پیرو

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
  
پیرو
پیرو
پیرو
پرچم
پیرو
پیرو
نشان

 

شعار
(ہسپانوی میں: Firme y feliz por la unión ویکی ڈیٹا پر (P1451) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
ترانہ:
زمین و آبادی
متناسقات 9°24′S 76°00′W / 9.4°S 76°W / -9.4; -76   ویکی ڈیٹا پر (P625) کی خاصیت میں تبدیلی کریں[1]
بلند مقام
پست مقام
رقبہ
دارالحکومت لیما   ویکی ڈیٹا پر (P36) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
سرکاری زبان ہسپانوی ،  آئیمارا زبان ،  کیچوائی زبانیں   ویکی ڈیٹا پر (P37) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
آبادی
حکمران
طرز حکمرانی جمہوریہ   ویکی ڈیٹا پر (P122) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مقننہ جمہوریہ پیرو کی کانگریس   ویکی ڈیٹا پر (P194) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
قیام اور اقتدار
تاریخ
یوم تاسیس 28 جولا‎ئی 1821  ویکی ڈیٹا پر (P571) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عمر کی حدبندیاں
شادی کی کم از کم عمر
شرح بے روزگاری
دیگر اعداد و شمار
کرنسی پیروئن سول   ویکی ڈیٹا پر (P38) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
ہنگامی فون
نمبر
9-1-1   ویکی ڈیٹا پر (P2852) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
منطقۂ وقت متناسق عالمی وقت−05:00   ویکی ڈیٹا پر (P421) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
ٹریفک سمت دائیں [2]  ویکی ڈیٹا پر (P1622) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
ڈومین نیم pe.   ویکی ڈیٹا پر (P78) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
سرکاری ویب سائٹ باضابطہ ویب سائٹ  ویکی ڈیٹا پر (P856) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
آیزو 3166-1 الفا-2 PE  ویکی ڈیٹا پر (P297) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
بین الاقوامی فون کوڈ +51  ویکی ڈیٹا پر (P474) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
Map

جمہوریہ پیرو جنوبی امریکا کے مغرب میں واقع ایک ملک ہے۔ اس کے شمال میں کولمبیا، ایکواڈور اور مشرق میں برازیل، جنوب مشرق میں بولیویا اور جنوب میں چلی واقع ہے۔ پیرو ایک کثیر التنوع ملک ہے پیرو میں مغرب میں بحر الکاہل کے ساحل اور بنجر میدان، شمال سے جنوب مشرق تک سلسلہ کوہ انڈیز کی پھیلی ہوئی چوٹیاں اور مشرق میں دریائے ایمیزون کے ساتھ دنیا کے طویل وعریض مشہور جنگلات ایمیزون برساتی جنگل دیکھنے کو ملتے ہیں۔ پیرو کی آبادی 34 ملین یعنی تین کروڑ چالیس لاکھ ہے ، لیما سب سے بڑا شہر اور دار الحکومت ہے رقبہ کے لحاظ سے پیرو دنیا کا 19 واں اور لاطینی امریکہ میں چوتھا بڑا ملک ہے۔

