سوویت اتحاد

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
(سوویت یونین سے رجوع مکرر)
Jump to navigation Jump to search
  
سوویت اتحاد
(روسی میں: СССР خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں باضابطہ نام (P1448) ویکی ڈیٹا پر
سوویت اتحاد
پرچم
سوویت اتحاد
نشان

Soviet Union on the globe (Soviet Union centered).svg 

شعار
(روسی میں: Пролетарии всех стран, соединяйтесь! خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شعار کا متن (P1451) ویکی ڈیٹا پر
ترانہ:انترناسیونال  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں ترانہ (P85) ویکی ڈیٹا پر
زمین و آبادی
متناسقات 65°N 90°E / 65°N 90°E / 65; 90  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں متناسقاتی مقام (P625) ویکی ڈیٹا پر
رقبہ 22402200 مربع کلومیٹر (1991)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں رقبہ (P2046) ویکی ڈیٹا پر
دارالحکومت ماسکو  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں دارالحکومت (P36) ویکی ڈیٹا پر
سرکاری زبان روسی زبان  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں سرکاری زبان (P37) ویکی ڈیٹا پر
آبادی 293047571 (1989)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں آبادی (P1082) ویکی ڈیٹا پر
حکمران
طرز حکمرانی یک جماعت ریاست  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں basic form of government (P122) ویکی ڈیٹا پر
اعلی ترین منصب میخائل گورباچوف (1 اکتوبر 1988–25 دسمبر 1991)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں سربراہ ریاست (P35) ویکی ڈیٹا پر
قیام اور اقتدار
تاریخ
یوم تاسیس 30 دسمبر 1922  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاسیس (P571) ویکی ڈیٹا پر
عمر کی حدبندیاں
الحاق اور رکنیت
وارسا معاہدہ (14 مئی 1955–1 جولا‎ئی 1991)
Flag of ICAO.svg بین الاقوامی شہری ہوا بازی تنظیم
Flag of the United Nations.svg اقوام متحدہ (24 اکتوبر 1945–24 دسمبر 1991)
سلامتی کونسل (1946–1991)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں رکن (P463) ویکی ڈیٹا پر
مشترکہ سرحدیں
سفارتی تعلقات
کینیڈا (Canada–Soviet Union relations)
ریاستہائے متحدہ امریکا (Soviet Union–United States relations)
چیکوسلوواکیہ (Czechoslovakia–Soviet Union relations)
یوگوسلاویہ
رومانیہ
اسرائیل (Soviet Union and the Arab–Israeli conflict)
انگولا (Angola–Soviet Union relations)
مشرقی جرمنی (East Germany–Soviet Union relations)
ڈنمارک (Denmark–Soviet Union relations)
گریناڈا (Grenada–Soviet Union relations)
کیوبا (Cuba–Soviet Union relations)
مقدس کرسی (Holy See–Soviet Union relations)
لاؤس (Laos–Soviet Union relations)
ناروے (Norway–Soviet Union relations)
پاکستان (پاک سوویت اتحاد تعلقات)
ترکی (Soviet Union–Turkey relations)
فلپائن (Philippines–Soviet Union relations)
کوت داوواغ (Ivory Coast–Soviet Union relations)
ملائیشیا (Malaysia–Soviet Union relations)
ٹونگا (Soviet Union–Tonga relations)
وانواتو (Soviet Union–Vanuatu relations)
جاپان (Japan-Soviet Union relations)
جرمنی (Germany–Soviet Union relations)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں سفارتی تعلقات (P530) ویکی ڈیٹا پر
ڈومین نیم .su  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں ٹی ایل ڈی (P78) ویکی ڈیٹا پر
آیزو 3166-1 الفا-2 SU  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں ISO 3166-1 alpha-2 code (P297) ویکی ڈیٹا پر

