پیرو

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
  
پیرو
پیرو
پرچم
پیرو
نشان

PER orthographic.svg
 

شعار
(ہسپانوی میں: Firme y feliz por la unión ویکی ڈیٹا پر (P1451) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
ترانہ:
زمین و آبادی
متناسقات 9°24′S 76°00′W / 9.4°S 76°W / -9.4; -76  ویکی ڈیٹا پر (P625) کی خاصیت میں تبدیلی کریں[1]
رقبہ 1285216 مربع کلومیٹر  ویکی ڈیٹا پر (P2046) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
دارالحکومت لیما  ویکی ڈیٹا پر (P36) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
سرکاری زبان ہسپانوی،  آئیمارا زبان،  کیچوائی زبانیں  ویکی ڈیٹا پر (P37) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
آبادی 29381884 (2017)[2]  ویکی ڈیٹا پر (P1082) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
حکمران
طرز حکمرانی جمہوریہ  ویکی ڈیٹا پر (P122) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مقننہ جمہوریہ پیرو کی کانگریس  ویکی ڈیٹا پر (P194) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
قیام اور اقتدار
تاریخ
یوم تاسیس 28 جولا‎ئی 1821  ویکی ڈیٹا پر (P571) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عمر کی حدبندیاں
شادی کی کم از کم عمر 18 سال  ویکی ڈیٹا پر (P3000) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شرح بے روزگاری 4 فیصد (2014)[3]  ویکی ڈیٹا پر (P1198) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
دیگر اعداد و شمار
ہنگامی فون
نمبر
منطقۂ وقت متناسق عالمی وقت−05:00  ویکی ڈیٹا پر (P421) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
ٹریفک سمت دائیں[4]  ویکی ڈیٹا پر (P1622) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
ڈومین نیم pe.  ویکی ڈیٹا پر (P78) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
سرکاری ویب سائٹ باضابطہ ویب سائٹ  ویکی ڈیٹا پر (P856) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
آیزو 3166-1 الفا-2 PE  ویکی ڈیٹا پر (P297) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
بین الاقوامی فون کوڈ +51  ویکی ڈیٹا پر (P474) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

جمہوریہ پیرو جنوبی امریکا کے مغرب میں واقع ایک ملک ہے۔ اس کے شمال میں کولمبیا، ایکواڈور، اور مشرق میں برازیل، جنوب مشرق میں بولیویا اور جنوب میں چلی واقع ہے۔ پیرو ایک کثیر التنوع ملک ہے پیرو میں مغرب میں بحر الکاہل کے ساحل اور بنجر میدان، شمال سے جنوب مشرق تک سلسلہ کوہ انڈیز کی پھیلی ہوئی چوٹیاں اور مشرق میں دریائے ایمیزون کے ساتھ دنیا کے طویل وعریض مشہور جنگلات ایمیزون برساتی جنگل دیکھنے کو ملتے ہیں۔ پیرو کی آبادی ۳۴ ملین یعنی تین کروڑ چالیس لاکھ ہے ، لیما سب سے بڑا شہر اور دار الحکومت ہے رقبہ کے لحاظ سے پیرو دنیا کا ۱۹ واں اور لاطینی امریکہ میں چوتھا بڑا ملک ہے۔ پیرو قدیم زمانے سے متعدد تہذیبوں کا مرکز رہا ہے۔نورتے چیکو تہذیب لاطینی امریکا کی سب سے قدیم تہذیب شمار ہوتی ہے جو ۳۵۰۰ قبل مسیح میں اس علاقے میں موجود تھی اور دنیا کے پانچ تہذیب کے گہواروں میں سے ایک ہے۔ مزید دیکھئے تہذیب کا گہوارہ۔

اشتقاقیات[ترمیم]

لفظ پیرو اصل میں سان میگوئل خلیج کے لوکل حکمران بیرو سے نکلا ہے جو سولہویں صدی عیسوی میں ان علاقوں کا حکمران تھا

تاریخ[ترمیم]

عہد قدیم[ترمیم]

تقریبا 12500 قبل مسیح سے پیرو میں انسانی آبادی کے اثرات ملتے ہیں انڈین Andean اقوام او اکا پری ایٹا علاقے میں آباد تھیں جن کی معیشت کا دارومدار زراعت، اونٹ پالنے اور ماہی گیری پر تھا۔

نوآبادیاتی دور[ترمیم]

دسمبر ۱۵۳۲ عیسوی میں فرانسسکو پیزارو نے سلطنت انکا کے آتاوالپا کو کاخامارکا کی جنگ میں شکست دی اور پیرو پر قبضہ کر لیا۔

جنگ آزادی[ترمیم]

