شریف الدین پیرزادہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
سید شریف الدین پیرزادہ
نشان امتیاز
SyedPirzada.jpg
وزارت خارجہ
عہدہ سنبھالا
31 اگست 1966 – یکم مئی 1968
صدر ایوب خان
پیشرو ذوالفقار علی بھٹو
جانشین میاں ارشد حسین
اٹارنی جنرل آف پاکستان
عہدہ سنبھالا
1968–1971
پیشرو اولین عہدہ ملا
جانشین یحیی بختیار
اٹارنی جنرل آف پاکستان
عہدہ سنبھالا
1977–1984
پیشرو یحیی بختیار
جانشین عزیز منشی
سیکرٹری جنرل آرگنائزیشن آف اسلامک کارپوریشن
عہدہ سنبھالا
1985–1988
پیشرو حبیب چٹی
جانشین حامد الغابد
ذاتی تفصیلات
پیدائش (1923-60-12) 12 جون 1923 (عمر 94 سال)
برطانوی ہند، برھان پور
(موجودہ انڈیا)
وفات 2 جون 2017(2017-60-02) (عمر  93 سال)
پاکستان، کراچی
(موجودہ پاکستان)
سیاسی جماعت آل انڈیا مسلم لیگ
(1947 سے قبل)
مسلم لیگ (1947–1958)
مادر علمی بمبئی یونیورسٹی
انز آف کورٹ اسکول آف لا

شریف الدین پیر زادہ پاکستان کے نامور قانون دان تھے، جو وفاقی وزیر ، مشیر ، سفیر اور اٹارنی جنرل کے عہدے پر بھی فائز رہے۔

ابتدائی زندگی[ترمیم]

شریف الدین پیر زادہ 12 جون 1923ء کو برہان پور ، برطانوی ہند میں پیدا ہوئے۔ جو آج کل مدھیا پردیش کہلاتا ہے ۔والد کا نام میر نیازی پیرزادہ اور والدہ کا نام فاطمہ تھا۔ ان کے والد بیرسٹر تھے۔اور سول سروسز میں خدمات انجام دے رہے تھے۔ سید شریف الدین پیرزادہ نے بھی 1945ء میں بمبئی یونیورسٹی سے قانون کی ڈگری حاصل کی۔ بعد میں لنکنز اِن کالج سے بار ایٹ لا کیا ۔ 1947ء سے قبل ان کا تعلق آل انڈیا مسلم لیگ جبکہ اس کے بعد پاکستان مسلم لیگ سے رہا۔ اورشریف الدین پیرزادہ تحریک پاکستان کے سرگرم کارکن رہے ۔انہوں نے 1940ء میں قائد اعظم محمد علی جناح کے سیکیرٹری کے فرائض سرانجام دیے ۔ قیام پاکستان کے بعد وہ اپنے اہل خانہ کے ہمراہ پاکستان آگئے اور اور کراچی میں سکونت اختیار کی۔

سرکاری عہدے اور دیگر منصب[ترمیم]

سید شریف الدین پیرزادہ مختلف ادوار میں پاکستان کے سیاسی و غیر سیاسی اہم عہدوں پر بھی فائز رہے ہیں۔

شریف الدین پیرزادہ ایوب خان کے دور حکومت میں 1966ء سے 1968ء تک وزیر خارجہ رہے۔

شریف الدین پیرزادہ کو 1973ء کے آئین کا خالق کہا جاتا ہے۔ شریف الدین پیر زادہ کا شمار ملک کے ذہین ترین وکیلوں میں ہوتا تھا۔

انہوں نے متعدد اہم کیسز میں حکومت اور اہم سیاسی شخصیات کی وکالت بھی کی۔

1985ء سے 1988ء تک او آئی سی کے جنرل سیکریٹری بھی رہے۔

انہیں ملک کا پہلا اٹارنی جنرل آف پاکستان ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔

وہ یحییٰ خان اور ضیا الحق کے دور آمریت میں کم و بیش 9 برس تک اٹارنی جنرل آف پاکستان رہے۔

انھوں نے وفاقی وزیر قانون کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دیں۔

اس کے علاوہ پرویز مشرف کے دور اقتدار میں شریف الدین پیر زادہ کو خصوصی سفیر کا عہدہ تفویض کیا گیا تھا۔

1999ء کے بعد انہوں نے سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کو بھی مختلف مواقعوں پر قانونی مشاورت فراہم کی ۔

اعزازات[ترمیم]

شریف الدین پیرزادہ کو 1998ء میں حکومت پاکستان نے نشانِ امتیاز عطا کیا ۔

تصانیف[ترمیم]

وہ متعدد کتابوں کے مصنف ہیں

  • (Collected Works of Quaid-i-Azam Jinnah (3 volumes)
  • Dissolution of Constituent Assembly of Pakistan, Karachi 1985
  • Evolution of Pakistan, Karachi 1962 (also published in Urdu and Arabic)
  • [1]Film Gandhi and Qauid-e-Azam Jinnah
  • Foundations of Pakistan: 1906–1947. Volume. 1: 1906–1924. All India Muslim League Documents. By Syed Sharifuddin [2]Pirzada. 1969 Edition
  • Foundations of Pakistan. All-India Muslim League Documents. 1906–1947. Volume II, 1924–1947. By Syed Sharifuddin

[3]Pirzada. 1970 Edition

  • Foundation of Pakistan (3 volumes)، 1971.
  • Fundamental Rights and Constitutional Remedies in Pakistan, Lahore 1966.
  • Jinnah on Pakistan, Bombay 1943.
  • Leaders Correspondence with Jinnah.
  • Pakistan at a Glance, Bombay 1941.

[4]Quaid-i-Azam Mohammad Ali Jinnah and Pakistan

  • Quaid-i-Azam Mohammad Ali Jinnah: Two important aspects of his personal life (Dr. Mahmud Husain memorial lecture)[5]

[6]

  • Referendum ordinance 2002 & constitutional petition no. 15 of 2002
  • Some Aspects of Quaid-i-Azam’s Life 1978.
  • The Pakistan Resolution and the historic Lahore Session. Islamabad 1970
  • Speeches and statements of His Excellency Syed Sharifuddin Pirzada, Secretary-General, OIC, Organization of Islamic

[7]Conference, Jeddah

وفات[ترمیم]

سید شریف الدین پیرزادہ کچھ برس سے کینسر کے موذی مرض میں مبتلا تھے۔ 2 جون 2017 کو وہ 93 برس کی عمر میں وفات پا گئے ۔

حوالہ جات[ترمیم]

بیرونی روابط[ترمیم]

سیاسی دفاتر
پیشرو 
ذوالفقار علی بھٹو
وزیر برائے خارجہ امور
1966–1968
جانشین 
میاں ارشد حسین
نیا عہدہ پاکستان کے اٹارنی جنرل
1968–1971
جانشین 
Yahya Bakhtiar
پیشرو 
Yahya Bakhtiar
پاکستان کے اٹارنی جنرل
1977–1984
جانشین 
Aziz Munshi
سفارتی عہدے
پیشرو 
Habib Chatty
Secretary General of the تنظیم تعاون اسلامی
1985–1988
جانشین 
Hamid Algabid

سانچہ:Secretary General of the OIC