مرزا اسلم بیگ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
مرزا اسلم بیگ
Gen Mirza Aslam Beg visiting Pakistan Army Unit (cropped).jpg 

معلومات شخصیت
پیدائش 2 اگست 1931 (88 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
اعظم گڑھ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Flag of Pakistan.svg پاکستان
British Raj Red Ensign.svg برطانوی ہند  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
مادر علمی پاکستان ملٹری اکیڈمی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تعلیم از (P69) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ سیاست دان  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
عسکری خدمات
شاخ پاک فوج  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں عسکری شاخ (P241) ویکی ڈیٹا پر
عہدہ جرنیل  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں عسکری رتبہ (P410) ویکی ڈیٹا پر
لڑائیاں اور جنگیں پاک بھارت جنگ 1965ء،  وپاک بھارت جنگ 1971ء  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں لڑائی (P607) ویکی ڈیٹا پر
مرزا اسلم بیگ

پاک فوج کے سابقہ کمانڈر انچیف ۔اعظم گڑھ یوپی کے ایک معزز گھرانے میں پیدا ہوئے۔ جوانی میں ہجرت کرکے پاکستان آ گئے اور 1950ء میں پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول کے چھٹے کورس میں شمولیت اختیار کی۔ 1952ء میں بلوچ رجمنٹ میں بطور انفنٹری افسر کمیشن ملا۔ سپیشل سروسز گروپ میں شامل رہ کر فوج خدمات انجام دیں۔ 1962ء میں سٹاف کالج کوئٹہ سے گریجویشن کی۔ نیشنل ڈیفنس کالج، راولپنڈی میں کچھ عرصہ انسٹرکٹر بھی رہے۔ چیف آف جنرل سٹاف بھی رہے۔ 1986ء میں جی ایچ کیو سے تبادلہ کرکے انہیں آرمی کور پشاور کا کمانڈر مقرر کیا گیا۔ مارچ 1987ء میں ان کو ترقی دے کر جنرل بنایا گیا اور جنرل خالد محمود عارف کی جگہ وائس چیف آف آرمی سٹاف بنایا گیا۔ جنرل عارف کے ساتھ جنرل رحیم الدین خان بھی ریٹائرمنٹ پر چلے گئے۔ جن کی جگہ تینوں افواج کا مشترکہ چیف جنرل اختر عبد الرحمن کو بنایا گیا۔ جنرل ضیا الحق صدر مملکت کے علاوہ چیف آف آرمی سٹاف بھی تھے۔

18اگست 1988 کو صدر ضیا الحق کی ناگہانی وفات سے اگلے روز غلام اسحاق خان نے جنرل اسلم بیگ کو چیف آف آرمی سٹاف بنا دیا۔ وہ چاہتے تو اس موقع پر مارشل لا نفاذ کرکے اپنے اقتدار کے لیے راستہ ہموار کرسکتے تھے لیکن انہوں نے 1988ء کو انتخابات کے ذریعے پاکستان کو جمہوریت کی راہ پر لگانے میں اہم کردار ادا کیا۔ لیکن دوسری طرف انہوں نے سیاست میں فوج کی مداخلت کا راستہ روکنے کی بجائے پیپلز پارٹی کے خلاف ان انتخابات میں ایجینسیوں کی مدد سے آئی جے آئی کو لا کھڑا کیا۔ تاکہ پیپلز پارٹی کو ایک بڑی کامیابی سے روکا جا سکے۔ ان کے خدمات کے صلے میں میں ان کو ہلال امتیاز اور ستارہ بسالت سے نوازا گیا۔ فوجی خدمات سے سبک دوش ہونے کے بعد اپنی ایک سیاسی جماعت عوامی قیادت پارٹی بنا کر عملی سیاست میں حصہ لینا شروع کیا۔ لیکن ان کی یہ پارٹی عوام میں مقبولیت حاصل نہیں کر سکی اور تاحال کوئی خاطر خواہ کامیابی سیاست میں ان کو حاصل نہیں ہو سکی ہے۔

فوجی دفاتر
ماقبل 
صادق فاروق شوکت خان
چیف آف جنرل اسٹاف
1980–1985
مابعد 
محمد صفدر
ماقبل 
خالد محمود عارف
نائب سربراہ پاک فوج
1987–1988
مابعد 
عہدہ ختم
ماقبل 
محمد ضیاء الحق
سربراہ پاک فوج
1988–1991
مابعد 
آصف نواز جنجوعہ