سوئز بحران

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

-

سوئز بحران
سلسلہ عرب اسرائیل جنگیں
HM Ships Eagle, Bulwark, and Albion .jpg
بحیرہ روم میں برطانیہ کے بحری جہاز
تاریخ اکتوبر 1956ء تا مارچ 1957ء
مقام مصر (نہر سوئز اور جزیرہ نمائے سینا)
محل وقوع
نتیجہ اقوام متحدہ کی جانب سے جنگ بندی
اقوام متحدہ کی افواج کی تعیناتی
برطانیہ کی بڑی سیاسی شکست
متحارب
Flag of Israel.svg اسرائیل
Flag of the United Kingdom.svg برطانیہ
Flag of France.svg فرانس
Flag of Egypt.svg مصر
قائدین
موشے دایان
چارلس کیٹلے
پیئر باریوٹ
جمال عبدالناصر
قوت
175،000 اسرائیلی
45،000 برطانوی
34،000 فرانسیسی
70،000
نقصانات
197 اسرائیلی
56 برطانوی
10 فرانسیسی
650 ہلاکتیں
2 ہزار قیدی

مصر کی جانب سے 26 جولائی 1956ء کو نہر سوئز کو قومی ملکیت میں لینے کے فیصلے سے مغربی ملکوں اور اسرائیل میں تہلکہ مچادیا کیونکہ نہر سوئز اس وقت برطانیہ اور فرانس کی ملکیت میں تھی۔ برطانیہ اور فرانس کی پشت پناہی پر مصر کے خلاف اسرائیلی جارحیت کو "سوئز بحران" کہا جاتا ہے۔ اس واقعے کے بعد اقوام متحدہ نے تمام ممالک کے درمیان جنگ بندی کرادی۔

پس منظر[ترمیم]

عرب اسرائیل تنازع
عرب اسرائیل جنگ 1948سوئز بحران6 روزہ جنگجنگ استنزافجنگ یوم کپورجنوبی لبنان تنازع 1978جنگ لبنان 1982جنوبی لبنان تنازع 1982-2000انتفاضہ اولجنگ خلیجالاقصی انتفاضہ2006 اسرائیل لبنان تنازع

مصر کے صدر جمال عبدالناصر شروع شروع میں ایک ایسی پالیسی پر عمل پیرا تھے جو مغربی ملکوں کے خلاف نہیں تھی لیکن 1954ء کے بعد وہ روس اور اشتراکی ممالک کی طرف زیادہ جھکنے لگے اور اس طرح مصر اور مغربی ممالک کے درمیان براہ راست کشمکش شروع ہوگئی جس کا پہلا بڑا اظہار اسوان بند کی تعمیر کے سلسلے میں ہوا۔

مصر کی خوشحالی کا تمام تر انحصار دریائے نیل پر ہے، جس کی وجہ سے مصر کو تحفۂ نیل کہا جاتا ہے۔ نیل کی پانی سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانے کے لئے مصری حکومت نے اسوان کے مقام پر پرانے بند کی جگہ ایک نیا اور زیادہ بڑا بند تعمیر کرنے کا منصوبہ تیار کیا تھا تاکہ مصر میں مزید زمین زیر کاشت آسکے اور پن بجلی بڑی مقدار میں حاصل ہوسکے۔ امریکہ، برطانیہ اور عالمی بینک نے اس منصوبے کے لئے قرضہ فراہم کرنے کا وعدہ بھی کرلیا تھا لیکن ان ملکوں نے جب دیکھا کہ مصر روس اور اشتراکی ممالک کی طرف مائل ہورہا ہے اور ایک ایسی پالیسی پر چل رہا ہے جو ان کے مفاد کے خلاف ہے تو انہوں نے جولائی 1956ء میں قرضہ دینے کا فیصلہ واپس لے لیا۔

اسوان بند اور نہر سوئز[ترمیم]

اسوان بند کی تعمیر مصری معیشت کے لئے بنیادی اہمیت رکھتی تھی اس لئے مصر میں امریکہ اور برطانیہ کے فیصلے کے خلاف شدید ردعمل ہوا صدر ناصر نے فرانس اور برطانیہ کی زیر ملکیت نہر سوئز کو قومی ملکیت میں لے لیا اور اعلان کیا کہ اسوان بند نہر سوئز کی آمدنی سے تعمیر کیا جائے گا۔

برطانیہ اور فرانس نے مصر کے اس فیصلے کے خلاف اسرائیل کے ساتھ مل کر سازش کے تحت 29 اکتوبر 1956ء کو اسرائیل کے ذریعے مصر پر حملہ کرادیا جس کے دوران اسرائیل نے جزیرہ نمائے سینا پر قبضہ کرلیا۔ اگلے ہفتے برطانیہ اور فرانس نے بھی نہر سوئز کے علاقے میں اپنی فوجیں اتار دیں۔ برطانیہ اور فرانس کی اس جارحانہ کارورائی کا دنیا بھر میں شدید رد عمل ہوا، امریکہ نے بھی پرزور مذمت کی اور روس نے مصر کو کھل کر امداد دینے کا اعلان کیا۔ رائے عامہ کے اس دباؤ کے تحت برطانیہ اور فرانس کو اپنی فوجیں واپس بلانا پڑیں اور اسرائیل نے بھی جزیرہ نمائے سینا خالی کردیا۔ اس کے بعد اقوام متحدہ کے دستے مصر اور اسرائیل کی سرحد پر متعین کردیے گئے تاکہ طرفین ایک دوسرے کے خلاف جنگی کارروائی نہ کرسکیں۔

جزیرہ نما سینا میں اسرائیلی جارحیت

غیر ملکی افواج کے کامیاب انخلا سے ناصر عرب دنیا میں ہیرو اور فاتح کی حیثیت سے ابھرے۔

روس کی مدد سے اسوان بند کی تعمیر یکم جنوری 1960ء کو شروع اور 1970ء میں مکمل ہوئی۔ بند کی تعمیر کے نتیجے میں جو جھیل وجود میں آئی اسے جھیل ناصر کا نام دیا گیا۔

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]