیم]

ایکواڈور کی تارکین وطن آبادی کا بڑا حصہ ہسپانیہ، برطانیہ، اٹلی، ریاست ہاۓ متحدہ امریکہ، کینیڈا، چلی، وینزویلا، میکسیکو اور جاپان میں رہتا ہے۔ اندازہ کے مطابق 1999ء کے اقتصادی بحران کے دوران لگ بھگ سات لاکھ ایکواڈوریائی باشندہ ہجرت کرنے پر مجبور ہوۓ۔ تارکین وطن ایکواڈوریایئوں کی تعداد کا تخمینہ پچیس لاکھ ہے۔

تعلیم[ترمیم]

سرکاری اداروں میں تعلیم مفت ہے اور 5 سال سے 14 سال تک کی عمر میں سکول جانا ضروری ہے۔ تاہم سکولوں کی تعداد ضرورت سے کہیں کم ہے اور جماعتوں میں طلبہ کی تعداد بہت زیادہ رہتی ہے۔ جسکی وجہ سے کئی لوگ پیسے ادا کر کے مہنگے نجی اداروں میں اپنے بچوں کو تعلیم دلوانا پسند کرتے ہیں۔ وزارت تعلیم کے اعدادوشمار میں 76 فیصد بچے ابتدائی تعلیم کے 6 سال مکمل کر پاتے ہیں، اور دیہاتی علاقوں سے صرف 10 فیصد بچے ہائی سکول تک پہنچ پاتے ہیں۔

اعلی تعلیم کے لیے ایکواڈور میں کل 61 جامعات یا یونیورسٹیاں ہیں، جن میں سے زیادہ تر گریجویٹ ڈگری تک تعلیم دیتی ہیں۔

اہم شہر[ترمیم]

2001ء کی مردم شماری کے مطابق 11 بڑے آباد ترین شہر درج ذیل ہیں۔


مذہب[ترمیم]

قریبا 69 فیصد ایکواڈوریائی کیتھولک عیسائی ہیں۔ دیہی علاقوں میں قدیم مذہبی عقائد اور عیسائیت کا مغلوبہ ہے۔ مسلمان آبادی انتہائی کم ہے، جو شاید سینکڑوں میں ہو۔ یہودی مذہب ماننے والوں کی تعداد ہزاروں میں سمجھی جاتی ہے جو جرمنی یا اٹلی سے ہجرت کر کے ایکوڈور میں آباد ہوے ہیں۔

تہذیب و تمدن[ترمیم]

یورپی مہاجرین کی آبادکاری اور مقامی لوگوں سے ان کے میل ملاپ نے مذہب کے ساتھ تہذیب و تمدن پر بھی گہرے اثرات مرتب کیے ہیں، اور تہذیب یورپی اور قدیم مقامی انڈین تہذیب کا آمیزہ ہے جس میں افریقہ سے لاۓ گۓ غلاموں کی وجہ سے افریقی اثرات بھی پاۓ جاتے ہیں۔ لیکن دیہی علاقوں میں خاص کر ایمازون کے جنگلات میں آباد بستیاں اب بھی اپنے قدیم ریڈ انڈین طرز زندگی اور تہذیب پر عمل پیرا ہیں۔

لباس میں پانامہ طرز کی مشہور ٹوپی ایکواڈور سے ہی نکلی ہے جسے وہاں سومبریرو دے پاحا توکئیلہ یا جیپیجاپا کہتے ہیں، اور ایکواڈور میں صوبہ مانابی میں بنائی جاتی ہیں۔

اہم شخصیات[ترمیم]

مشہور شخصیات میں مصور تابارا، گویاسامین، کنگمین، رینڈون، آراوز، کونستانتے، ویٹیری، مولیناری، مالدونادو، گوٹیریز، اندارا کرو، ویلاسز، ایگاس، ویلافوعرتے اور فائینی ہیں۔ شاعروں میں جوز جواکوئن دے اولمیدو ای ماروری اور دانشوروں میں بینجامین اوریٹیا اور ٹینس کھلاڑی پانکو سیگورا شامل ہیں۔

فہرست متعلقہ مضامین ایکواڈور[ترمیم]