روسی سوشلسٹ ریاستوں کا مجموعہ (مختصراً USSR) جسے عام طور پر سوویت اتحاد کے نام سے جانا جاتا ہے۔ یہ آئینی اعتبار سے اشتراکی ریاست تھی جو یوریشیا میں 1922ء سے 1991ء تک قائم رہی۔ اس کو بالعموم روس (Russia) بھی کہا جاتا تھا جو غلط ہے۔ روس یعنی رشیا اس اتحاد کی سب سے زیادہ طاقتور ریاست کا نام ہے۔ 1945ء سے لے کر 1991ء تک اس کو امریکہ کے ساتھ دنیا کی ایک عظیم طاقت (Super Power) مانا جاتا تھا۔

خلاصہ[ترمیم]

سوویت اتحاد 1917ء کے انقلاب کے دوران بننے والے ریاستی علاقے میں قائم کیا گیا۔ وقت کے ساتھ ساتھ اس کی جغرافیائی سرحدیں تبدیل ہوتی رہیں، لیکن آخری بڑی ٹوٹ پھوٹ کے بعد، جو بالٹک ریاستوں، مشرقی پولینڈ، مشرقی یورپ کا کچھ حصہ اور کچھ دوسری ریاستوں کے اضافے اور فن لینڈ اور پولینڈ کی علیحدگی کے بعد 1945ء سے لے کر تحلیل تک شاہی دور والے روس جیسی ہی رہیں۔

سوویت حکومت اور سیاسی تنظیموں کی نگرانی اور دیکھ بھال کا کام ملک کی واحد سیاسی جماعت، سوویت اتحاد کی کمیونسٹ پارٹی کے پاس رہا۔

1956ء تک سوویت سوشلسٹ ریاستوں کی تعداد چار سے بڑھ کر پندرہ ہو گئی جو مندرجہ ذیل ہیں۔

  1. آرمینیائی سوویت اشتراکی جمہوریہ
  2. آذربائیجان سوویت اشتراکی جمہوریہ
  3. بیلاروسی سوویت اشتراکی جمہوریہ
  4. استونیائی سوویت اشتراکی جمہوریہ
  5. جارجیائی سوویت اشتراکی جمہوریہ
  6. قازق سوویت اشتراکی جمہوریہ
  7. کرغیز سوویت اشتراکی جمہوریہ
  8. لیٹویائی سوویت اشتراکی جمہوریہ
  9. لیتھوینیائی سوویت اشتراکی جمہوریہ
  10. مالدویائی سوویت اشتراکی جمہوریہ
  11. روسی سوویت وفاقی اشتراکی جمہوریہ
  12. تاجک سوویت اشتراکی جمہوریہ
  13. ترکمان سوویت اشتراکی جمہوریہ
  14. یوکرینی سوویت اشتراکی جمہوریہ
  15. ازبک سوویت اشتراکی جمہوریہ

1991ء میں سوویت اتحاد تحلیل ہو گیا اور اس کے بعد مذکورہ تمام ریاستیں آزاد ہوگئیں۔ ان میں سے گیارہ ریاستوں نے مل کر ایک ڈھیلا ڈھالا سا وفاق (Confederation) بنالیا ہے جسے "آزاد ریاستوں کی دولت مشترکہ" کہا جاتا ہے۔ ترکمانستان جو پہلے اس دولت مشترکہ کا باقاعدہ رکن تھا، اب شریک رکن کا درجہ رکھتا ہے۔ تین بالٹک ریاستوں یعنی اسٹونیا، لٹویا اور لتھووینیا نے اس دولت مشترکہ کی بجائے 2004ء میں یورپی اتحاد اور نیٹو میں شمولیت اختیار کی۔ روس اور بیلاروس اب اتحاد روس و بیلاروس سے تعلق رکھتے ہیں۔

تاریخ[ترمیم]