پیرو قدیم زمانے سے متعدد تہذیبوں کا مرکز رہا ہے۔نورتے چیکو تہذیب لاطینی امریکا کی سب سے قدیم تہذیب شمار ہوتی ہے جو 3500 قبل مسیح میں اس علاقے میں موجود تھی اور دنیا کے پانچ تہذیب کے گہواروں میں سے ایک ہے۔ مزید دیکھیے تہذیب کا گہوارہ۔ پیرو کی قدیم تاریخ میں اگر نظر دوڑائی جائے تو ناسکا سلطنت، واری سلطنت، تیواناکو سلطنت، انکا سلطنت اور کوزکو سلطنت کولومبی دور سے قبل کی مضبوط ترین سلطنتیں شمار ہوتی ہیں ہسپانوی سلطنت نے 16 ویں صدی میں اس علاقے کو فتح کیا اور پیرو میں نیابت سلطنت قائم کی جس نے اس کے بیشتر جنوبی امریکا کے علاقوں کو گھیر لیا، اس کا دار الحکومت لیما میں تھا۔ 1551 میں لیما میں نیشنل یونیورسٹی آف سان مارکوس کے باضابطہ قیام کے ساتھ امریکا میں اعلیٰ تعلیم کا آغاز ہوا۔ پیرو نے 1821 میں باضابطہ طور پر آزادی کا اعلان کیا۔ خوسے دے سان مارٹن اور سائمن بولیوار کی غیر ملکی فوجی مہموں اور آیاکوچو کی جنگ کے بعد پیرو نے 1824 میں اپنی آزادی مکمل کر لی۔ آنے والے سالوں میں، ملک پہلے سیاسی عدم استحکام کا شکار ہوا یہاں تک کہ گوآنو نامیاتی کھاد کے استعمال کی وجہ سے نسبتاً معاشی اور سیاسی استحکام کا دور شروع ہوا۔ بعد میں، چلی کے ساتھ بحرالکاہل کی جنگ (1879–1884) نے پیرو کو بحران کی حالت میں لا کھڑا کیا، جہاں سے سولسٹا پارٹی کے ذریعے اقتدار پر قبضہ کر لیا۔ 20 ویں صدی میں، ملک نے بغاوتوں، سماجی بے امنی اور اندرونی تنازعات کے باوجود استحکام اور اقتصادی ترقی کے ادوار کو طے کیا۔ 1990 میں البرٹو فوجی موری نے فوجی موری ازم کے سیاسی نظریہ کے تحت نیو لبرل معاشی خاکہ متعارف کرایا جس نے پیرو کی سیاسی زندگی میں پہلی مرتبہ شخصیت پرستی کے عنصر کو مہمیز کیا۔

اشتقاقیات[ترمیم]

لفظ پیرو اصل میں سان میگوئل خلیج کے لوکل حکمران بیرو سے نکلا ہے جو سولہویں صدی عیسوی میں ان علاقوں کا حکمران تھا

تاریخ[ترمیم]

عہد قدیم[ترمیم]

تقریبا 12500 قبل مسیح سے پیرو میں انسانی آبادی کے اثرات ملتے ہیں انڈین Andean اقوام او اکا پری ایٹا علاقے میں آباد تھیں جن کی معیشت کا دارومدار زراعت، اونٹ پالنے اور ماہی گیری پر تھا۔

نوآبادیاتی دور[ترمیم]

دسمبر 1532 عیسوی میں فرانسسکو پیزارو نے سلطنت انکا کے آتاوالپا کو کاخامارکا کی جنگ میں شکست دی اور پیرو پر قبضہ کر لیا۔

جنگ آزادی[ترمیم]

انیسویں صدی عیسوی کے ابتدا میں جنوبی امریکائی اقوام نے تحریک آزادی کی کوششوں کو مزید تیز کرتے ہوئے مسلح جدوجہد کو آگے بڑھایا۔ 28 جولائی 1821 میں ارجنٹینی جنرل سان مارٹن نے لیما شہر کو ہسپانوی قبضہ اقتدار سے چھڑوا کر پیرو کی آزادی کا اعلان کر دیا اور پیرو کا نیا جھنڈا بھی بنایا ۔ اگلے چند سالوں میں دیگر علاقے فتح کر کے پیرو کو مکمل طور پر ہسپانوی قبضہ سے آزاد کر لیا۔

انیسویں صدی عیسوی[ترمیم]

رامون کاستلیا کے صدراتی دور میں 1840 عیسوی سے 1860 عیسوی تک پیرو امن وامان اور سیاسی استحکام اور خوش حالی کے دور سے گذرا۔ 1879 عیسوی سے 1884 عیسوی تک ہونے والی بحرالکاہل کی جنگ میں پیرو نے چلی کے خلاف بولیویا کی حمایت کی۔ اور یہ جنگ چلی کی جیت پر ختم ہوئی۔ جس میں پیرو کی شدید معاشی دھچکا لگا جس کی بحالی میں کئی سال لگ گئے۔

بیسویں صدی عیسوی[ترمیم]