انیسویں صدی عیسوی کے ابتداء میں جنوبی امریکائی اقوام نے تحریک آزادی کی کوششوں کو مزید تیز کرتے ہوئے مسلح جدوجہد کو آگے بڑھایا۔ ۲۸ جولائی ۱۸۲۱ میں ارجنٹینی جنرل سان مارٹن نے لیما شہر کو ہسپانوی قبضہ اقتدار سے چھڑوا کر پیرو کی آزادی کا اعلان کر دیا اور پیرو کا نیا جھنڈا بھی بنایا ۔ اگلے چند سالوں میں دیگر علاقے فتح کر کے پیرو کو مکمل طور پر ہسپانوی قبضہ سے آزاد کر لیا۔

انیسویں صدی عیسوی[ترمیم]

رامون کاستلیا کے صدراتی دور میں ۱۸۴۰ عیسوی سے ۱۸۶۰ عیسوی تک پیرو امن وامان اور سیاسی استحکام اور خوشحالی کے دور سے گزرا۔ ۱۸۷۹ عیسوی سے ۱۸۸۴ عیسوی تک ہونے والی بحرالکاہل کی جنگ میں پیرو نے چلی کے خلاف بولیویا کی حمایت کی۔ اور یہ جنگ چلی کی جیت پر ختم ہوئی۔ جس میں پیرو کی شدید معاشی دھچکا لگا جس کی بحالی میں کئی سال لگ گئے۔

بیسویں صدی عیسوی[ترمیم]

بیسوی صدی عیسوی میں حکومت کے جنگ سے بحالی پروگرام سے کچھ معاشی خوشحالی دیکھنے میں آئی اور آگوستو برناردینو لیگیا نے اقتدار سنبھالا۔ جو ۱۹۳۰ عیسوی میں کساد عظیم کی نظر ہوگیا۔ بیسوی صدی میں پیرو نے اپنے ہمسایہ ملک کولومبیا اور ایکواڈور کے ساتھ علاقائی تقسیم کی تنازع پر دو جنگیں لڑیں۔ ۲۹ اکتوبر ۱۹۴۸ عیسوی میں فوجی ڈکٹیٹر مینوئل ارتورو اودریا نے فوجی انقلاب کے ذریعے اقتدار پر قبضہ کر لیا۔ اور ملک کا ۴۵ ویں صدر بن گیا۔ لیکن ۱۹۷۵ عیسوی میں جمہوریت دوبارہ بحال ہو گئی۔ ۱۹۹۰ میں البرتو فوخی موری نے اقتدار سنبھالا اور ۲۰۰۰ میں استعفی دے دیا۔

اکیسویں صدی عیسوی[ترمیم]

۲۰۰۱ ء سے ۲۰۰۶ ء تک آلخاندرو تولیدو نے انتخابات جیت کر حکومت کی۔ ۲۰۰۶ ء کے انتخابات میں کامیاب ہو کر نئے صدر آلان گارسیا نے اقتدار سنبھالا ۔ ۲۰۰۸ ء میں پیرو جنوب امریکی ممالک کی یونین کا ممبر ملک بنا۔ ۲۰۰۹ ء میں البرتو فوخی موری کو انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر ۲۵ سال کی قید کی سزا ہوئی۔ ۲۰۱۱ ء میں اویانتا اومالا کا انتخاب ہوا لیکن وزیر اعظم انا خارا نے اس کی حکومت کو تحریک عدم اعتماد کے ذریعے ختم کر دیا۔ ۲۰۱۶ ء میں پیدرو پابلو کوچنسکی نے اقتدار سنبھالا ۔ لیکن اس نے ۲۰۱۸ ء میں مختلف تنازعات کی وجہ سے اقتدار سےا ستعفی دے دیا۔ اور نائب صدر مارتن وزکارا نے اقتدار سنبھالا ۔ ۲۰۱۹ ء کے انتخابات میں مینوئل میرینو نے اقتدار سنبھالنے کے صرف پانچ دن کے بعد استعفی دے دیا اور فرانسسکو ساگاستی نے اقتدار اپنے ہاتھو میں لیا۔ اور ۲۰۲۱ ء میں انتخابات ہوئے جس میں پیدرو کاستیلیو کا مقابلہ کے ایکو فوخی موری کے ساتھ تھا۔ اور پیدرو کاستیلیو کی کامیاب کے بعد وہ ملک کے ۱۳۰ ویں صدر منتخب ہوئے۔

آئین، حکومت اور سیاست[ترمیم]

پیرو کا حکومتی نظام صدارتی ہے اور آئین کثیر سیاسی احزاب کے قیام کی اجازت دیتا ہے۔ ۱۹۹۳ کے آئین کے مطابق ملک میں لبرل جمہوری نظام قائم ہوگا۔ پیرو حکومت تین حصے پر مشتمل ہے۔ ۱۔ مقننہ جس میں پیرو کانگرس شامل ہے جس کے ۱۳۰ اراکین ہوتے ہیں ۔ ۲۔ انتظامیہ ، جس میں صدر، وزراء کی کابینہ اور وزیراعظم ہوتے ہیں۔ ۳۔ عدلیہ ، جس میں ۱۸ ججز پر مشتمل عدالت عظمی, ۲۸ اعلیٰ عدالتیں ، ۱۹۵ ٹرائل کورٹس اور ۱۸۳۴ ضلعی عدالتیں شامل ہیں۔