سوویت اتحاد کو روسی بادشاہت کے بعد کی شکل کہا جاتا ہے۔ آخری روسی زار، نکولس دوم نے مارچ 1917ء تک حکومت کی اور اگلے سال اپنے خاندان سمیت مارا گیا۔ سوویت اتحاد کا قیام دسمبر 1922ء میں عمل میں آیا۔ اس میں روس (بالشویک رشیا)، یوکرائن، بیلارس، جارجیا، آرمینیا اور آذربائیجان (ان تین ریاستوں کو بالائے قفقاز ریاستیں بھی کہتے ہیں) شامل تھے اور ان پر بالشویک پارٹی کی حکومت تھی۔

روسی بادشاہت کے اندر جدید انقلابی تحریک 1825ء کی دسمبر بغاوت سے شروع ہوئی۔ 1905ء کے انقلاب کے بعد 1906ء میں روسی پارلیمنٹ ڈوما قائم ہوئی لیکن ملک کے اندر سیاسی اور سماجی عدم استحکام موجود رہا اور پہلی جنگ عظیم میں شکست اور خوراک کی قلت کے باعث یہ مزید پروان چڑھا۔

جغرافیہ[ترمیم]

سوویت اتحاد نے براعظم یورپ کے مشرقی اور ایشیا کے شمالی حصے پر قبضہ کیا تھا۔ ملک کا زیادہ تر حصہ پچاس ڈگری شمالی طول بلد سے اوپر ہے اور اس کا کل رقبہ 22402200 مربع کلو میٹر یا 8649500 مربع میل ہے۔ اتنے عظیم رقبے کی وجہ سے اس کا موسم نیم استوائی سے لے کر سرد، نیم برفانی سے لے کر برفانی تک ہے۔ 11 فیصد زمین قابل کاشت تھی، 16 فیصد گھاس کے میدان اور چراگاہیں تھیں، 41 فیصد جنگلات تھے اور 32 فیصد حصہ دیگر قسم کا تھا جس میں ٹنڈرا کا حصہ بھی شامل ہے۔

سوویت اتحاد کی چوڑائی کوئی 10000 کلومیٹر یعنی 6200 میل تھی جو کالینن گراڈ سے لے کر راتمانوا تک پھیلی ہوئی تھی۔ اس کی لمبائی تقریبا 5000 کلومیٹر یعنی کوئی 3100 میل تھی۔ اس کا زیادہ تر حصہ ناہموار اور بہت مشکل ہے۔ پورا امریکا اس کے ایک حصے کے اندر سما سکتا ہے

ثقافت[ترمیم]

سوویت اتحاد کی ثقافت یو ایس ایس آر کی 70 سالہ دور میں بہت سے مراحل سے گزری ہے۔ انقلاب کے بعد پہلے گیارہ سال تک لوگوں کو نسبتا آزادی حاصل رہی اور مصوروں نے مصوری میں بہت سی نئی روسی جدتیں پیدا کرنے کی کوشش کی۔ حکومت نے بہت سے مختلف رحجانات کو جو سلطنت کے لیے خطرہ نہ ہوں، برداشت کیا۔ فن و ادب میں بہت سے مختلف ذہنیت کے لوگ گھسے اور انہوں نے نت نئے تجربات کیے۔ کمیونسٹ مصنفین جیسا کہ میکسم گورکی اور ولادیمیر ماواکوشوف اس دوران بہت نمایاں رہے۔ فلم، جو معاشرے پر بہت زیادہ اثر چھوڑتی ہے، کو حکومت کی طرف سے بہت حوصلہ افزائی ملی اور سرگئی آئنسٹائن کا زیادہ تر کام اسی دوران تخلیق ہوا۔

بعد ازاں جوزف سٹالن کے دور میں، سوویت ثقافت کو حکومت کی بیان کردہ حدود کے ذریعے نافذ کیا گیا۔ ہر طرح کے اثرات کو سختی سے روکا گیا۔ بہت سے مصنفین جیل میں ڈالے گئے یا مار دیے گئے۔

قیام تا سقوط[ترمیم]

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]