بیسوی صدی عیسوی میں حکومت کے جنگ سے بحالی پروگرام سے کچھ معاشی خوش حالی دیکھنے میں آئی اور آگوستو برناردینو لیگیا نے اقتدار سنبھالا۔ جو 1930 عیسوی میں کساد عظیم کی نظر ہو گیا۔ بیسوی صدی میں پیرو نے اپنے ہمسایہ ملک کولومبیا اور ایکواڈور کے ساتھ علاقائی تقسیم کی تنازع پر دو جنگیں لڑیں۔ 29 اکتوبر 1948 عیسوی میں فوجی ڈکٹیٹر مینوئل ارتورو اودریا نے فوجی انقلاب کے ذریعے اقتدار پر قبضہ کر لیا۔ اور ملک کا 45 ویں صدر بن گیا۔ لیکن 1975 عیسوی میں جمہوریت دوبارہ بحال ہو گئی۔ 1990 میں البرتو فوخی موری نے اقتدار سنبھالا اور 2000 میں استعفی دے دیا۔

اکیسویں صدی عیسوی[ترمیم]

2001 ء سے 2006 ء تک آلخاندرو تولیدو نے انتخابات جیت کر حکومت کی۔ 2006 ء کے انتخابات میں کامیاب ہو کر نئے صدر آلان گارسیا نے اقتدار سنبھالا ۔ 2008 ء میں پیرو جنوب امریکی ممالک کی یونین کا رکن ملک بنا۔ 2009 ء میں البرتو فوخی موری کو انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر 25 سال کی قید کی سزا ہوئی۔ 2011 ء میں اویانتا اومالا کا انتخاب ہوا لیکن وزیر اعظم انا خارا نے اس کی حکومت کو تحریک عدم اعتماد کے ذریعے ختم کر دیا۔ 2016 ء میں پیدرو پابلو کوچنسکی نے اقتدار سنبھالا ۔ لیکن اس نے 2018 ء میں مختلف تنازعات کی وجہ سے اقتدار سے ا ستعفی دے دیا۔ اور نائب صدر مارتن وزکارا نے اقتدار سنبھالا ۔ 2019 ء کے انتخابات میں مینوئل میرینو نے اقتدار سنبھالنے کے صرف پانچ دن کے بعد استعفی دے دیا اور فرانسسکو ساگاستی نے اقتدار اپنے ہاتھو میں لیا۔ اور 2021 ء میں انتخابات ہوئے جس میں پیدرو کاستیلیو کا مقابلہ کے ایکو فوخی موری کے ساتھ تھا۔ اور پیدرو کاستیلیو کی کامیاب کے بعد وہ ملک کے 130 ویں صدر منتخب ہوئے۔

آئین، حکومت اور سیاست[ترمیم]

پیرو کا حکومتی نظام صدارتی ہے اور آئین کثیر سیاسی احزاب کے قیام کی اجازت دیتا ہے۔ 1993 کے آئین کے مطابق ملک میں لبرل جمہوری نظام قائم ہوگا۔ پیرو حکومت تین حصے پر مشتمل ہے۔ 1۔ مقننہ جس میں پیرو کانگرس شامل ہے جس کے 130 اراکین ہوتے ہیں ۔ 2۔ انتظامیہ ، جس میں صدر، وزراء کی کابینہ اور وزیر اعظم ہوتے ہیں۔ 3۔ عدلیہ ، جس میں 18 ججز پر مشتمل عدالت عظمی, 28 اعلیٰ عدالتیں ، 195 ٹرائل کورٹس اور 1834 ضلعی عدالتیں شامل ہیں۔

انتظامی تقسیم[ترمیم]

پیرو 26 یونٹس پر مشتمل ہے۔ 24 صوبے (ڈپارٹمنتس) ، کایاو کا آئنی صوبہ اور صوبہ لیما۔ مزید دیکھیے: پیرو کے علاقہ جات

افواج اور قانون نافذ کرنے والے ادارے[ترمیم]

پیرو کی فوج لاطینی امریکا کی چوتھی بڑی فوج ہے جو بری فوج، بحری فوج اور فضائیہ پر مشتمل ہے۔ افواج کی افراد قوت 392660 ہے جن میں سے 120660فعال اور 272000 غیر فعال ہیں ۔

بین الاقوامی تعلقات[ترمیم]

پیرو کے کئی دہائیوں سے ریاست ہائے متحدہ اور ایشیا کے ساتھ اچھے قائم ہیں اور پیرو عالمی سطح پر مختلف تجارتی اور ثقافی تنظیموں کا رکن ملک بھی ہے۔

معیشت[ترمیم]