انتظامی تقسیم[ترمیم]

پیرو ۲۶ یونٹس پر مشتمل ہے۔ ۲۴ صوبے (ڈپارٹمنتس) ، کایاو کا آئنی صوبہ اور صوبہ لیما۔ مزید دیکھئے: پیرو کے علاقہ جات

افواج اور قانون نافذ کرنے والے ادارے[ترمیم]

پیرو کی فوج لاطینی امریکا کی چوتھی بڑی فوج ہے جو بری فوج، بحری فوج اور فضائیہ پر مشتمل ہے۔ افواج کی افراد قوت ۳۹۲۶۶۰ ہے جن میں سے ۱۲۰۶۶۰فعال اور ۲۷۲۰۰۰ غیر فعال ہیں ۔

بین الاقوامی تعلقات[ترمیم]

پیرو کے کئی دہائیوں سے ریاست ہائے متحدہ اور ایشیا کے ساتھ اچھے قائم ہیں اور پیرو عالمی سطح پر مختلف تجارتی اور ثقافی تنظیموں کا ممبر ملک بھی ہے۔

معیشت[ترمیم]

پیرو مساوی قوت خرید کے لحاظ سے ۴۸ واں بڑا ملک ہے۔ عالمی بینک کے مطابق ۲۰۰۰ میں تیز ترین ترقی کرنے والے ممالک میں سے پیرو شامل تھا۔

آبادیات[ترمیم]

بڑے شہر اور قصبے[ترمیم]

پیرو کے بڑے شہروں اور قصبے میں
۱۔ دار الحکومت لیما،
۲۔ارے کیپا
۳۔ترو خویو
۴۔چکلایو
۵۔اوآنکایو
۶۔ایکی توس
۷۔ پیورا
۸۔ کوزکو
۹۔ چمبوتے
۱۰۔ تاکنا شامل ہیں۔

آبادی[ترمیم]

۲۰۱۷ ء کی مردم شماری کے مطابق پیرو کی آبادی ۳ کروڑ اور دس لاکھ ہے اس طرح پیرو جنوبی امریکی ممالک میں آبادی کے لحاظ سے چوتھے نمبر پر آتا ہے۔

نسلی گروہ[ترمیم]

پیرو کثیر النسل آبادی والا ملک واقع ہوا ہے جس میں مختلف اقوام کے باشندے آباد ہیں، پیرو کے باشند وں میں ۶۰ فیصد مستیسو ، ۲۲ فیصد کیچوائی، ۶ فیصد سفید، ۳۔۶ فیصد سیاہ ، ۲۔۴ فیصد اےمارا اور دیگر اقوام شامل ہیں۔

زبانیں[ترمیم]

۱۹۹۳ کے آئین کے مطابق میں پیرو کی سرکاری زبان ہسپانوی ہے جبکہ ہسپانوی کے علاوہ کیچوائی ، اےمارا اور دیگر زبانیں بھی بولی جاتی ہیں۔ البتہ ۸۲ فیصد آبادی ہسپانوی زبان ہی بولتی ہے۔

مذہب[ترمیم]

پیرو کا مذہب عیسائیت ہے رومن کیتھولک فرقے کے ماننے والے سب سے زیادہ ہیں۔ ۲۰۱۷ کی شماریات کے مطابق ۷۶ فیصد لوگ خود کو کیتھولک شمار کرتےہیں ۱۴ فیصد انجیلی مسیحیت اور باقی ماندہ میں پروٹسٹنٹ ، یہودی اور لا دین شامل ہیں۔

صحت[ترمیم]

عالمی بینک کے ۲۰۱۶ میں شائع کردہ اعدادو شمار کے مطابق پیرو میں اوسطا متوقع زندگی ۷۵ سال ہے۔

ثقافت[ترمیم]

پیرو کی ثقافت زیادہ تر قدیم مقامی رسوم و رواج اور یورپی طرز زندگی سے متاثر ہے التبہ افریقی اور ایشیائی ثقافت کی جھلک بھی نظر آتی ہے۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1.   ویکی ڈیٹا پر (P402) کی خاصیت میں تبدیلی کریں "صفحہ پیرو في خريطة الشارع المفتوحة". OpenStreetMap. اخذ شدہ بتاریخ 28 ستمبر 2022ء. 
  2. https://www.inei.gob.pe/media/MenuRecursivo/publicaciones_digitales/Est/Lib1544/Libro.pdf — اخذ شدہ بتاریخ: 28 اکتوبر 2018
  3. http://data.worldbank.org/indicator/SL.UEM.TOTL.ZS
  4. http://chartsbin.com/view/edr
Midori Extension.svg یہ ایک نامکمل مضمون ہے۔ آپ اس میں اضافہ کر کے ویکیپیڈیا کی مدد کر سکتے ہیں۔