پیرو مساوی قوت خرید کے لحاظ سے 48 واں بڑا ملک ہے۔ عالمی بینک کے مطابق 2000 میں تیز ترین ترقی کرنے والے ممالک میں سے پیرو شامل تھا۔

آبادیات[ترمیم]

بڑے شہر اور قصبے[ترمیم]

پیرو کے بڑے شہروں اور قصبے میں
1۔ دار الحکومت لیما،
2۔ارے کیپا
3۔ترو خویو
4۔چکلایو
5۔اوآنکایو
6۔ایکی توس
7۔ پیورا
کوزکو
9۔ چمبوتے
10۔ تاکنا شامل ہیں۔

آبادی[ترمیم]

2017 ء کی مردم شماری کے مطابق پیرو کی آبادی 3 کروڑ اور دس لاکھ ہے اس طرح پیرو جنوبی امریکی ممالک میں آبادی کے لحاظ سے چوتھے نمبر پر آتا ہے۔

نسلی گروہ[ترمیم]

پیرو کثیر النسل آبادی والا ملک واقع ہوا ہے جس میں مختلف اقوام کے باشندے آباد ہیں، پیرو کے باشندوں میں 60 فیصد مستیسو ، 22 فیصد کیچوائی، 6 فیصد سفید، 3۔6 فیصد سیاہ ، 2۔4 فیصد اے مارا اور دیگر اقوام شامل ہیں۔

زبانیں[ترمیم]

اوسامبیلا کا گھر، لیما میں لسانیات کا تحقیقاتی مرکز

1993 کے آئین کے مطابق میں پیرو کی سرکاری زبان ہسپانوی ہے جبکہ ہسپانوی کے علاوہ کیچوائی زبانیں ، آئیمارا زبان اور دیگر زبانیں بھی بولی جاتی ہیں۔ البتہ 82 فیصد آبادی ہسپانوی زبان ہی بولتی ہے۔

مذہب[ترمیم]

پیرو کا مذہب عیسائیت ہے رومن کیتھولک فرقے کے ماننے والے سب سے زیادہ ہیں۔ 2017 کی شماریات کے مطابق 76 فیصد لوگ خود کو کیتھولک شمار کرتے ہیں 14 فیصد انجیلی مسیحیت اور باقی ماندہ میں پروٹسٹنٹ ، یہودیت اور لادینیت کے پیروکار شامل ہیں۔

صحت[ترمیم]

عالمی بینک کے 2016 میں شائع کردہ اعدادو شمار کے مطابق پیرو میں اوسطا متوقع زندگی 75 سال ہے۔

تعلیم[ترمیم]

قومی جامعہ سان مارکوس، لیما ، پیرو

2007 میں پیرو کی شرح خواندگی ایک اندازے کے مطابق 9۔92 فیصد تھی دیہاتی علاقوں میں 3۔80 فیصد جبکہ شہری علاقوں میں 3۔96 فیصد تھی۔ پیرو میں ابتدائی اور متوسط تعلیم مفت اور لازمی ہے۔ پیرو میں موجود سان مارکوس کا قومی جامعہ، نئی دنیا میں اعلیٰ تعلیم کے قدیم ترین اداروں میں سے ایک ہے۔ نیشنل یونیورسٹی آف سان مارکوس، پیرو میں نیابت سلطنت کے دوران 12 مئی 1551 کو قائم کی گئی، براعظم شمالی اور جنوبی امریکا کی پہلی باضابطہ طور پر قائم اور سب سے قدیم مسلسل کام کرنے والی یونیورسٹی ہے۔

ثقافت[ترمیم]

پیرو کی ثقافت زیادہ تر قدیم مقامی رسوم و رواج اور یورپی طرز زندگی سے متاثر ہے التبہ افریقی اور ایشیائی ثقافت کی جھلک بھی نظر آتی ہے۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1.   ویکی ڈیٹا پر (P402) کی خاصیت میں تبدیلی کریں "صفحہ پیرو في خريطة الشارع المفتوحة"۔ OpenStreetMap۔ اخذ شدہ بتاریخ 17 اپریل 2024ء 
  2. http://chartsbin.com/view/edr
 یہ ایک نامکمل مضمون ہے۔ آپ اس میں اضافہ کر کے ویکیپیڈیا کی مدد کر سکتے ہیں۔